16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 16:30

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور جو لوگ ڈر گئے ان سے کہا گیا کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا ؟ تو انھوں نے کہا بہترین بات۔ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے بھلائی کی اس دنیا میں بڑی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو کہیں بہتر ہے اور یقینا وہ ڈرنے والوں کا اچھا گھر ہے۔

وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا۔۔ : ”خَيْرًا“ ”خَیْرٌ“ اور ”شَرٌّ“ اصل میں اسم تفضیل کے صیغے ہیں، یعنی ”أَخْیَرُ“ اور اَشَرّ“ ، تخفیف کے لیے ”خَیْرٌ“ اور ”شَرٌّ“ بنادیا گیا، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”بہترین بات“ یعنی سب سے اچھی بات۔ یہاں زمخشری نے ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ یہی سوال اس سورت کی آیت (24) میں کفار سے کیا گیا تو ان کا جواب تھا ”اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ“ جو مرفوع ہے اور یہاں متقین سے یہی سوال ہوا تو انھوں نے کہا ”خَيْرًا“ جو منصوب ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ”اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ“ مبتدا ”ھِيَ“ کی خبر ہے، اس لیے مرفوع ہے، یعنی کفار نے مانا ہی نہیں کہ رب تعالیٰ نے کچھ نازل فرمایا، ورنہ ”اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ“ منصوب ہوتا، اس کے برعکس متقین کا قول ”خَيْرًا“ ”أَنْزَلَ“ مقدر کا مفعول ہے، یعنی اسی نے خیر نازل فرمائی ہے۔ گویا متقین نے وحی الٰہی کا نزول بھی تسلیم کیا اور اس کے بہترین ہونے کی شہادت بھی دی۔ اس کے برعکس کافروں نے دونوں باتوں کا انکار کیا۔ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةٌ : ”حَسَـنَةٌ“ کی تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ مومن کو دنیا کی زندگی میں بھی وہ سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے جو کافر کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا۔ صہیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ ، إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ لَہُ خَیْرٌ، وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِیْنَ ، إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ ، فَکَانَ خَیْرًا لَّہُ ، وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ ، فَکَانَ خَیْرًا لَّہُ) [ مسلم، الزھد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر : 2999 ]”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر کام ہی بہترین ہے اور یہ مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں، اگر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے بہترین ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے بہترین ہوتا ہے۔“ قرآن مجید میں مومن سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ حیات طیبہ عطا کرنے کا ہے۔ دیکھیے سورة نحل (97)۔ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ۔۔ : اس میں ”دَارٌ“ موصوف اپنی صفت ”الْاٰخِرَةِ“ کی طرف مضاف ہے۔ آخری گھر اس لیے فرمایا کہ اس کے بعد اور کوئی گھر نہیں، ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہنا ہے۔ ”وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ“ ”نِعْمَ“ فعل ماضی ہے، یہ مدح کے لیے ہے، مخصوص بالمدح ”ھِيَ“ ہے، اس کی ضد ”بِءْسَ“ ہے جو مذمت کے لیے ہے۔ لام تاکید کا معنی ”تو“ کے ساتھ اور ”خیر“ کا معنی تفضیل کی وجہ سے ”کہیں بہتر“ کے ساتھ کیا ہے۔
Ayah 16:31

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

ہمیشگی کے باغات، جن میں وہ داخل ہوں گے، ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، ان کے لیے ان میں جو وہ چاہیں گے (موجود) ہوگا۔ اسی طرح اللہ ڈرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ : ہمیشہ رہنے کے باغات، کیونکہ ان میں ضرورت اور چاہت کی ہر چیز موجود ہوگی۔ دنیا میں بڑی سے بڑی تفریح گاہ اور اچھے سے اچھے گھر سے بھی دل بھر جاتا ہے، مگر جنت میں ہمیشہ رہنے کے باوجود دل نہیں بھرے گا، کیونکہ دل جو کچھ چاہے گا وہ حاضر ہوجائے گا، فرمایا : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ) [ السجدۃ : 17 ] ”پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے، اس عمل کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔“ كَذٰلِكَ يَجْزِي اللّٰهُ الْمُتَّقِيْنَ : یعنی اللہ سے ڈرنے اور اس کی منع کردہ چیزوں سے بچنے والوں کو اللہ تعالیٰ ایسے ہی جزا دیتا ہے، جیسا کہ سونا اور ریشم مردوں پر حرام کردیا اور فرمایا، یہ چیزیں ان (کافروں) کے لیے دنیا میں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں۔ دیکھیے سورة ذاریات (15، 16) اور سورة قمر (54، 55)۔
Ayah 16:32

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

جنھیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ پاک ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں سلام ہو تم پر، جنت میں داخل ہوجاؤ، اس کے بدلے جو تم کیا کرتے تھے۔

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے حٰم السجدہ (30 تا 32) اور زمر (73، 74) ”بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (43)۔
Ayah 16:33

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

وہ اس کے سوا کس چیز کا انتظار کررہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں، یا تیرے رب کا حکم آجائے۔ ایسے ہی ان لوگوں نے کیا جو ان سے پہلے تھے اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے۔

هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ۔۔ : یہاں استفہام انکار کے لیے ہے اور ”يَنْظُرُوْنَ“ بمعنی ”یَنْتَظِرُوْنَ“ ہے۔ اس میں پھر کفار کا حال بیان کیا ہے کہ ہر قسم کی دلیل واضح ہونے کے بعد ان کے ایمان نہ لانے کا مقصد اس کے سوا کیا ہے کہ وہ اس انتظار میں ہیں کہ فرشتے ان کی روح قبض کرنے کے لیے آجائیں، یا تیرے رب کا حکم، یعنی عذاب، یا قیامت آجائے، تب وہ ایمان لا کر اپنی حالت درست کریں گے، حالانکہ اس وقت توبہ کرنا یا ایمان لانا انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ اس سے مراد ان کی ہٹ دھرمی بیان کرنا ہے، یہ نہیں کہ واقعی وہ انتظار کر رہے ہیں۔ ”تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ“ میں ”اَوْ“ مانعۃ الخلو ہے، یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ دونوں چیزیں نہ آئیں، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے ایک آجائے اور یہ بھی کہ دونوں اکٹھی آجائیں۔ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : یعنی پہلے لوگوں نے بھی کفر کی روش اختیار کی اور نبیوں کو جھٹلایا۔ (شوکانی) وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ۔۔ : یعنی وہ خود ایسے برے عمل کرتے تھے جن کی سزا جہنم تھی اور یہ احمقانہ ظلم ہے، کیونکہ وہ اپنے فائدے کے لیے کسی دوسرے پر ظلم کرتے تو شاید انھیں کچھ فائدہ ہوتا، خواہ عارضی ہی سہی، مگر اپنے آپ پر ظلم تو حماقت کی انتہا ہے۔
Ayah 16:34

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

پس ان کے پاس اس کے برے نتائج آپہنچے جو انھوں نے کیا اور انھیں اس چیز نے گھیر لیا جسے وہ مذاق کیا کرتے تھے۔

فَاَصَابَهُمْ سَـيِّاٰتُ۔۔ : ”سَـيِّاٰتُ“ کا مضاف محذوف ہے، یعنی ”عَوَاقِبُ“ اس لیے ”سَـيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا“ کا ترجمہ کیا ہے ”اس کے برے نتائج نے جو انھوں نے کیا۔“ وَحَاقَ بِهِمْ : ”حَاقَ یَحِیْقُ حَیْقًا“ بروزن ”بَاعَ یَبِیْعُ بَیْعًا“ بمعنی احاطہ کیا، گھیر لیا۔ اس کا استعمال برے گھیراؤ ہی کے لیے ہوتا ہے۔ (مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ) ”اس چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے“ ظاہر ہے کہ وہ رسولوں کی رسالت کا، اپنے دوبارہ زندہ ہونے، حساب کتاب ہونے اور عذاب میں گرفتار ہونے کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ عذاب جلدی لاؤ جس کی دھمکیاں تم ہمیں دیتے ہو۔ بتائیے دشمن سے جلد از جلد عذاب کا مطالبہ اس عذاب کا مذاق اڑانا نہیں تو کیا ہے۔ الغرض ! اسی عذاب نے اور اللہ کے حضور پیش ہونے کی مشکل گھڑی نے انھیں چاروں طرف سے گھیر لیا، جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Ayah 16:35

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے شریک بنائے انھوں نے کہا اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اس کے سوا کسی بھی چیز کی عبادت کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم اس کے بغیر کسی بھی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے کیا جو ان سے پہلے تھے تو رسولوں کے ذمے صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا اور کیا ہے ؟

وَقَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا۔۔ : کفار اپنے شرک اور کفریہ اعمال، مثلاً بحیرہ، سائبہ اور وصیلہ وغیرہ کو حرام قرار دینے کے جواز کے لیے اللہ تعالیٰ کی مشیت کا سہارا لیتے اور اس بہانے سے رسالت پر طعن کرتے اور کہتے کہ اگر یہ شرک اور تحریمات اللہ کی رضا کے خلاف ہوتے تو ہم نہ کرتے اور ہمیں روک دیا جاتا، جب اللہ نے نہیں روکا تو معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ ہم اس کی مشیت کے تحت کر رہے ہیں، مگر اولاً تو بات یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے شرک اور برے اعمال پر راضی ہوتا تو ان کاموں سے منع کرنے کے لیے نہ پیغمبر بھیجتا اور نہ کتابیں نازل کرتا، جب مسلسل پیغمبروں کے ذریعے سے ان باتوں سے منع کیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ سب چیزیں اس کی رضا کے خلاف ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر گرفت نہ ہونے کو سند جواز نہیں بنا سکتے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (148)۔ 3 تفسیر ثنائی میں ہے : ”غرض ان کی دلیل سے یہ ہے کہ اللہ ہمارے افعال پر خوش ہے تو ہم کرتے ہیں، بھلا اگر وہ ناراض ہوتا تو کیا ہم کرسکتے تھے، پھر تو کیوں ہم کو ہمارے ان کاموں پر وعید سناتا ہے، مگر حقیقت میں ان کو سمجھ نہیں، وہ اللہ کی مشیت (چاہنے) میں اور رضا (خوش ہونے) میں فرق نہیں جانتے، بیشک جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مشیت سے ہو رہا ہے، مجال نہیں کہ اس کی مشیت کے سوا کوئی ہو سکے، کیونکہ مشیت اس کے قانون کا نام ہے، جب تک کسی کام کو حسب قانون فطرت نہ کرو گے کبھی کامیاب نہ ہو گے۔ جب تک گرمی حاصل کرنے کے لیے آگ نہ جلاؤ گے پانی سے وہ کام نہیں نکل سکے گا، جو کام فطرت نے پانی سے متعلق کیا ہے وہ آگ سے نہیں ہوگا۔ یہی تلوار جس کا کام سر اتار دینا ہے، جہاں اس کو چلاؤ گے اپنا اثر دکھا دے گی، خواہ کسی مظلوم پر ہو یا ظالم پر، چناچہ ہر روز دنیا میں ناحق خون بھی ہوتے ہیں، لیکن ان سب کاموں پر رضائے الٰہی لازمی نہیں ہے، بلکہ رضا اس صورت میں ہوگی کہ ان سب اشیاء کو شریعت کی ہدایت کے مطابق استعمال کرو گے۔ پس یہ بےسمجھی نہیں تو اور کیا ہے کہ مشیت اور رضا میں فرق نہیں کرتے۔“ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : یعنی پہلے لوگوں نے بھی اللہ کی تقدیر اور مشیت کو اپنے کفر و شرک کا بہانا بنایا۔ اس سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ یہ لوگ جو قرآن کو ”اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ“ (پہلوں کی کہانیاں) کہہ رہے ہیں تو اللہ کی مشیت اور تقدیر کو بہانا بنانا کون سی نئی بات ہے جو انھوں نے کی ہے، یہ بھی تو وہی گھسی پٹی پرانی بات ہے جو پہلے کفار کرتے آئے ہیں۔ فَهَلْ عَلَي الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ : ”اَلْبَلٰغُ“ اسم مصدر ہے، بمعنی ”إِبْلَاغٌ“ یعنی پہنچا دینا، یعنی رسولوں کے ذمے صاف واضح پیغام پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں، لہٰذا اگر کافر کج بحثی یا ہٹ دھرمی کرتے رہیں اور ایمان نہ لائیں تو پیغمبروں سے اس پر باز پرس نہ ہوگی۔ ہدایت و گمراہی کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں :”یہ نادانوں کی باتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو فلاں کام برا لگتا تو کیوں کرنے دیتا، آخر ہر فرقے کے نزدیک بعض کام برے ہیں، پھر وہ کیوں ہوتے ہیں۔ یہاں جواب مجمل فرمایا کہ رسول تو برے کاموں سے منع کرتے آئے ہیں مگر جس کی قسمت تھی اسی نے ہدایت پائی اور جس کو خراب ہونا تھا خراب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہی ہوا ہے۔“ (موضح) 3 علامہ قاسمی ؓ نے یہاں ”منہاج السنہ“ کی دوسری جلد کے شروع سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؓ کی ایک عبارت نقل کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے : ”اپنے ذمے واجب حقوق ادا نہ کرنے اور حرام کاموں کے ارتکاب کے جواز کے لیے اکثر لوگ تقدیر کو دلیل بناتے ہیں، حالانکہ یہ دلیل بالکل غلط اور بےکار ہے، اس کے باطل ہونے پر دنیا کے تمام عقلاء کا اتفاق ہے، خواہ وہ کسی دین سے تعلق رکھتے ہوں۔ جو شخص یہ دلیل پیش کرتا ہے اگر کوئی دوسرا شخص اس کے مقابلے میں یہی دلیل پیش کرے جس نے اس کا کوئی حق ادا نہ کیا ہو یا اس کا کوئی عزیز قتل کیا ہو، یا اس کا مال چھین لیا ہو، اس کی بیوی کی عزت لوٹی ہو تو وہ اس کی یہ دلیل کبھی قبول نہیں کرے گا، بلکہ اپنا حق لینے کی اور زیادتی کا بدلہ لینے کی پوری کوشش کرے گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ کوئی بھی شخص زیادتی کرنے والے کی یہ دلیل نہیں مانے گا۔ دراصل یہ ان سو فسطائیوں کی باتوں جیسی بات ہے، جو کہتے ہیں کہ معلوم نہیں ہم موجود بھی ہیں یا نہیں۔ اس کا نتیجہ جھوٹ، ظلم، زیادتی اور ہر غلط کام کا جواز ہوگا۔ کوئی شخص اپنے دل سے پوچھے تو وہ بھی اسے ایک باطل بات قرار دے گا۔ اس لیے تحقیق کے وقت کسی عدالت میں یہ دلیل قبول نہیں کی جاتی، کیونکہ یہ سراسر جہالت ہے، علم سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے جب مشرکوں نے کہا : (لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ) (اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے، نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کوئی چیز حرام کرتے) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا ۭاِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ) [ الأنعام : 148 ] (کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جو ہمارے سامنے پیش کرسکو، تم تو محض گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہو اور صرف اٹکل بازی کر رہے ہو) پھر فرمایا : (قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ فَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ) [ الأنعام : 149 ] ”کہہ دے پھر کامل دلیل تو اللہ ہی کی ہے، سو اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ضرور ہدایت دے دیتا۔“ معلوم ہوا یہ علم نہیں محض اٹکل پچو ہے، اس کے ہوتے ہوئے عادل و ظالم، صادق و کاذب، عالم و جاہل، نیک وبد کا کوئی فرق ہی نہیں رہتا، یہ لوگ جو رسولوں کی مخالفت کرنے اور کفر و شرک پر ڈٹے رہنے کی دلیل تقدیر کو بنا رہے ہیں، آپس میں ایک دوسرے کے حقوق مار جانے اور اپنے خلاف چلنے پر کبھی یہ دلیل نہیں مانتے، بلکہ یہی مشرک ایک دوسرے کی مذمت کرتے، دشمنی رکھتے اور لڑائی کرتے ہیں۔ ”قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ“ (کہہ دے پس کامل دلیل تو اللہ ہی کی ہے) میں اللہ تعالیٰ نے شرعی حجت کا ذکر فرمایا اور ”فَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ“ (اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا) میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیر والی مشیت کا ذکر فرمایا اور یہ دونوں حق ہیں۔ 3 اس بات کا ایک اور مطلب بھی بیان کیا جاتا ہے۔ علامہ قاشانی نے فرمایا کہ ان مشرکین نے یہ بات انتہائی جہل کی وجہ سے اور موحدین کو چپ کروانے کے لیے صرف ضد اور عناد سے کہی ہے، کیونکہ اگر وہ علم و یقین سے یہ بات کہتے تو وہ موحد بن جاتے، مشرک رہ ہی نہیں سکتے تھے، کیونکہ جس کو یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کچھ ہو ہی نہیں سکتا، وہ یقیناً یہ بھی جان لے گا کہ دنیا کے سب لوگ بھی کوئی کام کرنا چاہیں، جو اللہ تعالیٰ نہ چاہتا ہو، تو وہ کام ہونا کبھی ممکن ہی نہیں، تو جب اس نے اعتراف کرلیا کہ اللہ کے سوا نہ کسی کے ارادے کی کچھ حیثیت ہے اور نہ کسی کے پاس کوئی قدرت ہے، تو یہ بندہ تو مشرک رہا ہی نہیں، حالانکہ وہ لوگ تو اللہ کے ساتھ شریک بنا رہے تھے اور رسولوں کو جھٹلا رہے تھے۔ معلوم ہوا اپنی اس دلیل کو وہ خود بھی نہیں مانتے تھے۔ (تفسیر قاسمی) 3 مفتی محمد عبدہ نے فرمایا : ”ترک عمل پر تقدیر کو بطور دلیل پیش کرنا ملحدین کا عقیدہ ہے، قرآن کریم نے ان کے اس عقیدے کی مذمت فرمائی اور اسے معیوب قرار دیا ہے اور ہمارے لیے ان مشرکوں کا یہ قول بطور مذمت نقل فرمایا، اس لیے ہم میں سے کسی شخص کو، جبکہ وہ قرآن پر ایمان رکھنے کا مدعی ہو، کسی صورت جائز نہیں کہ وہ یہ دلیل پیش کرے جو مشرکین پیش کیا کرتے تھے۔“ (قاسمی)
Ayah 16:36

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو، پھر ان میں سے کچھ وہ تھے جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور ان میں سے کچھ وہ تھے جن پر گمراہی ثابت ہوگئی۔ پس زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا۔۔ : ”الطَّاغُوْتَ“ یہ ”طَغٰی یَطْغٰی طَغْوًا“ (ف) سے ہے، آخر میں واؤ اور تاء مبالغہ کے لیے آتی ہیں، جیسا کہ ”ملکوت“ بہت بڑا ملک۔ ”طاغوت“ کا لفظ ”طُغْیَانٌ“ سے مشتق ہے جس کے معنی اپنی حد سے بڑھنے کے ہیں۔ یہ شیطان، معبود باطل اور ہر اس شخص پر بولا جاتا ہے جو گمراہی کی طرف دعوت دینے والا ہو۔ (شوکانی) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”جو ناحق سرداری کا دعویٰ کرے، کچھ سند نہ رکھے ایسے کو طاغوت کہتے ہیں۔ بت، شیطان اور زبردست ظالم سب ہی طاغوت ہیں۔“ (موضح) اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ۔۔ : چونکہ مشرکین نے دعویٰ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے شرک پر راضی ہے، ورنہ وہ ہمیں شرک کیوں کرنے دیتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے لام تاکید اور ”قَدْ“ برائے تحقیق لا کر نہایت تاکید کے ساتھ ان کی تردید فرماتے ہوئے یہ بات کہی کہ ہم نے تو ہر امت میں رسول بھیجا ہی توحید کی دعوت اور شرک کی تردید کے لیے ہے۔ (دیکھیے انبیاء : 25) مگر ہم نے کسی کو توحید یا شرک پر مجبور نہیں کیا، بلکہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں عطا کرکے کفر و ایمان کے دونوں راستے بتا کر اختیار دے دیا۔ (دیکھیے دہر : 2، 3) اشرف الحواشی میں ہے، یعنی ہر پیغمبر نے اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے اور طاغوت سے بچتے رہنے کی دعوت دی، پھر بعض نے تو دعوت کو قبول کرلیا اور ہدایت پا گئے، مگر بعض نے اپنے کفر و شرک پر اصرار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر گمراہی ثبت کردی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کی اس کے امر سے موافقت ضروری نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ایمان کا حکم تو سب کو دیتا ہے مگر اللہ کے ارادہ کے مطابق ہدایت بعض کو ہوتی ہے۔ (شوکانی) فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ : یعنی ان کے تباہ شدہ آثار دیکھ کر بتاؤ کہ کیا رسولوں کو جھٹلانے والوں پر اللہ کا عذاب نہیں آیا، لہٰذا یہ سمجھنا انتہائی حماقت ہے کہ کفر و شرک کا ارتکاب اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے ذریعے سے اپنی رضا مندی کا راستہ بتایا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے پیغمبروں کی پیروی ضروری ہے۔
Ayah 16:37

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اگر تو ان کی ہدایت کی حرص کرے تو بیشک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جسے وہ گمراہ کر دے اور نہ کوئی ان کی مدد کرنے والے ہیں۔

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰي هُدٰىهُمْ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ہدایت اور گمراہی کے دونوں راستے واضح کردیے، اب جو لوگ اس کی عطا کردہ استعداد سے کام نہ لیں اور حق پر باطل کو ترجیح دیں اور اللہ تعالیٰ انھیں باطل میں پڑے رہنے کی سزا دے تو آپ کا ان پر حرص کرنا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اس آیت میں نبی ﷺ کی لوگوں کی ہدایت کے لیے حرص بھی ظاہر ہو رہی ہے۔ دیکھیے سورة توبہ (128)۔
Ayah 16:38

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور انھوں نے اپنی پکی قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی کہ اللہ اسے نہیں اٹھائے گا جو مر جائے۔ کیوں نہیں ! وعدہ ہے اس کے ذمے سچا اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ۔۔ : قسم ”حلف“ کو کہتے ہیں، کیونکہ یہ اس وقت اٹھائی جاتی ہے جب لوگ تقسیم ہوجائیں، کچھ لوگ بات کو صحیح کہتے ہیں کچھ غلط۔ ”جَهْدَ“ کا معنی مشقت ہے، ”جَھَدَ فُلاَنٌ دَابَّتَہُ وَأَجْھَدَھَا“ جب اپنی سواری پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈال دے۔ ”جَھَدَ الرَّجُلُ فِيْ کَذَا“ جب آدمی کسی کام میں اپنی انتہائی کوشش صرف کر دے۔ اس کا باب ”فَتَحَ یَفْتَحُ“ ہے۔ (طنطاوی) ”أَیْمَانٌ“ ”یَمِیْنٌ“ کی جمع ہے ”قسمیں۔“ یعنی انھوں نے زیادہ سے زیادہ تاکید کے ساتھ نہایت پکی قسم کھائی کہ جو مرجائے اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ نہیں کرے گا۔ مرنے کے بعد نہ کوئی دوسری زندگی ہے نہ حساب کتاب، اس لیے عذاب کا کیا ڈر ؟ مشرکین کی عقل پر تعجب ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی اتنی تعظیم کہ اس کے نام کی پکی قسمیں کھائی جا رہی ہیں، دوسری طرف اس کی اتنی بےقدری کہ اسے اتنا بےبس اور عاجز کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی پہلی دفعہ بنائی ہوئی چیز کو بھی دوبارہ نہیں بنا سکتا۔ بَلٰى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا : ”بَلٰی“ کا لفظ کسی نفی کی نفی کے لیے ہوتا ہے، جس سے مراد اس چیز کا اثبات ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا، قیامت نہیں آئے گی۔ فرمایا، کیوں نہیں ! یعنی ضرور آئے گی۔ ”وَعْدًا“ ”وَعَدَ“ مقدر کا مفعول مطلق ہے، برائے تاکید اور ”حَقّاً“ اس کی صفت ہے، یعنی ”وَعَدَ اللّٰہُ وَعْدًا حَقًّا۔“ ”عَلَیْہ“ کا لفظ اس وعدے کی مزید تاکید کے لیے ہے کہ یہ اس پر لازم ہے۔ مگر یہ اس نے خود اپنے فضل و کرم سے اپنے آپ پر لازم کیا ہے، ورنہ کس کی مجال ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم کرے۔ یعنی تمہارے انکار کرنے اور زور دار قسمیں کھانے سے اللہ کا پکا وعدہ ٹل نہیں سکتا، وہ تو ضرور پورا ہو کر رہے گا، البتہ تم ایسی واضح حقیقت کا انکار کرکے اپنی جہالت کا ثبوت دے رہے ہو۔ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ : اس میں اس اقلیت کی تعریف ہے جو علم رکھتے ہیں اور جن کا ایمان ہے کہ آخرت اور حساب کتاب حق ہے اور اس اکثریت کی مذمت ہے، جو یہ ایمان نہیں رکھتے، اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر ان کی تردید فرمائی۔ دیکھیے سورة تغابن (7) اور سورة یس (78)۔
Ayah 16:39

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

تاکہ وہ ان کے لیے وہ چیز واضح کر دے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور تاکہ جن لوگوں نے کفر کیا جان لیں کہ یقینا وہ جھوٹے تھے۔

وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ : یعنی وہ کافر اپنا جھوٹا ہونا جان لیں جو قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے اور یہ کہ حساب کتاب، جنت و دوزخ سب بےحقیقت چیزیں ہیں۔ مطلب یہ کہ جب دنیا میں سب باتوں کا فیصلہ نہیں ہوتا تو سب اختلافات کو دور کرنے کے لیے دوسرے جہاں، یعنی آخرت کا ہونا ”لابد“ (جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں) ہے، تاکہ حق و باطل میں امتیاز ہوجائے اور منکرین اپنا کیا پائیں۔ ”كَانُوْا كٰذِبِيْنَ“ لفظ ”كَانُوْا“ میں، یعنی زمانۂ ماضی میں دوام اور استمرار پایا جاتا ہے، اس کے بجائے ”اِنَّھُمْ کَذَبُوْا“ یا ”إِنَّھُمْ کَاذِبُوْنَ“ میں یہ مفہوم ادا نہیں ہوتا۔
Ayah 16:40

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

ہمارا کہنا کسی چیز کو، جب ہم اس کا ارادہ کرلیں، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ ہم اسے کہتے ہیں ہو جاتو وہ ہوجاتی ہے۔

اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ۔۔ : یعنی جس کی قدرت کا یہ حال ہو اس کے لیے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا بھی ثابت ہوا۔ قرآن و حدیث میں بہت سی جگہ اللہ کے کلام کرنے کا صریح الفاظ میں ذکر ہے۔ (دیکھیے نساء : 164۔ توبہ : 6) یونان کے کافرانہ فلسفے سے متاثر لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرسکتا، نہ سن سکتا ہے، نہ دیکھتا ہے۔ ہمارے کچھ مسلمانوں نے جو قرآن کو بھی ماننا چاہتے ہیں اور یونانی فلسفے کو بھی، انھوں نے اللہ کے کلام کو مخلوق کہہ دیا اور سننے اور دیکھنے کا معنی یہ کیا کہ وہ جانتا ہے، حالانکہ کلام، خلق، سمع، بصر اور علم سب الگ الگ صفات ہیں اور اللہ نے خود اپنی یہ صفتیں بیان فرمائی ہیں، البتہ اس کی یہ صفات مخلوق کی طرح نہیں، بلکہ فرمایا : (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ) [ الشورٰی : 11 ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ اسی طرح اللہ کلام بھی کرتا ہے مگر جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس کی مثل نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس کی ثابت شدہ صفات سمع، بصر اور کلام وغیرہ کا بھی انکار کر دو ، یا ایسا مطلب بیان کرو جس کا نتیجہ انکار ہو۔
Ayah 16:41

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی خاطر وطن چھوڑا، اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا، بلاشبہ ہم انھیں دنیا میں ضرور اچھا ٹھکا نادیں گے اور یقینا آخرت کا اجر سب سے بڑا ہے۔ کاش ! وہ جانتے ہوتے۔

وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِي اللّٰهِ۔۔ : ”هَاجَرُوْا“ ”ھَجَرَ یَھْجُرُ“ سے باب مفاعلہ ہے۔ ”ھَجَرَ“ اور ”ھَاجَرَ“ کے مفہوم میں فرق ہے۔ ”ھَجَرَ الْمَکَانَ“ ”اس نے فلاں جگہ چھوڑ دی“ ہوسکتا ہے اسے وہ پسند نہ رہی ہو اور وہ اپنے خیال میں اس سے بہتر جگہ چلا گیا ہو، جگہ نے اسے جانے پر مجبور نہیں کیا، وہ اپنی مرضی سے اسے چھوڑ گیا ہے، لیکن ”ھَاجَرَ“ یعنی باب مفاعلہ میں مقابلہ پایا جاتا ہے، یعنی قوم کی طرف سے مزاحمت اور مقابلے نے اسے وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، وہ اپنی جگہ چھوڑنے پر ازخود راضی نہ تھا۔ (شعراوی) 3 اللہ کی توحید اور قیامت پر ایمان لانے والوں کا توحید اور قیامت کے منکروں کے ساتھ خوشی سے مل جل کر رہنا ممکن ہی نہ تھا، خصوصاً جب اہل ایمان تعداد اور قوت میں کمزور بھی تھے۔ اپنے وطن کو جہاں بیت اللہ بھی ہو، کون خوشی سے چھوڑ سکتا ہے ؟ اس لیے انھوں نے وطن چھوڑا تو دو وجہوں سے، ایک تو قوم کے ظلم کی وجہ سے، جیسا کہ فرمایا : (مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا) اور دوسرا اس لیے کہ اللہ کے دین پر عمل کرنا وطن میں ممکن نہ رہا، تو انھوں نے گھر بار، خویش، قبیلے، جائداد، غرض ہر چیز کو اللہ کی خاطر چھوڑ دیا اور ایسی جگہ چلے گئے جہاں وہ ظلم سے بھی بچ جائیں اور اللہ کے دین پر بھی عمل کرسکیں۔ چونکہ یہ سورت مکی ہے، اس لیے اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ ان کی تعداد مردوں، عورتوں اور بچوں سمیت ایک سو یا کم و بیش تھی، جن میں عثمان غنی ؓ اور ان کی بیوی رقیہ ؓ (بنت رسول ﷺ بھی تھے، مگر لفظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں ہر مہاجر شامل ہے، خواہ مکہ سے حبشہ کی طرف ہو یا مدینہ کی طرف، یا کسی بھی ظالم بستی سے امن کی بستی کی طرف۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت میں حبشہ کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت کا پیشگی اشارہ ہو۔ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَـنَةً۔۔ : ”بَوَّءَ یُبَوِّئُ“ (تفعیل) رہنے کی جگہ دینا، ٹھکانا دینا۔ اللہ تعالیٰ نے لام اور نون ثقیلہ دو تاکیدوں کے ساتھ یہ وعدہ فرمایا، چناچہ اس نے ان ناتواں اور غریب الوطن مہاجرین کو دنیا میں عزت، شرف، عظمت، حکومت، دولت غرض ہر چیز عطا فرمائی۔ وہ جزیرۂ عرب ہی کے نہیں، شام، مصر، عراق، فارس کے مالک بنے اور نصف صدی گزری تھی کہ وہ تمام دنیا پر غالب تھے۔ یہ بھی کوئی اجر صغیر نہیں، اجر کبیر ہے، جو دین کی اشاعت اور آخرت کی تیاری میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کبیر ہی کے مقابلے میں اکبر ہوتا ہے، نہ کہ صغیر کے مقابلے میں، اس لیے فرمایا، یقیناً آخرت کا اجر اکبر ہے، یعنی اس سے بھی بڑا، بلکہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (218) ، آل عمران (195) اور سورة نساء (100)۔ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ : اس سے مراد تین طرح کے لوگ ہوسکتے ہیں : 1 کافر کہ وہ علم رکھتے ہوتے تو ایمان لے آتے۔ 2 مہاجر کہ وہ ہجرت کی فضیلت جانتے ہوتے تو انھیں بیحد خوشی ہوتی۔ 3 وہ مومن جنھوں نے ہجرت نہیں کی کہ وہ ہجرت کی فضیلت جانتے ہوتے تو ضرور ہجرت کرتے۔
Ayah 16:42

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسا کرتے ہیں۔

الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ : صبر اور اللہ پر توکل ہی سے وطن چھوڑنے کی جرأت پیدا ہوتی ہے، ورنہ بندہ مستقبل کے خوف سے کہ اپنا گھر چھوڑ کر کہیں گیا تو کہاں سے کھاؤں گا، اپنی جگہ سے نہیں ہلتا اور نہ ہلنے کی وجہ سے چکی کے نچلے پاٹ کی طرح ہمیشہ اپنے سینے پر اوپر کے پاٹ کا بوجھ برداشت کرتا رہتا ہے اور آخر کار یا تو ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یا جان سے۔ دیکھیے سورة نساء (97)۔
Ayah 16:43

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجے مگر مرد، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ سو ذکر والوں سے پوچھ لو، اگر تم شروع سے نہیں جانتے۔

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یوسف (109)۔ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ : ”اَهْلَ الذِّكْرِ“ سے مراد اہل کتاب یہود و نصاریٰ ہیں، یعنی یہ بات اگر تمہیں معلوم نہیں کہ پہلے تمام رسول مرد (انسان) ہی تھے تو یہودو نصاریٰ سے پوچھ لو جو انبیاء کی تاریخ سے واقف ہیں اور تم ان پر اعتماد بھی مسلمانوں کی نسبت زیادہ کرتے ہو کہ موسیٰ ، عیسیٰ ، داؤد اور سلیمان وغیرہم فرشتے تھے یا بشر ؟ پھر محمد ﷺ پر یہ اعتراض کیوں کہ یہ نبی انسان کیوں ہے، فرشتہ کیوں نہیں ؟ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ : ”اگر تم نہیں جانتے“ یہ دراصل تعریض ہے کہ ”جانتے تم بھی ہو“ کیا اپنے باپ ابراہیم اور اسماعیل ؑ کو تم نہیں جانتے کہ وہ فرشتہ رسول تھے یا بشر ؟ یقیناً تم جانتے ہو، خیر اگر نہیں جانتے تو یہود و نصاریٰ سے پوچھ لو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور یوسف اور سارے بنی اسرائیل کے انبیاء بشر تھے یا فرشتے ؟ تم پر حقیقت واضح ہوجائے گی۔ 3 بعض لوگ اس آیت سے تقلید کے وجوب یا جواز پر استدلال کرتے ہیں، حالانکہ آیت کے سیاق وسباق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کے مخاطب مشرکین ہیں اور ”اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ“ سے مراد اہل کتاب ہیں اور آیت میں ایک خاص اعتراض کے حل میں ان کی طرف رجوع کا حکم دیا جا رہا ہے، اس کا تقلیدِ ائمہ سے کیا تعلق ؟ 3 اگر آیت کو عام بھی سمجھ لیا جائے تو غیر عالم مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے کسی بھی موجود عالم سے کتاب و سنت کا حکم معلوم کرلیں، کیونکہ فوت شدہ شخص سے پوچھا ہی نہیں جاسکتا۔ ظاہر ہے چاروں امام بلکہ رسول اللہ ﷺ بھی فوت ہوچکے ہیں، ان سے سوال تو ممکن ہی نہیں۔ ہاں اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کتاب و سنت میں محفوظ ہیں اور اماموں کے اقوال ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اب کوئی شخص دونوں میں سے جو بھی پوچھے گا کسی زندہ عالم ہی سے پوچھے گا، وہ عالم مکمل طور پر محفوظ کتاب و سنت سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم بھی بتاسکتا ہے اور کسی معتبر یا غیر معتبر کتاب سے امام کا قول بھی۔ اس لیے سائل کا فرض یہ ہے کہ وہ کسی بھی عالم سے یہ پوچھے کہ اس مسئلہ میں اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول ﷺ کا کیا حکم ہے، کیونکہ دین صرف کتاب و سنت کا نام ہے۔ جب بڑے سے بڑے امتی کا قول بھی دین نہیں تو پھر سائل عالم سے کسی امام کا قول کیوں پوچھے ؟ کیا وہ امام نبی تھا، یا اللہ تعالیٰ نے اس کی اطاعت کا حکم دیا ہے، یا وحی کے ذریعے سے اس کی خطا کی اصلاح کردی جاتی تھی۔ اس سے بڑھ کر بدقسمتی کیا ہوگی کہ مسلمانوں نے علماء سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم پوچھنے کے بجائے اپنے اپنے فرقے کے بنائے ہوئے امام کے اقوال پوچھنا اور ان پر عمل کرنا شروع کردیا۔ نتیجہ اس کا ظاہر ہے کہ مسلمان مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ اس کا علاج اب بھی سب فرقے چھوڑ کر کتاب و سنت پر متحد ہونا ہے۔ خصوصاً آگے صاف لفظ بھی آ رہے ہیں کہ ”بِالْبَیِّنٰتِ والزُّبُر“ یعنی اہل ذکر سے سوال کرو کہ وہ بینات (دلائل) اور آسمانی کتابوں کے ساتھ جواب دیں، نہ کہ اپنے یا کسی امتی کے قیاس یا عقل سے نکالی ہوئی کسی بات کے ساتھ۔ گویا اس آیت کو اگر تقلید کے متعلق مان بھی لیا جائے تو یہ تقلید کو جڑ سے اکھیڑنے والی اور کتاب و سنت کا پابند بنانے والی ہے۔ ”اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ“ سے معلوم ہوا کہ اہل ذکر سے پوچھنے کی ضرورت اسے ہے جو لاعلم ہو۔ کیا بڑے بڑے مدارس میں دس، دس سال پڑھنے کے بعد اور چالیس پچاس سال پڑھانے کے بعد بھی مقلد حضرات ”لاتعلمون“ ہی رہتے ہیں، حالانکہ وہ قرآن و سنت پر عمل سے بچنے اور اپنے امام کی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے اتنے علمی و عقلی دلائل جمع کرتے اور پیش کرتے ہیں جو شاید ان کے امام کے خواب و خیال میں بھی نہ آئے ہوں۔ میں اپنے ان بھائیوں سے نہایت درد مندی سے عرض کرتا ہوں کہ وہ قیامت کے دن کسی دھڑے یا فرقے میں کھڑے ہونے کے بجائے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چلنے والی قطار میں شامل ہوجائیں۔ نجات کا بس یہی ایک راستہ ہے۔
Ayah 16:44

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

واضح دلائل اور کتابیں دے کر۔ اور ہم نے تیری طرف یہ نصیحت اتاری، تاکہ تو لوگوں کے لیے کھول کر بیان کر دے جو کچھ ان کی طرف اتارا گیا ہے اور تاکہ وہ غور وفکر کریں۔

بِالْبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ : ”وَالزُّبُرِ“ ”اَلزَّبُوْرُ“ کی جمع ہے، بمعنی ”مَزْبُوْرٌ“ یعنی مکتوب۔ ”بِالْبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ“ یہ جار مجرور گزشتہ آیت کے دو افعال میں سے کسی ایک کے متعلق ہوسکتا ہے، یا تو ”وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا“ میں ”اَرْسَلْنَا“ کے متعلق، یعنی ہم نے آپ سے پہلے نہیں بھیجے مگر مرد واضح دلائل اور کتابیں دے کر، یا ”فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ“ میں ”فَسْئَلُوا“ کے متعلق، یعنی اگر تم نہیں جانتے تو ذکر والوں سے واضح دلائل اور کتابوں کے ساتھ پوچھ لو۔ (طنطاوی) وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ۔۔ : ”الذِّكْرَ“ کی تفسیر کے لیے اسی سورة حجر کی آیت (9) کے حواشی ملاحظہ فرمائیں۔ اس آیت میں ”الذِّكْرَ“ یعنی وحی الٰہی کو رسول اللہ ﷺ پر نازل کرنے کی دو حکمتیں بیان فرمائیں، ایک تو یہ کہ لوگوں کو اس کا مطلب سمجھنے میں کوئی مشکل پیش آنے پر آپ ان کے لیے اس کی وضاحت فرما دیں، بلکہ خود اس پر عمل کرکے انھیں اس کی عملی تصویر دکھا دیں، کیونکہ آپ کی وضاحت اور نمونے کے بغیر وحی الٰہی میں بیان کردہ چیزوں کو سمجھنا ممکن ہی نہیں، مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر احکام۔ قرآن مجید کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کا ہر قول، فعل اور حال وحی الٰہی اور اس کی وضاحت ہی ہے، فرمایا : (لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ) [ الأحزاب : 21 ] ”بلاشبہ یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے اچھا نمونہ ہے۔“ مقدام بن معدیکرب ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (اَلَا، إِنِّيْ أُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ ، أَلَا یُوْشِکُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلٰی أَرِیْکَتِہِ یَقُوْلُ عَلَیْکُمْ بِھٰذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوْہُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْہُ أَلاَ وَ إِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ، أَلاَ ، لَا یَحِلُّ لَکُمْ الْحِمَارُ الْأَھْلِيُّ وَلَا کُلُّ ذِيْ نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَلَا لُقَطَۃُ مُعَاھِدٍ إِلاَّ أَنْ یَسْتَغْنِيَ عَنْھَا صَاحِبُھَا) [ أبوداوٗد، السنۃ، باب فی لزوم السنۃ : 4604۔ ابن ماجہ : 12، و صححہ الألباني ] ”سنو ! مجھے کتاب اور اس کے ساتھ اس کی مثل دی گئی ہے، یاد رکھو ! قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا ہوا آدمی اپنی شاندار چارپائی پر بیٹھا ہوا یہ کہے کہ اس قرآن کو لازم پکڑو، جو اس میں حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جو اس میں حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۔ سن لو ! بیشک جو کچھ اللہ کے رسول نے حرام کیا ہے وہ اسی طرح ہے جیسے اللہ نے حرام کیا ہے۔ یاد رکھو ! تمہارے لیے گھریلو گدھے کا گوشت حلال نہیں اور نہ درندوں میں سے کوئی کچلی والا اور نہ کسی ذمی (کافر) کی گری ہوئی چیز، الا یہ کہ اس کے مالک کو اس کی ضرورت نہ رہے۔“ دوسری حکمت ”وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ“ اور تاکہ لوگ وحی الٰہی میں غور و فکر کریں اور اس سے نصیحت حاصل کریں۔
Ayah 16:45

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

تو کیا وہ لوگ جنھوں نے بری تدبیریں کی ہیں، اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ انھیں زمین میں دھنسا دے، یا ان پر عذاب آجائے جہاں سے وہ سوچتے نہ ہوں۔

اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ۔۔ : فاء عاطفہ ہے، لیکن ہمزۂ استفہام عربی میں کلام کے شروع میں آتا ہے، اس لیے عطف کی فاء ہو یا واؤ، ہمزۂ استفہام کے بعد لائی جاتی ہے، لہٰذا ترجمے میں حرف عطف کا معنی پہلے کیا جاتا ہے۔ ان تین آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے واضح دلائل اور کتاب دیکھنے سننے کے باوجود رسول اور اہل ایمان کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو چار قسم کے عذاب سے خبردار کیا ہے، پہلا یہ کہ کیا وہ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں دھنسا دے اور ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قارون کے متعلق فرمایا : (فَخَسَفْنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الْاَرْضَ) [ القصص : 81 ] ”تو ہم نے اسے اور اس کے مکان کو زمین میں دھنسا دیا۔“ خود ہمارے دیکھنے میں آزاد کشمیر کے اندر آنے والے زلزلے میں کئی جگہوں پر زمین پھٹی اور کئی آدمی اور مکان اس کے اندر دھنس گئے، پھر دوسرے جھٹکوں کے ساتھ زمین کے وہ شگاف دوبارہ مل گئے اور دھنسنے والوں کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ دوسرا یہ کہ انھیں عذاب ایسی جگہ سے آپکڑے جہاں سے وہ سوچتے بھی نہ ہوں کہ یہاں سے بھی عذاب آسکتا ہے اور اچانک آجانے کی وجہ سے نہ اس کا دفاع کرسکیں اور نہ اس سے بھاگ کر بچ سکیں۔ اس کے مشابہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوْا) [ الحشر : 2 ] ”تو اللہ ان کے پاس آیا جہاں سے انھوں نے گمان نہیں کیا تھا۔“
Ayah 16:46

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا وہ انھیں ان کے چلنے پھرنے کے دوران پکڑلے۔ سو وہ کسی طرح عاجز کرنے والے نہیں۔

اَوْ يَاْخُذَهُمْ فِيْ تَقَلُّبِهِمْ۔۔ : ”تَقَلُّبٌ“ چلنا پھرنا، یعنی زندگی کی مصروفیات میں چلتے پھرتے، آتے جاتے اپنے شہر یا سفر میں کہیں بھی پکڑ لے۔ ”بِمُعْجِزِيْنَ“ یہ ”أَعْجَزَ یُعْجِزُ إِعْجَازًا“ باب افعال سے اسم فاعل کا صیغہ ہے، لفظی معنی ہے عاجز کرنے والے، یعنی اگر اللہ چاہے تو انھیں چلتے پھرتے مصروفیت کی حالت میں پکڑ لے، پھر یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ اللہ کی گرفت سے بچ کر نکل جائیں اور اللہ تعالیٰ کو پکڑنے سے عاجز کردیں۔ ”بِمُعْجِزِيْنَ“ پر باء نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”کسی طرح عاجز کرنے والے نہیں“ کیا گیا ہے۔
Ayah 16:47

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا وہ انھیں خوفزدہ ہونے پر پکڑلے۔ پس بیشک تمہارا رب یقینا بہت نرمی کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

اَوْ يَاْخُذَهُمْ عَلٰي تَخَــوُّفٍ ۭ : ”تَخَــوُّفٍ“ کا ایک معنی خوف زدہ ہونا ہے اور ایک معنی ”تَنَقُّص“ یعنی آہستہ آہستہ کم ہونا ہے۔ یعنی عذاب کی ایک صورت یہ ہے کہ انھیں پہلے ہی سے نظر آ رہا ہو کہ عذاب آ رہا ہے، جس کے آنے سے وہ ہر وقت خوف زدہ رہیں اور اس کے نتیجے میں دن بدن ان کی جانیں، مال اور پیداوار کم ہوتی چلی جائیں، حتیٰ کہ دیکھتے دیکھتے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں آجائیں۔ یہ بھی عذاب کی نہایت تکلیف دہ صورت ہے، کیونکہ انسان خوف کی وجہ سے نہ جیتا ہے نہ مرتا ہے، بلکہ گھلتا چلا جاتا ہے۔ اس تفسیر میں ”تَخَــوُّفٍ“ اور ”تَنَقُّص“ (خوف زدہ ہونا اور آہستہ آہستہ کم ہونا) دونوں معنی آگئے ہیں۔ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ : یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس اگرچہ عذاب کی بیشمار صورتیں ہیں، مگر وہ تمہیں مہلت دیتا ہے اور درگزر فرماتا ہے، تاکہ تم نافرمانی چھوڑ کر واپس پلٹ آؤ۔ یہ اس کی بیحد شفقت اور نہایت مہربانی ہے کہ تم گناہ کرتے رہتے ہو، اس کے باوجود وہ تمہیں رزق دیتا ہے اور تندرستی بخشتا ہے اور اس کی طرف سے تمہاری فوری گرفت نہیں ہوتی۔ ورنہ اگر وہ تمہیں تمہاری نافرمانیوں کی وجہ سے پکڑے تو زمین پر کوئی چلنے والی چیز باقی نہ رہے۔ دیکھیے سورة فاطر کی آخری آیت۔
Ayah 16:48

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

اور کیا انھوں نے اس کو نہیں دیکھا جسے اللہ نے پیدا کیا ہے، جو بھی چیز ہو کہ اس کے سائے دائیں طرف سے اور بائیں طرفوں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں، اس حال میں کہ وہ عاجز ہیں۔

اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ۔۔ : ”يَّتَفَيَّؤُا“ ”فَاءَ یَفِیْئُ فَیْءًا“ (لوٹنا) سے باب تفعل ہے۔ سایوں کے لوٹنے سے مراد سورج نکلنے کے بعد ایک جگہ سے دوسری جگہ حتیٰ کہ زوال کے بعد بالکل ہی دوسری طرف منتقل ہونا ہے۔ ”دٰخِرُوْنَ“ ”دَخِرَ یَدْخَرُ دُخُوْرًا“ (ع) سے ہے، ”دَخِرَ فُلَانٌ لِفُلَانٍ“ فلاں شخص دوسرے کا بالکل مطیع اور اس کے سامنے عاجز اور ذلیل ہوگیا۔”اَوَلَمْ يَرَوْا“ میں استفہام پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ ڈانٹنے کے لیے ہے کہ کیا ان مشرکوں کو نظر نہیں آتا، یقیناً یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز اور عاجز و مطیع ہے، مگر یہ اللہ کے دیے ہوئے اختیار کو اس کی ساری مخلوق کی طرح عاجزی، اطاعت اور عبادت کے بجائے سرکشی اور کفر و شرک میں استعمال کر رہے ہیں۔ اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ۔۔ : یعنی دنیا کی کوئی بھی چیز جو اللہ نے پیدا فرمائی ہے، مثلاً پہاڑ، درخت اور انسان وغیرہ، جس کا سایہ بڑھتا، گھٹتا اور ڈھلتا ہے، ہر ایک تکوینی طور پر (اپنے اختیار کے بغیر) اللہ تعالیٰ ہی کی فرماں برداری میں مصروف ہے اور وہ قانون قدرت سے بال برابر ادھر ادھر نہیں ہوسکتی۔ یہاں تمام چیزوں پر ذوی العقول کو غلبہ دے کر ”دٰخِرُوْنَ“ فرمایا ہے۔ (روح المعانی) شاہ عبد القادر ؓ اس سجدہ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ”ہر چیز ٹھیک دوپہر میں کھڑی ہے، اس کا سایہ بھی کھڑا ہے، جب دن ڈھلا، سایہ بھی جھکا، پھر جھکتے جھکتے شام تک زمین پر پڑگیا، جیسے نماز میں قیام سے رکوع اور رکوع سے سجدہ، اسی طرح ہر چیز اپنے سائے سے نماز ادا کرتی ہے۔“ (موضح) ”الْيَمِيْنِ“ کو اختصار کے لیے واحد اور ”وَالشَّمَاۗىِٕلِ“ کو تفصیل کے لیے جمع لائے۔ پہلے سے مراد جنس ہے، اس میں بھی تمام افراد شامل ہیں، دوسرے سے مراد بائیں جانب کے تمام اطراف ہیں۔
Ayah 16:49

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتی ہے جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، کوئی بھی چلنے والا (جانور) ہو اور فرشتے بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے۔

وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۔۔ : پہلے ان چیزوں کا سجدہ بیان فرمایا جو زمین میں پائی جاتی ہیں، اب یہاں زمین و آسمان میں پائے جانے والے تمام جان دار، خصوصاً فرشتوں کا سجدہ بیان کرکے متنبہ فرمایا کہ ایسی مقرب ہستیاں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہیں اور ان میں کوئی تکبر یا غرور نہیں پایا جاتا، لہٰذا ان کے متعلق یہ سمجھنا قطعی غلط ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور ان کا اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں کوئی حصہ ہے۔ (شوکانی)
Ayah 16:50

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

وہ اپنے رب سے، جو ان کے اوپر ہے، ڈرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں جو انھیں حکم دیا جاتا ہے۔

يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ۔۔ : ”مِّنْ فَوْقِهِمْ“ ”رَبَّهُمْ“ سے حال ہے، یعنی وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں، اس حال میں کہ وہ ان کے اوپر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے اور تمام اہل السنہ کا اس پر اتفاق ہے۔ یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے، درست نہیں، کیونکہ یہ ”اَلرَّحْمٰن عَلیٰ الْعَرْشِ اسْتَویٰ“ کے خلاف ہے۔ ہاں، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن و حدیث کی رو سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے، مگر کس طرح ہے، یہ معلوم نہیں، نہ صحابہ میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی کیفیت پوچھی، اس لیے امام مالک ؓ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا معلوم ہے، اس کی کیفیت معلوم نہیں، اس لیے اس کی کیفیت کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے۔“ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نہ اوپر ہے نہ نیچے، نہ دائیں نہ بائیں، نہ آگے نہ پیچھے، بلکہ وہ لا مکان ہے، یعنی کسی جگہ بھی نہیں، کیونکہ عرش اور مکان تو اس کی مخلوق ہے، اگر اسے عرش پر یا کسی مکان میں مانیں تو وہ اپنی مخلوق کا محتاج ٹھہرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے اوپر کی جانب ہونے یا عرش پر ہونے کے منکرین میں سے بعض لوگ تو یہاں تک بڑھ گئے کہ انھوں نے کہا یہ کہنا ہی جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے، ان کی بات قرآن کی ان متعدد آیات جن میں اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا یا اوپر کی جانب ہونا بیان ہوا ہے، کے صریح خلاف ہے۔ ان کی بات کا نتیجہ تو یہی ہے کہ درحقیقت اللہ تعالیٰ موجود ہی نہیں۔ رہی یہ بات کہ اس سے اللہ کا عرش یا مکان کا محتاج ہونا لازم آتا ہے تو یہ بات فضول ہے، کیونکہ بہت سی نیچے والی چیزیں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے اوپر والی چیز کی محتاج ہوتی ہیں، مثلاً چھت کے نیچے پنکھا یا بلب وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ کی مثل تو کوئی چیز نہیں، سو عرش اور مکان اللہ تعالیٰ کے مخلوق ہو کر بھی اپنی پیدائش اور وجود میں اللہ کے محتاج ہیں، اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں، کیونکہ وہ ان کے پیدا کرنے سے پہلے بھی ہمیشہ سے موجود ہے۔ ہاں، اس کی کوئی صفت یا اس کی ذات کسی مخلوق کی صفت یا ذات کی مثل نہیں۔ جن لوگوں نے اس سوال پر کہ ”اللہ کہاں ہے“ ناجائز ہونے کا فتویٰ لگایا وہ سوچ لیں کہ ان کا فتویٰ کس کس ہستی پر لگتا ہے۔ صحیح مسلم میں معاویہ بن حکم السلمی ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں : (کَانَتْ لِيْ جَارِیَۃٌ تَرْعَی غَنَمًا لِيْ قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِیَّۃِ ، فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ یَوْمٍ فَإِذَا الذِّءْبُ قَدْ ذَھَبَ بِشَاۃٍ عَنْ غَنَمِھَا، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِيْ آدَمَ ، آسَفُ کَمَا یَأْسَفُوْنَ ، لٰکِنِّيْ صَکَکْتُھَا صَکَّۃً ، فَأَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذٰلِکَ عَلَيَّ ، قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَفَلاَ أُعْتِقُھَا ؟ قَالَ اءْتِنِیْ بِھَا، فَأَتَیْتُہُ بِھَا، فَقَالَ لَھَا أَیْنَ اللّٰہُ ؟ قَالَتْ فِي السَّمَاءِ قَالَ مَنْ أَنَا ؟ قَالَتْ أَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ، قَالَ أَعْتِقْھَا، فَإِنَّھَا مُؤْمِنَۃٌ) [ مسلم، المساجد، باب تحریم الکلام فی الصلاۃ۔۔ : 537 ] ”میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ (پہاڑ) کی طرف میری بھیڑ بکریاں چرایا کرتی تھی۔ میں نے ایک دن دیکھا کہ بھیڑیا اس کی بھیڑوں میں سے ایک بھیڑ لے گیا تھا، میں بنی آدم ہی میں سے ایک آدمی ہوں، مجھے اسی طرح غصہ آتا ہے جیسے انھیں غصہ آتا ہے، لیکن میں نے اسے (بس) ایک تھپڑ مارا، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے اسے مجھ پر بہت بڑا (گناہ) قرار دیا۔ میں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں ؟“ فرمایا : ”اسے میرے پاس لے کر آؤ۔“ میں اسے آپ کے پاس لے کر آیا، آپ نے اس سے فرمایا : ”اللہ کہاں ہے ؟“ اس نے کہا : ”آسمان میں۔“ آپ نے فرمایا : ”میں کون ہوں ؟“ اس نے کہا : ”آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اسے آزاد کر دو ، یہ مومنہ ہے۔“ اس صحیح حدیث کے مطابق یہ سوال کرنے والے کہ ”اللہ کہاں ہے“ رسول اللہ ﷺ ہیں اور اس لونڈی کو مومنہ قرار دے رہے ہیں، جس کا جواب یہ ہے کہ آسمان پر ہے۔ اب اس سوال کو ناجائز کہنے والے اور اللہ تعالیٰ کو لا مکان کہنے والے سوچ لیں کہ ان کا فتویٰ کس کس پر لگتا ہے اور اگر وہ اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کا امتی سمجھتے ہیں تو فوراً ان غلط عقائد سے توبہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہیں۔ اہل علم نے اللہ تعالیٰ کے لیے اوپر کی جانب ہونے کے ثبوت کے لیے قرآن و حدیث کے دلائل پر مشتمل کئی کتابیں لکھی ہیں۔ دیکھیے حافظ ذہبی ؓ کی کتاب ”اَلْعَلُوُّ لِلْعَلِيِّ الْغَفَّارِ“ اور ابن قیم ؓ کی کتاب ”اَلْجُیُوْشُ الإِْسْلاَمِیَّۃُ“ ، اسی طرح مشہور مسلم فلسفی ابن رشد نے ”مَنَاہِجُ الدَّوْلَۃِ“ میں اس موضوع پر بہت لمبی تفصیل لکھی ہے۔ 3 ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ خطبہ جمعہ میں حاضر تھے۔ انھوں نے منبر پر سورة النحل پڑھی، سجدے کا مقام آیا تو اترے اور سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا، یہاں تک کہ اگلا جمعہ آیا تو انھوں نے وہی سورت پڑھی، سجدے کا مقام آیا تو فرمایا : ”لوگو ! ہم سجدے کی آیت پڑھتے ہیں تو جس نے سجدہ کیا اس نے درست کیا اور جس نے سجدہ نہیں کیا اس پر کوئی گناہ نہیں“ اور عمر ؓ نے سجدہ نہیں کیا۔ [ بخاری، سجود القرآن، باب من رأی أن اللّٰہ عز و جل لم یوجب السجود : 1077 ] اس سے معلوم ہوا کہ سجدہ والی آیت پر سجدہ کریں تو ثواب ہے، مگر یہ ضروری اور فرض نہیں۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ سجدہ نہ کرنے سے سجدہ کرنے کا ثواب حاصل نہ ہوگا۔
Ayah 16:51

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور اللہ نے فرمایا تم دو معبود مت بناؤ، وہ تو صرف ایک ہی معبود ہے، سو مجھی سے پس تم ڈرو۔

وَقَال اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْٓا اِلٰـهَيْنِ اثْـنَيْنِ ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ۔۔ : اوپر بتایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز اور اس کی مطیع و فرماں بردار ہیں، اس مناسبت کے ساتھ اب انسانوں کو اس مالک الملک کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانے سے منع فرمایا ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ ”اِلٰـهَيْنِ“ کا معنی ہی دو معبود ہے، پھر ”اثْـنَيْنِ“ کی کیا ضرورت ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی چیز کی قباحت میں زور پیدا کرنے کے لیے بات تاکید کے ساتھ کی جاتی ہے، یہاں ”اثْـنَيْنِ“ کا مقصد یہی ہے۔ تو جب دو معبود نہیں بن سکتے تو زیادہ کس طرح بن سکتے ہیں ؟ صرف اللہ ہے جو اکیلا ہی عبادت کے لائق ہے۔ قرآن میں یہ بات کئی جگہ بیان فرمائی، چناچہ فرمایا : (لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا) [ الأنبیاء : 22 ] ”اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔“ اور دیکھیے سورة بنی اسرائیل (39)۔ فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ : ”رَھْبَۃٌ“ اس خوف کو کہتے ہیں جس میں ساتھ بچا بھی جائے، باب ”عَلِمَ“ سے ہے۔ ”فَاِيَّايَ“ پہلے لانے میں اور پھر ”فَارْهَبُوْنِ“ (جو اصل میں فارْھَبُوْنِیْ تھا) میں دوبارہ یاء لانے میں تاکید پر تاکید ہے کہ صرف میری عبادت کرو۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ذکر غائب کے ساتھ تھا، اب متکلم کے ساتھ ہوگیا، اس التفات کے لیے پہلی فاء آئی ہے۔ اور ”فَاِيَّايَ“ اور ”فَارْهَبُوْن“ دونوں پر فاء آئی ہے، پہلی عطف کے لیے ہے اور دوسری محذوف شرط کی جزا کے لیے ہے، گویا عبارت یوں ہے کہ صرف اللہ ہے جو اکیلا ہی عبادت کے لائق ہے (اور وہ میں ہوں) پس صرف مجھ سے (اگر کسی سے ڈرنا ہے) تو مجھ سے ڈرو، کسی دوسرے سے نہیں۔
Ayah 16:52

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور عبادت بھی ہمیشہ اسی کی ہے، پھر کیا اللہ کے غیر سے ڈرتے ہو۔

وَلَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ :”الدِّيْنُ“ کا معنی یہاں فرماں برداری، مطیع ہونا اور عبادت ہے۔ ”وَاصِباً“ (ہمیشہ) ”وَصَبَ یَصِبُ (وَعَدَ یَعِدُ) وُصُوْبًا“ جیسے فرمایا : (دُحُوْرًا وَّلَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ) [ الصافات : 9 ] ”بھگانے کے لیے اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے۔“ یعنی آسمان و زمین صرف اللہ کے پیدا کردہ اور اس کی ملکیت ہیں اور اطاعت و عبادت بھی اسی کا دائمی حق ہے تو پھر ہر چیز کے مالک اللہ کے بجائے اس کے غیر سے ڈرتے ہو ؟ کس قدر نادانی اور حماقت کی بات ہے۔
Ayahs 16:53–55

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف تم گڑگڑاتے ہو۔

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب وہ تم سے اس تکلیف کو دور کردیتا ہے تو اچانک تم میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شریک بنانے لگتے ہیں۔

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

تاکہ وہ اس کی ناشکری کریں جو ہم نے انھیں دیا ہے۔ سو تم فائدہ اٹھالو، پس عنقریب تم جان لوگے۔

وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ۔۔ :”نِّعْمَةٍ“ (نعمت) نکرہ ہونے کی وجہ سے عام تھی، ”مِّنْ“ کے ساتھ عموم کی مزید تاکید ہوگئی کہ جو بھی نعمت تمہارے پاس ہے، یعنی تمہارا وجود، صحت، عافیت، مال، غرض چھوٹی یا بڑی جو بھی نعمت ہے، وہ سب اللہ کی عطا کردہ ہے۔ ”تَجْــــَٔــرُوْنَ“ ”جَأَرَ یَجْأَرُ جُؤَارًا“ (ف) مدد طلب کرنے کے لیے اونچی آواز نکالنا، گڑ گڑانا۔ اصل میں یہ لفظ جنگلی جانوروں کے چیخنے چلانے کے لیے آتا ہے، جیسا کہ گائے کی آواز کے لیے ”خُوَارٌ“ ، بکری کے لیے ”ثُغَاءٌ“ اونٹ کے لیے ”رُغَاءٌ“ اور بھیڑیے اور کتے کے لیے ”عُوَاءٌ“ آتا ہے۔ ”فَتَمَتَّعُوْا“ سو تم فائدہ اٹھا لو، یہ امر ڈانٹنے کے لیے ہے۔ ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یونس (21 تا 23)۔
Ayah 16:56

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور وہ ان (معبودوں) کے لیے جن کے بارے میں وہ نہیں جانتے، ایک حصہ اس میں سے مقرر کرتے ہیں جو ہم نے انھیں دیا ہے۔ اللہ کی قسم ! تم اس کے بارے میں ضرور ہی پوچھے جاؤ گے جو تم جھوٹ باندھتے تھے۔

وَيَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا يَعْلَمُوْنَ۔۔ :”لَا يَعْلَمُوْنَ“ کے دو معنی ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ مشرک لوگ ہمارے دیے ہوئے رزق کا حصہ ان خداؤں کے لیے مقرر کردیتے ہیں جو کچھ بھی نہیں جانتے، کیونکہ عالم الغیب والشہادہ تو صرف اللہ ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ان کے لیے مقرر کردیتے ہیں جن کے متعلق یہ کچھ نہیں جانتے۔ نہ انھیں ان کی حقیقت معلوم ہے نہ ان کا بےاختیار ہونا، محض گمان اور سنی سنائی باتوں پر بنیاد رکھ کر ہمارا دیا ہوا ان کے نام کردیتے ہیں۔ دیکھیے سورة انعام (36 تا 38) اور سورة یونس (66) شروع آیت میں ان مشرکین کا ذکر سارے کا سارا غائب کے صیغوں کے ساتھ کرنے کے بعد آخر میں (بطور التفات) انھیں براہ راست ڈانٹنے کے لیے مخاطب کرلیا اور قسم کھا کر فرمایا کہ مجھے اپنی قسم کہ تم جو کچھ طوفان باندھتے رہے ہو ہر صورت اس کے متعلق پوچھے جاؤ گے۔
Ayah 16:57

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور وہ اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں، وہ پاک ہے اور اپنے لیے وہ جو وہ چاہتے ہیں۔

وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ۔۔ : یہ ان کے اللہ تعالیٰ پر دو عیب لگانے کا بیان ہے، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد قرار دی، حالانکہ وہ اولاد سے پاک ہے۔ دوسرا عیب یہ کہ فرشتوں کو جو اللہ کے بندے ہیں، اللہ کی اولاد قرار دیا اور اولاد بھی مؤنث، جبکہ وہ اپنے لیے لڑکے پسند کرتے ہیں، لڑکیوں کو اپنے لیے باعث ذلت قرار دیتے ہیں، یہ کتنی بڑی بےانصافی ہے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے ”سُبْحٰنَهٗ“ (وہ پاک ہے) کہہ کر اپنی ذات سے ہر قسم کی اولاد کی نفی فرمائی، خواہ لڑکا ہو یا لڑکی، کیونکہ پھر اس کی بیوی بھی ماننا پڑے گی، جب کہ خاوند بیوی کا محتاج ہوتا ہے اور اولاد باپ کی شریک اور جانشین ہوتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ محتاجی، شرکت اور زوال تینوں سے پاک ہے، کیونکہ یہ تینوں اس کے لیے عیب ہیں، وہ ”ۚلَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ“ ہے اور وہ اکیلا ہی غنی ہے، باقی سب اس کے محتاج ہیں، فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ) [ فاطر : 15 ] ”اے لوگو ! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بےپروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔“ صرف اسی کے لیے بقا ہے، باقی سب کچھ فانی ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (101) ، سورة بنی اسرائیل (40) ، سورة صافات (151 تا 154) ، سورة زخرف (11) اور سورة نجم (21، 22)۔