16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 16:106–125

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کیساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے تو ایسوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے کہ خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بیشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت والا ہے۔

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا۔

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا۔

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور ان کے پاس انہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے۔

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

پس خدا نے جو تم کو حلال طیب رزق دیا ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر کرو اگر اسی کی عبادت کرتے ہو۔

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اس نے تم پر مردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھال نہیں ہوگا۔

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

(جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (اسکے بدلے) ان کو عذاب الیم بہت ہوگا۔

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور جو چیزیں ہم تم کو پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے۔

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا پھر اس کے بعد توبہ اور نیکو کار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور (ان پر) رحمت کرنے والا ہے۔

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

بیشک ابراہیم (لوگوں کے) امام (اور) خدا کے فرمانبرادار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 16:121 in the Quran reader

اس کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا۔

وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ Open ayah 16:122 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے۔

ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 16:123 in the Quran reader

پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہہ دین ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:124 in the Quran reader

ہفتے کا دن تو انہی لوگوں لے لئے مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 16:125 in the Quran reader

(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف بلاؤ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے راستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے۔ اور جو راستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے۔

جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دے کر اسلام چھوڑنے پر مجبور کرتے تھے۔ حضرت عمار نے حضور ﷺ سے اپنی تکلیف بیان کی آپ نے ان سے پوچھا ” تمہارے دل کی کیا کیفیت ہے ؟ “ حضرت عمار نے جواب دیا۔” میرا دل ایمان پر مطمئن ہے۔ “ اس پر آپ نے فرمایا :” اگر مشرکین تمہیں پھر اذیتیں دیں تو تم لوٹ جائو۔ “ یعنی اپنی زبا ن سے کلمہ کفر نکال دو ۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جبر اور اکراہ کی حالت میں زبان سے کلمہ کفر نکالنے کے جواز کی بنیاد یہ آیت اور یہ روایت ہے۔ اکراہ کی صورت میں اس کی اباحت ہوجاتی ہے۔ اکراہ کی صورت یہ ہے کہ کسی انسان کو حکم عدولی کی بنا پر اپنی جان چلی جانے یا کسی عضو کے تلف ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوجائے ۔ ایسی حالت میں اس کے لئے کلمہ کفر کا اظہار مباح ہوگا اور جب اس کے دل میں اس کفر کا خیال گزرے گا تو وہ کلمہ کفر کے ذریعے اپنا خیال کفر کے سوا کسی اور بات کی طرف موڑ دے گا لیکن اگر اس نے کفر کا خیال آتے ہی اپنا خیال کسی اور طرف نہیں موڑا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ امام محمد بن الحسن نے فرمایا :” اگر کافر کسی مسلمان کو حضور ﷺ کے معلق سب و شتم پر مجبور کردیں اور اس کے دل میں یہ خیال گزرے کہ وہ حضور ﷺ کے سوا کسی اور محمد نامی شخص کو گالی دے رہا ہے اگر اس نے اپنے دل میں یہ خیال نہ کیا اور حضور ﷺ کے متعلق یہ کلمات کہہ بیٹھا تو و کافر ہوجائے گا، اسی طرح اگر اسے صلیب کو سجدہ کرنے پر مجبور کردیا جائے اور اس کے دل میں یہ خیال گزرے کہ وہ اللہ کو سجدہ کرے گا لیکن اس نے ایسا نہ کیا اور صلیب کو سجدہ کرلیا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اگر کافر اسے سوچنے کا موقعہ ہی نہ دیں اور اس کے دل میں کوئی خیال پیدا نہ ہو سکے اور وہ اپنی زبان سے وہ کلمہ کہہ دے یا وہ کام کرلے جس پر اسے مجبور کیا جا رہا ہو تو ایسی صورت میں وہ کافر نہیں ہوگا بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اس کے دل میں وہ خیال گزرے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے تو اس کے ساتھ اس کے لئے ممکن ہوجائے گا کہ وہ سب و شتم کا رخ حضور ﷺ کی ذات اقدس کے سوا کسی اور کی طرف پھیر دے کیونکہ اس ضمیر یعنی دل میں پیدا ہونے والے خیال پر مجبور نہیں کیا گیا تھا اسے صرف زبان سے کہنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ اس کے لئے یہ ممکن ہوگیا تھا کہ وہ دل کے خیال کو کسی اور کی طرف موڑ دے لیکن اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس نے گویا کسی اکراہ کے بغیر کفر کے اظہار کو قبول کرلیا اس لئے اس پر کفر کا حکم عائد ہوجائے گا۔ حضور ﷺ نے حضرت عمار کو یہ حکم دیا تھا کہ اگر مشرکین تمہیں پھر اذیتیں دیں تو تم لوٹ جائو۔ “ یعنی اپنی زبان سے کلمہ کفر نکال دو ۔ آپ کا یہ حکم دراصل اباحت پر محمول ہے، ایجاب یا استحباب پر محمول نہیں ہے۔ جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر سے باز رہ کر قتل ہوجانا عزیمت اور افضلیت ہے ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ افضل صورت یہ ہے کہ وہ تقیہ نہ کرے اور نہ ہی کفر کا اظہار کرے بلکہ قتل ہوجائے۔ اگر متبادل صورت اس کے لئے مباح ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت خبیب بن عدی کو جب مکہ والوں نے قتل کردینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے تقیہ نہیں کیا، یعنی اپنی اجن بچانے کے لئے کلمہ کفر کا اظہار نہیں بلکہ قتل ہوگئے اور حضور ﷺ اور مسلمانوں کے نزدیک حضرت عمار سے افضل قرار پائے جنہوں نے تقیہ کر کے اپنی اجن بچا لی تھی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ تقیہ نہ کر کے اپنے اسلام کے اظہار میں دین کو سربلند کرنے اور کافروں کو غیظ و غضب میں مبتلا کرنے کا پہلو موجود ہوتا ہے اس لئے ایسے شخص کی حیثیت اس مجاہد جیسی ہوجاتی ہے جو کافروں سے لڑتے لڑتے شہید ہوجاتا ہے۔ اس موقعہ پر اکراہ کا صرف یہ اثر ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے کلمہ کفر کہنے والے کا گناہ ساقط ہوجاتا ہے اور اس کی حیثیت یہ ہوجاتی ہے کہ اس نے گویا کچھ کہا ہی نہیں حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (رفع عن امتی الخطاء و النسیان وما استکرھوا علیہ میری امت سے خطا اور نسیان نیز اس فعل کا گناہ اٹھایا لیا ہے جس پر انہیں مجبور کردیا گیا ہو) آپ نے مکرہ یعنی مجبور انسا ن کو گناہ ساقط ہونے کے لحاظ سے مخطی اور ناسی کی طرح قرار دیا اس لئے اگر کوئی انسان بھول کر غلطی سے اپنی زبان سے کفر کا کلمہ نکال بیٹھے تو اس کی وجہ سے اس پر کوئی گناہ عائد نہیں ہوگا اور نہ اس بنا پر کوئی حکم اس پر لگایا جائے گا۔ مجبور آدمی کی طلاق، غناق، نکاح اور قسم کی حیثیت مکرہ یعنی مجبور انسان کی طلاق، عتاق اور نکاح نیز قسم کے مسئلے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کسی نے اکراہ کے تحت درج بالا کو ئیک ام کرلیا تو وہ اسے لازم ہوجائے گا۔ امام مالک اور امام شافعی کا قول ہے کہ اکراہ کی صورت میں درج بالا امور میں سے کوئی امر اسے لازم نہیں ہوگا۔ ان امور کے لزوم کے حکم پر ظاہر قول باری (فان طلقھا فلا تحل لہ من یعد حتی تنکح زوجاً غیرہ اگر پھر اس نے اسے طلاق دے دی تو وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوگی جب تک کہ وہ اس کے سوا کسی اور مرد سے نکاح نہ کرے) اس آیت میں مکروہ یعنی مجبور اور طائع یعنی اپنی مرضی سے طالق دینے والے کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (واوفوا بعھدا اللہ اذا عاھد تم ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اسے کوئی عہد باندھا اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو) آیت میں مکروہ اور غیرہ مکرہ کے عہد کے درمیان کوی فرق نہیں کیا گیا۔ نیز ارشاد ہوا (ذلک کفارۃ ایمانکم اذا حلفتم یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسمیں کھائو) حضور ﷺ کا ارشاد ہے (کل طلاق جائز الا خلاق المعتوہ دیوانے کی طلاق کے سوا ہر طلاق درست ہوتی ہے) اس پر وہ روایت بھی دلالت کرتی ہے جسے یونس بن بکیر نے الولید بن جمیع الزہری سے نقل کی ہے انہوں نے ابو الطفیل سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ سے وہ فرماتے ہیں جنہیں اور میرے والد حضور ﷺ کے پاس جانے کے لئے نکلے آپ اس وقت بدر کی طرف روانہ ہوچکے تھے ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ تم محمد (ﷺ) کے پاس جانا چاہتے ہو ہم نے کہا کہ ہم محمد (ﷺ) کے پاس نہیں جا رہے بلکہ مدینہ جا رہے ہیں کافروں نے کہا کہ ” ہم سے اللہ کے نام پر یہ عہد کرو تم مدینہ جائو گے اور محمد (ﷺ) کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف جنگ نہیں کرو گے تاہم نے اللہ کے نام پر ان سے یہ عہد کرلیا۔ پھر ہم حضور ﷺ کے پاس پہنچے آپ اس وقت بدر کی طرف جا رہے تھے ہم نے آپ سے تمام ماجرا بیان کیا اور عرض کیا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے آپ نے فرمایا ان کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا کرو اور ان کے خلاف اللہ سے استعانت طلب کرو، چناچہ ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے اور اس عہد کی وجہ سے ہم معرکہ بدر میں مسلمانوں کے ساتھ ناریک پیچھے ہو سکے : اس روایت کے مطابق ان دونوں حضرات سے مشرکین نے بجرہ و اکراہ وعہدہ لیا تھا ” حضور ﷺ نے اس کی توثیق فرما دی اور ان کی اس قسم کو وہی حیثیت دے دی جو اپنی مرضی سے کھائی ہوئی قسم کی ہوئی ہے جب قسم کے اندر اس کا ثبوت ہوگیا تو طلاق، عتاق اور نکاح بھی قسم کی طرح قرار پائے۔ اس لئے کہ کسی نے بھی ان امور کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ اس پر عبدالرحمٰن بن خبیب کی روایت دلالت کرتی ہے جو انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے نقل کی ہے، انہوں نے یوسف بن مالک سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ثلاث جدھن جد وھزلھن جدالنکاح و الطلاق والرجعہ تین امور ایسے ہیں کہ انسان خواہ انہیں سنجیدگی سے کرے یا مذاق کے طور پر ہر صورت میں انہیں سنجیدگی پر محمول کیا جائے گا اول نکاح، دوم طلاق سوم بیوی سے رجوع ) جب حضور ﷺ نے ان امور میں جاد اور ھازل یعنی سنجیدہ اور غیر سنجیدہ دونوں کی حیثیت یکساں رکھی نیز جد اور ھزل یعنی سنجیدگی اور مذاق کے درمیان یہ فرق ہے کہ سنجیدہ انسان لفظ کا قصد کرتا ہے اور اس کے ذریعے اس کا حکم واقع کردیتا ہے جبکہ غیر سنجیدہ یعنی مذاق کے طور پر منہ سے لفظ نکالنے والا انسان لفظ کا تو قصد کرتا ہے لیکن اس کے دل میں اس لفظ کا حکم واقع کرنے کا ارادہ نہیں ہوتا تو اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ طلاق کی نخعی میں ارادہ کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔ جاد اور ھازل دونوں پر اس حیثیت سے طلاق کا حکم ثابت ہوجائے گا کہ دونوں لفظ کا قصد کرتے ہیں۔ اس طرح مکرہ لفظ کا قصد کرتا ہے لفظ کا حکم واقع کرنے کا ارادہ نہیں کرتا اس لئے وہ اور ہازل دونوں ایک جیسے ہوتے ہیں۔ طلاق بالجبر اگر یہ کہا جائے کہ جس شخص کو کلمہ کفر کہنے پر مجبور کیا جائے تو کلمہ کفر کہنے کی وجہ سے اس کی بیوی بائنی نہیں ہوتی بلکہ بیوی کے بائن ہوجانے کے مسئلے میں بخوشی کلمہ کفر کہنے والے اور اکراہ کے طور پر کلمہ کفر کہنے والے کے حکم میں فرق ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کو واجب کردیتا ہے۔ اس بنا پر یہ لازم ہوگیا کہ اکراہ کے تحت طلاق دینے والے اور بخوشی طلاق دینے والے کے حکم میں فرق رکھا جائے اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ کفر کا لفظ نہ تو صریحاً علیحدگی کا لفظ ہے اور نہ کنایۃ بلکہ اس لفظ سے صرف علیحدگی واقع ہوجاتی ہے۔ جب میاں بیوی میں سے کوئی کافر ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف ایک شخص کو اگر کفر پر مجبور کردیا جائے تو وہ کافر نہیں ہوتا۔ جب وہ کلمہ کفر کے اظہار کی وجہ سے کافر نہیں ہوتا تو اس بنا پر علیحدگی بھی واقع نہیں ہوتی۔ رہ گیا طلاق کا لفظ تو یہ علیحدگی اور جدانی کا لفظ ہے اور ایک مکلف کی زبان سے نکلے ہوئے اس لفظ کے ذریعے اس کی بیوی پر یہ واقع ہوجاتا ہے اس لئے طلاق کا لفظ واقع کرنے والا شوہر خواہ مکرہ ہو یا غیر مکرہ دونوں صورتوں میں اس کا یکساں ہونا ضروری ہوگیا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ طلاق کے سلسلے میں جد اور ہزل کی حالتوں کی یکسانیت اکراہ اور غیر اکراہ کی حالتوں میں یکسانیت کی موجب نہیں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ کفر کے سلسلے میں جد اور ہزل کی حالتیں یکساں ہوتی ہیں لیکن اکراہ اور غیر اکراہ کی حالتیں یکساں نہیں ہوتیں اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ہم نے یہ کب کہا ہے کہ ہر وہ امر جس کے سلسلے میں جد اور ہزل کی حالتیں یکساں ہوتی ہیں اس میں اکراہ اور غیر اکراہ یعنی طوع یا رضا مندی کی حالتیں بھی یکساں ہوتی ہیں۔ ہم تو صرف یہ کہا ہے کہ جب حضور ﷺ نے طلاق کے سلسلے میں جاد اور ہازل یعنی سنجیدہ اور غیر سنجیدہ دونوں کو یکساں قرار دیا تو اس سے ہمیں معلوم ہوا کہ دونوں صورتوں میں طلاق کے ذریعے قول کے اندر قصد کے وجود کے بعد طلاق واقع کرنے کے قصد کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا ہے۔ اس سے ہم نے یہ استدلال کیا کہ ایک مکلف کی طرف سے طلاق دینے والے لفظ کے وجود کے بعد اسے واقع کرنے کے قصد کے اعتبار کئی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ رہ گیا کفر تو اس کے حکم کا تعلق قصد اور ارادے کے ساتھ ہوتا ہے قول کے ساتھ نہیں ہوتا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جو شخص سنجیدگی یا مذاق کے طور پر کفر کا قصد کرتا ہے اس پر کلمہ کفر زبان پر لانے سے پہلے ہی کفر کا حکم لگ جاتا ہے جبکہ طلاق دینے کا قصد کرنے والا جب تک اپنی زبان پر طلاق کا لفظ نہیں لاتا طلاق واقع نہیں ہوتی۔ ان دونوں کے درمیان فرق اس بات سے بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کوئی شخص بھول کر بھی اپنی زبان پر طلاق کا لفظ لے آتا ہے اس کی طلاق واقع ہوئی جاتی ہے لیکن نسیان کے طور پر کلمہ کفر زبان پر لانے کی وجہ سے ایک شخص کافر نہیں ہوتا۔ اسی طرح کوئی شخص اگر سبقت لسانی کی وجہ سے غلطی سے کلمہ کہہ بیٹھے تو اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا لیکن اگر سبقت لسانی کی وجہ سے وہ غلطی سے اپنی بیوی کو طلاق دے بیٹھے گا تو اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی۔ یہ چیز دونوں باتوں کے درمیان فرق کو واضح کردیتی ہے۔ طلاق بالجبر کی مختلف صورتیں حضرت علی، حضرت عمر، سعید بن المسیب، قاضی شریح، ابراہیم نخعی، زہری اور قتادہ سے مروی ہے کہ مکرہ کی دی ہوئی طلاق درست ہوتی ہے ۔ حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر ، حضرت ابن الزبیر ، حسن بصری، عطاء بن ابی رباح ، کرمہ، طائوس اور جابربن زید سے مروی ہے کہ مکرہ کی دی ہوئی طلاق درست نہیں ہوتی۔ سفیان ثوری نے حصین سے اور انہوں نے شعبی سے روایت کی ہے کہ اگر سلطان کسی شخص کو طلا قدینے پر مجبور رکے تو اس کی دی ہوئی طلاق درست ہوتی ہے اور اگر کوئی اور اسے طلاق دینے پر مجبور کرے تو پھر ایسی طلاق درست نہیں ہوتی۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ جس شخص کو شراب پینے یا مردار کھانے پر مجبور کردیا جائے اور بصورت دیگر اس کی جان جانے یا کسی عضو کے تلف ہوجانے کا خطرہ ہو تو اس کے لئے نہ کھانے یا نہ پینے کی گنجائش نہیں ہوگی۔ اگر اس نے نہ کھایا یا نہ پیا اور اپنی جان گنوا بیٹھایا کسی عضو سے محروم کردیا گیا تو اس صورت میں وہ گنہگار قرار پائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جان کے خطرے کی صورت میں ضرورت کی حالت کے اندر اس کے لئے ایسا کرلینا مباح کردیا تھا چناچہ ارشاد ہے (الا ما اضطر تم الیہ مگر یہ کہ تم اسے کھانے پر ضرورت کے تحت مجبور ہو جائو) جو شخص ضرورت کے وقت مردار نہ کھائے اور بھوک سے مرجائے وہ گنہگار ٹھہرے گا جس طرح ایک شخص روٹی نہ کھائے اور بھوک سے مرجائے۔ اس کی حیثیت کفر پر اکراہ کی طرح نہیں ہوگی جس میں تقیہ نہ کرنا افضل ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سمعی دلیل کی بنا پر مردار کھانا یا شراب پینا حرام ہے لیکن جب سمعی دلیل ان دونوں چیزوں کو مباح کر دے تو پھر ممانعت کا حکم زائل ہوجائے گا اور ان کی حیثیت دوسری تمام مباح چیزوں کی طر ح ہوجائے گی۔ اس کے برعکس کفر کا اظہار عقلی طور پر ممنوع ہے اور ضرورت کی بنا پر اس کی اباحت جائز نہیں ہوتی۔ البتہ اتنی بات جائز ہوتی ہے کہ توریہ اور کنایہ کے طور پر کلمہ کفر کا اظہار کر کے غیر کفر کے معنی مراد لئے جائیں جس کے ساتھ کفر کے اس معنی کا دل میں اعتقاد نہ ہو جس کے لئے اسے مجبور کیا جا رہا ہو۔ اس صورت میں کفر کا یہ لفظ اس شخص کے کلمہ کفر کی طرح ہوگا جو بھول کر یا سبقت لسانی کی وجہ سے یہ کلمہ اپنی زبا نپر لے آتا ہے ۔ اس کے لئے کلمہ کفر کا اظہار نہ کرنا اولی اور افضل ہوتا ہے اگرچہ جان کے خطرے کی صورت میں اس کے لئے اس کے اظہار کی گنجائش ہوتی ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کسی شخص کو کسی جان لینے یا کسی عورت کے ساتھ بدکاری کرنے پر مجبور کردیا جائے تو اس کے لئے اس اقدام کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی اس لئے کہ ان امور کا شمار حقوق العباد میں ہوتا ہے جن میں یہ دونوں افراد یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لئے اس صورت میں اسے کسی استحقاق کے بغیر دوسرے کی جان لے کر اپنی جان بچانا جائز نہیں ہوگا۔ اسی طرح کسی عورت کے ساتھ بدکاری کی صورت میں اس کی ناموس کی ایسے طریقے سے بےحرمتی ہوتی ہے جس کی ضرورت کے تحت اباحت نہیں ہوتی نیز اس کے دامن پر ہمیشہ کے لئے ننگ و عار کا دھبہ لگ جاتا ہے اس بنا پر اگر کسی شخص کو اس فعل بد پر مجبور کردیا جائے تو بھی اس کے لئے اس کے ارتکاب کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی لیکن ہمارے فقہاء کے نزدیک قذف یعنی کسی پر زنا کی تہمت دکا لینے پر مجبور کرنے کی یہ حیثیت نہیں ہے اس صورت میں مکرہ کے لئے ایسے اقدام کا جواز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکراہ کے طریقے سے لگائی گئی تہمت کا اس شخص پر کوئی اثر نہیں ہوتا جس پر یہ تہمت لگانی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے دامن پر کوئی دھبہ آتا ہے۔ جبرواکراہ کا خلاصہ بحث درج بالا بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ اکراہ کے احکام کی مختلف صورتیں ہیں بعض صورتوں میں تقیہ کرنا واجب ہوتا ہے ۔ مثلاً شراب پینے یا مردار کھانے یا اسی قسم کے کسی اور حرام کام کے سلسلے میں اکراہ جس کی ممانعت کسی سمعی دلیل کی بنا پر ثابت ہو۔ بعض صورتیں وہ ہیں جن میں جان بچانے کی خاطر تقیہ کرنا جائز نہیں ہوتا۔ مثلاً کسی کو بلا جواز قتل کردینے یا کسی عورت کی عصمت دری پر اکراہ یا اس قسم کا کوئی اور فعل جس سے کسی آدمی کے حقوق کی پامالی لازم آتی ہو اور جس کی تلافی ممکن نہ ہو۔ بعض صورتوں میں اس فعل کے ارتکاب کا جواز ہوتا ہے جس پر کسی کو مجبور کردیا جائے لیکن اس کا ترک افضل ہوتا ہے۔ مثلاً کسی کو کفر یا اس جیسے کسی اور فعل پر مجبور کردینا وغیرہ۔ جبر و اکراہ کا خلاصہ بحث درج بالا بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ اکراہ کے احکام کی مختلف صورتیں ہیں۔ بعض صورتوں میں تقیہ کرنا واجب ہوتا ہے۔ مثلاً شراب پینے یا مردار کھانے یا اسی قسم کے کسی اور حرام کام کے سلسلے میں اکراہ جس کی ممانعت کسی سمعی دلیل کی بنا پر ثابت ہو ۔ بعض صورتیں وہ ہیں جن میں جان بچانے کی خاطر تقیہ کرنا جائز نہیں ہوتا مثلاً کسی کو بلا جواز قتل کردینے یا کسی عورت کی عصمت دری پر اکراہ یا اسی قسم کا کوئی اور فعل جس سے کسی آدمی کے حقوق کی پامالی لازم آتی ہو اور جس کی تلافی ممکن نہ ہو۔ بعض صورتوں میں اس فعل کے ارتکاب کا جواز ہوتا ہے جس پر کسی کو مجبور کردیا جائے لیکن اس کا ترک افضل ہوتا ہے مثلاً کسی کو کفر یا اس جیسے کسی اور فعل پر مجبور کردینا وغیرہ
Ayahs 16:126–128

وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ Open ayah 16:126 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی تکلیف دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لئے بہت اچھا ہے۔

وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 16:127 in the Quran reader

اور صبر ہی کرو اور تمہارا صبر بھی خدا ہی کی مدد سے ہے اور ان کے بارے میں غم نہ کرو اور جو یہ بد اندیشی کرتے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہونا

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ Open ayah 16:128 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکو کار ہیں خدا ان کا مددگار ہے۔

ظلم و زیادتی کا بدلہ کتنا لیا جائے ؟ قول باری ہے (وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ ولئن صبرتھم لھو خیر للصابرین اور اگر تم لوگ بدلہ لو تو بس اسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو لیکن اگر تم صبر کرو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے) شعبی، قتادہ اور عطاء بن یسار سے مروی ہے رجب مشرکین نے احد میں شہید ہونے والے مسلمانوں کا مثلہ کیا تو مسلمانوں نے یہ کہا اگر ہمیں اللہ تعالیٰ ان مشرکین پر غلبہ عطا کرے گا تو ہم اس سے بڑھ کر ان کا مثلہ کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مجاہد اور ابن سیرین کا قول ہے کہ آیت ہر اس شخص کے بارے میں ہے جو غصے کی حالت میں یا کسی اور وجہ کی بنا پر ظلم و زیادتی کر بیٹھے۔ اس سے صرف اتنا ہی بدلہ لیا جائے گا جتنا اس نے ظلم کیا ہوگا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک کسی سبب کے پس منظر میں آیت کا نزول ان تمام صورتوں میں اس کے عموم کے اعتبار سے مانع نہیں ہوتا جو آیت کے الفاظ کے دائرے میں آتی ہوں۔ اس لئے آیت کو ان تمام صورتوں کے لئے استعمال کرنا واجب ہے جو آیت کے مقتضیٰ کے تحت آتی ہیں چناچہ جو شخص کسی کو قتل کرے گا اس کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے گا جو شخص کسی کو زخمی کرے گا اسے بھی اسی طرح زخمی کردیا جائے گا۔ اگر کسی نے کسی کا پہلے ہاتھ کاٹا ہو اور پھر قتل کردیا ہو تو مقتول کے دلی کو یہ حق ہوگا کہ پہلے اس کا ہاتھ کاٹے اور پھر قتل کر دے۔ آیت کا اقتضاء یہ بھی ہے کہ کسی شخص نے اگر کسی کا پتھر سے سر کچل کر ہلاک کردیا ہو یا ٹکٹکی پر باندھ کر تیر برسا کر اسے قتل کردیا ہو تو قاتل کو تلوار مار کر قتل کردیا جائے گا اس لئے کہ اسے بدلے کے طور پر اس صورت میں قتل کرنا ممکن نہیں جس صورت میں اس نے مقتول کی جان لی تھی کیونکہ ہمیں اس امر کا پوری طرح علم نہیں ہتا کہ قاتل نے مقتول کو کتنی ضربات لگائی تھیں اور مقتول کو کس قدر تکلیف برداشت کرنی پڑی تھی۔ ہمارے لئے تو صرف یہ ممکن ہے کہ تلوار کے ذریعے قاتل کی جان لے کر مقتول کے قتل کا بدلہ لے لیا جائے۔ اس لئے اس صورت میں آیت کے حکم پر اسی طریقے سے عمل پیرا ہونا واجب ہوگا۔ اس میں پہلا طریقہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ آیت کی اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ اگر کسی نے کسی کا مال استعمال میں لا کر ختم کردیا ہو تو اس پر اس کا مثل واجب ہوگا۔ اگر کوئی شخص کسی شخص کا س اگر ان (ایک قسم کی مضبوط لکڑی) غصب کر کے اسے اپنے مکان میں لگا دے یا گندم غصب کر کے اسے پیس لے ، تو ان دونوں صورتوں میں ان کا مثل اس پر واجب ہوگا۔ اس لئے کہ گندم میں کیلی یعنی ناپ کے ذریعے مثل کا حصول ممکن ہے اور لکڑی میں اس کی قیمت کے ذریعے مثل حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس پر آیت کی دلالت موجود ہے۔ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ قاتل اور مجرم کو معاف کردینا قصاص لینے سے افضل ہے چناچہ ارشاد ہے (ولئن صبر تم لھو خیر للصابرین)