Ayah 30:41ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۔۔ : خشکی سے مراد زمین کے میدان، پہاڑ اور صحرا وغیرہ ہیں اور سمندر سے مراد سمندری جزیرے، ساحلوں پر آباد شہر اور بستیاں اور سمندروں میں سفر کرنے والے جہاز اور کشتیاں ہیں۔ فساد (خرابی) سے مراد ہر آفت اور مصیبت ہے، چاہے وہ جنگ و جدال اور قتل و غارت کی صورت میں نازل ہو یا قحط، بیماری، فصلوں کی تباہی، بدحالی، سیلاب اور زلزلے وغیرہ کی صورت میں ہو۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے بحر و بر میں جو فتنہ و فساد بپا ہے اور آسمان کے نیچے جو ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں، یہ سب شرک کی وجہ سے ہیں۔ جب سے لوگوں نے توحید اور دین فطرت کو چھوڑ کر شرک کی راہیں اختیار کی ہیں اس وقت سے یہ ظلم و فساد بھی بڑھ گیا ہے۔ شرک جیسے قولی اور اعتقادی ہوتا ہے اسی طرح شرک عملی بھی ہے، جو فسق و فجور اور معاصی کا روپ دھار لیتا ہے۔ اس بات کی تعیین کہ آیت میں ”بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ“ (جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا) سے مراد شرک ہے، اگلی آیت کے ساتھ ہوتی ہے، فرمایا : (قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلُ ۭ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِيْنَ) [ الروم : 42 ] ”کہہ دے زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، ان کے اکثر مشرک تھے۔“ ان اقوام کی دوسری خرابیاں، جن کا قرآن نے ذکر فرمایا ہے اور جن کی وجہ سے ان پر عذاب آیا، ان کا اصل بھی شرک تھا، اگر وہ ایک اللہ پر ایمان لاتے تو ہرگز ایسے گناہوں کے اجتماعی طور پر مرتکب نہ ہوتے۔
3 اس کے برعکس جس معاشرے کی بنیاد اللہ کی توحید اور اس کے احکام و حدود کی اقامت پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیشمار برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ دیکھیے سورة مائدہ (65، 66) اور اعراف (96)۔
لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا۔۔ : پوری سزا تو آخرت میں ملے گی، مگر یہ تھوڑے سے عذاب کا نمونہ ہے، تاکہ لوگ شرک اور نافرمانی چھوڑ کر توحید اور فرماں برداری کی راہ اختیار کرلیں۔ دیکھیے سورة سجدہ (21) اور توبہ (126)۔
Ayah 30:42قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ : یعنی قوم نوح، عاد وثمود، قوم شعیب و قوم لوط، فرعون، ہامان اور قارون وغیرہ۔ پچھلی جن قوموں پر تباہی آئی اسی شرک کی بدولت آئی، جس سے بچنے کی تمہیں تلقین کی جا رہی ہے۔
Ayah 30:43فَاَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ الْقَيِّمِ : یعنی جب بر و بحر میں شرک کی وجہ سے فساد پھیل گیا ہے تو اے مخاطب ! تو اپنا چہرہ اس دین کی طرف سیدھا کرلے جو بالکل سیدھا اور فطرت توحید پر قائم ہے۔
مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ : ”مَرَدَّ“ ”رَدَّ یَرُدُّ“ سے مصدر میمی ہے، ہٹانا، پھیر دینا۔ یعنی اس دن سے پہلے پہلے دین قیم کی طرف اپنا رخ سیدھا کرلے جس کا واقع ہونا اللہ تعالیٰ نے طے کردیا ہے اور اللہ کی طرف سے اس کے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں، پھر کوئی اور اسے کس طرح ٹال سکتا ہے ؟
يَوْمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ : ”يَّصَّدَّعُوْنَ“ اصل میں ”یَتَصَدَّعُوْنَ“ ہے ”پھٹ جائیں گے“ یعنی قیامت کے دن مسلم و کافر اس طرح یک لخت جدا جدا ہوجائیں گے جیسے کوئی چیز پھٹ کر الگ الگ ہوجاتی ہے۔ ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی کافر مسلمانوں میں یا کوئی مسلمان کافروں میں شامل رہ جائے، فرمایا : (فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ) [ الشورٰی : 7 ] ”ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ بھڑکتی آگ میں۔“
Ayah 30:44مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُه ٗ۔۔ : اس میں جدا جدا ہونے والے دونوں فریقوں کا حال بیان فرمایا کہ جس نے کفر کیا اس کے کفر کا وبال اسی پر ہوگا اور جو نیک عمل کریں گے وہ اپنے ہی لیے آرام کی جگہ تیار کر رہے ہیں، یا سامان تیار کر رہے ہیں قبر میں، جنت میں بلکہ دنیا میں بھی۔ ”کَفَرَ“ کے ساتھ دوسرے برے اعمال کا ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ کفر کے بعد کسی عمل کا اعتبار ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا) [ الفرقان : 23 ] ”اور ہم اس کی طرف آئیں گے جو انھوں نے کوئی بھی عمل کیا ہوگا تو اسے بکھرا ہوا غبار بنادیں گے۔“ اور کفر کے مقابلے میں ایمان کے بجائے عمل صالح فرمایا، کیونکہ ایمان بھی عمل صالح میں شامل ہے اور اس لیے کہ عمل صالح کی اہمیت واضح ہوجائے۔
Ayah 30:45لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : اس میں قیامت کے دن لوگوں کے جدا جدا ہونے کی وجہ بیان فرمائی ہے۔ بقاعی نے فرمایا : ”یہاں دو جملوں میں سے ہر ایک کا ایک حصہ حذف کردیا اور ایک بیان کردیا ہے، جس سے حذف شدہ حصہ خود بخود معلوم ہو رہا ہے۔“ گویا مفصل کلام یوں ہوگا : ”لِیَجْزِيَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِہِ إِنَّہُ یُحِبُّ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ لِیَجْزِيَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ عَمِلُوا السَّیِّءَاتِ بِعَدْلِہِ إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْکَافِرِیْنَ“ ”تاکہ وہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اپنے فضل سے جزا دے، کیونکہ وہ ایمان والوں سے محبت کرتا ہے اور تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا اور برے اعمال کیے اپنے عدل کے ساتھ بدلا دے، کیونکہ وہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔“ پہلے جملے میں سے ”إِنَّہُ یُحِبُّ الْمُؤْمِنِیْنَ“ حذف کردیا اور دوسرے میں سے ”لِیَجْزِيَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ عَمِلُوا السَّیِّءَاتِ بِعَدْلِہِ“ حذف کردیا۔ اسے احتباک کہتے ہیں اور لمبی بات کو اس طرح مختصر کرنا قرآن کے بیان کا ایک حسن ہے۔
مِنْ فَضْلِهٖ : یعنی ایمان اور عمل صالح والوں کو جنت میں داخلہ کسی استحقاق کی بنا پر نہیں ملے گا بلکہ محض فضل یعنی اصل بدلے سے زائد اجر کے طور پر ملے گا۔ کیونکہ دنیا میں اگر انسان نے اللہ کا شکر ادا کیا یا اس کا فرماں بردار بن کر رہا تو اس سے تو اس کے پہلے احسانات کا بدلا ہی پورا نہیں ہوتا، اس توفیق کا بدلا کس طرح ہوگا جس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا ! ؟ اس لیے بندوں کو جو اجر بھی ملے گا وہ ان کے اعمال سے زائد انعام ہی ہوگا۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا : (لَنْ یُّدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ) ”کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔“ لوگوں نے کہا : (وَلاَ أَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! ؟) ”اور کیا آپ کو بھی نہیں اے اللہ کے رسول ! ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (لَا، وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ یَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰہُ بِفَضْلٍ وَ رَحْمَۃٍ) [ بخاري، المرضٰی، باب تمنی المریض الموت : 5673 ] ”نہیں، مجھے بھی نہیں، اِلاّ یہ کہ اللہ مجھے فضل و رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“
Ayah 30:46وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ۔۔ : بروبحر میں فساد کا باعث شرک بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل کے طور پر چند چیزیں ذکر فرمائیں جن کا سب لوگ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ قرآن مجید میں جہاں بھی ”إِرْسَال الرِّیَاحِ“ کے الفاظ مذکور ہوں (رِیْحٌ کی جمع کے صیغے کے ساتھ) ان سے مراد خوش گوار ہوائیں ہوتی ہیں۔ اس آیت میں دو قسم کی خوش گوار ہواؤں کا اور ان کے فوائد کا ذکر فرمایا، ایک رحمت کی بارش کی خوش خبری دینے والی، جس سے گردوغبار اور فضا میں پھیلی ہوئی زہر ناکی ختم ہوتی ہے، مردہ زمین سیراب ہوتی ہے، طرح طرح کی فصلیں، پودے اور درخت پیدا ہوتے ہیں اور تمام جان داروں کی بنیادی ضرورت پانی مہیا ہوتا ہے۔ غرض بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ دوسری وہ موافق ہوائیں جو کشتیوں اور جہازوں کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ پہلے زمانے میں تو رواج ہی بادبانی کشتیوں کا تھا، جن کے چلنے کا زیادہ تر انحصار موافق ہواؤں پر ہوتا تھا۔ آج کل انجن سے چلنے والی کشتیوں اور جہازوں کا دور ہے، پھر بھی موافق اور مخالف ہواؤں کا ان کشتیوں اور جہازوں پر خاصا اثر پڑتا ہے۔ فرمایا، یہ کشتیاں جو موافق ہواؤں کے سہارے چلتی ہیں ان کے ذریعے سے تم اللہ کا فضل تلاش کرتے ہو کہ وہ طلب علم، تجارت اور دوسری ضروریات کے لیے سفر کا آسان اور سستا ذریعہ بنتی ہیں۔ پھر تم انھی کشتیوں پر اپنا ہزاروں لاکھوں من تجارتی سامان لے جا کر خوب نفع کماتے ہو اور انھی جہازوں پر ملکوں کو فتح کرتے ہو۔ ایک علاقے میں پیدا ہونے والی چیزیں صرف وہاں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ تمام دنیا کے لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہواؤں کے بھیجنے میں یہ تمام فوائد بھی ہیں اور یہ بھی کہ تم ان نعمتوں پر اللہ کا شکر کرو اور اس کی وحدانیت مان کر اس اکیلے کی عبادت کرو۔
Ayah 30:47وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا۔۔ : اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قیامت برپا ہونے کے دلائل سن کر بھی کفار ایمان نہ لائے اور اپنی ضد ہی پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی کے لیے فرمایا کہ آپ پہلے شخص نہیں جسے جھٹلایا گیا ہو، بلکہ آپ سے پہلے ہم نے بہت سے رسول بھیجے جو اپنی اقوام کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، جو وحی الٰہی کی آیات بھی تھیں اور پیغمبر کو ملنے والے معجزے بھی، مگر کفار اپنے جرائم پر اڑے رہے تو ہم نے ان مجرموں سے انتقام لیا اور مومنوں کی نصرت فرمائی اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر ہمیشہ سے لازم رہا ہے۔ (کَان استمرار کے لیے ہے) ”المومنین“ میں پیغمبر، ان کے صحابہ اور تمام مومنین شامل ہیں۔
Ayah 30:48اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا۔۔ : عبدالرحمان کیلانی ؓ لکھتے ہیں : ”اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی نشانیاں ذکر فرما دیں، مثلاً ہوا جو ایک کنکر کا بوجھ بھی برداشت نہیں کرسکتی اور کنکر زمین پر آپڑتا ہے، مگر یہ ہوا آبی بخارات کو ایک کاغذ کے پرزے کی طرح اپنے کندھے پر اٹھائے پھرتی ہے۔ وہ آبی بخارات جن میں کروڑوں ٹن پانی موجود ہوتا ہے اور اس وزن کا اندازہ زمین کے اس رقبے سے لگایا جاسکتا ہے جس میں یہ بارش ہوئی اور جتنے انچ بارش ہوئی۔ دوسری یہ کہ ان باربردار ہواؤں کا رخ طبیعی طور پر متعین نہیں ہوتا (کہ لازماً فلاں جانب ہی چلیں گی) بلکہ اللہ تعالیٰ جس طرف خود چاہے اسی طرف ہی موڑ دیتا ہے۔ اس لیے جہاں چاہتا ہے وہیں بارش ہوتی ہے، دوسرے علاقے میں نہیں ہوتی (اور جتنی چاہتا ہے ہوتی ہے، زیادہ نہیں ہوتی)۔ تیسری یہ کہ جب یہ بادل کسی ایسے ٹھنڈے فضائی علاقے میں پہنچتے ہیں جو آبی بخارات کو پھر سے پانی میں منتقل کرسکیں تو وہاں بھی بادلوں کا سارا پانی یک لخت پانی بن کر زمین پر نہیں گرپڑتا بلکہ قطرہ قطرہ بن کر گرتا ہے، حتیٰ کہ اگر ٹھنڈک زیادہ ہو تو بھی وہ قطرے ہی اولے بن کر گرتے ہیں، یہ نہیں ہوتا کہ زیادہ سردی کی وجہ سے سارا پانی برف بن کر یک لخت گرپڑے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں ہیں۔
بارش سے پہلے زمین کا یہ حال تھا کہ دھول اڑتی پھرتی تھی، درختوں کے پتوں پر گرد و غبار پڑا تھا۔ بارش ہوتی ہے تو درخت دھل جاتے ہیں اور زمین لہلہانے لگتی ہے، گویا اسے نئی زندگی مل گئی، پھر کئی قسم کے جان دار بھی بارش میں پیدا ہو کر بولنے اور چلنے پھرنے لگتے ہیں۔ ایک بہار آجاتی ہے جس سے دل مسرور ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی تمام مخلوق کی روزی کا سامان بھی میسر آنے لگتا ہے اور انسان جو برسات سے بیشتر مایوسی کا شکار ہو رہا تھا پھر سے خوش ہو کر پھولنے اور اترانے لگتا ہے۔“
Ayah 30:49وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْهِمْ۔۔ : واؤ حالیہ ہے اور ”اِنْ کَانُوا“ اصل میں ”إِنَّھُمْ کَانُوْا“ ہے۔”لَمُبْلِسِیْن“ پر آنے والے لام کی وجہ سے ”إِنَّ“ کو ”اِن“ سے بدل دیا اور ”ھُمْ“ کو حذف کردیا۔”مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّنَزَّلَ“ کے بعد ”مِنْ قَبْلِهٖ“ دوبارہ لانے کا مطلب تاکید ہے، یعنی وہ بارش اترنے سے پہلے، اس کے عین پہلے تک بالکل ناامید تھے۔ اس میں لمبی ناامیدی کا نہایت تیزی کے ساتھ فوری خوشی میں بدلنے کا بیان ہے، یعنی وہ بالکل ناامید تھے، بارش اترتے ہی خوشیاں منانے لگے۔ اس سے اللہ کی قدرت معلوم ہوتی ہے کہ لمحہ بھر میں دنیا کی حالت بدل جاتی ہے، کچھ دیر پہلے سب کے چہرے اترے ہوئے تھے اور اب بارش کے بعد ہر طرف خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔
Ayah 30:50فَانْظُرْ اِلٰٓى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ۔۔ : اس آیت میں بارش کے ساتھ مردہ زمین کے زندہ کردینے کو قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔
وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ : یعنی وہ صرف مردوں ہی کو زندہ کرنے والا نہیں بلکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ مردوں کو زندہ کرنا تو اس کی قدرت کا ادنیٰ سا کرشمہ ہے، جس کا نمونہ تم بارش کے بعد زمین کے زندہ ہونے کی صورت میں دیکھتے ہو۔
Ayah 30:51وَلَىِٕنْ اَرْسَلْنَا رِيْحًا۔۔ : یعنی اگر ہم کوئی سخت سرد یا گرم ہوا بھیج دیں، جس سے ان کے کھیت زرد پڑجائیں تو وہ ناشکری کرنے لگ جائیں گے اور پہلی نعمت سے بھی مکر جائیں گے۔ اس میں کافر اور دنیا دار مسلمان کا حال بیان ہوا ہے کہ جب اس پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے تو اس وقت وہ خوش تو بہت ہوتا ہے مگر اللہ کا شکر پھر بھی ادا نہیں کرتا اور جب کوئی نعمت چھنتی ہے تو اس وقت اسے اللہ یاد تو آتا ہے مگر صبر و شکر کے لیے نہیں، بلکہ کفر اور ناشکری کے کلمات کا ہدف بنانے کے لیے۔ نعمت ملنے پر اللہ کا احسان ماننے کے لیے تو قطعاً تیار نہ تھا، زوال نعمت پر اور بھی برگشتہ ہوگیا اور اللہ کو کو سنے لگ گیا کہ اس نے ہم پر یہ کیسی مصیبت ڈال دی ہے۔
Ayah 30:52فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ خوش گوار ہواؤں، بارش، بحری جہازوں اور توحیدِ الٰہی پر دلالت کرنے والی دوسری بیشمار نشانیوں کے باوجود اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو آپ غم زدہ نہ ہوں، کیونکہ آپ زندوں کو سنا سکتے ہیں مردوں کو نہیں اور کان والوں کو سنا سکتے ہیں بہروں کو نہیں، جب کہ کفر و عناد پر اڑے ہوئے یہ لوگ زندہ نہیں حقیقت میں مردہ ہیں اور کان رکھنے والے نہیں بلکہ ایسے بہرے ہیں جو پیٹھ دے کر جا رہے ہوں، جنھیں کسی صورت بات پہنچائی جا ہی نہ سکتی ہو، کیونکہ اگر وہ دیکھ رہے ہوتے تو شاید دیکھ کر ہی سمجھ جاتے، مگر جب وہ سماعت سے مرحوم بھی ہیں اور پیٹھ دے کر بھی جارہے ہیں تو آپ ان کو کیسے سنائیں گے ! ؟
3 اللہ تعالیٰ کے کلام کی بلندی اور بلاغت کو تو کسی کا کلام چھو بھی نہیں سکتا، مگر انسانی حد تک ایک شاعر نے یہ مفہوم اچھا ادا کیا ہے
لَقَدْ أَسْمَعْتَ لَوْ أَسْمَعْتَ حَیًّا
وَ لَوْ نَارًا نَفَخْتَ بِھَا أَضَاءَتْ
وَ لٰکِنْ لَا حَیَاۃَ لِمَنْ تُنَادِيْ
وَ لٰکِنْ أَنْتَ تَنْفُخُ فِي الرَّمَادِ
”تم نے اپنی بات یقیناً سنا دی اگر تو کسی زندہ کو آواز دیتا، مگر جسے تو آواز دے رہا ہے اس میں زندگی ہی نہیں۔ اور اگر کوئی معمولی سی آگ بھی ہوتی جس میں تو پھونک مارتا تو وہ روشن ہوجاتی، مگر تو تو راکھ میں پھونکیں مار رہا ہے۔“
3 اس میں شک نہیں کہ اس آیت میں مردوں اور بہروں سے مراد ایمان نہ لانے والے کافر ہیں، مگر یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ فوت شدہ مردے زندہ لوگوں کی بات نہیں سنتے، کیونکہ اگر مردے سنتے ہوں تو ایمان نہ لانے والوں کو مردوں کے ساتھ تشبیہ کس چیز میں دی جا رہی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ مردے نہیں سنتے اور یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے۔ ہاں وہ دو مواقع اس سے مستثنیٰ ہیں جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں، ایک بدر میں کفار کے مقتولین سے رسول اللہ ﷺ کا خطاب جو انھیں کنویں میں پھینکنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا (دیکھیے بخاری : 3976) اور دوسرا میت کا قبر میں دفن کیے جانے کے بعد واپس جانے والوں کے جوتوں کی آواز سننا۔ (دیکھیے بخاری : 1338)
Ayah 30:53وَمَآ اَنْتَ بِهٰدِي الْعُمْىِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ۔۔ : یہاں اندھوں سے بھی دل کے اندھے ہی مراد ہیں، جنھیں گمراہی سے نکال کر نجات کی راہ پر لے آنا آپ کے بس میں نہیں اور نہ ایسا کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ دیکھیے سورة نمل (80، 81)۔
Ayah 30:54اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ۔۔ : مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں : ”انسان کا اصل تو مٹی سے ہے، پھر نطفے سے، پھر جمے ہوئے خون کے ٹکڑے سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے، پھر اسے ہڈیاں پہنائی جاتی ہیں، پھر ہڈیوں پر گوشت پوست پہنایا جاتا ہے، پھر روح پھونکی جاتی ہے، پھر ماں کے پیٹ سے ضعیف و نحیف ہو کر نکلتا ہے، پھر تھوڑا تھوڑا بڑھتا ہے اور مضبوط ہوتا جاتا ہے، پھر بچپن کے زمانے کی بہاریں دیکھتا ہے، پھر جوانی کے قریب پہنچتا ہے، پھر جوان ہوتا ہے، آخر نشو و نما موقوف ہوجاتی ہے۔ اب قویٰ پھر مضمحل ہونا شروع ہوتے ہیں، طاقتیں گھٹنے لگتی ہیں، ادھیڑ عمر کو پہنچتا ہے، پھر بوڑھا ہوجاتا ہے۔ طاقت کے بعد یہ کمزوری بھی قابل عبرت ہوتی ہے کہ ہمت پست ہے۔ دیکھنا، سننا، چلنا، پھرنا، اٹھنا، اچکنا، پکڑنا غرض ہر طاقت گھٹ جاتی ہے، رفتہ رفتہ بالکل جواب دے جاتی ہے اور ساری صفتیں متغیر ہوجاتی ہیں، بدن پر جھریاں پڑجاتی ہیں، رخسار پچک جاتے ہیں، دانت ٹوٹ جاتے ہیں اور بال سفید ہوجاتے ہیں، یہ ہے قوت کے بعد کی ضعیفی اور بڑھاپا۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، بنانا بگاڑنا اس کی قدرت کے ادنیٰ کرشمے ہیں۔ ساری مخلوق اس کی غلام، وہ سب کا مالک۔ وہ عالم و قادر، نہ اس کا سا کسی کا علم، نہ اس جیسی کسی کی قدرت۔“ (ابن کثیر)
3 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد فرمایا ہے کہ جو اللہ انسان کو عدم سے نکال کر وجود میں لاسکتا ہے، پھر ضعف کی حالت سے بڑھا کر قوت اور جوانی تک پہنچاتا ہے، پھر قوت و جوانی سے ضعف اور بڑھاپے کی طرف لا کر موت تک پہنچا دیتا ہے، اس کے لیے اسے دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں، خصوصاً جب وہ علیم بھی ہے، اسے کائنات کے ہر شخص اور ہر چیز کے ہر ذرّے کا علم ہے کہ کہاں ہے اور قدیر بھی ہے کہ اس کا وجود و عدم دونوں اس کی قدرت کا نتیجہ ہیں۔ وہ جب چاہے مردہ اجزا کو دوبارہ زندہ کرسکتا ہے۔
يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ : یعنی ضعف سے قوت کی طرف اور قوت سے ضعف اور بڑھاپے کی طرف انسان کا یہ سفر اندھے اور بےشعور مادے کے خود بخود ہونے والے تغیر ات نہیں، بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا فعل ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، کسی کو جنین ہی کی حالت میں ختم کردیتا ہے، کسی کو پیدا ہوتے ہی، کسی کو بچپن میں بلا لیتا ہے، کسی کو جوانی تک پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے بڑھاپے تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اس کی مشیّت، کمال علم اور کمال قدرت کے مطابق ہوتا ہے۔
3 ابن عاشور فرماتے ہیں : ”لفظ ”ضعف“ آیت میں ضاد کے ضمّہ کے ساتھ ہے اور یہ زیادہ فصیح اور لغت قریش ہے اور اس کے ضاد پر فتحہ بھی جائز ہے اور یہ لغت تمیم ہے۔ ابو داؤد اور ترمذی نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کی ہے، وہ فرماتے ہیں : ”میں نے اسے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ”الَّذِيْ خَلَقَکُمْ مِنْ ضَعْفٍ“ (یعنی ضاد کے فتحہ کے ساتھ) پڑھا تو آپ ﷺ نے مجھے ”مِنْ ضُعْفٍ“ (یعنی ضاد کے ضمہ کے ساتھ) پڑھایا۔“ [ ترمذي، القرائات، باب ومن سورة الروم : 2936، وقال الألباني حسن۔ أبو داوٗد، الحروف و القراء ات، باب : 3978 ] جمہور نے تینوں جگہ ”ضعفا“ کا لفظ ضاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور عاصم اور حمزہ نے اسے ضاد کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یقیناً ان کے پاس اس کا ثبوت ہے جو ابن عمر ؓ کی روایت کے خلاف ہے۔ اس قراءت اور ابن عمر ؓ کی حدیث کے درمیان تطبیق یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اسے ضاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا، کیونکہ یہ آپ ﷺ کی قوم کی لغت ہے اور جو دوسرے قبیلے کی لغت میں پڑھے اس کے لیے فتحہ کے ساتھ پڑھنے کی رخصت ہے اور جس کی کوئی خاص لغت نہ ہو اسے دونوں طرح پڑھنے کا اختیار ہے۔“ (التحریر والتنویر) یاد رہے کہ اگرچہ عاصم کی قراءت ضاد کے فتحہ کے ساتھ ہے مگر ان کے ایک راوی حفص نے (جن کی روایت ہمارے ہاں رائج ہے) ابن عمر ؓ کی حدیث کی وجہ سے اس کے ضاد کے ضمہ کو ترجیح دی ہے۔
Ayah 30:55وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ۔۔ : قیامت کے دن مجرم لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک گھڑی کے سوا نہیں ٹھہرے، یعنی دنیا میں ان کی زندگی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں تھی۔ انھیں اتنا وقت ہی نہیں ملا کہ وہ اپنے رب کو پہچانتے یا اپنے پیغمبروں کی باتوں پر عمل کرتے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے وقت میں ہم پر حجت قائم نہیں ہوئی، اس لیے ہم معذور ہیں۔ (ابن کثیر) یعنی جس طرح یہ لوگ دنیا میں حق کو پہچانتے تھے اور جانتے بوجھتے ہوئے اسے چھوڑ کر باطل کی طرف جاتے اور باطل کے سچا ہونے پر قسمیں اٹھاتے تھے، اسی طرح آخرت میں بھی یہ جانتے ہوئے کہ وہ دنیا میں اتنی مدت رہے ہیں کہ اگر جاننا یا ماننا چاہتے تو یہ کام کرسکتے تھے۔ (فاطر : 37) جھوٹی قسمیں کھائیں گے کہ وہ دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ رہے ہی نہیں اور سمجھ رہے ہوں گے کہ دنیا کی طرح یہاں بھی قسموں کی وجہ سے ہمارا جھوٹ چل جائے گا۔ دیکھیے سورة مجادلہ (18)۔
Ayah 30:56وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَالْاِيْمَانَ۔۔ : یعنی جس طرح دنیا میں علم و ایمان والے ان کے جھوٹ کی تردید کیا کرتے تھے اور ان پر حجت قائم کیا کرتے تھے، اب بھی ان کی بات سنتے ہی ان کی تردید کرتے ہوئے کہیں گے کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو کہ تم دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے کے مطابق قیامت کے دن تک ٹھہرے ہو۔ تو یہ ہے قیامت کا دن جو ٹھیک وعدے کے مطابق آپہنچا ہے، لیکن تم یہ بات نہیں جانتے تھے بلکہ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور رسولوں سے کہا کرتے تھے کہ لے آؤ وہ قیامت جس کی تم دھمکی دیتے ہو۔
Ayah 30:57فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يَنْفَعُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ۔۔ : یعنی اس دن ان کا یہ عذر کہ ہمیں وقت ہی نہیں ملا، انھیں کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ہی انھیں معافی مانگنے یا اپنے رب کو راضی کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
Ayah 30:58وَلَقَدْ ضَرَبْنَا للنَّاسِ فِيْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ : سورت کے آخر میں فرمایا کہ ہم نے اپنے وجود، اپنی وحدانیت، اپنی قدرت، کائنات کی تخلیق اور اسے دوبارہ پیدا کرنے کی دلیل کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کردی ہیں اور رسول نے اپنا فریضہ ادا کردیا ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص مزید کسی معجزے کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ ضد اور عناد کی وجہ سے ایسا کرتا ہے، کیونکہ جب کوئی شخص ایک واضح دلیل کو جھٹلا دے تو اس کے لیے دوسری دلیلوں کو جھٹلانا کچھ مشکل نہیں ہوتا۔
وَلَىِٕنْ جِئْتَهُمْ بِاٰيَةٍ لَّيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا۔۔ : اس لیے فرمایا کہ اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی معجزہ لے آئیں یہ یہی کہیں گے کہ تم تو محض جھوٹے ہو۔ اس آیت کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورة انعام (111) اور یونس (96، 97)۔
Ayah 30:59كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ۔۔ : یعنی جن کے دل صحیح علم سے کورے ہوتے ہیں اور وہ ہٹ دھرمی سے ہر بات کا انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں، بالآخر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں قبول حق کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔
Ayah 30:60فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ۔۔ : اللہ کا یہ وعدہ اس سورت کی آیت (47) میں گزر چکا ہے، فرمایا : (وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ)”اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر لازم ہی تھا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد کرنا اپنے ذمے لے رکھا ہے، اس لیے آپ صبر کریں اور یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر یقین نہیں رکھتے آپ کو کسی موقع پر ہلکا نہ کردیں کہ آپ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیں، بلکہ خوب مستحکم اور مضبوط ہو کر اپنے موقف پر ڈٹے رہیں۔