37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsاحسن البیان

Ayahs 37:116–123

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

اور ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے۔

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں (واضح اور) روشن کتاب دی۔

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

اور انہیں سیدھے راستے پر قائم رکھا۔

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور ہم نے ان دونوں کے لئے پیچھے آنے والوں میں یہ بات باقی رکھی۔

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

کہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر سلام ہو۔

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

بیشک ہم نیک لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

یقیناً دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

بیشک الیاس ؑ بھی پیغمبروں میں سے تھے (1)۔

123۔ 1 یہ حضرت ہارون ؑ کی اولاد میں سے ایک اسرائیلی نبی تھے۔ یہ جس علاقے میں بھیجے گئے تھے اس کا نام بعلبک تھا، بعض کہتے ہیں اس جگہ کا نام سامرہ ہے جو فلسطین کا مغربی وسطی علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ بعل نامی بت کے پجاری تھے (بعض کہتے ہیں یہ دیوی کا نام تھا
Ayah 37:124

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ (1)

124۔ 1 یعنی اس کے عذاب اور گرفت سے، کہ اسے چھوڑ کر تم غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو۔
Ayahs 37:125–126

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل (نامی بت) کو پکارتے ہو ؟ اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو ؟

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

اللہ جو تمہارے اگلے تمام باپ دادوں کا رب ہے (1)

126۔ 1 یعنی اس کی عبادت پرستش کرتے ہو، اس کے نام کی نذر نیاز دیتے اور اس کو حاجت روا سمجھتے ہو، جو پتھر کی مورتی ہے اور جو ہر چیز کا خالق اور اگلوں پچھلوں سب کا رب ہے، اس کو تم نے فراموش کر رکھا ہے۔
Ayah 37:127

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

لیکن قوم نے انہیں جھٹلایا، پس وہ ضرور (عذاب میں) حاضر رکھے جائیں گے (1)۔

127۔ 1 یعنی توحید و ایمان سے انکار کی پاداش میں جہنم کی سزا بھگتیں گے۔
Ayahs 37:128–130

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

سوائے اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے۔

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

ہم نے الیاس ؑ کا ذکر خیر پچھلوں میں بھی باقی رکھا۔

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

کہ الیاس پر سلام ہو (1)۔

130۔ 1 الیاسین، الیاس ؑ کا ہی ایک تلفظ ہے، جیسے طور سینا کو طور سینین بھی کہتے ہیں، حضرت الیاس ؑ کو دوسری کتابوں میں (ایلیا) بھی کہا گیا ہے۔
Ayahs 37:131–135

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

بیشک لوط ؑ بھی پیغمبروں میں سے تھے۔

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو سب کو نجات دی۔

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

بجز اس بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں رہ گئی (1)

135۔ 1 اس سے مراد حضرت لوط ؑ کی بیوی ہے جو کافرہ تھی، یہ اہل ایمان کے ساتھ اس بستی سے باہر نہیں گئی تھی، کیونکہ اسے اپنی قوم کے ساتھ ہلاک ہونا تھا، چناچہ وہ بھی ہلاک کردی گئی۔
Ayahs 37:136–138

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور تم تو صبح ہونے پر ان کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو۔

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور رات کو بھی، کیا پھر بھی نہیں سمجھتے ؟ (1)۔

138۔ 1 یہ اہل مکہ سے خطاب ہے جو تجارتی سفر میں ان تباہ شدہ علاقوں سے آتے جاتے، گزرتے تھے ان کو کہا جارہا ہے کہ تم صبح کے وقت بھی اور رات کے وقت بھی ان بستیوں سے گزرتے ہو، جہاں اب مردار بحیرہ ہے، جو دیکھنے میں بھی نہایت کر یہ ہے اور سخت متعفن اور بدبودار۔ کیا تم انہیں دیکھ کر یہ بات نہیں سمجھتے کہ رسولوں کے جھٹلانے کی وجہ سے ان کا یہ بد انجام ہوا، تو تمہاری اس روش کا انجام بھی اس سے مختلف کیوں کر ہوگا ؟ جب تم بھی وہی کام کر رہے ہو، جو انہوں نے کیا تو پھر اللہ کے عذاب سے کیوں کر محفوظ رہو گے۔
Ayahs 37:139–142

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور بلاشبہ یونس ؑ نبیوں میں سے تھے۔

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

جب بھاگ کر پہنچے بھری کشتی پر۔

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

پھر قرعہ اندازی ہوئی تو یہ مغلوب ہوگئے۔

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

تو پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ خود اپنے آپ کو ملامت (1) کرنے لگ گئے۔

142۔ 1 حضرت یونس ؑ عراق کے علاقے نینوی (موجودہ موصل) میں نبی بنا کر بھیجے گئے، یہ آشوریوں کا پایہ تخت تھا، انہوں نے ایک لاکھ بنواسرائیلیوں کو قیدی بنایا ہوا تھا، چناچہ ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت یونس ؑ کو بھیجا، لیکن یہ قوم آپ پر ایمان نہ لائی۔ بالآخر اپنی قوم کو ڈرایا کہ عنقریب تم عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاؤ گے۔ عذاب میں تاخیر ہوئی تو اللہ کی اجازت کے بغیر ہی اپنے طور پر وہاں سے نکل گئے اور سمندر پر جا کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ اپنے علاقے سے نکل کر جانے کو ایسے لفظ سے تعبیر کیا جس طرح ایک غلام اپنے آقا سے بھاگ کر چلا جاتا ہے۔ کیونکہ آپ بھی اللہ کی اجازت کے بغیر ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ کشتی سواروں اور سامان سے بھری ہوئی تھی۔ کشتی سمندر کی موجوں میں گھر گئی اور کھڑی ہوگئی۔ چناچہ اس کا وزن کم کرنے کے لئے ایک آدھ آدمی کو کشتی سے سمندر میں پھینکنے کی تجویز سامنے آئی تاکہ کشتی میں سوار دیگر انسانوں کی جانیں بچ جائیں۔ لیکن قربانی دینے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا اس لئے قرعہ اندازی کرنی پڑی، جس میں حضرت یونس ؑ کا نام آیا۔ اور وہ مغلوبین میں سے ہوگئے، یعنی طوحًا و کرھًا اپنے آپ کو بھاگے ہوئے غلام کی طرح سمندر کی موجوں کے سپرد کرنا پڑا۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ثابت نگل لے اور یوں حضرت یونس ؑ اللہ کے حکم سے مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے
Ayahs 37:143–144

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

پس اگر یہ پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے۔

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ میں ہی رہتے (1)

144۔ 1 یعنی توبہ استغفار اور اللہ کی تسبیح بیان نہ کرتے، (جیسا کہ انہوں نے کہا (وَدَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ اِذْ يَحْكُمٰنِ فِي الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِيْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ ۚ وَكُنَّا لِحُـكْمِهِمْ شٰهِدِيْنَ) 21۔ الانبیاء :78) تو قیامت تک وہ مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔
Ayah 37:145

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

پس انہیں ہم نے چٹیل میدان میں ڈال دیا اور وہ اس وقت بیمار تھے (1)

145۔ 1 جیسے ولادت کے وقت بچہ یا جانور کا چوزہ ہوتا ہے، کمزور اور ناتواں۔
Ayah 37:146

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور ان پر سایہ کرنے والا ایک بیل دار درخت (1) ہم نے اگاہ دیا۔

146۔ 1 یَقْطِیْنِ ہر اس بیل کو کہتے ہیں جو اپنے تنے پر کھڑی نہیں ہوتی، جیسے لوکی، کدو وغیرہ کی بیل اس چٹیل میدان میں جہاں کوئی درخت تھا نہ عمارت۔ ایک سایہ دار بیل اگا کر ہم نے ان کی حفاظت فرمائی۔
Ayahs 37:147–148

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں ایک لاکھ بلکہ اور زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

پس وہ ایمان لائے (1) اور ہم نے انہیں ایک زمانہ تک عیش و عشرت دی۔

148۔ 1 ان کے ایمان لانے کی کیفیت کا بیان (فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ ۭ لَمَّآ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰى حِيْنٍ) 10۔ یونس :98) میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 37:149–150

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

ان سے دریافت کیجئے ! کہ کیا آپ کے رب کی بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں ؟

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

یا یہ اس وقت موجود تھے جبکہ ہم نے فرشتوں کو مؤنث پیدا کیا (1)۔

150۔ 1 یعنی فرشتوں کو جو یہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں تو کیا جب ہم نے فرشتے پیدا کئے تھے، یہ اس وقت وہاں موجود تھے اور انہوں نے فرشتوں کو عورتوں والی خصوصیات کا مشاہدہ کیا تھا۔
Ayahs 37:151–153

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

آگاہ رہو ! کہ یہ لوگ صرف اپنی بہتان پروازی سے کہہ رہے ہیں۔

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے۔ یقیناً یہ محض جھوٹے ہیں۔

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے بیٹیوں کو بیٹوں پر ترجیح دی (1)۔

153۔ 1 جب کہ یہ خود اپنے لئے بیٹیاں نہیں، بیٹے پسند کرتے ہیں۔
Ayahs 37:154–155

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے کیسے حکم لگاتے پھرتے ہو ؟

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

کیا تم اس قدر بھی نہیں سمجھتے ؟

155۔ 1 کہ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو ان کا کہیں ذکر ہوتا، جس کو تم بھی پسند کرتے اور بہتر سمجھتے ہو، نہ کہ بیٹیاں، جو تمہاری نظروں میں کمتر اور حقیر ہیں۔