Ayah 16:105اِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِيْنَ۔۔ : کفار کا قول جو اوپر آیت (101) میں ذکر ہوا ہے ”اِنَّمَا اَنْتَ مُفْتَرٍ“ (تو تو گھڑ کر لانے والا ہے) یہ اس کا رد ہے کہ جھوٹ تو ان لوگوں کا کام ہے جو ایمان نہیں رکھتے، کیونکہ انھیں اللہ کا خوف نہیں ہوتا، جسے اللہ کا خوف ہو وہ جھوٹ نہیں بولتا۔ باقی رہا نبی تو وہ اہل ایمان کا سردار ہوتا ہے، اس سے قطعی بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایک لفظ بھی جھوٹ باندھے۔
وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ : ”وَاُولٰۗىِٕكَ“ سے مراد اللہ پر ایمان نہ رکھنے والے ہیں، یعنی انھی کی عادت جھوٹ ہوتی ہے، کیونکہ وہ ایمان ہی سے محروم ہیں، جو آدمی کو گناہ سے باز رکھتا ہے۔
3 ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَ إِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَ إِذَا اءْتُمِنَ خَانَ) [ بخاری، الإیمان، باب علامات المنافق : 33 ] ”منافق کی نشانیاں تین ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب وہ وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔“
شیخ عبد الرحمان معلمی نے ”التنکیل“ میں لکھا ہے کہ اگر غور کیا جائے تو منافق کی تینوں نشانیوں کی بنیاد جھوٹ ہی ہے، کیونکہ وعدہ خلافی پر مؤاخذہ اس وقت ہے جب وعدہ کرتے وقت اسے پورا کرنے کی نیت نہ ہو، اگر وعدہ کرتے وقت پورا کرنے کی نیت ہو، پھر کسی عذر سے پورا نہ کرسکے تو اس پر مؤاخذہ نہیں اور خیانت ہضم نہیں ہوسکتی جب تک جھوٹ نہ بولے۔
Ayah 16:106مَنْ كَفَرَ باللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓ۔۔ : طبری نے معتبر سند کے ساتھ عبداللہ بن عباس ؓ کا قول نقل فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (مَنْ کَفَرَ مِنْ بَعْدِ إِیْمَانِہِ فَعَلَیْہِ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ وَلَہُ عَذَابٌ عَظِیْمٌ فَأَمَّا مَنْ أُکْرِہَ فَتَکَلَّمَ بِہِ لِسَانُہُ وَ خَالَفَہُ قَلْبُہُ بالإِْیْمَانِ لِیَنْجُوَ بِذٰلِکَ مِنْ عَدُوِّہِ فَلَا حَرَجَ عَلَیْہِ لِأَنَّ اللّٰہَ تَأْخُذُ الْعِبَادَ بِمَا عُقِدَتْ عَلَیْہِ قُلُوْبُھُمْ) [ طبری : 17؍305 ] ”جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے اس پر اللہ تعالیٰ کا بھاری غضب ہے اور اس کے لیے عذاب عظیم ہے، لیکن جسے مجبور کردیا جائے اور وہ زبان سے کوئی بات کہہ دے، جب کہ اس کا دل ایمان کی وجہ سے اس کے خلاف ہو، تاکہ اس کے ساتھ دشمن سے جان بچا لے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ اللہ سبحانہ بندوں کو صرف اس چیز پر پکڑتا ہے جو ان کے دلوں کا پکا عقیدہ ہو۔“
3 عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں : (کَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْھَرَ إِسْلَامَہُ سَبْعَۃٌ : رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُوْ بَکْرٍ ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّہُ سُمَیَّۃُ ، وَصُھَیْبٌ، وَبِلاَلٌ، وَالْمِقْدَادُ ، فَأَمَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَمَنَعَہُ اللّٰہُ بِعَمِّہِ أَبِيْ طَالِبٍ ، وَأَمَّا أَبُوْ بَکْرٍ فَمَنَعَہُ اللّٰہُ بِقَوْمِہِ ، وَأَمَّا سَاءِرُھُمْ ، فَأَخَذَھُمُ الْمُشْرِکُوْنَ وَأَلْبَسُوْھُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِیْدِ وَ صَھَرُوْھُمْ فِي الشَّمْسِ ، فَمَا مِنْھُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاھُمْ عَلٰی مَا أَرَادُوْا، إِلَّا بلاَلاً ، فَإِنَّہُ ھَانَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فِي اللّٰہِ ، وَھَانَ عَلٰی قَوْمِہِ ، فَأَخَذُوْہُ ، فَأَعْطَوْہُ الْوِلْدَانَ ، فَجَعَلُوْا یَطُوْفُوْنَ بِہِ فِيْ شِعَابِ مَکَّۃَ وَھُوَ یَقُوْلُ : أَحَدٌ، أَحَدٌ)[ ابن ماجہ، السنۃ، باب فضل سلمان و أبی ذر والمقداد۔ : 150، قال البوصیري رجالہ ثقات و قال الحاکم صحیح الأسناد و أقرہ الذھبی، وقال الألباني حسن ] ”سب سے پہلے جن لوگوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا وہ سات آدمی تھے، رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد ؓ۔ رسول اللہ ﷺ کو تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعے سے محفوظ رکھا اور ابوبکر ؓ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعے سے محفوظ رکھا۔ باقی سب کو مشرکین نے پکڑا اور انھیں لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں جھلسنے کے لیے پھینک دیا، چناچہ وہ جتنے تھے سب نے اس کے مطابق کہہ دیا جو کفار چاہتے تھے سوائے بلال ؓ کے۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں اس کے نزدیک اس کی جان بےقدر و قیمت ٹھہری (اور اس نے اس کی کوئی پروا نہ کی) اور وہ ان لوگوں کی نظر میں ایسا بےقدر و قیمت ٹھہرا کہ انھوں نے اسے پکڑ کر بچوں کو دے دیا، وہ اسے لے کر مکہ کی گھاٹیوں میں گھومتے پھرتے اور وہ احد احد (اللہ ایک ہے، ایک ہے) کہتا رہتا۔“
3 اوپر کفار کے شبہات ذکر کرکے اس شخص کا حکم بیان فرمایا جو ایسے شبہات سے متاثر ہو کر ایمان سے پھر جائے اور شرح صدر کے ساتھ کفر قبول کرلے کہ اس پر رب تعالیٰ کا بھاری غضب ہے اور اس کے لیے عذاب عظیم ہے۔ ”الا من اکرہ“ کے ساتھ اس شخص کے بارے میں فرمایا جس پر کوئی ظالم جبر کرے اور وہ اپنی جان بچانے کی خاطر کلمۂ کفر زبان سے کہہ دے، یہ رخصت ہے، لیکن اگر کوئی شخص مرنا قبول کرلے اور منہ سے بھی کلمۂ کفر یا خلاف اسلام کوئی بات نہ نکالے تو یہ عزیمت ہے اور ایسا شخص بہت بڑا شہید ہوگا، جیسا کہ اللہ کے پیغمبروں مثلاً ابراہیم اور مسیح ؑ نے موت کے خوف سے کلمۂ کفر نہیں کہا اور شہادت قبول کی، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بچا لیا۔ اسی طرح اصحاب الاخدود کا اور سورة یس میں مذکور شہید ہونے والے شخص کا واقعہ ہے اور اسلام میں تو اس کی بیشمار مثالیں ہیں، جیسا کہ بلال ؓ اور دوسرے اصحاب و تابعین۔
3 بعض لوگوں نے جو ابوبکر، عمر، عثمان اور صحابہ کرام ؓ سے بغض رکھتے ہیں، جب دیکھا کہ علی، حسن، حسین اور دوسرے بنی ہاشم ؓ نے تینوں خلفاء کی بیعت کرلی، جو ان کے خلیفہ برحق ہونے کی دلیل ہے تو ان دشمنان صحابہ نے یہ بات بنائی کہ انھوں نے یہ کام مجبوری کی بنا پر تقیہ سے کیا تھا، حالانکہ تقیہ تو ایک رخصت ہے جو کمزور لوگوں کا کام ہے، شیر خدا بھی تقیہ کرے تو حق کا اعلان اور عزیمت پر عمل کون کرے گا۔ پھر تقیہ کا بہانہ بنانے والوں کی کتاب ”الکافی“ میں لکھا ہے کہ ان کے امام اپنی موت کا وقت جانتے ہیں اور ان کی مرضی ہوتی ہے تو مرتے ہیں۔ تو ان کے قول کے مطابق پہلے امام علی ؓ کو جب اپنی موت کا علم تھا کہ عبد الرحمن بن ملجم کے ہاتھوں ہوگی تو انھیں کون سی مجبوری تھی کہ خلفائے ثلاثہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے، یا عمر بن خطاب (t) سے اپنی لخت جگر ام کلثوم کا نکاح کرتے ؟
3 علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ زبردستی کروایا ہوا کوئی قول یا فعل معتبر نہیں، اس سے نہ طلاق واقع ہوتی ہے، نہ نکاح، نہ غلام آزاد کرنا، نہ کسی کے نام جائداد لگوانا، نہ کوئی اقرار یا انکار یا کفر یہ بات کرنا، ہاں جو کچھ وہ شرح صدر کے ساتھ کرے وہ معتبر ہوگا۔ (سیوطی فی الاکلیل)
فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ ۚ : دنیا میں اللہ کا بڑا غضب یہ ہے کہ مرتد ہونے والا مرد ہو یا عورت اگر توبہ نہ کرے تو اس کا قتل واجب ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہُ فَاقْتُلُوْہُ) [ بخاری، استتابۃ المرتدین والمعاندین و قتالھم، باب حکم المرتد۔۔ : 6922 ] ”جو شخص اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو۔“ اور آخرت میں عذاب عظیم کی عظمت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
3 بعض لوگوں نے اپنے پاس سے کہا کہ عورت مرتد ہوجائے تو قتل نہیں کی جائے گی، یہ بات درست نہیں، کیونکہ ”مَنْ“ میں مرد و عورت سبھی شامل ہیں اور عورت کے مستثنیٰ ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔
Ayah 16:107ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا۔۔ : عذاب عظیم کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور کفر اختیار کرنے کی وجہ سے اللہ کی طرف سے توفیق ہدایت سے بھی محروم ہوگئے۔
Ayah 16:108اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ۔۔ : دیکھنے اور سننے سے حق دکھائی اور سنائی دیتا ہے اور سوچنے سے سمجھ میں آتا ہے، مگر ان کے عناد اور ضد کی وجہ سے ان تینوں چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی، سو وہ حق کی طلب میں انھیں استعمال ہی نہیں کرتے، بلکہ آخرت سے بالکل بیخبر اور بےفکر ہیں۔
Ayah 16:109لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ۔۔ : انسان دنیا میں آخرت کے حصول کی تجارت کے لیے آیا ہے، جب وہی حاصل نہ ہوئی تو اس کے خسارے میں کیا شک ہے۔ دیکھیے سورة عصر۔
Ayah 16:110ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا۔۔ : مکہ کے بعض مسلمان کافروں کے مظالم سے تنگ آ کر بظاہر کچھ لچک کھا گئے، یا بعض ناجائز الفاظ منہ سے کہنے پر مجبور ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے، مگر اس کے بعد انھوں نے ایمان کے تقاضے ممکن حد تک پورے کیے، یعنی ہجرت کی، جہاد میں حصہ لیا اور اپنے موقف پر خوب ڈٹے رہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ غلطی معاف فرما دی۔
Ayah 16:111يَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ : یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے غفور و رحیم ہے اس دن جب۔۔
تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَتُوَفّٰى۔۔ : یعنی اس دن ہر مرد و عورت صرف اپنی جان بچانے کی فکر میں ہوگا، نہ اسے کسی کی فکر ہوگی نہ کسی کو اس کی۔ ہر ایک بس اپنی ذات کے دفاع کے لیے بحث اور عذر بہانے کر رہا ہوگا، پھر ہر ایک نے جو کیا اسے اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا، کسی پر ظلم نہ ہوگا۔
Ayah 16:112وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے آخرت کے عذاب کا ذکر فرمایا، اس کے بعد دنیا میں بھی کفران نعمت کی سزا خوف اور بھوک کا ذکر کیا، اس لیے آیت کی ابتدا میں واؤ عطف آئی ہے۔ (قاسمی)
كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً۔۔ : یعنی اس بستی کو نہ باہر سے دشمن کا کھٹکا تھا، نہ اندر سے کسی طرح کی فکر و تشویش۔ اس سے مراد کوئی بھی ایسی بستی ہوسکتی ہے، جیسے عاد وثمود اور فرعون کی قوم کی بستیاں، مگر مکہ معظمہ میں یہ اوصاف سب سے زیادہ موجود تھے۔ پورے عرب میں کسی کو امن میسر نہ تھا، کسی بھی وقت کسی بھی قبیلے پر حملہ ہوسکتا تھا۔ مرد قتل، عورتیں اور بچے لونڈی و غلام اور مال مویشی غنیمت بن جاتے۔ کوئی سفر کرتا تو اسے اغوا کرکے بیچ دیا جاتا یا قتل کردیا جاتا۔ ان کی معیشت بھی نہایت تنگ تھی، وہ اپنے ریوڑ لے کر پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے۔ صرف مکہ میں بیت اللہ کی حرمت کی وجہ سے مکمل امن تھا اور پوری دنیا سے لوگ حج و عمرہ کے لیے آتے تو اہل مکہ کو ان سے خریدو فروخت اور کرایہ مکان وغیرہ کی صورت میں وافر رزق مل جاتا اور ہر قسم کا پھل اور سبزی اور ضرورت کی ہر چیز میسر رہتی۔ اہل مکہ سردی میں یمن کو تجارتی قافلے لے جاتے اور گرمی میں شام کو۔ ان کے قافلوں کو حرم کے احترام میں کوئی کچھ نہ کہتا، جب کہ دوسرے کسی قافلے کا زبردست جنگجوؤں کی معیت کے بغیر سفر کرنا ہی ناممکن تھا۔ ہاں حرمت کے چار مہینوں میں پورے عرب میں امن ہوتا، وہ بھی بیت اللہ کے حج و عمرہ کے احترام کی خاطر۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة قریش، سورة قصص (57) ، عنکبوت (67) ، آل عمران (97) اور سورة بقرہ (125)۔
فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ۔۔ : ”أَنْعُمٌ“ ”نِعْمَۃٌ“ کی جمع ہے، جیسا کہ ”أَشُدٌّ“ ”شِدَّۃٌ“ کی۔ بعض کہتے ہیں ”نُعْمٰی“ کی جمع ہے، جیسے ”بُؤْسٰی“ کی جمع ”أَبْؤُسٌ“ ہے۔ (قرطبی) اس بستی والوں کی ناشکری اور احسان ناشناسی کی وجہ سے امن و اطمینان کی جگہ خوف و ہراس نے اور فراخئ رزق کی جگہ بھوک نے انھیں اس طرح گھیر لیا جیسے کپڑا اپنے پہننے والے کو گھیر لیتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے کلام میں عجیب جامعیت ہے، بھوک اور خوف کی تلخی کے اظہار کے لیے ”فَاَذَاقَهَا“ (اس کو چکھایا) کا لفظ استعمال فرمایا اور اس عذاب کے چمٹ جانے کو لباس بن جانے کے ساتھ تعبیر کیا اور ایک لمبی بات کو دو لفظوں میں سمیٹ دیا۔ اس استعارے کی لذت مومن عالم ہی اٹھا سکتا ہے، اس جاہل و ملحد کو اس لذت کی کیا خبر جس نے کہا کہ بھلا لباس بھی چکھا جاتا ہے ؟
Ayah 16:113وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ۔۔ : یہ ان احسانات میں سے ایک بہت بڑا احسان تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ایک رسول ان کی طرف بھیجا۔ غالباً اسی لفظ کو بنیاد بنا کر اکثر مفسرین نے اس بستی سے مراد مکہ معظمہ لیا ہے، ورنہ اس کی تعیین کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ پہلے رسولوں کی کوئی بستی بھی مراد ہوسکتی ہے اور ان کی طرف آنے والا رسول بھی۔ البتہ اس سے مکہ بالاولیٰ مراد ہے۔ یہاں جس بھوک اور خوف کا لباس چکھانے کا ذکر ہے اس کی تفصیل عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمائی ہے کہ نبی ﷺ نے جب لوگوں (کے ایمان لانے) سے گریز کو دیکھا تو آپ نے عرض کیا : (اَللّٰہُمَّ سَبْعًا کَسَبْعِ یُوْسُفَ)”اے اللہ ! یوسف (ؑ) کے سات سالوں جیسے سات سال مسلط فرما۔“ تو انھیں ایسی قحط سالی نے آپکڑا جس نے ہر چیز کو تباہ و برباد کردیا، یہاں تک کہ وہ چمڑے، مردار اور لاشیں بھی کھا گئے، بھوک کی وہ شدت تھی کہ ان میں سے کوئی آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے دھواں نظر آتا۔ [ بخاری، الاستسقاء، باب دعاء النبي ﷺ : اجعلھا سنین۔۔ : 1007 ] ادھر مسلمانوں کے ساتھ ہر وقت حالت جنگ کی وجہ سے باہر سے آنے والے لوگوں کی آمد بھی رک گئی اور خوف کی یہ حالت تھی کہ وہ ہر وقت مکہ میں اور مکہ سے باہر بھی مسلمانوں کے حملے سے خوف زدہ رہتے تھے۔ بہرحال شوکانی اور کئی مفسرین کہتے ہیں کہ ان آیات میں کسی متعین بستی کا ذکر نہیں ہے، محض ایک تباہ شدہ بستی کی مثال دے کر اہل مکہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر تم نے ہماری نعمتوں خصوصاً رسول بھیجنے کی ناشکری کی تو تمہارے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا جائے گا۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”ایسے بہت سے شہر ہوتے ہیں، پر احوال فرمایا مکہ کا۔“ (موضح)
Ayah 16:114فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا۔۔ : مشرکین نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اس کے ساتھ شریک بنائے تو اے ایمان والو ! اگر تم واقعی صرف اللہ کی بندگی کرتے ہو، جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو لازم ہے کہ اپنی عقل اور مصلحت کے بل بوتے پر کسی چیز کو حلال یا حرام قرار نہ دو ، جیسا کہ مشرکوں نے اپنے پاس سے بحیرہ اور سائبہ وغیرہ کو حرام قرار دے رکھا ہے، حالانکہ یہ کہیں اللہ کا حکم نہیں اور مردار اور خون وغیرہ کو حلال کر رکھا ہے جنھیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ سو تم صرف انھی چیزوں کو کھاؤ جنھیں اللہ نے حلال اور طیب قرار دیا ہے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔
Ayah 16:115وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ : یعنی جس جانور کو بھی غیر اللہ کے نام کے ساتھ شہرت دی جائے، مثلاً گنج بخش کا بکرا، چشتی اجمیری کی گائے یا فلاں شاہ کا مرغا، تو یقیناً وہ جانور حرام ہوگیا اور ”اُهِلَّ“ کا لفظ ذبح کے علاوہ اس کو بھی شامل ہے، کیونکہ ”اُهِلَّ“ کا معنی آواز بلند کرنا ہے، لہٰذا جس پر غیر اللہ کا نام آگیا اس میں ایسی خباثت آگئی جو مردار میں بھی نہیں، کیونکہ مردار پر تو صرف اللہ کا نام نہیں لیا گیا مگر ”مَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ“ (جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے) میں اس جانور کی روح اس کے خالق کے سوا دوسرے کے نام پر بھینٹ چڑھا دی گئی۔ یہ آیت شریفہ قرآن میں چار مرتبہ آئی ہے، سورة بقرہ (173) ، مائدہ (3) ، انعام (145) اور یہاں سورة نحل (115) میں، تمام مقامات پر نظر ڈال لیں۔ اس کے معنی ”مَا رُفِعَ الصَّوْتُ بِہِ لِغَیْرٍ“ ہیں (یعنی جس پر غیر اللہ کا نام بلند کیا جائے) ، نہ کہ ”مَا ذُبِحَ باسْمِ غَیْرِ اللّٰہِ“ (یعنی جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے)۔ گو یہ اس میں بطریق اولیٰ داخل ہے، جس کی بنا پر بعض مفسرین نے ”اُهِلَّ“ کی تفسیر ”ذُبِحَ“ کی ہے، جو اس وقت کی صورت حال کے پیش نظر اور بیان واقعہ کے لیے ہے۔ ہمارے دور میں اس نئے شرک کا وقوع ہوا ہے، اس برصغیر پاک و ہند کے علماء نے اسے خوب حل فرمایا ہے اور شاہ عبد العزیز کی تفسیر عزیزی اس پر شاہد عدل ہے۔
فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (173) ، مائدہ (3) اور سورة انعام (145)۔
Ayahs 16:116–117وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ۔۔ : ”اَلْسِنَۃٌ“ ”لِسَانٌ“ کی جمع ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال و حرام کو خود واضح فرما دیا ہے تو اب اسی کے پابند رہو اور یہ جرأت مت کرو کہ تمہاری زبانیں جسے جھوٹ سے حلال کہہ دیں اسے حلال اور جسے حرام کہہ دیں اسے حرام قرار دے لو، اگر ایسا کرو گے تو یہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہوگا اور یہ بات یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے، اگر اس کے بدلے انھیں دنیا میں کچھ فائدہ حاصل بھی ہوجائے، خواہ پوری دنیا مل جائے، وہ بہت ہی تھوڑا سامان ہے، کیونکہ یہ سامان ہر حال میں ختم ہوجانے والا ہے، پھر ان کا ہمیشہ کا ٹھکانا جہنم ہے۔ مشرکین کے اپنے پاس سے حلال و حرام بنانے کی مثالوں کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (103، 104) ، انعام (138 تا 140) اور سورة یونس (59، 60)۔
حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا، اس آیت میں ہر وہ شخص داخل ہے جو دین میں کوئی نئی بات (بدعت) ایجاد کرے، جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو، یا محض اپنی عقل اور رائے سے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام یا حرام کردہ چیز کو حلال ہونے کا فتویٰ دے۔ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کے صحیح ہونے پر تو ساری امت کا اتفاق ہے : (مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ)“ [ بخاری، العلم، باب إثم من کذب علی النبي ﷺ : 107۔ مسلم، المقدمۃ : 3 ] ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے (کیونکہ یہ درحقیقت اللہ پر جھوٹ ہے)۔“
Ayah 16:118وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا۔۔ : حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے جب مسلمان پر حرام کردہ چیزوں مردار اور خون وغیرہ کا ذکر فرمایا اور صرف مجبوری کے وقت انھیں جائز قرار دینے کا ذکر فرمایا، تاکہ امت پر آسانی رہے تو اس کے بعد یہودیوں پر ان چیزوں کے حرام کرنے کا ذکر فرمایا، جن کا ذکر پہلے سورة نساء (160) اور سورة انعام (146) میں گزر چکا ہے، جو پاکیزہ اور حلال ہونے کے باوجود ان کی سرکشی اور ظلم کی وجہ سے ان پر حرام کی گئی تھیں اور اس اصر و اغلال میں شامل تھیں جو ان کی سرکشی کی وجہ سے ان پر لادے گئے تھے۔ پھر ہمارے نبی کریم ﷺ کے آنے پر ان کی حرمت ختم ہوئی اور صرف وہ چیزیں حرام کی گئیں جن کا حرام کرنا بطور سزا نہیں بلکہ بطور مصلحت و رحمت تھا۔
وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نساء (160، 161) اس سے یہودیوں کے اس دعویٰ کی بھی تردید ہوگئی کہ ان پر حرام کردہ چیزیں ہمیشہ سے حرام چلی آرہی ہیں، اس لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہیں۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (93)۔
Ayah 16:119ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْۗءَ بِجَــهَالَةٍ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام گناہ گاروں کو، وہ یہودی ہوں یا عیسائی یا مشرک یا مسلمان، سب کو توبہ اور اصلاح کے بعد بےانتہا مغفرت اور رحمت کی نوید سنائی ہے۔ یاد رہے کہ یہاں جہالت کا معنی لاعلمی نہیں بلکہ بےوقوفی اور اکھڑ پن ہے، جو آدمی سے بےعقلی کے کاموں کا ارتکاب کرواتا ہے، جیسا کہ گھر سے نکلنے کی لمبی دعا میں ہے : (اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ أَنْ۔۔ أَجْھَلَ أَوْ یُجْھَلَ عَلَيَّ) ”اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ۔۔ میں کسی پر جہالت کروں یا کوئی مجھ پر جہالت کرے۔“ [ أبوداوٗد، الأدب، باب ما یقول إذا خرج من بیتہ : 5094۔ ابن ماجہ : 3884، و صححہ الألباني ] اور عمرو بن کلثوم نے کہا
أَلَا لَا یَجْھَلَنْ أَحَدٌ عَلَیْنَا
فَنَجْھَلْ فَوْقَ جَھْلِ الْجَاھِلِیْنَا
”خبردار ! ہم پر کوئی جہالت کا ارتکاب ہرگز نہ کرے، ورنہ ہم جاہلوں کی جہالت سے بڑھ کر جہالت کریں گے۔“ اس حدیث اور شعر سے جہل کا مفہوم واضح ہوتا ہے جو یہاں مراد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر گناہ لاعلمی سے ہو یا جان بوجھ کر، ہوتا ہی بےوقوفی اور جہالت سے ہے، اسلام سے پہلے والے زمانے کو اسی لیے زمانۂ جاہلیت کہتے ہیں۔ دیکھیے سورة انعام (54) ، نساء (18، 19) اور سورة فرقان (63)۔
Ayah 16:120اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا۔۔ : ابراہیم ؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی : (قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا كَذٰلِكَ يَفْعَلُوْن) [ الشعراء : 84 ] ”اور پیچھے آنے والوں میں میرے لیے سچی ناموری رکھ۔“ اس لیے مشرکین مکہ، یہود اور نصاریٰ میں سے ہر ایک ابراہیم ؑ کی عزت و تکریم کرنے والا اور ان کی ملت کا متبع ہونے کا دعوے دار تھا، چناچہ فرمایا : (وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ 108ۖسَلٰمٌ عَلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ) [ الصافات : 108، 109 ] ”اور پیچھے آنے والوں میں اس کے لیے یہ بات چھوڑی کہ ابراہیم پر سلام ہو۔“ یعنی بعد میں آنے والے سب لوگ ان پر سلام بھیجیں گے، اس لیے اللہ نے ابراہیم ؑ کی صفات اور ان کا منہج بیان فرمایا، جس سے واضح ہو رہا ہے کہ ان لوگوں میں سے کوئی بھی ملت ابراہیم پر قائم نہیں ہے۔
اُمَّةً : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کی پہلی صفت ”اُمَّةً“ بیان فرمائی۔ اس آیت میں لفظ ”اُمَّةً“ کا معنی پیشوا اور امام بھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنِّىْ جَاعِلُكَ للنَّاسِ اِمَامً) [ البقرۃ : 124 ] ”بیشک میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔“ اور یہ بھی کہ وہ اکیلے ہی ایک امت (جماعت) تھے، کیونکہ اکیلے ہی میں اتنے کمالات تھے جو ایک جماعت میں ہوتے ہیں اور اکیلے شخص نے اتنا کام کیا جو ایک امت کے برابر تھا۔ تیسرا معنی یہ کہ ایک مدت تک اکیلے ہی وہ اور ان کی بیوی امت مسلمہ تھے، جیسا کہ جبار مصر اور سارہ[ کے واقعہ میں ہے کہ ابراہیم ؑ نے سارہ[ سے کہا کہ اس وقت اس سرزمین میں میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں، سو تم ایمان میں میری بہن ہو۔ [ بخاری : 3358 ]
دوسری صفت ”قَانِتًا لِّلّٰهِ“ بیان فرمائی، یعنی اللہ کے فرماں بردار نہایت عاجزی کے ساتھ، کیونکہ ان دونوں کے مجموعی مفہوم کو قنوت کہتے ہیں۔
”حَنِيْفًا“ تیسری صفت ہے، ”حَنَفٌ“ کا معنی ہے ایک طرف جھک جانا، یعنی تمام باطل دینوں سے ہٹ کر حق کی طرف مائل ہونے والا، تمام خداؤں کا انکار کرکے صرف ایک اللہ کی طرف ہوجانے والا۔ جس کی قولی، بدنی اور مالی عبادت، زندگی اور موت سب ایک اللہ کے لیے تھے۔ دیکھیے سورة انعام (161 تا 163)۔
وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ : یہ مشرکین مکہ اور یہود و نصاریٰ پر تعریض اور ان سب کے ابراہیمی ہونے کے دعویٰ کی نفی کا اظہار ہے کہ وہ تو مشرکوں میں سے نہیں تھے، جب کہ تم سب بتوں کو یا قبروں کو، عزیر یا عیسیٰ ؑ کو اور اپنے احبارو رہبان کو رب بنا کر شرک میں گرفتار ہوچکے ہو۔
Ayah 16:121شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ : شکر نعمت زبان سے بھی ہوتا ہے اور عمل سے بھی۔ اللہ تعالیٰ نے شہادت دی ہے کہ ابراہیم ؑ نے اللہ کے شکر نعمت، اس کے احکام کی اطاعت، اس کے امتحانات میں کامیابی اور اس کے حقوق کی ادائیگی سب کو پورا کردیا، چناچہ فرمایا : (ۙوَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ) [ النجم : 37 ] ”اور ابراہیم جس نے پورا حق ادا کردیا۔“ اور دیکھیے سورة بقرہ (124)۔
Ayah 16:122وَاٰتَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا حَسَـنَةً : یعنی دنیا میں حیات طیبہ کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ انھیں عطا فرمائیں، مثلاً دین حق کی ہدایت، نبوت کی نعمت، صالح اولاد، سیرت حسنہ، وافر مال و دولت اور سچی ناموری وغیرہ۔
وَاِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ : خود ابراہیم ؑ نے دعا کی تھی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی : (وَّاَلْـحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ) [ الشعراء : 83 ] ”مجھے نیک بندوں کے ساتھ ملا دے۔“ یوسف ؑ نے بھی یہی دعا کی تھی : (تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ) [ یوسف : 101 ] ”مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“
3 معلوم ہوا کہ نیک ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، مگر قیامت کو صالحین کا ساتھ ملنا ایک مزید نعمت ہے، اس لیے ہمارے نبی کریم ﷺ کے دنیا سے رخصت ہوتے وقت آخری الفاظ یہی تھے : (اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَأَلْحِقْنِيْ بالرَّفِیْقِ الْأَعْلٰی) [ ترمذی، أبواب الدعوات، باب : 3496۔ ابن ماجہ : 1619۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 6؍641، 642، ح : 2775 ] ”اے اللہ ! مجھے بخش دے اور مجھے سب سے اونچے ساتھی کے ساتھ ملا دے۔“
Ayah 16:123ثُمَّ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ۔۔ : یعنی حلال و حرام اور دین سے متعلق تمام معاملات میں اصل نہ یہودیت ہے، نہ نصرانیت ہے اور نہ شرک کہ جس کا ارتکاب یہ کفار مکہ کر رہے ہیں، بلکہ اصل ابراہیم ؑ کی ملت ہے جو خالص توحید سے عبارت تھی اور اس میں وہ چیزیں حرام نہ تھیں جو بعد میں یہودیوں پر ان کی شرارت کی وجہ سے حرام کردی گئیں، اس لیے آپ کے لیے پیروی کے لائق اگر کوئی ملت ہے تو وہ صرف ملت ابراہیمی ہے۔ (ابن کثیر)
لفظ ”ثُمَّ“ یہاں حقیقی ترتیب کے لیے نہیں بلکہ ترتیب ذکری کے لیے ہے اور آخر میں ابراہیم ؑ کے فضائل میں سے یہ ایک بہت بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی ان فضائل کے ساتھ پھر ابراہیم ؑ کی اس فضیلت کو دیکھو کہ نبی کریم ﷺ (جو اگرچہ ابراہیم ؑ کی اولاد سے ہیں، مگر ساری اولاد آدم کے سردار ہیں) کو بھی یہی حکم دیا گیا کہ آپ نے ملت ابراہیم کی پیروی کرنی ہے۔ نبی ﷺ کے ملت ابراہیم کے پیروکار ہونے میں جہاں ابراہیم ؑ کی فضیلت ظاہر ہے وہیں ہمارے نبی ﷺ کی عظمت بھی ظاہر ہے کہ آپ کو ملت ابراہیم کی پیروی کا حکم ابراہیم ؑ کے لیے باعث فضیلت ٹھہرا۔
Ayah 16:124اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ۔۔ : یعنی ہفتے کے دن کی تعظیم جیسے ملت اسلام میں نہیں ہے، ابراہیم ؑ کی شریعت میں بھی نہ تھی۔ یہ دن تو بعد میں صرف ان لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا تھا جنھوں نے اس میں اختلاف کیا تھا، اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ ؑ نے ان پر جمعہ کے دن کی تعظیم واجب کی تھی، مگر انھوں نے اس میں اختلاف کرکے ہفتے کا دن مقرر کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی دن کی تعظیم فرض کردی کہ اس میں شکار مت کرو۔ اس کی تائید ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، بَیْدَ أَنَّھُمْ أُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، ثُمَّ ھٰذَا یَوْمُھُمُ الَّذِیْ فُرِضَ عَلَیْھِمْ فَاخْتَلَفُوْا فِیْہِ فَھَدَانَا اللّٰہُ فَالنَّاسُ لَنَا فِیْہِ تَبَعٌ، الْیَھُوْدُ غَدًا وَالنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ) [ بخاری، الجمعۃ، باب فرض الجمعۃ : 876 ] ”ہم سب سے بعد میں آنے والے ہیں، جو قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، باوجود اس کے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی، پھر یہ ان کا دن جو ان پر فرض کیا گیا تو انھوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس (جمعہ کے دن) کی ہدایت دی، سو لوگ اس میں ہمارے پیچھے ہیں، یہودی ہم سے بعد والے دن اور عیسائی اس سے بھی اگلے دن۔“ صحیح مسلم کی حدیث میں اس فرض کردہ دن کی تعیین موجود ہے کہ وہ جمعہ کا دن تھا جس سے اختلاف کرکے یہود نے ہفتہ اور نصاریٰ نے اتوار مقرر کرلیا۔ [ دیکھیے مسلم، الجمعۃ، باب
ہدایۃ ھذہ الأمۃ لیوم الجمعۃ : 855 ]
Ayah 16:125اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ : ”اُدْعُ“ کا مفعول یہاں مذکور نہیں کہ کسے دعوت دے، اس لیے مراد عام ہوگا، یعنی غیر مسلم اور مسلم سب کو دعوت دے۔ یا اسے فعل لازم کے قائم مقام قرار دیا جائے، اس وقت مراد یہ ہوگی کہ ہمیشہ دعوت دیتا رہ۔ رب کے راستے سے مراد اسلام اور اس کی تفصیلات ہیں۔ ”بِالْحِكْمَةِ“ ”حِکْمَۃٌ“ کا لفظ موقع کے مطابق کئی چیزوں پر بولا جاتا ہے، چناچہ قاموس میں اس کے یہ معانی لکھے ہیں :”اَلْعَدْلُ وَالْعِلْمُ وَالْحِلْمُ وَالنُّبُوَّۃُ وَالْقُرْآنُ وَالإِْنْجِیْلُ“ اور لکھا ہے کہ ”أَحْکَمَہُ“ کا معنی ”أَتْقَنَہُ“ ہے، یعنی اس نے اسے خوب پختہ اور مضبوط کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے راستے کی طرف دعوت دو چیزوں سے خالی نہیں ہونی چاہیے، ان میں سے ایک حکمت ہے، یعنی ایسی محکم اور پختہ دلیل جو حقیقت کے عین مطابق ہو، جس میں کوئی غلطی نہ ہو اور مخاطب کے نزدیک بھی مسلم ہو، خواہ وہ عناد کی وجہ سے اسے نہ مانے۔ اسے برہان بھی کہتے ہیں : (قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) [ البقرۃ : 111 ] ”کہہ دے لاؤ اپنی دلیل، اگر تم سچے ہو۔“ اس لیے حکمت کو دلیل برہانی کہتے ہیں۔
وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ : ”اچھی نصیحت“ سے مراد ایسی بات ہے جو مخاطب کے دل کو نیکی کے عمل کے لیے نرم کرے، یا بدی کے خلاف ابھار دے، ترغیب کے ذریعے سے یا ترہیب (ڈرانے) کے ساتھ، جیسا کہ فرمایا : (ۤ فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَعِظْھُمْ وَقُلْ لَّھُمْ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيْغًا) [ النساء : 63 ] ”سو تو ان سے دھیان ہٹا لے اور انھیں وعظ (نصیحت) کر اور ان سے ایسی بات کہہ جو ان کے دلوں میں بہت اثر کرنے والی ہو۔“ اسے دلیل خطابی کہتے ہیں۔ دعوت کے اس اسلوب میں حسن و خوبی اور نرمی و ملائمت کو ملحوظ رکھنا اور بدزبانی و سخت کلامی سے پرہیز لازم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون ؑ کو فرعون کی طرف بھیجا تو حکم دیا : (فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى) [ طٰہٰ : 44 ] ”پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈر جائے۔“
وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ : دعوت کے دوران میں اگر حکمت اور موعظۂ حسنہ کے باوجود مخاطب بحث اور مجادلے (جھگڑے) پر اتر آئیں تو آپ بھی ان سے مجادلہ کریں، کیونکہ پھر اس کے بغیر چارہ نہیں، مگر یہ ہر حال میں احسن (زیادہ اچھا) ہونا چاہیے۔ کس سے احسن ؟ جواب یہ ہے کہ سب سے بہتر یا کم از کم ان کے مجادلے سے بہتر طریقے کے ساتھ ہو، کیونکہ باب مفاعلہ میں دو فریق ہوتے ہیں، یہاں ایک تم ہو اور ایک وہ، اس لیے احسن کا مطلب یہ ہوگا ان کے طریقے سے بہتر، جس میں گالی گلوچ اور ذاتی حملے وغیرہ نہ ہوں، بلکہ ایسی بات ہو جس سے وہ لاجواب ہوجائیں۔ انبیاء اور ان کے حقیقی وارث علماء کو اللہ تعالیٰ اس نعمت سے خاص طور پر نوازتا ہے۔ ابراہیم ؑ کی والد کو حکمت اور موعظۂ حسنہ کے ساتھ دعوت (دیکھیے مریم : 42) ، پھر بت توڑ کر بت پرستوں کے ساتھ بحث میں ان کو لاجواب کرنا (دیکھیے انبیاء : 51 تا 68) ، پھر سورج، چاند اور ستاروں کے پوجنے والوں کو بحث میں لاجواب کرنا (دیکھیے انعام : 76 تا 83) ، پھر بادشاہ وقت کو رب ہونے کے دعویٰ میں لاجواب کرنا (دیکھیے بقرہ : 258) اور نوح ؑ کی قوم کا مجادلہ و بحث میں لاجواب ہو کر عذاب لانے کا مطالبہ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ (دیکھیے ہود : 32) موسیٰ ؑ اور فرعون کے مکالمے بھی اس کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ قرآن مجید مشرکین اور اہل کتاب سے مجادلۂ احسن پر مشتمل آیات سے بھرا پڑا ہے، بلکہ یہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین میں سے ایک ہے۔ دیکھیے ”الفوز الکبیر“ از شاہ ولی اللہ۔
بعض لوگوں نے کہا کہ اس قسم کی آیات مکی سورتوں میں ہیں، اس لیے یہ جہاد کے احکام کے ساتھ منسوخ ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ احکام اب بھی مؤثر ہیں اور اگر کوئی شخص حکمت، موعظۂ حسنہ اور مجادلۂ احسن کے بعد بھی نہ مانے تو اس کے لیے جہاد کا استثنا مکی سورتوں ہی میں موجود ہے۔ چناچہ سورة عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ ڰ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ) [ العنکبوت : 46 ] ”اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو، مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، مگر وہ لوگ جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا۔“ ظاہر ہے کہ مجادلۂ احسن کے بعد بھی ظلم پر قائم رہنے والوں کے لیے جہاد کے سوا کیا علاج ہوسکتا ہے ؟ یہ ایک فطری حقیقت ہے جیسا کہ فند زِمّانی نے کہا ہے
فَلَمَّا صَرَّحَ الشَّرُّ
وَأَمْسٰی وَھُوَ عُرْیَانُ
وَلَمْ یَبْقَ سِوَی الْعُدْوَانِ
دِنَاھُمْ کَمَا دَانُوْا
”پھر جب لڑائی بالکل ظاہر ہوگی اور ننگی ہو کر سامنے آگئی اور زیادتی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تو ہم نے بھی بدلے میں ان سے وہی کیا جو انھوں نے کیا تھا۔“ بلکہ اس آیت سے اگلی آیت میں بھی جہاد کا ذکر موجود ہے، صرف غور کی ضرورت ہے۔
اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ۔۔ : اس آیت کے فوائد میں سے دو فائدے زیادہ ظاہر ہیں، ایک تو یہ کہ آپ کسی شخص کے ایمان نہ لانے پر اسے دعوت دینا ترک نہ کریں، آپ کو علم نہیں، ہوسکتا ہے وہ ان خوش نصیبوں میں سے ہو جنھیں ہدایت نصیب ہونی ہے، یہ علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا ”اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ“ (بےشک تیرا رب ہی اسے زیادہ جاننے والا ہے جو اس کے راستے سے بھٹکا ہوا ہے) تو آگے بظاہر اتنا ہی کہنا کافی تھا ”بِالْمُهْتَدِيْنَ“ (اور ہدایت پانے والوں کو بھی) مگر اللہ تعالیٰ نے ”هُوَ اَعْلَمُ“ کو دوبارہ ذکر فرمایا۔ مقصد یہ ہے کہ کافر لوگ بیشک اپنے آپ کو ہدایت یافتہ اور مسلمانوں کو گمراہ سمجھتے رہیں، مگر اصل گمراہ کون ہے اور اصل ہدایت یافتہ کون ہے، یہ علم تیرے رب ہی کے پاس ہے۔
Ayah 16:126وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ : واؤ عطف سے معلوم ہوا کہ اس کا تعلق پچھلی آیت سے ہے کہ اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو بدلے میں اتنی زیادتی تم بھی کرو۔ اس آیت سے دو مسئلے واضح طور پر ثابت ہوتے ہیں، ایک یہ کہ قتل وغیرہ کا قصاص اسی طریقے سے لینا جس طریقے سے قاتل نے قتل کیا ہے، جائز ہے اور اس کی تائید اس یہودی سے قصاص والی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس نے ایک بچی کا سر دو پتھروں میں کچل دیا تھا، تو آپ ﷺ نے اسے بھی اسی طرح قتل کرنے کا حکم دیا۔ [ دیکھیے مسلم، القسامۃ والمحاربین، باب ثبوت القصاص فی القتل۔۔ : 17؍1672 ] اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے حکم سے آپ کے چرواہوں کو قتل کرنے والے اور اونٹنیاں لے جانے والے مجرموں کو بھی قصاص میں اسی طرح آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں، جیسا کہ انھوں نے کیا تھا۔ [ دیکھیے بخاری، الحدود، باب المحاربین من أہل الکفر و الردۃ : 6802 ] اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ظالم کے ظلم کے برابر بدلہ جائز ہے زیادہ نہیں، فرمایا : (فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ) [ البقرۃ : 194 ] ”پس جو تم پر زیادتی کرے سو تم اس پر زیادتی کرو، اس کی مثل جو اس نے زیادتی کی۔“ نبی ﷺ نے جو مثلہ کرنے سے منع فرمایا اس سے مراد قصاص کے علاوہ صورتیں ہیں اور ابن ماجہ کی روایت (2667) (لَا قَوَدَ إِلاَّ بالسَّیْفِ) (قصاص تلوار کے سوا جائز نہیں) ثابت نہیں، بلکہ ضعیف ہے، تفصیلی بحث ارواء الغلیل (7؍285، 289، ح : 2229) میں ملاحظہ فرمائیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی کے مال میں خیانت کرے، یا اس کا مال یا کوئی چیز لے کر واپس نہ دے، پھر مظلوم کو اس کا مال یا کوئی چیز ہاتھ آجائے، یا وہ اس کے پاس امانت رکھے تو اسے اپنے مال کے برابر اس میں سے رکھ لینا جائز ہے۔ امام بخاری ؓ نے ”کِتَابُ الْمَظَالِمِ“ میں ”بَابُ قِصَاصِ الْمَظْلُوْمِ إِذَا وَجَدَ مَالَ ظَالِمِہِ“ (مظلوم کا قصاص لینا جب اسے اس پر ظلم کرنے والے کا مال مل جائے) میں اسی آیت سے ابن سیرین ؒ کا یہ استدلال نقل فرمایا ہے اور مزید احادیث سے اسے مدلل کیا ہے۔ بعض لوگ ایک روایت کی بنا پر اسے منع کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (أَدِّ الْأَمَانَۃَ إِلٰی مَنِ اءْتَمَنَکَ وَلاَ تَخُنْ مَنْ خَانَکَ) [ أبوداوٗد، البیوع، باب في الرجل یأخذ حقہ من تحت یدہ : 3535 ] ”جو شخص تمہارے پاس امانت رکھے اس کی امانت ادا کرو اور جو تمہاری خیانت کرے اس کی خیانت مت کرو۔“ اگرچہ اس حدیث پر کلام ہے، مگر صحیح ماننے کی صورت میں بھی اپنا مال واپس لینے کو خیانت نہیں کہا جاسکتا۔ حافظ ابن حزم ؓ نے ”المحلٰی“ کی ”کتاب التفلیس“ کے آخر میں اس مسئلہ پر نہایت عمدہ بحث تحریر فرمائی ہے، جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
وَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ : کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالم سے انھیں ان کا بدلہ خود لے کر دے گا اور اپنے ہاں سے انھیں صبر کا اجر عظیم عطا فرمائے گا، اللہ نے فرمایا : (وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ 39 وَجَزٰۗؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ) [ الشوری : 39، 40 ] ”اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی واقع ہوتی ہے وہ بدلہ لیتے ہیں۔ اور کسی برائی کا بدلہ اس کی مثل ایک برائی ہے، پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، بیشک وہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔“ صحیح بخاری میں ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وہ (صحابہ کرام) ذلت قبول کرنے کو ناپسند کرتے تھے، مگر جب قدرت پالیتے تو معاف کردیتے تھے۔ [ دیکھیے بخاری،
المظالم، باب الانتصار من الظالم، بعد ح : 2446 ]
شاہ عبد القادر ؓ نے ”اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ“ سے لے کر یہاں تک کا خلاصہ بیان فرمایا : ”پہلے جو فرمایا سمجھاؤ بھلی طرح سے، اس میں رخصت دی کہ بدی کے بدلے بدی بری نہیں، مگر صبر زیادہ بہتر ہے۔“ (موضح)
Ayah 16:127وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا باللّٰهِ : آخر میں پھر صبر کا حکم دیا، ساتھ ہی متنبہ فرمایا کہ اگر صبر جیسا مشکل اور عظیم کام کرلو تو اسے اپنا کمال مت سمجھنا، بلکہ یقین رکھنا کہ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عنایت سے ممکن ہوا، تمہیں اس کا فائدہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ اللہ کی نعمت سے غافل نہ ہو، اس کے سامنے عاجز و منکسر رہو اور ہر وقت اس سے دعا کرتے رہو۔
وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ۔۔ : نبی کریم ﷺ کو اپنی قوم کے ایمان نہ لانے پر اتنا غم ہوتا کہ شاید اپنی جان گھلا لیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے تسلی دی کہ نہ آپ ان پر غم کریں اور نہ ان کی سازشوں سے دل تنگ ہوں۔ ”ضَيْقٍ“ اور ”ضِیْقٌ“ دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ دیکھیے سورة شعراء (3) اور سورة کہف (6)۔
Ayah 16:128اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا۔۔ : یعنی دل تنگ وہ ہو جس کا کوئی ساتھی و مددگار نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ تو ہر متقی اور محسن کا ساتھی اور مددگار ہے اور آپ اللہ کے فضل سے تمام متقی اور محسن لوگوں کے سردار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : (أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ) [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة بني إسرائیل : 3148، و صححہ الألباني ] ”میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔“ پھر آپ دل تنگ کیوں ہوں ؟ احسان کی تفصیل کے دیکھیے سورة نحل کی آیت (90) ، احسان کا مقام تقویٰ سے اونچا ہے۔
معیت (ساتھ) دو قسم کی ہے، ایک معیت عامہ، یہ ہر شخص بلکہ ہر مخلوق کو حاصل ہے اور اس کے بغیر کوئی چیز باقی نہیں رہ سکتی، فرمایا : (وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ) [ الحدید : 4 ] ”اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو۔“ ایک معیت خاصہ ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا : (لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا) [ التوبۃ : 40 ] ”غم نہ کر بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ اور جیسا کہ موسیٰ ؑ نے فرمایا : (كَلَّا ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ) [ الشعراء : 62 ] ”ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے ضرور راستہ بتائے گا۔“ یہ خاص معیت ہے، یعنی ہمارا مددگار ہے۔ اس آیت میں معیت خاصہ مراد ہے۔