37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsاحسن البیان

Ayahs 37:81–83

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھا۔

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا۔

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور اس (نوح علیہ السلام) کی تابعداری کرنے والوں میں سے (ہی) ابراہیم ؑ (بھی) تھے (1)

83۔ 1 شِیْۃً کے معنی گروہ اور پیروکار کے ہیں۔ یعنی ابراہیم ؑ بھی اہل دین و اہل توحید کے اسی گروہ سے ہیں جن کو نوح ؑ ہی کی طرح قائم مقام الی اللہ کی توفیق خاص نصیب ہوئی۔
Ayahs 37:84–86

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جبکہ اپنے رب کے پاس بےعیب دل لائے۔

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کیا پوج رہے ہو ؟

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا تم اللہ کے سوا گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو ؟ (1)

86۔ 1 یعنی اپنی طرف سے گھڑ کے کہ یہ معبود ہیں، تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو، درآں حالیکہ یہ پتھر اور مورتیاں ہیں۔
Ayah 37:87

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

تو یہ (بتلاؤ کہ) تم نے رب العالمین کو کیا سمجھ رکھا ہے ؟ (1)

87۔ 1 یعنی اتنی قبیح حرکت کرنے کے باوجود کیا تم پر ناراض نہیں ہوگا اور تمہیں سزا نہیں دے گا۔
Ayahs 37:88–89

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

اب ابراہیم ؑ نے ایک نگاہ ستاروں کی طرف اٹھائی۔

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

اور کہا میں بیمار ہوں (1)۔

89۔ 1 آسمان پر غور و فکر کے لئے دیکھا جیسا کہ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں۔ یا اپنی ہی قوم کے لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے کے لئے ایسا کیا، جو کہ ستاروں کی گردش کو حوادث زمانہ میں مؤثر مانتے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب ان کی قوم کا وہ دن آیا، جسے وہ باہر جا کر بطور عید اور قومی تہوار منایا کرتی تھی۔ قوم نے حضرت ابراہیم ؑ کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ لیکن ابراہیم ؑ تنہائی اور موقعے کی تلاش میں تھے، تاکہ ان کے بتوں کا تیاپانچہ (یعنی توڑ پھوڑ دیا جاسکے)۔ چناچہ انہوں نے یہ موقع غنیمت جانا کہ کل ساری قوم باہر میلے میں چلی جائیگی تو میں اپنا منصوبہ بروئے کار لے آؤں گا۔ اور کہہ دیا کہ میں بیمار ہوں یا آسمانوں کی گردش بتاتی ہے کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔ یہ بات بالکل جھوٹی نہیں تھی، ہر انسان کچھ نہ کچھ بیمار ہوتا ہی ہے، علاوہ ازیں قوم کا شرک ابراہیم ؑ کے دل کا ایک مستقل روگ تھا جسے دیکھ وہ کڑتے رہتے تھے، جیسا کہ اس کی ضروری تفصیل سورة انبیاء۔ 63 میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 37:90–91

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

اس پر سب اس سے منہ موڑے ہوئے واپس چلے گئے۔

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

آپ (چپ چپاتے) ان کے معبودوں کے پاس گئے اور فرمانے لگے تم کھاتے کیوں نہیں ؟ (1)

91۔ 1 یعنی جو حلویات بطور تبرک وہاں پڑی ہوئی تھیں، وہ انہیں کھانے کے لئے پیش کیں، جو ظاہر بات ہے انہیں نہ کھانی تھیں نہ کھائیں بلکہ وہ جواب دینے پر بھی قادر نہ تھے، اس لئے جواب بھی نہیں دیا۔
Ayahs 37:92–93

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا بات نہیں کرتے ہو۔

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر تو (پوری قوت کے ساتھ) دائیں ہاتھ سے انہیں مارنے پر پل پڑے (1)۔

93۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ان کو زور سے مار مار کر توڑ ڈالا۔
Ayah 37:94

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

وہ (بت پرست) دوڑے بھاگے آپ کی طرف متوجہ ہوئے (1)

94۔ 1 یعنی جب میلے سے آئے تو دیکھا کہ ان کے معبود ٹوٹے پھوٹے پڑے ہیں تو فوراً ان کا ذہن حضرت ابراہیم ؑ کی طرف گیا، کہ یہ کام اسی نے کیا ہوگا، جیسا کہ سورة انبیاء میں تفصیل گزر چکی ہے چناچہ انہیں پکڑ کر عوام کی عدالت میں لے آئے۔ وہاں حضرت ابراہیم ؑ کو اس بات کا موقع مل گیا کہ وہ ان پر ان کی بےعقلی اور ان کے معبودوں کی بےاختیاری واضح کریں۔
Ayahs 37:95–96

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

تو آپ نے فرمایا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں (خود) تم تراشتے ہو

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

حالانکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے (1)

96۔ 1 یعنی وہ مورتیاں اور تصویریں بھی جنہیں تم اپنے ہاتھوں سے بناتے اور انہیں معبود سمجھتے ہو، یا مطلق تمہارا عمل جو بھی تم کرتے ہو، ان کا خالق بھی اللہ ہے۔ اس سے واضح ہے کہ بندوں کے افعال کا خالق اللہ ہی ہے، جیسے اہل سنت کا عقیدہ ہے۔
Ayahs 37:97–98

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

وہ کہنے لگے اس کے لئے ایک مکان بناؤ اور اس (دھکتی ہوئی) آگ میں ڈال دو۔

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

انہوں نے تو اس (ابراہیم علیہ السلام) کے ساتھ مکر کرنا چاہا لیکن ہم نے انہیں کو نیچا کردیا (1)۔

98۔ 1 یعنی آگ کو گلزار بنا کر ان کے مکر و حیلے کو ناکام بنادیا، پس پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندوں کی چارہ سازی فرماتا ہے اور آزمائش کو عطا میں اور شر کو خیر میں بدل دیتا ہے۔
Ayah 37:99

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں (1) وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا۔

99۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ کا یہ واقعہ بابل (عراق) میں پیش آیا، بالآخر یہاں سے ہجرت کی اور شام چلے گئے اور وہاں جا کر اولاد کے لئے دعا کی (فتح القدیر)
Ayahs 37:100–101

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے میرے رب ! مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما۔

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی (1)۔

11۔ 1 حَلِیْمٍ کہہ کر اشارہ فرما دیا کہ بچہ بڑا ہو کر بردبار ہوگا۔
Ayah 37:102

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

پھر جب وہ (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے، (1) تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا کہ میرے پیارے بچے ! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے (2) بیٹے نے جواب دیا کہ ابا ! جو حکم ہوا ہے اسے بجا لائیے انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔

12۔ 1 یعنی دوڑ دھوپ کے لائق ہوگیا یا بلوغت کے قریب پہنچ گیا، بعض کہتے ہیں کہ اس وقت یہ بچہ 13 سال کا تھا۔ 12۔ 2 پیغمبر کا خواب، وحی اور حکم الٰہی ہی ہوتا ہے۔ جس پر عمل ضروری ہوتا ہے۔ بیٹے سے مشورے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ بیٹا بھی امر الٰہی کے لئے کس حد تک تیار ہے۔
Ayah 37:103

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

اس کو (بیٹے کو) پیشانی (1) کے بل گرا دیا۔

13۔ 1 ہر انسان کے منہ (چہرے) پر دو جبین (دائیں اور بائیں) ہوتی ہیں اور درمیان میں پیشانی اس لئے لِلْجَبِیْنِ کا صحیح ترجمہ (کروٹ پر) ہے یعنی اس طرح کروٹ پر لٹا لیا، جس طرح جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کروٹ پر لٹا یا جاتا ہے، مشہور ہے حضرت اسماعیل ؑ نے وصیت کی کہ انہیں اس طرح لٹایا جائے کہ چہرہ سامنے نہ رہے جس سے پیار اور شفقت کا جذبہ امر الٰہی پر غالب آنے کا امکان نہ رہے۔
Ayahs 37:104–105

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم !۔

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا (1) بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔

15۔ 1 یعنی دل کے پورے ارادے سے بچے کو ذبح کرنے کے لئے زمین پر لٹا دینے سے ہی تو نے اپنا خواب سچا کر دکھایا ہے کیونکہ اس سے واضح ہوگیا کہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں تجھے کوئی چیز عزیز تر نہیں حتٰی کہ اکلوتا بیٹا بھی۔
Ayah 37:106

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا (1)۔

16۔ 1 یعنی لاڈلے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم یہ ایک بڑی آزمائش تھی جس پر میں تو سرخرو رہا۔
Ayah 37:107

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا (1)

17۔ 1 یہ بڑا ذبیحہ ایک مینڈھا تھا جو اللہ تعالیٰ نے جنت سے حضرت جبرائیل ؑ کے ذریعے سے بھیجا (ابن کثیر) اسماعیل ؑ کی جگہ اسے ذبح کیا گیا اور پھر سنت ابراہیمی کو قیامت تک قرب الٰہی کے حصول کا ایک ذریعہ اور عید الاضحٰی کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دے دیا گیا۔
Ayahs 37:108–112

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور ہم نے ان کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا۔

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

ابراہیم ؑ پر سلام ہو۔

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا۔

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اسحاق ؑ نبی کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے ہوگا (1)

112۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ کے مذکورہ واقعے کے بعد اب ایک بیٹے اسحاق ؑ کی اور اس کے نبی ہونے کی خوشخبری دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ اسماعیل ؑ تھے۔ جو اس وقت ابراہیم ؑ کے اکلوتے بیٹے تھے اسحاق ؑ کی ولادت ان کے بعد ہوئی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس کی بابت اختلاف۔ ہے کہ ذبیح کون ہے، اسماعیل ؑ یا اسحاق ؑ ؟ امام ابن جریر نے حضرت اسحاق ؑ کو اور ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے حضرت اسماعیل ؑ کو ذبیح قرار دیا ہے اور یہی بات صحیح ہے۔ امام شوکانی نے اس میں تو قف اختیار کیا (تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر فتح القدیر اور تفسیر ابن کثیر
Ayah 37:113

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم و اسحاق (علیہما السلام) پر برکتیں نازل فرمائیں (1) اور ان دونوں کی اولاد میں بعضے تو نیک بخت اور بعض اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والے ہیں (2)

113۔ 1 یعنی ان دونوں کی اولاد کو بہت پھیلایا اور انبیاء و رسل کی زیادہ تعداد انہی کی نسل سے ہوئی۔ حضرت اسحاق ؑ کے بیٹے یعقوب ؑ ہوئے، جن کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے 12 قبیلے بنے اور ان سے بنی اسرائیل کی قوم بڑھی اور پھیلی اور اکثر انبیاء ان ہی میں سے ہوئے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دوسرے بیٹے اسماعیل ؑ سے عربوں کی نسل چلی اور ان میں آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہوئے۔ 113۔ 2 شرک اور معصیت، ظلم و فساد کا ارتکاب کرکے خاندان ابراہیمی میں برکت کے باوجود نیک و بد کے ذکر سے اس طرف اشارہ کردیا کہ خاندان اور آبا کی نسبت، اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ وہاں تو ایمان اور عمل صالح کی اہمیت ہے، یہود و نصاریٰ اگرچہ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد سے ہیں۔ اس طرح مشرکین عرب حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد سے ہیں۔ لیکن ان کے جو اعمال ہیں وہ کھلی گمراہی یا شرک و معصیت پر مبنی ہیں۔ اس لئے یہ اونچی نسبتیں ان کے لئے عمل کا بدل نہیں ہوسکتیں۔
Ayah 37:114

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

یقیناً ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر بڑا احسان کیا (1)۔

114۔ 1 یعنی انہیں نبوت و رسالت اور دیگر انعامات سے نوازا۔
Ayah 37:115

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

اور انہیں اور ان کی قوم کو بہت بڑے دکھ درد سے نجات دی (1)

115۔ 1 یعنی فرعون کی غلامی اور اس کے ظلم وستم سے نجات۔