30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 30:22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا الگ الگ ہونا ہے۔ بیشک اس میں جاننے والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَمِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی قدرت کاملہ اور تمہیں دوبارہ زندہ کرنے پر دلالت کرنے والی بیشمار نشانیوں میں سے ایک نشانی جو بہت سی نشانیوں پر مشتمل ہے، آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے، جس کے مقابلے میں تمہیں پہلی یا دوسری دفعہ پیدا کرنا بالکل ہی معمولی بات ہے۔ لاکھوں کروڑوں سال سے چلا آنے والا زمین اور آسمانوں کا نظام اور ان میں موجود سورج چاند اور بیشمار وسیع و عریض سیاروں پر مشتمل کہکشاؤں کا سلسلہ جو دن بدن وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے (دیکھیے ذاریات : 47) رب تعالیٰ کی بےپایاں قدرتوں کی واضح نشانی ہے، جیسا کہ فرمایا : (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) [ المؤمن : 57 ] ”یقیناً آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ اگر یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نے پیدا کیا ہے، یا کسی اور کا اس میں کوئی حصہ ہے، یا کم از کم اسے پیدا کرنے کا کوئی دعوے دار ہی ہے تو سامنے لاؤ۔ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی کائنات میں پایا جانے والا تنوع ہے کہ اس نے جو چیز پیدا کی وہ دوسری چیز سے الگ پیدا کی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس تنوع میں سے صرف دو چیزیں ذکر فرمائی ہیں، ایک انسانوں کی زبانوں کا مختلف ہونا، دوسرا ان کے رنگوں کا مختلف ہونا۔ ایک مٹی اور ایک پانی سے پیدا ہونے والے انسانوں کی زبانیں مختلف ہیں۔ عربی، فارسی، انگریزی، ہندی، جاپانی، ترکی، حبشی، چینی، روسی، فرانسیسی، جرمنی، سپینی، غرض ہر قوم کی الگ زبان ہے، پھر ہر زبان کی بیشمار ذیلی زبانیں ہیں۔ ان ذیلی زبانوں کے لہجے اور بعض الفاظ ہرچند میل کے فاصلے پر مختلف ہوجاتے ہیں۔ پھر بولتے وقت ایک ہی زبان مثلاً عربی یا انگلش میں بات کرتے ہوئے کسی ایک شخص کا لہجہ، آواز، ادائیگی، تیزی یا آہستگی، نرمی یا سختی، شیرینی یا تلخی دوسرے شخص سے نہیں ملتی، حتیٰ کہ آدم ؑ سے لے کر آخری انسان تک ہر شخص جب بولتا ہے تو اس کا تکلم صرف اسی کو عطا ہوا ہے، جس سے وہ پوری بنی نوع انسان میں دوسروں سے ممتاز ہے۔ اسے جاننے والا شخص پردے کے پیچھے اس کی بات سن کر پہچان لے گا کہ فلاں شخص بول رہا ہے۔ کمپیوٹر کی ایجاد سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی یہ عجیب نشانی مزید نمایاں ہوگئی ہے کہ اسے کسی شخص کا تکلم دے دیا جائے، تو وہ کروڑوں اربوں انسانوں میں سے جدا کر دے گا۔ اسی طرح انسانوں کے رنگوں کا مختلف ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانی ہے کہ ایک ہی اصل سے پیدا ہونے والے انسانوں میں کوئی سفید ہے، کوئی گندمی، کوئی سیاہ، کوئی سرخ، کوئی زرد اور کوئی ان کے درمیان۔ پھر کمال یہ ہے کہ بظاہر ایک ہی رنگ، مثلاً سیاہ رنگ والے ایک انسان کا رنگ دوسرے سیاہ فام انسان کے رنگ سے نہیں ملتا۔ اللہ تعالیٰ نے رنگ میں اتنی قسمیں رکھ دی ہیں کہ ہر سیاہ کا رنگ دوسرے سیاہ کے رنگ سے اور ہر سفید کا رنگ دوسرے سفید کے رنگ سے مختلف ہے۔ کسی شخص کی آنکھوں کی پتلی کی رنگت اور ساخت دوسرے شخص کی آنکھ کی رنگت اور ساخت سے نہیں ملتی۔ کسی ایک شخص کے بالوں کا سیاہ یا سرخ یا سنہری یا سفید رنگ دوسرے کے سیاہ یا سرخ یا سنہری یا سفید رنگ سے نہیں ملتا۔ کسی شخص کی جسمانی ساخت اور اس کے ہاتھ پاؤں کی لکیریں دوسرے شخص سے نہیں ملتیں، جب کہ دیکھنے میں سب انسان ہیں۔ تخلیق کا یہ باریک ترین اور عظیم ترین سلسلہ کیا اس بات کی واضح دلیل نہیں کہ یہ سب کچھ ایک رب قدیر کی قدرت کا شاہکار ہے ؟ جس نے جو چاہا پیدا کردیا، جو پیدا کیا خوب صورت پیدا کیا اور بےمثال اور لاجواب پیدا کیا۔ عقل سے کتنے خالی ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ خود بخود ہوگیا، یا کہتے ہیں کہ دو خالقوں یا مالکوں کی موجودگی میں یہ نظام چل رہا ہے، یا کہتے ہیں کہ اتنی عظیم قدرتوں کا مالک مٹی ہوجانے کے بعد انسانوں کو دوبارہ کیسے زندہ کرے گا ! ؟ پھر تنوع کے اس سلسلے کو ذرا پھیلا کر دیکھیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ ۣ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ) [ الرعد : 4 ] ”اور زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف ٹکڑے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت کئی تنوں والے اور ایک تنے والے، جنھیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے بعض کو پھل میں بعض پر فوقیت دیتے ہیں، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔“ زمین سے پیدا ہونے والی ہر جنس، حیوانات ہوں یا نباتات یا جمادات، ان کی ہر قسم دوسری قسم سے جدا ہے، مثلاً گائے بکری سے جدا ہے، آم کا درخت جامن سے جدا ہے، گندم جو سے الگ ہے، لوہا تانبے سے الگ ہے۔ پھر لامحدود تنوع دیکھیے کہ ہر درخت کا ہر پتا اسی درخت کے دوسرے پتے سے الگ ہے۔ ذرا اس کی لکیروں پر غور کرو، ہر ایک کی لکیریں دوسرے کی لکیروں سے الگ ہیں۔ دیکھنے میں تمام درخت اور تمام پودے سبز ہیں، مگر ہر ایک کو دوسرے سے الگ سبز رنگ عطا ہوا ہے۔ صرف درخت ہی نہیں چرندوں، پرندوں، درندوں اور آبی جانوروں میں سے ہر ایک کا یہی حال ہے۔ رنگوں کا یہ اختلاف ہی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور اس کی قدرت کی کافی دلیل ہے۔rnۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــلْعٰلِمِيْنَ : یعنی آسمان و زمین کی پیدائش اور زبانوں اور رنگوں کے اختلاف سے اللہ تعالیٰ کی اور اس کی قدرتوں کی پہچان ہر ایرے غیرے کا کام نہیں، ان نشانیوں کی پہچان علم والوں کا کام ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا للنَّاسِ ۚ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ) [ العنکبوت : 43 ] ”اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انھیں صرف جاننے والے ہی سمجھتے ہیں۔“ رنگوں کے اختلاف سے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کی معرفت اور اس کی خشیت صرف علماء کا حصہ ہونا دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے، چناچہ فرمایا : (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا ۭوَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِيْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَغَرَابِيْبُ سُوْدٌ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَاۗبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ ۭ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ) [ فاطر : 27، 28 ] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ کئی پھل نکالے، جن کے رنگ مختلف ہیں اور پہاڑوں میں سے کچھ سفید اور سرخ قطعے ہیں، جن کے رنگ مختلف ہیں اور کچھ سخت کالے سیاہ ہیں۔ اور کچھ لوگوں اور جانوروں اور چوپاؤں میں سے بھی ہیں جن کے رنگ اسی طرح مختلف ہیں، اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں، بیشک اللہ سب پر غالب، بیحد بخشنے والا ہے۔“
Ayah 30:23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا دن اور رات میں سونا اور تمہارا اس کے فضل سے (حصہ) تلاش کرنا ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔

وَمِنْ اٰيٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ : یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، اس کے کمال قدرت اور اس کے تمہیں دوبارہ زندہ کرنے پر دلالت کرنے والی نشانیوں میں سے ایک نشانی تمہارا رات اور دن میں سونا ہے۔ جس کے ساتھ بےاختیار تمہاری ہر سرگرمی ختم اور تمہارے حواس ظاہری کے تمام اعمال بند ہوجاتے ہیں اور تمہیں اپنے گرد و پیش کی کچھ خبر نہیں رہتی۔ اس سے پہلے کام کاج اور حرکت و محنت کی وجہ سے تمہارے جسم میں جو ٹوٹ پھوٹ اور تھکاوٹ ہوئی تھی، نیند عطا کرنے والا مالک نیند کے دوران جسم کی مرمت کر کے اور تھکاوٹ دور کر کے دوبارہ کام کاج کے قابل بنا کر تمہیں پھر بیدار کردیتا ہے۔ جس طرح نیند اس کی نشانی ہے، بیداری اور رات دن میں اس کے فضل کی تلاش بھی اس کی نشانی ہے۔ دونوں اسی کی تخلیق ہیں، کسی کا ان میں ذرّہ بھر دخل نہیں، بلکہ مخلوق تو ان کی حقیقت ہی سے نا آشنا ہے کہ نیند کیا چیز ہے، کیسے آتی ہے اور کیسے ختم ہوجاتی ہے ! ؟ پھر دن رات کئی دفعہ سونے اور جاگنے کا یہ عمل باربار موت و حیات کا عملی نمونہ ہے۔ پھر بھی تمہیں اصرار ہے کہ ہر روز کئی بار موت و حیات کے مراحل سے گزارنے والا مالک تمہارے اعمال کے محاسبے اور جزا و سزا کے لیے تمہیں دوبارہ زندہ نہیں کرسکے گا۔ 3 نیند کی حقیقت اس سے زیادہ کسی کو معلوم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمائی ہے، فرمایا : (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ) [ الزمر : 42 ] ”اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان کو بھی جو نہیں مریں ان کی نیند میں، پھر اسے روک لیتا ہے جس پر اس نے موت کا فیصلہ کیا اور دوسری کو ایک مقرر وقت تک بھیج دیتا ہے۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔“ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ نیند موت ہے اور بیداری حیات اور دونوں کی حقیقت روح کے آنے جانے کو سمجھنے پر موقوف ہے۔ اور روح کیا ہے ؟ اس کے متعلق فرمایا : (وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا) [ بني إسرائیل : 85 ] ”اور وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑے کے سوا نہیں دیا گیا۔“ 3 روس میں کمیونزم کے عروج کے زمانے میں جب اللہ تعالیٰ کی منکر، مادہ پرست اور دنیا کی ظالم ترین جماعت کمیونسٹ پارٹی مزدوروں سے کھیتوں اور کارخانوں میں زیادہ سے زیادہ کام لینے کی نئی سے نئی صورت سوچتی رہتی تھی، اس وقت پارٹی کے راہ نماؤں نے سوچا کہ مزدور بہت سا وقت سو کر ضائع کردیتے ہیں، چناچہ انھوں نے سائنس دانوں کے ذمے لگایا کہ وہ تحقیق کریں کہ ان کا نیند میں صرف ہونے والا وقت زیادہ سے زیادہ کیسے بچایا جاسکتا ہے۔ کئی سالوں کی تحقیق کے بعد اس کا نتیجہ جو انھوں نے بیان کیا وہ یہ تھا کہ انسان کے لیے نیند بہت ضروری ہے، کیونکہ اس کے دوران اس کے ٹوٹے پھوٹے خلیات دوبارہ بنتے ہیں اور وہ دوبارہ کام کاج کے قابل ہوجاتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ تعمیر و مرمت اور تازگی کا یہ عمل نیند کے دوران صرف ایک لمحے میں پورا ہوجاتا ہے، مگر وہ لمحہ بعض اوقات نیند کی ابتدا میں آتا ہے، کبھی درمیان میں اور کبھی آخر میں، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لمبی سے لمبی نیند میں بھی وہ لمحہ نہیں آتا اور انسان بیدار ہوتا ہے تو اسی طرح تھکا ماندہ اور ٹوٹا پھوٹا ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ لمحہ آجانے کی وجہ سے نیند کی ایک جھپکی کے ساتھ ہی اس کی ساری تھکن کافور ہوجاتی ہے۔ ان سائنس دانوں نے اعتراف کیا ہے کہ انسان اس لمحے کو اپنی گرفت میں لانے سے عاجز ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نشانی کے صرف ایک معمولی سے حصے کا اعتراف ہے، جسے اس نے ”وَمِنْ اٰيٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ“ کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ 3 عام طور پر قرآن مجید میں رات کو نیند اور آرام کے لیے اور دن کو تلاش معاش کے لیے قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُوْا فِيْهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا) [ النمل : 86 ] ”کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو بنایا، تاکہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن۔“ اور فرمایا : (وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا وَّجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا) [ النبا : 10، 11 ] ”اور ہم نے رات کو لباس بنایا۔ اور ہم نے دن کو روزی کمانے کے لیے بنایا۔“ (مزید دیکھیے بنی اسرائیل : 12) یہ عام معمول کا بیان ہے، مگر انسان رات کے علاوہ دن کو بھی سو جاتا ہے اور تلاش معاش دن کے علاوہ رات کو بھی کرلیتا ہے، اس لیے اس آیت میں رات اور دن دونوں میں نیند کو اور اللہ کے فضل کی تلاش کو اپنی نشانیوں میں سے نشانی قرار دیا۔ وَابْتِغَاۗؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ : اس میں اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ رزق، جو تم تلاش کرتے ہو، وہ تمہاری محنت کا نتیجہ نہیں، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، ورنہ کوئی محنت مشقت کرنے والا فقیر نہ رہے اور محنت مشقت نہ کرنے والا کوئی شخص غنی نہ ہو۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ : یعنی نیند اور بیداری کی نشانی سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر اور مرنے کے بعد زندگی پر کافی استدلال صرف تجربے سے یا عقل سے یا غور و فکر سے ممکن نہیں، بلکہ یہ ان چیزوں سے ہے جن کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا رسول انھیں بیان کرے اور سننے والے انھیں سن کر دل میں جگہ دیں۔ اس لیے فرمایا کہ اس ایک نشانی میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کی بات سنتے ہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اپنے سونے کا احوال نظر نہیں آتا، سو لوگوں کی زبانی سنتے ہیں۔“ (موضح) یہ ”یسمعون“ کا لفظ اختیار کرنے کا ایک اور نکتہ ہے۔
Ayah 30:24

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں خوف اور طمع کے لیے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی اتارتا ہے، پھر زمین کو اس کے ساتھ اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کردیتا ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔

وَمِنْ اٰيٰتِهٖ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَـعًا : یعنی بجلی کی گرج اور چمک سے امید بندھتی ہے کہ بارش ہوگی اور فصلیں تیار ہوں گی اور دوسری طرف ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں بجلی نہ گرپڑے، یا اتنی زیادہ بارش نہ ہوجائے کہ مکانوں اور فصلوں کو تباہ کر دے اور سب کچھ بہا لے جائے۔ وَّيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَيُحْيٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا : اس میں مرنے کے بعد زندگی پر بھی استدلال ہے اور اس بات پر بھی کہ بارش صرف اللہ کی قدرت اور اس کے حکم سے ہوتی ہے نہ کہ محض مادہ کی ترکیب سے۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ : بارش سے مردہ زمین کے زندہ ہونے کو مرنے کے بعد زندگی کی دلیل کے طور پر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے اور اسے عقل والوں کے لیے نشانی قرار دیا گیا جو بات سمجھتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يُـحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ) [ الحدید : 17 ] ”جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے، بلاشبہ ہم نے تمہارے لیے آیات کھول کر بیان کردی ہیں، تاکہ تم سمجھو۔“
Ayah 30:25

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وہ تمہیں زمین سے ایک ہی دفعہ پکارے گا تو اچانک تم نکل آؤ گے۔

وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ تَــقُوْمَ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرمایا، اب فرماتے ہیں کہ اس کی نشانیوں میں سے یہ بات بھی ہے کہ اتنے عظیم آسمان و زمین اور ان میں موجود سورج، چاند اور ستارے کسی ستون یا تھامنے والی چیز کے بغیر محض اس کے امر کے ساتھ اپنی اپنی جگہ قائم ہیں اور اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ) [ الأنبیاء : 33 ] ”سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔“ اس نے ہر ایک میں اپنی کمال حکمت کے ساتھ نہایت باریک اور درست حساب کے ساتھ جذب و دفع کی ایسی قوت رکھ دی ہے کہ کوئی دو جسم آپس میں نہیں ٹکراتے۔ اللہ تعالیٰ کے اس نظام میں کبھی باہمی تصادم نہیں ہوتا۔ اگر اس کا حکم نہ ہو تو نہ آسمان اپنی جگہ قائم رہ سکے اور نہ زمین۔ دیکھیے سورة حج (65) اور سورة فاطر (41)۔ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً۔۔ : پھر یہ نہ سمجھو کہ یہ نظام دائمی یا ابدی ہے اور جو مرگیا ہمیشہ مردہ ہی رہے گا۔ نہیں، پھر (ثم) ایک وقت آرہا ہے جب وہ تمہارے زمین میں دفن ہونے کی حالت میں تمہیں ایک ہی آواز دے گا تو تم یک لخت زمین سے باہر نکل آؤ گے۔ مراد اس سے دوسرا نفخہ ہے، جیسا کہ فرمایا : (ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ) [ الزمر : 68 ] ”پھر اس (صور) میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔“ اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (52) ، یٰس (53) اور نازعات (13، 14)۔
Ayah 30:26

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے اسی کا ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔

وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ۔۔ : یعنی یہ اور اس سے اگلی آیت پچھلی آیات کا نتیجہ اور خلاصہ ہیں۔ یعنی یہ خیال مت کرو کہ وہ اس کے بلانے پر کیسے نکل آئیں گے، کیونکہ آسمان و زمین میں جو بھی ہے اسی کی ملکیت ہے اور سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ”کُنْ“ کہے اور کوئی شخص اس کے حکم سے انحراف کرسکے۔
Ayah 30:27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی شان اسی کی ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ : اللہ تعالیٰ نے یہ بات بندوں کے کہنے اور کرنے کے لحاظ سے فرمائی ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو پہلی دفعہ اور دوسری دفعہ پیدا کرنا برابر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم یہ تو مانتے ہو کہ تمام مخلوقات کو پہلی بار اسی نے پیدا کیا ہے اور یہ بھی سمجھتے ہو کہ جس نے ایک دفعہ کسی چیز کو بنایا ہو اس کے لیے اس چیز کو دوبارہ بنانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اس لیے تمہارے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے لیے، جس نے پہلی بار تمام مخلوقات بنائی ہے، دوسری مرتبہ اسے پیدا کرنا زیادہ آسان ہونا چاہیے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (قَال اللَّہُ کَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ ذٰلِکَ ، وَشَتَمَنِيْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ ذٰلِکَ ، أَمَّا تَکْذِیْبُہُ إِیَّايَ أَنْ یَّقُوْلَ إِنِّيْ لَنْ أُعِیْدَہُ کَمَا بَدَأْتُہُ ، وَأَمَّا شَتْمُہُ إِیَّايَ أَنْ یَّقُوْلَ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا، وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِيْ لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لِّيْ کُفُوًا أَحَدٌ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (اللہ الصمد) 4975، 4974 ] ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ابن آدم نے مجھے جھٹلا دیا، حالانکہ یہ اس کا حق نہ تھا اور اس نے مجھے گالی دی، حالانکہ یہ اس کا حق نہ تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا تو اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ (اللہ) مجھے دوبارہ نہیں بنائے گا جس طرح اس نے مجھے پہلی دفعہ پیدا کیا اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے، اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے، حالانکہ میں اکیلا ہی ہوں، بےنیاز ہوں، جس نے نہ کسی کو جنا نہ کسی نے اسے جنا اور کوئی بھی اس کا کبھی شریک نہیں۔“ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ :”الْمَثَلُ“ سے مراد یہاں صفت اور شان ہے، یعنی زمین ہو یا آسمان، پوری کائنات میں سب سے اعلیٰ صفت اور سب سے اونچی شان صرف اس کی ہے۔ ”لہ“ کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہوگیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی شان اسی کی ہے۔“ طبری نے معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول ذکر کیا ہے : (قَوْلُہُ : (وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى) یَقُوْلُ : (ۭ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ) یعنی یہ زیر تفسیر آیت اللہ کے اس فرمان کی طرح ہے : (ۭ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ) [ الشورٰی : 11 ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔“ یعنی اعلیٰ سے اعلیٰ صفات اور اونچی سے اونچی شان اسی کی ہے، اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ زمین و آسمان کی کوئی بھی چیز حسن و خوبی میں اللہ تعالیٰ کی شان اور صفات کے برابر تو کیا اس سے کوئی نسبت ہی نہیں رکھتی، کیونکہ کسی چیز میں کوئی خوبی موجود بھی ہے تو اس کی عطا کردہ ہے۔ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : خبر کے معرف باللاّم آنے کے ساتھ حصر پیدا ہو رہا ہے، یعنی وہی ہے جو سب پر غالب ہے۔ وہ جو چاہے کرے، نہ اس کے لیے کچھ مشکل ہے نہ کوئی اس کے ارادے میں رکاوٹ بن سکتا ہے، مگر غالب ہونے کے ساتھ وہ کمال حکمت والا بھی ہے۔ اس کا غلبہ اندھے کی لاٹھی نہیں، بلکہ کمال حکمت پر مشتمل ہے۔
Ayah 30:28

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

اس نے تمہارے لیے خود تمھی میں سے ایک مثال بیان کی ہے، کیا تمہارے لیے ان (غلاموں) میں سے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہیں، کوئی بھی اس رزق میں شریک ہیں جو ہم نے تمہیں دیا ہے کہ تم اس میں برابر ہو، ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح تم اپنے آپ سے ڈرتے ہو۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کے لیے کھول کر آیات بیان کرتے ہیں جو سمجھتے ہیں۔

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ۔۔ : یہاں تک توحید اور آخرت کا بیان ملا جلا آ رہا تھا، اب خالص توحید پر کلام شروع ہو رہا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے شرک کے باطل ہونے کی مثال خود تمہاری ذات سے بیان فرمائی، تاکہ تمہیں کہیں دور نہ جانا پڑے۔ اپنے بارے میں یہی غور کرلو کہ تمہارے غلام جو تمہاری ملکیت میں ہیں، کیا ان میں سے کوئی بھی اس رزق میں تمہارا شریک ہے جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے کہ وہ اور تم اس کے مالک ہونے میں برابر ہوجاؤ اور اپنے اس غلام سے اسی طرح ڈرو جیسے تم آزاد لوگ ایک دوسرے سے ڈرتے ہو ؟ جواب ظاہر ہے کہ ہرگز نہیں، غلام آقا کے اور مملوک مالک کے برابر کبھی نہیں ہوسکتا۔ تو پھر جب تم مانتے ہو کہ آسمان و زمین اور ان میں موجود ہر مخلوق، فرشتے، انسان، جنّ ، انبیاء، اولیاء اور صلحاء، حجر، شجر اور بت وغیرہ سب کا مالک اللہ ہے اور وہ سب اللہ کی ملکیت ہیں اور تم خود اپنے غلاموں کو (جو انسان ہونے میں تمہارے برابر ہیں) اپنے اختیارات دے کر اپنے شریک اور اپنے برابر بنانے کے لیے تیار نہیں تو تم نے مخلوق کو خالق کا اور مملوک کو مالک کا شریک کیسے بنا لیا جو اللہ تعالیٰ کے کسی بھی طرح برابر نہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے لیے یہ مثال اس لیے بیان فرمائی کہ وہ اپنے بنائے ہوئے معبودوں کو بھی اللہ ہی کی ملکیت مانتے تھے۔ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے : (لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ) ”حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ تو رسول اللہ ﷺ فرماتے : (وَیْلَکُمْ ، قَدْ قَدْ) ”تم پر افسوس ! بس کرو، بس کرو۔“ مگر وہ کہتے : (إِلاَّ شَرِیْکًا ہُوَ لَکَ ، تَمْلِکُہُ وَ مَا مَلَکَ) [ مسلم، الحج، باب التلبیۃ و صف تھا۔۔ : 1185 ] ”مگر تیرا ایک شریک ہے جس کا مالک تو ہے اور ان چیزوں کا بھی جن کا وہ مالک ہے۔“ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ : یعنی ہم ایسے ہی مثالوں کے ساتھ اور خوب کھول کھول کر آیات بیان کرتے ہیں، ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں۔
Ayah 30:29

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بلکہ وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا وہ جانے بغیر اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑے، پھر اسے کون راہ پر لائے جسے اللہ نے گمراہ کردیا ہو اور ان کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں ہیں۔

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَهْوَاۗءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ : یعنی آیات کو کھول کر بیان کرنے کا فائدہ ان لوگوں کو ہے جو عقل کے پیچھے چلیں، مگر یہ لوگ جنھوں نے شرک کے ارتکاب کا ظلم کیا، جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں، یہ عقل کے پیچھے چلنے کے بجائے اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں اور شرک کا اصل وہ خواہشیں اور آرزوئیں ہی ہیں جو شیطان اپنے پیچھے چلنے والوں کے دلوں میں پیدا کردیتا ہے۔ جن کا نہ انھیں علم ہوتا ہے اور نہ حقیقت میں کہیں ان کا وجود ہوتا ہے۔ دیکھیے سورة نساء (112 تا 120) اور سورة نجم (23 تا 25)۔ فَمَنْ يَّهْدِيْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ سبب خود اس کی ہٹ دھرمی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ) [ البقرۃ : 26 ] ”اور وہ اس کے ساتھ فاسقوں کے سوا کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔“ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ : یہاں ایک سوال ہے کہ جب ”وَمَا لَہُمْ مِّنْ نَّاصِرٍ“ کہنے سے ہر قسم کے مددگار کی زیادہ تاکید کے ساتھ نفی ہوجاتی ہے، تو ”نصرین“ کا لفظ لانے میں کیا حکمت ہے ؟ مفسر ابو السعود نے اس کا جواب یہ دیا ہے : ”عَلٰی مَعْنَی لَیْسَ لِوَاحِدٍ مِنْھُمْ نَاصِرٌ وَاحِدٌ عَلٰی مَا ھُوَ قَاعِدَۃُ مُقَابَلَۃِ الْجَمْعِ بالْجَمْعِ“ ”یعنی ان میں سے کسی ایک کا کوئی ایک مدد کرنے والا نہیں ہوگا، جیسا کہ جمع کے مقابلے میں جمع کا قاعدہ ہے۔“ قرآن مجید میں ایک ہی بات مختلف اسالیب کے ساتھ بیان ہوتی ہے، کیونکہ تنوّع میں حسن ہوتا ہے۔ ایک اسلوب یہ ہے جو اس آیت میں اختیار کیا گیا ہے، دوسرا اسلوب واحد کے لفظ کے ساتھ نفی کا ہے، وہ بھی متعدد مقامات پر استعمال کیا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (لَّا تَجْزِيْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـيْــــًٔـا) [ البقرۃ : 123 ] ”جب نہ کوئی جان کسی جان کے کچھ کام آئے گی۔“ اور فرمایا : (وَاَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ) [ محمد : 11 ] ”اور اس لیے کہ جو کافر ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں۔“ اور فرمایا : (فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ) [ الطارق : 10 ] ”تو اس کے پاس نہ کوئی قوت ہوگی اور نہ کوئی مددگار۔“
Ayah 30:30

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

پس تو ایک طرف کا ہو کر اپنا چہرہ دین کے لیے سیدھا رکھ، اللہ کی اس فطرت کے مطابق، جس پر اس نے سب لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی پیدائش کو کسی طرح بدلنا (جائز) نہیں، یہی سیدھا دین ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

فَاَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ حَنِيْفًا : ”لِلدِّيْنِ“ میں ”الف لام“ عہد کا ہے، یعنی یہ دین جس میں خالق ومالک اور معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ کو مانا گیا ہے، جس میں اس کی ذات یا صفات یا افعال میں کسی کو شریک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ”حَنِيْفًا“ ”حَنَفَ“ (حاء کے ساتھ) کا لفظی معنی مائل ہونا ہے، اکثر استعمال تمام راستوں سے ہٹ کر ایک سیدھے راستے کی طرف آنے کے معنی میں ہوتا ہے، جب کہ ”جَنَفَ“ (جیم کے ساتھ) کا مطلب سیدھے راستے سے ہٹ کر ادھر یا ادھر ہوجانا ہوتا ہے۔ ”فَاَقِمْ“ میں ”فاء“ (پس) کا مطلب یہ ہے کہ جب اتنے سارے دلائل سے ثابت ہوگیا کہ اس کائنات کا خالق ومالک اور عبادت و اطاعت کا مستحق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں، تو لازم ہے کہ تم اپنا چہرہ اس دین کی طرف سیدھا رکھو، نہ ذرہ برابر ادھر ادھر دیکھو اور نہ اس ایک سیدھی راہ سے ادھر ادھر ہٹو۔ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا : ”فِطْرَتَ“ کا معنی پیدائش ہے، ”اللہ تعالیٰ کی فطرت“ سے مراد وہ حالت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ اللہ کی توحید اور دین اسلام ہے، جو ہر آدمی کے دل میں پیدائش کے ساتھ ہی رکھ دی گئی ہے کہ تیرا خالق ومالک اللہ ہے اور تو اس کا بندہ اور غلام ہے، لہٰذا تیرے لیے اس پر قائم رہنا لازم ہے۔ اگر انسان کو اس کی طبعی حالت پر چھوڑ دیا جائے اور بیرونی اثرات سے اس کے دل و دماغ کو محفوظ رکھا جائے تو وہ توحید اور دین فطرت ہی اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ’ اَلَست بربکم“ کے ساتھ آدم ؑ کی اولاد کے ہر فرد سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا ہے اور اسی عہد کے متعلق باز پرس ہوگی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (172، 173) کی تفسیر۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ إِلاَّ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ ، فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ ، کَمَا تُنْتَجُ الْبَہِیْمَۃُ بَہِیْمَۃً جَمْعَاءَ ، ہَلْ تُحِسُّوْنَ فِیْہَا مِنْ جَدْعَاءَ ؟ ثُمَّ یَقُوْلُ : (ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ) [ بخاري، التفسیر، باب : (لا تبدیل لخلق اللہ) : 4775 ] ”کوئی بچہ نہیں جو پیدا ہو مگر وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے جانور پیدا ہوتا ہے تو صحیح سالم جانور پیدا ہوتا ہے۔ کیا تم نے ان میں سے کوئی کان یا ناک کٹا ہوا دیکھا ہے ؟“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ) [ الروم : 30 ]“ اسود بن سریع ؓ بیان کرتے ہیں : (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِیَّۃً یَوْمَ خَیْبَرَ فَقَاتَلُوا الْمُشْرِکِیْنَ ، فَأَمْضٰی بِہِمُ الْقَتْلُ إِلَی الذُّرِّیَّۃِ ، فَلَمَّا جَاؤُوْا قَال النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا حَمَلَکُمْ عَلٰی قَتْلِ الذُّرِّیَّۃِ ؟ فَقَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! إِنَّمَا کَانُوْا أَوْلاَدَ الْمُشْرِکِیْنَ ، قَالَ وَہَلْ خِیَارُکُمْ إِلاَّ أَوْلاَدُ الْمُشْرِکِیْنَ ، وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ! مَا مِنْ نَسَمَۃٍ تُوْلَدُ إِلاَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ ، حَتّٰی یُعْرِبَ عَنْہَا لِسَانُہَا) [ مستدرک حاکم : 2؍123، ح 2566، وصححہ الحاکم و وافقہ الذھبي و صححہ الألباني في سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 402 ] ”رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن ایک دستہ بھیجا، انھوں نے مشرکین سے جنگ کی، یہاں تک کہ قتل کرتے کرتے وہ بچوں تک جا پہنچے۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”تمہیں بچے قتل کرنے پر کس چیز نے آمادہ کردیا ؟“ انھوں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! وہ مشرکین کی اولاد ہی تو تھے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کی اولاد ہی تو ہیں، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! کوئی جان پیدا نہیں ہوتی مگر فطرت پر، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کے مطالب کا اظہار کرنے لگتی ہے۔“ مشرکین کے فوت شدہ بچوں کے حکم کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (15) اور اعراف (172، 173) کی تفسیر۔ عیاض بن حمار مجاشعی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا : (أَلَا إِنَّ رَبِّيْ أَمَرَنِيْ أَنْ أُعَلِّمَکُمْ مَا جَہِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِيْ یَوْمِيْ ہٰذَا کُلُّ مَالٍ نَحَلْتُہُ عَبْدًا حَلَالٌ وَإِنِّيْ خَلَقْتُ عِبَادِيْ حُنَفَاءَ کُلَّہُمْ وَ إِنَّہُمْ أَتَتْہُمُ الشَّیَاطِیْنُ فَاجْتَالَتْہُمْ عَنْ دینِْہِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَیْہِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَہُمْ وَ أَمَرَتْہُمْ أَنْ یُّشْرِکُوْا بِيْ مَا لَمْ أُنْزِلْ بِہِ سُلْطَانًا) [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعمیہا، باب الصفات التي یعرف بھا۔۔ : 2865 ] ”سنو ! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے مجھے میرے آج کے دن میں جو کچھ سکھایا ہے تمہیں اس میں سے چند وہ باتیں سکھاؤں جن سے تم واقف نہیں ہو۔ (وہ فرماتا ہے کہ) ہر وہ مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ہے وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو ”حنفاء“ (ایک اللہ کے ہوجانے والے) پیدا کیا ہے اور ہوا یہ کہ ان کے پاس شیاطین آئے اور انھوں نے ان کو ان کے دین سے پھیر دیا اور ان کے لیے وہ چیزیں حرام کردیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں اور انھوں نے ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک بنائیں جن کی میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔“ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ : یعنی اللہ کا دین (اسلام) جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اسے بدلنا، توحید کے بجائے شرک کرنا یا اس کے حلال و حرام کے احکام کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔ الفاظ کے عموم میں یہ بھی آتا ہے کہ جس شکل پر اللہ تعالیٰ نے کسی کو پیدا کیا ہے اسے بدلنا اور اس کے کان یا ناک وغیرہ کو کاٹنا جائز نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نساء کی آیت (119) کی تفسیر۔ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ : یعنی شریعت اسلام اور فطرت سلیمہ پر مضبوطی سے قائم رہنا ہی بالکل سیدھا اور مضبوط دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے، بلکہ باپ دادا کے رسم و رواج اور شیطان کے پیچھے چل کر فطرت کے خلاف کفر و شرک کو اختیار کیے جاتے ہیں۔
Ayah 30:31

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور شرک کرنے والوں سے نہ ہوجاؤ۔

ڎمُنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ۔۔ : یعنی آپ اور آپ کی امت اپنا چہرہ اس دین کے لیے سیدھا رکھیں، اس طرح کہ تم میں سے جس جس نے بھی اپنے مالک حقیقی سے کسی طرح کا انحراف کیا ہو، پھر اسی کی طرف پلٹ آنے والا ہو۔ ”وَاتَّقُوْهُ“ اور دل میں اس سے ڈرتے رہو۔ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ : اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اس کا تقویٰ اور خوف دل کے اعمال ہیں۔ سب کے سامنے اس کے اظہار کے لیے لازم ہے کہ نماز قائم کرو، کیونکہ وہ دین کا عمود ہے اور اسلام کا ایسا شعار ہے جس سے کسی شخص کے مومن یا مشرک ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بَیْنَ الرَّجُلِ وَ بَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلَاۃِ) [ مسلم، الإیمان، باب بیان إطلاق اسم الکفر۔۔ : 82 ] ”آدمی کے درمیان اور شرک و کفر کے درمیان ترک صلوٰۃ (کا فرق) ہے۔“ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ : اور کوئی ایسا کام نہ کرو جس سے تمہارا شمار مشرکین میں ہوجائے۔ نہ شرک جلی کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک بناؤ اور اس کی عبادت کرنے لگو، خواہ کسی زندہ کی عبادت ہو یا مردہ کی، بت کی عبادت ہو یا قبر کی یا آگ وغیرہ کی۔ نہ شرک خفی کرو جو ریا ہے اور نہ مشرکین کو دلی دوست بناؤ، کیونکہ اس سے تمہارا شمار انھی میں ہوگا، فرمایا : (وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ) [ المائدۃ : 51 ] ”اور جو ان (یہود و نصاریٰ) کو دوست بنائے تو بلاشبہ وہ انھی میں سے ہے۔“ اور نہ مشرکین کی مشابہت اختیار کرو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ) [ أبوداوٗد، اللباس، باب في لبس الشھرۃ : 4031، عن ابن عمر و قال الألباني حسن صحیح ] ”جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے تو وہ انھی میں سے ہے۔“ نہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مقابلے میں کسی بھی شخص کے قول کو اپنا دین بناؤ، خواہ وہ امام ہوں یا پیر یا درویش، کیونکہ اسی وجہ سے یہود و نصاریٰ کا شمار مشرکین میں ہوا، فرمایا : (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ) [ التوبۃ : 31 ] ”انھوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی۔“
Ayah 30:32

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

ان لوگوں سے جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کئی گروہ ہوگئے، ہر گروہ اسی پر جو ان کے پاس ہے، خوش ہیں۔

مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا : یعنی ان لوگوں سے نہ ہوجاؤ جنھوں نے اصل اور فطری دین (توحید) کو چھوڑ کر اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور کئی گروہ بن گئے۔ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کوئی کسی کی عبادت کرنے لگا اور کوئی کسی دوسرے کی۔ ان کا مختلف گروہوں میں بٹ جانا ہی ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ حق ایک ہے اور باطل گروہوں کا شمار نہیں۔ ”ۙمِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام (159) معلوم ہوا دنیا میں کفر و شرک کے جتنے دین پائے جاتے ہیں وہ سب اصل دین فطرت (توحید) میں بگاڑ سے پیدا ہوئے ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (213) اور سورة یونس (19)۔ كُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ : یعنی ہر فرقہ اور گروہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دوسرے باطل پر، اور جو سہارے انھوں نے تلاش کر رکھے ہیں انھیں دلائل سے تعبیر کرتے ہیں اور ان پر خوش ہیں۔
Ayah 30:33

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب وہ انھیں اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھاتا ہے تو اچانک ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔

وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ : اس آیت میں اس بات کی دلیل بیان فرمائی کہ انسان کی فطرت توحید ہے کہ جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ توحید کی شہادت ہر انسان کے دل کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ وہ زبان سے اس کا اقرار نہ کرے مگر واقعات سے اس کی شہادت ملتی ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”جیسے بھلے برے کام ہر انسان کی جِبِلَّت پہچانتی ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا بھی ہر انسان کی جِبِلَّت پہچانتی ہے، جو ڈر کے وقت کھل جاتی ہے (یعنی مصیبت پیش آنے پر ظاہر ہوجاتی ہے)۔“ ثُمَّ اِذَآ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً۔۔ : ”پھر جب وہ انھیں اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا کرتا ہے“ مثلاً بیماری سے شفا یا طوفان سے نجات یا بدحالی کے بعد خوش حالی اور دولت مندی وغیرہ، جو خالص اس کی طرف سے ہوتی ہے، کسی دوسرے کا اس میں کوئی دخل یا اختیار نہیں ہوتا، تو اچانک وہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک بنا رہے ہوتے ہیں، چناچہ وہ دوسرے معبودوں کی نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے لگتے ہیں اور کہنا شروع کردیتے ہیں کہ ہم سے یہ مصیبت فلاں بزرگ یا فلاں آستانے کے صدقے سے ٹلی ہے۔ ”اچانک“ کا مطلب یہ ہے کہ تکلیف دور ہوتے ہی فوراً ناشکری اور شرک کرنے لگتے ہیں۔
Ayah 30:34

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تاکہ جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے اس کی ناشکری کریں، سو فائدہ اٹھا لو کہ جلد ہی جان لوگے۔

لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰهُمْ ۭ فَتَمَتَّعُوْا ۪۔۔ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة عنکبوت (66)۔
Ayah 30:35

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

یا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے کہ وہ بول کر وہ چیزیں بتاتی ہے جنھیں وہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا کرتے تھے۔

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا۔۔ : ”اَم“ کلام کے درمیان آتا ہے، اس سے پہلے ہمزہ استفہام والا جملہ ہوتا ہے، یہاں وہ جملہ کیا ہے ؟ رازی نے فرمایا : ”تو کیا وہ بلا دلیل محض خواہش نفس کی پیروی میں شریک کر رہے ہیں، یا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے۔۔ ؟“ ہمارے استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں : ”یعنی آخر شرک کی دلیل کیا ہے ؟ کیا ان کی عقل یہ کہتی ہے یا (ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے اور) ہماری کسی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ تمہارے فلاں بزرگ کو ہم نے اپنے اختیارات میں شریک کرلیا ہے، لہٰذا تم انھیں بھی اپنی حاجت روائی کے لیے پکار سکتے ہو ؟“ مزید دیکھیے سورة احقاف (4)۔
Ayah 30:36

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں وہ اس سے خوش ہوجاتے ہیں اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو اچانک وہ ناامید ہوجاتے ہیں۔

وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا۔۔ : اس آیت میں لوگوں کو رحمت چکھانے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، یعنی ”جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں“ اور برائی پہنچنے کا سبب ان کے ہاتھوں کی کمائی یعنی ان کے اعمال کو قرار دیا ہے۔ اس کی تفسیر کے لیے سورة نساء کی آیت (79) : (مَآ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ۡ وَمَآ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ) کی تفسیر پر نظر ڈال لیں۔ اسی طرح رحمت چکھانے کے لیے ”اِذَا“ (جب) کا لفظ فرمایا اور برائی پہنچنے کے لیے ”اِن“ (اگر) کا لفظ فرمایا جو شک کے لیے آتا ہے۔ اس میں رحمت کے مقابلے میں تکلیف کے بہت ہی کم ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ (رازی) 3 آیت میں انسان کی ناشکری، تنگ ظرفی اور تھڑدلی کا بیان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی تھوڑی سی نعمت بھی (”رَحْمَةً“ کی تنوین تنکیر و تقلیل کے لیے ہے) عطا ہوتی ہے تو وہ اس پر پھول جاتا ہے۔ اس کی چال ڈھال اور ہر حرکت سے اس کی نخوت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس وقت نہ وہ خالق کو خاطر میں لاتا ہے نہ اس کی مخلوق کو اور نہ اسے یہ یاد رہتا ہے کہ یہ نعمت دائمی نہیں بلکہ ہر حال میں چھننے والی ہے اور اگر اپنے ہی اعمال کی وجہ سے کوئی برائی آپہنچے تو اچانک (فوراً ہی) ناامید ہوجاتا ہے اور ہمت ہار بیٹھتا ہے کہ اب کوئی نہیں جو میری مصیبت ٹال سکے۔ یہ کافر کی حالت ہے کہ سختی کے وقت مایوس ہوجاتا ہے اور عیش و آرام کے وقت تکبر و غرور کرنے لگتا ہے۔ بہت سے کمزور ایمان والوں کا بھی یہی حال ہے۔ مگر صحیح مومن کا حال اس کے برعکس ہے، اسے عیش و آرام میسر ہوتا ہے تو اللہ کا شکر بجا لاتا ہے اور جب مصیبت یا تنگی پہنچتی ہے تو صبر و تحمل سے کام لیتا ہے۔ (دیکھیے سورة ہود : 9 تا 11) صہیب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہُ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہُ) [ مسلم، الزھد والرقائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر : 2999 ] ”مومن کے ہر حال پر تعجب ہے، کیونکہ اس کا ہر معاملہ ہی خیر ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے خیر ہوتا ہے۔“
Ayah 30:37

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ رزق فراخ کردیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے، بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَقْدِر ُ : یعنی خوش حالی پر پھول جانے یا مصیبت پر ناامید ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان خوش حالی یا مصیبت کے معاملے کو دائمی سمجھ لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ہر روز پیش آنے والے مشاہدے کی طرف توجہ دلائی کہ کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور تنگ کردیتا ہے۔ ایک ہی شخص کا رزق کبھی فراخ ہے کبھی تنگ اور ایک ہی وقت میں کسی کا رزق فراخ ہے اور کسی کا تنگ۔ رزق کا معاملہ اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ بعض اوقات بڑے بڑے عقل مند اور عالم غربت کا شکار ہوتے ہیں اور اَن پڑھوں اور بیوقوفوں کو ایسی روزی دیتا ہے کہ پڑھے لکھے اور دانا حیران ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کی قدرت اور اس کی حکمت ہے جسے وہی جانتا ہے، کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ مومن نہ خوش حالی کو دائمی یا اپنی محنت کا نتیجہ سمجھتا ہے کہ پھول جائے اور نہ ہی مصیبت کو دائمی سمجھتا ہے کہ ناامید ہوجائے، بلکہ وہ ہر وقت خوف و رجا اور امید و بیم کے درمیان کی حالت میں رہتا ہے۔ جو اسے فخرو غرور سے بھی باز رکھتی ہے اور یاس و نا امیدی سے بھی۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ : یعنی ایک ہی شخص کو کسی وقت غنی اور کسی وقت فقیر کردینے میں بہت سی نشانیاں ہیں اور ایک ہی وقت میں کسی کو غنی اور کسی کو فقیر کردینے میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح اس بات میں بھی بہت سی نشانیاں ہیں کہ کافر ہر لمحے دنیا کے قانون تغیر کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کوئی شخص ہمیشہ ایک حال پر نہیں رہتا، نہ سب لوگ ایک حال پر ہیں، رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق پھیلتا اور سکڑتا رہتا ہے، اس کے باوجود وہ اس طرح خوشی پر مغرور اور مصیبت میں ناامید ہوتے ہیں جیسے یہ حالت ہمیشہ ہی رہے گی۔ ان تمام چیزوں میں ایمان والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، کیونکہ ان سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں۔ کفار نہ ان پر غور کرتے ہیں، نہ انھیں ان سے کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
Ayah 30:38

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

پس قرابت والے کو اس کا حق دے اور مسکین کو اور مسافر کو۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کا چہرہ چاہتے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ : فاء (پس) کا مطلب یہ ہے کہ جب ثابت ہوگیا کہ رزق کا فراخ ہونا یا تنگ ہونا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تو آدمی کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اگر اس کا رزق فراخ ہے تو خرچ کرنے سے کم نہیں ہوگا اور اگر تنگ ہے تو روک کر رکھنے سے زیادہ نہیں ہوگا، بلکہ صدقے کی برکت سے اس میں اضافہ ہی ہوگا۔ ”حَقَّهٗ“ (اس کا حق) کا مطلب یہ ہے کہ تم قرابت دار، مسکین اور مسافر کو کچھ دے رہے ہو تو یہ اس کا حق ہے، جو تم ادا کر رہے ہو، جس کے ادا نہ کرنے پر اسی طرح باز پرس ہوگی جس طرح کسی قرض خواہ کا قرض ادا نہ کرنے پر باز پرس ہوگی۔ سورة توبہ (60) میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان فرمائے ہیں، یہاں ان میں سے صرف تین ذکر فرمائے۔ رازی نے اس میں یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ ان تینوں پر زکوٰۃ کے علاوہ خرچ کرنا بھی حق ہے، مثلاً والدین اور اولاد کا نفقہ ہے، اسی طرح درجہ بدرجہ قرابت داروں کی ضروریات پر خرچ ہے، یہ زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد بھی واجب رہتا ہے۔ اسی طرح مسکین اور مسافر پر بھی خرچ واجب ہے۔ آدمی زکوٰۃ ادا کرنے کے ساتھ ان کے حقوق سے سبک دوش نہیں ہوجاتا۔ مثلاً ایک شخص زکوٰۃ ادا کرچکا ہے، اس کے پاس کوئی مہمان آجاتا ہے یا ایسا مسافر جس کا زاد راہ ختم ہوچکا ہے، یا مسکین آجاتا ہے جس نے کھانا نہیں کھایا یا وہ اپنی مسکینی کی وجہ سے پاؤں سے ننگا ہے تو ان کا حق ہے کہ ان پر خرچ کیا جائے۔ فقیر کی حالت مسکین سے بھی پتلی ہوتی ہے، اس لیے اس کا الگ ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ اس پر خرچ کرنا بالاولیٰ واجب ہے۔ رہے زکوٰۃ کے باقی چار مصارف، یعنی عاملین، مؤلفۃ القلوب، غارمین اور فی سبیل اللہ، تو وہ ایسے مصارف ہیں کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد ان پر خرچ اس طرح واجب نہیں جس طرح آیت میں مذکور دیگر لوگوں پر واجب ہے۔ (واللہ اعلم) ذٰلِكَ خَيْرٌ لِّــلَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ : عام طور پر اس کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں۔ اگرچہ ”وَجْهَ“ کا مطلب رضا ہوسکتا ہے، مگر ”وَجْهَ“ کا اصل معنی تو چہرہ ہے۔ دوسرا معنی اس وقت کیا جاتا ہے جب حقیقی معنی مراد نہ لیا جاسکتا ہو، جب کہ یہاں حقیقی معنی مراد لینے میں کوئی مشکل نہیں، بلکہ جو لطف حقیقی معنی مراد لینے میں ہے وہ مجازی معنی مراد لینے میں نہیں، یعنی یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے چہرے کے دیدار کے طلب گار ہیں، کیونکہ اللہ کے دیدار سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ اس آیت سے خرچ کرتے وقت نیت اللہ کے لیے خالص ہونے کی اہمیت ظاہر ہو رہی ہے۔ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : معلوم ہوا جو لوگ قرابت داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا نہیں کرتے وہ کامل فلاح پانے والے نہیں ہوسکتے۔
Ayah 30:39

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو کوئی سودی قرض تم اس لیے دیتے ہو کہ لوگوں کے اموال میں بڑھ جائے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو کچھ تم زکوٰۃ سے دیتے ہو، اللہ کے چہرے کا ارادہ کرتے ہو، تو وہی لوگ کئی گنا بڑھانے والے ہیں۔

وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَال النَّاسِ۔۔ : یعنی سود سے بظاہر مال بڑھتا دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی نحوست دنیا اور آخرت میں تباہی کا باعث ہے، جب کہ زکوٰۃ دینے کے ساتھ دنیا اور آخرت میں مال میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ) [ البقرۃ : 276 ] ”اللہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو بڑھا دیتا ہے۔“ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلرِّبَا وَ إِنْ کَثُرَ ، فَإِنَّ عَاقِبَتَہُ تَصِیْرُ إِلٰی قُلٍّ) [ مسند أحمد : 1؍395، ح : 3753، قال المحقق صحیح ] ”سود خواہ بہت ہو انجام اس کا یقیناً قلت ہی ہوگا۔“ یہ سورت مکی ہے، مکہ میں ابھی سود حرام نہیں ہوا تھا، مگر کفار مکہ بری طرح سودی کاروبار میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شراب کی طرح سود کو بھی تدریجاً حرام کیا۔ اس آیت میں صرف اس کی مذمت بیان فرمائی، اس کے بعد مدینہ میں سورة آل عمران (130) میں سود در سود کو اور سورة بقرہ (275 تا 281) میں ہر طرح کے سود کو مکمل طور پر حرام قرار دے دیا گیا۔ 3 بعض اہل علم نے اس آیت میں مذکور حقیقت کی مثال بیان فرمائی : ”یعنی سود (بیاج) سے گو بظاہر مال بڑھتا دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں گھٹ رہا ہے۔ جیسے کسی آدمی کا بدن ورم سے پھول جائے، وہ بیماری یا پیام موت ہے اور زکوٰۃ نکالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مال کم ہوگا، فی الحقیقت وہ بڑھتا ہے۔ جیسے کسی مریض کا بدن مسہل و تَنقِیَہ سے گھٹتا دکھائی دے مگر انجام اس کا صحت ہو، سود اور زکوٰۃ کا حال بھی انجام کے اعتبار سے ایسا ہی سمجھ لو۔“ وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ۔۔ : جیسا کہ فرمایا : (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً) [ البقرۃ : 245 ] ”کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، پس وہ اسے اس کے لیے بہت زیادہ گنا بڑھا دے۔“ (مزید دیکھیے بقرہ : 261) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا یَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ إِلَّا أَخَذَہَا اللّٰہُ بِیَمِیْنِہِ فَیُرَبِّیْہَا کَمَا یُرَبِّيْ أَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ أَوْ قَلُوْصَہُ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ) [ مسلم، الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب و تربیتھا : 64؍1014 ] ”کوئی شخص پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ بھی کرتا ہے تو رحمٰن اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اس کے مالک کے لیے اس کو پالتا بڑھاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑی کے بچے کو یا اونٹنی کے بچے کو پالتا بڑھاتا ہے، حتیٰ کہ وہ کھجور پہاڑ کے برابر ہوجاتی ہے یا اس سے بھی بڑی۔“ اور دیکھیے سورة بقرہ (276)۔ 3 اس آیت کی ایک اور تفسیر بھی کی گئی ہے، ابن کثیر فرماتے ہیں : ”یعنی جو شخص کوئی ہدیہ دے جس سے اس کا ارادہ یہ ہو کہ لوگ اسے اس کے ہدیے سے زیادہ دیں گے تو اللہ کے ہاں اس میں کوئی ثواب نہیں۔“ ابن عباس، مجاہد، ضحاک، قتادہ، عکرمہ، محمد بن کعب اور شعبی نے یہی تفسیر کی ہے۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”یہ کام مباح (جائز) ہے، اگرچہ اس میں ثواب نہیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو اس سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے۔ یہ ضحاک کا قول ہے اور انھوں نے اللہ کے اس فرمان سے دلیل پکڑی ہے : (وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ) [ المدثر : 6 ] ”اور (اس نیت سے) احسان نہ کر کہ زیادہ لے۔“ یعنی کوئی عطیہ نہ دے جس سے تو زیادہ حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہو۔“ ابن عباس ؓ کے اس قول کے متعلق ابن کثیر کے محقق نے فرمایا : ”اسے طبری نے بیان کیا ہے، سند اس کی ضعیف ہے۔“ حافظ ابن کثیر نے اسی مفہوم کا ابن عباس ؓ کا ایک اور قول نقل فرمایا ہے کہ ”ربا“ دو طرح کا ہے، ایک ربا جو صحیح نہیں، یعنی بیع میں ربا اور ایک ربا جس میں کوئی حرج نہیں۔ وہ یہ ہے کہ آدمی کوئی ہدیہ دے، جس سے زیادہ حاصل کرنے کا ارادہ ہو، پھر یہ آیت پڑھی۔ ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا : ”سیوطی نے ”در منثور“ میں اسے ابن ابی حاتم کی طرف منسوب کیا ہے، جس میں آیت پڑھنے کا ذکر نہیں۔“ لیکن میں نے ابن ابی حاتم میں اسے تلاش کیا تو اس میں ہے کہ مخطوطہ سے سورة روم کا حصہ ساقط ہے۔ [ وَ اللّٰہُ أَعْلَمُ بِصِحَّتِہٖ ] جمال الدین قاسمی فرماتے ہیں : ”اس تفسیر میں کئی لحاظ سے نظر ہے، پہلی یہ کہ یہ آیت سورة بقرہ کی آیت (276) : (يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ) کے مشابہ ہے، جو بیع میں سود کے بارے میں ہے، جو اہل مکہ میں اس بری طرح پھیلا ہوا تھا کہ ان کا مزاج بن چکا تھا، جس کے ساتھ وہ تنگ دستوں کا مال اس برے طریقے سے چوس رہے تھے جس کا رحم، نرم دلی اور انسانی ہمدردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس حال کی مذمت فرمائی، تاکہ وہ توبہ کر کے پاک ہوجائیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ربا کا حقیقی معنی سود ہی ہے، جسے سب لوگ جانتے ہیں۔ اس حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی مراد لینے کے لیے شرع یا عقل کی کوئی دلیل ہونی چاہیے جو یہاں موجود نہیں۔ تیسری وجہ یہ کہ آیت سے ہبہ و الا معنی مراد لے کر پھر ایسے ہبہ کو مباح قرار دینا محل نظر ہے، کیونکہ آیت کا اسلوب تو اس سے ڈرانے کا اور اس سے بچنے کی ترغیب کا ہے، جو اسے ناجائز چیزوں میں شامل کر رہا ہے اور انداز بیان کی دلالت بہت قوی دلالت ہوتی ہے۔ چوتھی وجہ یہ کہ آیت سورة مدثر کی آیت (6) : (وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ) (اور اس نیت سے احسان نہ کر کہ زیادہ حاصل کرے) کی رو سے یہ دعویٰ کہ ایسا ہبہ صرف رسول اللہ ﷺ پر حرام تھا، محل نظر ہے۔ کیونکہ اگرچہ لفظوں میں خطاب صرف نبی ﷺ سے ہے مگر حکم عام ہے۔ سورة مدثر کے شروع سے دیکھ لیجیے : (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ) یہ تمام احکام رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پوری امت کے لیے بھی ہیں۔“ خلاصہ یہ کہ اس آیت کی پہلی تفسیر ہی قابل اعتماد ہے۔
Ayah 30:40

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہیں رزق دیا، پھر تمہیں موت دے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا، کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرے ؟ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔

اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ۔۔ : یہاں سے کفار و مشرکین کو سمجھانے کے لیے پھر سلسلۂ کلام توحید اور آخرت کی طرف پھر گیا ہے۔ هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَيْءٍ : کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو اس میں سے کچھ بھی کرسکے ؟ ظاہر ہے کہ نہیں کرسکتے تو پھر انھیں پوجنے اور ان کے آستانوں پر نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے کا کیا فائدہ ؟