Ayah 16:66جانوروں کے دودھ کے بارے میں
قول باری ہے (نسقیکم مما فی بطونہ من بین فرس ودم لبنا خالصا سائقا للثاربین۔ ان کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں یعنی خالص دودھ جو پینے والوں کے لئے نہایت خوشگوار ہے) آیت میں مردہ بکری سے نکالے ہوئے دودھ کی طہارت پر دو وجوہ سے دلالت موجود ہے۔ اول دودھ کی اباحت میں لفظ کا عموم جس میں زندہ حالت میں جانور سے نکالے ہوئے دودھ اور مردہ حالت میں نکالے ہوئے دودھ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ دودھ گوبر اور خون کے درمیان سے خارج ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس دودھ کی طہارت کا حکم لگا دیا حالانکہ دودھ پیدا ہونے کی جگہ وہی ہے اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ پیدا ہونے کی جگہ کی نجاست کی وجہ سے دودھ نجس نہیں ہوتا۔ مردہ جانور کا تھن اس کی جائے پیدائش ہے۔ اس کی وجہ سے دودھ اسی طرح نجس نہیں ہوتا جس طرح گوبر اور خون کی مجاورت اور پڑوس کی بنا پر نجس نہیں ہوتا۔
Ayahs 16:67–68سکر یعنی نشہ آور مشروب
قول باری ہے (ومن ثمرات النخیل والاعناب تتخذون منہ سکراو رزقا حسنا) ۔
اسی طرح کھجور کے درختوں اور انگور کے بیلوں سے بھی جسے تم نشہ آور بھی بنا لیتے ہو اور پاک رزق بھی) آیت میں وارد لفظ سکر کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حسن اور سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ دونوں نے فرمایا کھجور کے درختوں اور انگور کی بیلوں میں سے حاصل ہونے والا رس اور شیرہ اگر حرام ہے تو وہ سکر کہلائے گا اور اگر حلال ہے تو وہ رزق حسن ہوگا۔ ابراہیم نخعی، شعبی اور ابو رزین سے مروی ہے کہ سکر شراب کو کہتے ہیں۔ جریر نے مغیرہ سے انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ سکر شراب کو کہتے ہیں۔ ابن شرمہ نے ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے روایت کی ہے کہ سکر شراب کو کہتے ہیں لیکن یہ شراب کھجور کی ہوتی ہے۔ ان حضرات کا قول ہے کہ شراب کی تحریم کی بنا پر اس کا حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ ہمیں جعفر بن محمد الوسطی نے روایت بیان کی۔ انہوں نے جعفر بن محمد بن الیمان نے انہیں ابو عبیدہ نے۔ انہیں عبد الرحمن نے سفیان سے، انہوں نے اسود بن قیس سے، انہوں نے عمرو بن سفیان سے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ آپ نے فرمایا اس سے مراد ان دونوں درختوں کے پھلوں کی وہ صورت ہے جو حرام کردی گئی ہے اور پھلوں کی وہ صورت جو حلال ہے۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ قول بھی پہلے حضرات کے قول کی طرح ہے۔ ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابو عبیہ نے، انہیں حجاج نے ابن جریح اور عثمان بن عطاء خراسانی سے اور ان دونوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ آپ نے قول باری (تتخذون منہ سکرا) کی تفسیر میں فرمایا۔ ” سکر نبیذ کو کہتے ہیں اور رزق حسن زبیب یعنی متقی کو “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب سلف نے سکر کی تفسیر شراب، نبی د اور حرام مشروب سے کی تو اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سکر کا اسم ان تمام پر واقع ہوتا ہے۔ پھر سلف کا یہ کہنا کہ تحریم خمر کے حکم کی بنا پر اس کا حکم منسوخ ہوچکا ہے اس پر دلالت کرتا ہے آیت سکر کی اباحت کی مقتضی ہے جس میں شراب اور نبیذ دونوں داخل ہیں۔ البتہ ان دونوں میں سے شراب کی حرمت ثابت ہوگئی ہے لیکن نبیذ کی تحریم ثابت نہیں ہے۔ اس لئے ظاہر آیت کی بنا پر نبیذ کی حلت واجب ہے۔ اس لئے کہ اس حکم کا نسخ ثابت نہیں ہے جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تحریم خمر کے حکم کی بنا پر نبیذ کی حلت کا حکم بھی منسوخ ہوچکا ہے اس کا یہ دعویٰ دلالت شرعیہ کے بغیر درست نہیں ہوسکتا اس لئے کہ خمرہ اسم نبیذ کو شامل نہیں ہوتا۔ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : ” سکر عجمیوں کی شرابوں کا نام ہے اور رزق حسن اس مشروب کا نام ہے جسے لوگ نبیذ کی صورت میں بناتے ہیں نیز سرکے کا نام ہے جسے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ یہ آیت نازل ہوئی اور شراب حرام نہیں ہوئی۔ شراب کی حرمت کا حکم تو سورة مائدہ میں آیا ہے۔ “ امام ابو یوسف نے روایت بیان کی ہے۔ انہیں ایوب بن جابر الحنفی نے اشعث بن سلیمان سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے کہ جب حضور ﷺ نے انہیں یمن کی طرف روانہ کیا تو یہ حکم دیا کہ لوگوں کو نشہ آور مشروب یعنی سکر سے روکیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک اس حرام سکر سے نقیع تم مراد ہے یعنی خشک کھجور کی شراب جو پانی میں بھگو کر بنائی جاتی ہے۔
Ayahs 16:69–70شہد شفا ہے
قول باری ہے (یخرج من بطونھا شراب مختلف الوانہ فی شفا للناس۔ اس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے) اس میں شہد کی طہارت کا بیان ہے جب کہ یہ بات واضح ہے کہ شہد میں مردہ مکھیاں اور ان کے انڈے بچے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس کی طہارت کا حکم لگا دیا نیز یہ بتادیا کہ اس میں لوگوں کے لئے شفا کا سامان ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ ہر ایسا جانور جس کے اندرخون نہ ہو اگر وہ پاک چیز میں مرجائے تو اس سے وہ چیز خراب اور ناپاک نہیں ہوتی۔
Ayah 16:71آقا اور اموال غلام کے بارے میں
قول باری ہے (واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق فما الذین فضلوا برادی رزقھم علی ما کانکت ایمانھم۔ اور دیکھو، اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطا کی ہے۔ پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق اپنے غلاموں کی طرف پھیر دیا کرتے ہوں) حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد سے مروی ہے کہ یہ لوگ اپنے غلاموں کو اپنے اموال میں شریک نہیں کرتے تاکہ دونوں ان اموال میں برابر کے حصہ دار بن جائیں، اپنی ذات کے لئے تو وہ لوگ یہ بات پسند نہیں کرتے لیکن وہ لوگ میرے بندوں کو میری حکومت اور میرے ملک میں میرا شریک ٹھہراتے ہیں، ایک قول کے مطابق آقا اور غلام سب کے سب اس لحاظ سے یکساں ہیں کہ میں نے ان سب کو رزق دیا ہے نیز یہ کہ کسی آقا کے لئے اپنے غلام کو رزق دینا ممکن ہی نہیں ہے مگر صرف اس بنا پر کہ میں نے اسے رزق عطا کیا ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت آقا اور غلام کے درمیان ملکیت کے لحاظ سے مساوات کے انتفاء پر دلالت کرتی ہے۔ اس میں دو وجوہ سے یہ دلیل موجود ہے کہ غلام کو کسی چیز کی ملکیت حاصل نہیں ہوتی۔ اول تو یہ کہ اگر غلام کے لئے اس چیز کی ملکیت جائز ہوتی جسے اس کا آقا اس کی ملکیت میں دے دیتا تو اس صورت میں آقا کے لئے اپنا مال اس کی ملکیت میں دے دینا جائز ہوتا اور اس طرح غلام اس مال کا مالک بن کر آقا کے ساتھ برابر کا حصہ دار بن جاتا۔ اس صورت میں غلاموں کی ملکیت آقا کی ملکیت کی طرح ہوجاتی بلکہ یہ بات جائز ہوتی کہ ملکیت کے لحاظ سے غلام اپنے آقا سے افضل ہوتا اور اس کی ملکیت کا دائرہ زیادہ وسیع ہوتا۔ اس بیان میں یہ دلیل موجود ہے کہ غلام کو کسی چیز کی ملکیت حاصل نہیں ہوتی خواہ آقا کوئی چیز اس کی ملکیت میں کیوں نہ دے۔ اس لئے کہ آیت ان دونوں کے درمیان ملکیت میں مساوات کی نفی کی مقتضیٰ ہے۔ اسے ایک اور پہلو سے دیکھئے، اللہ تعالیٰ نے آقا اور غلام کی اس صورت حال کو مشرکین کی بت پرستی کے لئے بطور مثال بیان فرمایا اور یہ بات سب کو معلوم تھی کہ بت کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ غلام بھی کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا اس لئے کہ مثال میں غلام اور آزاد کے درمیان شراکت کی نفی کردی گئی ہے جس طرح اللہ اور بتوں کے درمیان اس چیز کی نفی کردی گئی ہے۔
Ayahs 16:72–74حفدۃ کی تشریح
قول باری ہے (وجعل لکم من ازواجکم نبی ن وحفدۃ۔ اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا کئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حفدہ نوکروں اور مددگاروں کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے۔ ” من اعانک فقد حفدک “ (جس شخص نے تمہاری اعانت کی وہ تمہارا حفید یعنی مددگار بن گیا) مجاہد، قتادہ اور طائوس کا قول ہے کہ حفدہ نوکروں اور خدمت گاروں کو کہتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ، ابو الضحی، ابراہیم نخعی اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ دو بہنوں کو حفدہ کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق حفد کے اصل معنی اسراع فی العمل (کام میں تیزی دکھانے) کے ہیں، اسی سے دعائے قنوت میں یہ فقرہ ہے۔ والیک نسعی و تحفد، یعنی ہم تیری طرف دوڑے آتے اور اس میں تیزی دکھاتے ہیں۔ ’ عفدۃ حافد ‘ کی جمع ہے جس طرح کملۃ کامل کی جمع ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب سلف نے حفدہ کے دو معنی بیان کئے ہیں ایک نوکر چاکر اور مددگار اور دوسرے دو بہنیں۔ تو اب ضروری ہے کہ اس لفظ کو انہیں دو معنوں پر محمول کیا جائے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ باپ اپنے بیٹے سے خدمت اور مدد لینے کا حق رکھتا ہے اس لئے کہ قول باری ہے (وجعل لکم من ازواجکم بنین وحفدۃ) اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ باپ اگر بیٹے کو اپنی خدمت کے لئے اجرت پر رکھ لے تو بیٹا خدمت کی صورت میں اجرت کا مستحق نہیں ہوگا اس لئے کہ باپ کو اجارے کے بغیر بھی بیٹے سے یہ خدمت لینے کا حق حاصل ہے۔
Ayah 16:75قول باری ہے (ضرب اللہ مثلا عبدا مملوکا لا یقدر علی شی۔ اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک تو ہے غلام جو دوسرے کا مملوک ہے، اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا) حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ مثال اس کافر کی بیان کی گئی ہے جس کی ذات میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور اس مومن کی جو بھلائیاں اور نیکیاں کماتا ہے۔ حسن اور مجاہد کے قول کے مطابق یہ مثال مشرکین کی بت پرستی کے سلسلے میں بیان کی گئی ہے۔ مشرکین ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں جو کسی چیز کے مالک نہیں ہیں اور اس ذات کی پرستش سے منہ موڑتے ہیں جو ہر چیز کی مالک ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت کئی طرح سے اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ غلام کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔ ایک تو یہ قول باری ہے (عبدا مملوکا) اس میں صفت اور موصوف دونوں نکرہ کی صورت میں ہیں اس لئے یہ غلاموں کی جنس کے لئے عام ہے۔ جس طرح کوئی یہ کہے (لا تکلم عبدا) (کسی غلام سے گفتگو نہ کرو) یا ” اعط ھذا عبدا “ (یہ چیز کسی غلام کو دے دو ) اس صورت میں اس حکم کے اندر ہر وہ شخص آ جائے گا جو غلام کے نام سے موسوم ہوگا۔ اسی طرح یہ قول باری ہے (بتیما ذا مقربۃ او مسکینا ذا متربۃ کسی یتیم کو جو قرابت دار ہو یا مسکین کو جو خاک نشین ہو) اس میں چونکہ لفظ نکرہ ہے اس لئے آیت کے حکم کے تحت ہر وہ شخص آ جائے گا جو اس لفظ کے دارئے میں آتا ہو۔ اسی طرح قول باری (عبد مملوکا) تمام غلاموں کو اپنے دائرے میں لے لیتا ہے۔ پھر ارشاد ہوا (لا بقدر علی شی) اس میں یا تو نفی قدرت مراد ہے یا نفی ملک یا دونوں کی نفی۔ اب یہ تو ظاہر بات ہے کہ نفی قدرت مراد نہیں ہے اس لئے کہ غلام اور آزاد جس طرح غلامی اور آزادی میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اس طرح قدرت کے اندر مختلف نہیں ہوتے اس لئے کہ غلام بعض دفعہ آزاد سے بڑھ کر قدرت رکھنے والا ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ نفی قدرت مراد نہیں ہے۔ اس لئے یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہاں ملکیت کی نفی مراد ہے۔ اس سے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ غلام کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔ ایک اور پہلو سے دیکھئے۔ اللہ تعالیٰ نے بتوں کے لئے بطور مثال یہ بات فرمائی ہے اور اس میں بتوں کو ملکیت کی نفی کے اندر ان غلاموں کے مشابہ قرار دیا ہے جو دوسروں کے مملوک ہوتے ہیں۔ اب یہ بات واضح ہے کہ اصنام کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے اس سے یہ بات ضروری ہوگئی کہ جن لوگوں یعنی غلاموں کی صورت میں یہ مثال بیان ہوئی ہے وہ بھی کسی چیز کے مالک نہ قرار دیئے جائیں ورنہ ان کے ذریعے مثال بیان کرنے کا فائدہ ختم ہوجائے گا اور پھر اس صورت میں غلام اور آزاد کے ذریعے اس مثال کو بیان کرنے کا حکم یکساں ہوجائے گا۔ نیز اگر یہاں کا کوئی خاص غلام مراد ہوتا جو کسی چیز کا مالک نہیں اور اس بات کا جواز ہوتا کہ غلاموں میں سے ایسے بھی ہوسکتے ہیں جنہیں ملکیت حاصل ہوتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہوتا ” ضرب اللہ مثلا رجلا لا یقدر علی شی “ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ عبد یعنی غلام کا ذکر فرمایا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ غلام کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے۔
اگر یہ کہا جائے کہ ابراہیم نے عکرمہ سے، انہوں نے یعلیٰ بن منیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آیت کا نزول قریش کے ایک شخص اور اس کے غلام کے بارے میں ہوا تھا پھر یہ دونوں مسلمان ہوگئے تھے پھر دوسری آیت ایسے دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی جن میں سے ایک گونگا تھا اور اسے کسی چیز پر قدرت نہیں تھی۔ آیت کا اختتام قول باری (صراط مستقیم) پر ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ حضرت عثمان ؓ کا ایک غلام تھا جس کی وہ کفالت کرتے اور اس کے اخراجات برداشت کرتے تھے۔ اس طرح حضرت عثمان ؓ وہ شخص تھے جو آیت میں مذکورہ الفاظ (ومن یامر بالعدل وھو علی صراط مستقیم۔ دوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور راہ راست پر قائم ہے) کے مصداق تھے اور دوسرا شخص گونگا تھا۔ یہ بات اس امر کی موجب ہے کہ آیت کا نزول کسی خاص غلام کے بارے میں تسلیم کیا جائے اور یہ بھی جائز ہے کہ آیت کا نزول ان غلاموں کے بارے میں ہوا ہو جن کی ملکیت میں کوئی چیز نہ ہو۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ روایت ہے اور آیت کا ظاہر لفظ اس روایت کی نفی کرتا ہے اس لئے کہ آیت میں اگر کوئی معین غلام ہوتا تو الف لام حروف تعریف کے ذریعے اسے معرفہ لایا جاتا، نکرہ کی صورت میں اس کا ذکر نہ ہوتا۔ نیز یہ بھی معلوم ہے کہ آیت کے خطاب کا تعلق بت پرستوں اور ان کے خلاف استدلال کے ساتھ ہے۔ آپ اس قول باری کی طرف نہیں دیکھتے (ویعبدون من دون اللہ ما لا یملک لھم رزقا من السموت والارض شیئا ولا یستطیعون فلا تضربوا للہ الامثال اور اللہ کو چھوڑ کر ان کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں رزق دیتا ہے نہ زمین سے اور نہ ہی کام وہ کر ہی سکتے ہیں پس اس کے لئے مثالیں نہ گھڑو) اس کے بعد فرمایا (ضرب اللہ مثلا عبدا مملوکا لا یقدر علی شی) اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ جن بتوں کی پوجا کرتے ہیں ان کی مثال ان غلاموں جیسی ہے جو دوسروں کے مملوک ہوں اور خود کسی چیز کے مالک نہ ہوں نہ ہی کسی چیز کے وہ مالک بن سکتے ہوں۔ اس میں غلام کی ملکیت کی نفی کو اور موکد کردیا گیا ہے۔ اگر آیت میں مذکور غلام سے کوئی معین غلام مراد ہوتا اور وہ ان لوگوں میں سے ہوتا جن کے لئے ملکیت کا جواز ہوتا تو پھر ایسے غلام اور آزاد کے درمیان کوئی فرق نہ ہوتا اور آیت میں خصوصیت کے ساتھ غلام کا ذکر لغو اور بےکار ہوتا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آیت میں دراصل غلاموں کی سرے سے ملکیت کی نفی مراد ہے۔
Ayahs 16:76–79گونگے غلام کا حکم
اگر یہ کہا جائے کہ ارشاد باری ہے (وضرب اللہ مثلا رجلین احمدھما بکم لا یقدر علی شی وھو کل علی مولاہ۔ اللہ ایک اور مثال دیتا ہے۔ دو آدمی ہیں ایک گونگا بہرا ہے کوئی کام نہیں کرسکتا اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے) لیکن آیت کی اس امر پر دلالت نہیں ہو رہی ہے کہ گونگا کسی چیز کا مالک نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا آیت میں گونگے سے گونگا غلام مراد ہے آپ اس قول باری کو دیکھئے (وھو کل علی مولاہ اینما یوجھہ لا یات بخیر۔ اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اس سے نہ بن آئے) آقا کا ذکر نیز آقا کی طرف سے اسے بھیجنے کا بیان اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس سے مراد غلام ہے گویا اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں ملکیت کی نفی کے لئے بت کے مقابلہ میں ایک ایسے غلام کی مثال بیان کی جو گونگا نہیں تھا پھر دوسری آیت میں اس کمی میں اور اضافہ کرتے ہوئے فرمایا (ابکم لا یقدر علی شی وھو کل علی مولاہ اینما یوجھہ لایات بخیر) یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بتوں کا نقص اور ان میں خیر کی کمی کو مبالغہ کے طور پر بیان کرنے کے لئے آیت میں گونگا غلام مراد لیا ہے۔ نیز یہ کہ وہ غلام کسی اور کا مملوک ہے جو اس میں تصرف کرنے کا پورا پورا حق رکھتا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ قول باری (وھو کل علی مولاہ) میں چچا زاد بھائی مراد ہے اس لئے کہ چچا زاد بھائی کو بھی مولیٰ کہا جاتا ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات غلط ہے اس لئے کہ ایک شخص پر اس کے چچا زاد بھائی کے نان و نفقہ کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ نہ ہی وہ اس پر بوجھ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ شخص اسے اپنے کاموں کی خاطر ادھر ادھر بھیج سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آیت میں ابکم یعنی گونگے کے سلسلے میں دو باتوں کا ذکر کیا تو اس سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ اس سے کوئی آزاد شخص مراد نہیں ہے جس کا کوئی چچا زاد بھی ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایک گونگا غلام مراد لیا ہے جو کسی کا مملوک ہو علاوہ ازیں یہاں چچا زاد کے ذکر کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ چچا زاد بھائی کی بہ نسبت باپ بھائی اور چچا ایک شخص کے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور اس کے لئے ان رشتہ داروں کی حیثیت اولیٰ ہوتی ہے اس بنا پر آیت میں وارد لفظ مولیٰ کو چچا زاد بھائی پر محمول کرنے سے اس کا فائدہ زائل ہوجائے گا۔ نیز جب علی الاطلاق مولیٰ کا ذکر کیا جائے تو اس سے مراد یا تو مولائے رق (غلام) ہوتا ہے یا مولائے نعمت (آقا) ہوتا ہے اور چچا زاد پر اسے کسی دلالت کی بنا پر محمول کیا جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اصنام مراد لینا درست نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (عبدا مملوکا) ایسی بات اصنام کے متعلق نہیں کہی جاسکتی۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ معترض کی نظروں سے دلالت کا مقام پوشیدہ رہ گیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے صرف ایسے غلام کا ذکر کیا ہے جو ہمارا مملوک ہو اور پھر اسے ان بتوں کے لئے مثال کے طور پر بیان کیا جنہیں لوگ پوجتے تھے اور یہ بتادیا کہ ان بتوں کی حیثیت ان غلاموں جیسی ہے جو کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے اور جس طرح ایک بت کسی حال میں بھی کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا اسی طرح ایک غلام بھی کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے بتوں کو عباد (بندے) کہا ہے چناچہ ارشاد ہے (ان الذین تدعون من دون اللہ عباد امثالکم۔ تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن کی پوجا کرتے ہو وہ بھی تمہاری طرح بندے ہیں)
غلام کی ملکیت کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب اور امام شافعی کا قول ہے کہ غلام نہ تو کسی چیز کا مالک ہوسکتا ہے اور نہ ہی ہمبستری کی خاطر کوئی لونڈی خرید سکتا ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ غلام مالک بھی ہوسکتا ہے اور ہمبستری کی خاطر لونڈی بھی خرید سکتا ہے۔ امام ابوحنیفہ نے روایت بیان کی ہے، انہیں اسماعیل بن امیہ المکی نے سعید بن ابی سعید المقبری سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے کہ انہوں نے فرمایا ” کسی مملوک یعنی لونڈی کا فرج صرف اس شخص کے لئے حلال ہے جو اگر اسے فروخت کرے یا ہبہ کر دے یا صدقہ کر دے یا آزاد کر دے تو اس کا یہ عمل جائز قرار دیا جائے “ اس سے حضرت ابن عمر ؓ نے مملوک یعنی غلام مراد لیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایک غلام ہمبستری کے لئے کوئی لونڈی حاصل نہیں کرسکتا۔ اسی طرح یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے۔ ابراہیم نخعی، ابن سیرین اور الحکم سے مروی ہے کہ غلام ہمبستری نہیں کرسکتا۔ یعنی ہمبستری کے لئے کوئی لونڈی نہیں خرید سکتا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ غلام تسری کرسکتا ہے کہ یعمر نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ اپنے بعض غلاموں کو تسری کرتے ہوئے دیکھتے لیکن انہیں اس سے نہیں روکتے تھے۔ حسن اور شعبی کا قول ہے کہ غلام اپنے آقا کی اجازت سے تسری کرسکتا ہے۔ امام ایو یوسف نے العلاء بن کثیر سے، انہوں نے مکحول سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (العبد لا یتسری۔ غلام تسری نہیں کرے گا) یہ ارشاد اس پر دلالت کرتا ہے کہ غلام کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا، اگر وہ کسی چیز کا مالک ہوتا تو اس کے لئے جماع کی خاطر لونڈی خریدنا بھی اس قول باری کی بنا پر جائز ہوجاتا (والذین ھم لفروجھ حافظون الا علی ازواجھم او ما ملکت ایمانھم۔ اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی نگہداشت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا ان سے جن کی ملکیت انہیں حاصل ہوتی ہے) اس پر حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے (من باع عبدا ولہ ما لہ فما لہ للبائع الا ان یشترطہ المبتاع۔ جس شخص نے کوئی غلام فروخت کیا تو اس کا مال فروخت کنندہ کے لئے ہوگا الایہ کہ خریدار نے اس کی شرط لگا دی ہو)
اس ارشاد کی دلالت اس بنا پر ہو رہی ہے کہ جب آپ نے غلام کے مال کو فروخت کنندہ یا خریدار میں سے کسی ایک کے لئے قرار دیا تو آپ نے غلام کو اس مال سے خالی ہاتھ خارج کردیا۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ آقا کو ہر اس چیز کو اپنے قبضے میں لینے کا حق ہوتا ہے جو غلام کے قبضے میں ہوتی ہے۔ بلکہ آقا اس چیز کا زیادہ حقدار ہوتا ہے اس لئے کہ غلام کی گردن کا وہ مالک ہوتا ہے۔ اگر غلام کے اندر مالک بننے کی اہلیت ہوتی تو آقا کے لئے اس کے قبضے کی چیز کو اپنے قبضے میں کرلینا جائز نہ ہوتا۔ اس لئے کہ جن باتوں میں غلام اپنے آقا سے الگ اور جدا ہوتا ہے۔ ان باتوں میں آقا کو دخل دینے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اگر یہ کہا جائے کہ غلام کے مال پر آقا کے قبضے کا جواز اس پر دلالت نہیں کرتا کہ غلام اس مال کا مالک نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ قرض خواہ کو اپنے قرض کے بدلے مقروض کی ہر چیز اپنے قبضے میں کرلینے کا اختیار ہوتا ہے لیکن یہ امر اس پر دلالت نہیں کرتا کہ مقروض ان چیزوں کا مالک نہیں ہوتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ان دونوں صورتوں میں فرق ہے وہ اس طرح کہ قرض خواہ مقروض کے مال پر اس لئے قبضہ نہیں کرتا کہ مقروض کا وہ مالک ہے بلکہ وہ اپنے قرض کے بدلے اس کے مال پر قبضہ کرتا ہے جبکہ آقا اپنے غلام کے مال کا اس لئے حقدار ہوتا ہے کہ وہ اس کی گردن کا مالک ہوتا ہے۔ اگر غلام مالک ہوتا تو آقا اس بنا پر اس کے مال کا مستحق قرار نہ پاتا کہ وہ اس کی گردن کا مالک ہے جس طرح غلام کی گردن کا مالک ہونے کے باوجود وہ اس کی بیوی کو طلاق دینے کا مالک نہیں ہوتا۔ اس امر میں یہ دلیل موجود ہے کہ غلام مالک نہیں ہوتا۔ اس کی ایک اور دلیل بھی ہے وہ یہ کہ اس مسئلے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ جس شخص نے اپنے غلام کو مال کے بدلے مکاتب بنا لیا اور اس نے اس مال کی ادائیگی کردی تو اس غلام کو آزادی مل جائے گی اور اس کی ولاء آزاد کرنے والے آقا کے لئے ثابت رہے گی۔ اس غلام کو اس کے آقا کی ملکیت سے آزاد ہونے والا سمجھا جائے گا۔ اگر یہ آزاد ہونے والا غلام ان لوگوں میں سے ہوتا جو مالک بننے کے اہل ہوتے ہیں تو یہ غلام بھی کتابت کا مال ادا کر کے اپنی گردن کا مالک ہوجاتا اور یہ ملک اس کے آقا کی طرف منتقل نہ ہوتی جس طرح اس صورت میں غیر آقا کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ اگر یہ آقا اس غیر کو یہ حکم دیتا کہ وہ اس غلام کو مال کے بدلے اس کی طرف سے آزاد کر دے۔ اگر وہ اپنی ذات پر خود آزاد ہوجانے کی بنا پر اپنی گردن کا مالک ہوجاتا تو اس صورت میں ولاء اس کے آقا کے لئے نہ ہوتی بلکہ اس کی ولاء خود اس کی اپنی ذات کے لئے ہوتی۔ جب غلام کی گردن کی ملکیت مال ادا کرنے کی وجہ سے خود اس کی ذات کی طرف منتقل نہیں ہوتی بلکہ اسے آقا کی ملکیت سے آزادی ملتی ہے۔ تو یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ غلام کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا اس لئے کہ اگر وہ ان لوگوں میں سے ہوتا جو مالک ہونے کے اہل ہوتے ہیں تو پھر اس کا اپنی گردن کا مالک ہونا اولیٰ ہوتا اس لئے کہ اس کی گردن ایسی چیز ہے جس میں تملیک کا جواز ہوتا ہے۔
مال غلام کا مالک، آقا ہے یا غلام
اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (من باع عبدا ولہ مال فمالہ للمائع۔ جو شخص کوئی غلام فروخت کرے اور اس غلام کے پاس کوئی مال ہو تو یہ مال فروخت کنندہ کا ہوگا) آپ کا یہ ارشاد اس پر دلالت کرتا ہے کہ غلام میں مالک بننے کی اہلیت ہے اس لئے کہ حضور ﷺ نے مال کی اصافت غلام کی طرف کی ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضور ﷺ نے بیع کی حالت میں مال پر فروخت کنندہ کی ملکیت ثابت کردی ہے اور یہ بات واضح ہے کہ ایک مال بیک وقت آقا اور غلام دونوں کی ملکیت میں نہیں ہوسکتا اس لئے کہ اس مال کا غلام کی ملکیت میں ہونا محال ہے ورنہ آقا اور غلام دونوں میں سے ہر ایک کو پورا مال مل جاتا۔ اس طرح خود اس روایت میں جس مال کی اضافت غلام کی طرف کی گئی ہے اس پر فروخت کنندہ کی ملکیت کا اثبات موجود ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حدیث میں غلام کی طرف مال کی اضافت صرف اس بنا پر ہے کہ وہ مال اس کے ہاتھ میں ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں۔ ” یثہ فلاں کا گھر ہے “ جبکہ وہ گھر اس کی ملکیت میں نہ ہو وہ صرف اس میں رہتا ہو۔ اسی طرح حضور ﷺ کا ارشاد ہے (انت و مالک لا بیک۔ تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے) اس ارشاد میں آپ نے بیٹے کے مال پر باپ کی ملکیت کے اثبات کا ارادہ نہیں کیا۔
اگر یہ کہا جائے کہ عبید اللہ بن ابی جعفر نے بکیر بن عبد اللہ بن الاشجع سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (من اعتق عبداً فمالہ لہ الا ان یشترط السید مالہ فیکون لہ۔ جس شخص نے کوئی غلام آزاد کیا تو اس غلام کا مال اس غلام کو ہی مل جائے گا الایہ کہ آقا نے اس مال کی شرط لگا دی ہو اس صورت میں یہ مال آقا کو مل جائے گا) یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ غلام میں مالک بننے کی اہلیت ہوتی ہے اس لئے کہ اگر وہ آزادی سے پہلے اس مال پر ملکیت رکھنے کا اہل نہ ہوتا تو آزادی کے بعد بھی اس پر اس کی ملکیت نہ ہوتی۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس روایت میں غلام کے مالک ہونے پر کوئی دلالت نہیں ہے اس لئے کہ یہ جائز ہے کہ لوگوں کی عادت اور عرف کے طور پر ایسا ہوتا ہو کہ غلام کے جسم پر جو کپڑے وغیرہ ہوں وہ اسے آزاد کرتے وقت اتار لئے نہ جاتے ہوں۔ حضور ﷺ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے اس عرف اور عادت کو منطوق حکم کا درجہ دے دیا اور آپ نے عادۃً آقا کی طرف سے غلام کی ان چیزوں کو اس کی ملکیت میں رہنے دینے کے معاملہ کو اس بات کی علامت قرار دے دیا کہ گویا آقا، آزادی دینے کے بعد ان چیزوں کو غلام کی ملکیت میں دے دینے پر رضامند ہوگیا ہے۔ نیز اہل نقل یعنی محدثین کے ایک گروہ نے اس روایت کی تصنیف کی ہے۔
ایک قول کے مطابق عبید اللہ بن جعفر سے حدیث کو مرفوع روایت کرنے میں غلطی ہوگئی ہے نیز اس روایت کے متن میں بھی اس نے غلطی کی ہے۔ اصل روایت وہ ہے جو ایوب نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے نقل کی ہے کہ جب حضرت ابن عمر ؓ اپنا کوئی غلام آزاد کرتے تو اس کے مال سے کوئی تعرض نہ کرتے۔ اصل روایت یہ ہے عبید اللہ بن جعفر سے اسے مرفوعاً روایت کرنے نیز اس کے الفاظ کے بیان میں غلطی ہوئی ہے۔ حضور ﷺ سے اس کے خلاف روایت منقول ہے۔ ابو مسلم الکتجی نے روایت بیان کی ہے انہیں محمد بن عبد اللہ انصاری نے، انہیں عبد الاعلیٰ بن ابی المسادر نے عمران بن عمیر سے، انہوں نے اپنے والد سے جو حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے مملوک تھے، ان سے حضرت عبد ؓ اللہ نے فرمایا : عمیر، اپنا سارا مال مجھے بتادو ، میں تمہیں آزاد کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ (من اعتق عبذا فمالہ للذی اعتق جو شخص کوئی غلام آزاد کرے تو اس غلام کا مال اس شخص کو مل جائے گا جس نے اسے آزاد کیا ہے) “ اس حدیث کو یونس بن اسحاق نے عمران بن عمیر اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ المسعودی نے اس حدیث کو حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ ہمارے نزدیک مرقوفاً روایت کی بنا پر حدیث میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی۔
غلام کو نکاح سے کونسی استغنا حاصل ہوگی ؟
اگر کوئی استدلال کرنے والا اس قول باری (وانکحوا الایا مفی منکم والصالحین من عبادکم و امالکم وان یکونوا فقراء یغنھم اللہ من فضلہ۔ اور تم اپنے بےنکاحوں کا نکاح کرو اور تمہارے غلام اور لونڈیوں میں سے جو اس کے لائق ہوں ان کا بھی۔ اگر یہ لوگ مفلس ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا) سے استدلال کرے تو یہ بات ان تمام کی طرف لوٹتی ہے جن کا آیت میں ذکر ہوا ہے یعنی بےنکاحے غلام اور لونڈیاں۔ اس چیز نے غلام کے لئے دولت مندی اور فقر دونوں کا اثبات کردیا جس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ غلام میں مالک بننے کی اہلیت ہوتی ہے اس لئے کہ اگر اس میں یہ اہلیت نہ ہوتی تو وہ ہمیشہ فقیر ہی رہتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ قول باری (ان یکونوا فقراء یغنھم اللہ من فضلہ) سے مراد یا تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو نکاح کی بنا پر حلال طریقے سے جنسی ملاپ کی وجہ سے حرام طریقے سے جنسی ملاپ سے استغناء ہوجائے گا یا مراد یہ ہے کہ انہیں مال کی وجہ سے دولت مندی حاصل ہوجائے گی۔ لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ نکاح کرنے والے بہت سے جوڑے مال کے ذریعے دولت مند نہیں بن جاتے اور دوسری طرف یہ حقیقت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس امر کے وقوع پذیر ہونے کی خبر دے دے وہ وقوع پذیر ہو کر رہتا ہے تو ان دونوں باتوں سے ہمارے لئے یہ واضح ہوگیا کہ آیت میں مال کے ذریعے غنیٰ مراد نہیں ہے بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ حلال وطی کے ذریعے حرام وطی سے استغناء ہوجاتا ہے۔ نیز اگر آیت میں غنیٰ بالمال مراد بھی ہو تو اس کا دائرہ صرف بےنکاحوں اور آزادوں تک محدود رہے گا جن کا آیت میں ذکر ہے۔ اس دائرے میں غلام داخل نہیں ہوں گے جو ہمارے بیان کردہ دلائل کی روشنی میں مالک بننے کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں۔ نیز ہمارے مخالف کے نزدیک مال کی بنا پر غلام دولت مند نہیں ہوتا اس لئے کہ اس کا آقا اس کے تمام مال کا اس سے بڑھ کر مستحق ہوتا ہے۔ اس لئے غلام کو آخر سک مال کی بنا پر دولتمندی حاصل ہوسکتی ہے جبکہ اس کا غیر یعنی آقا اس کے مال کا اس سے بڑھ کر حق دار ہوتا ہے۔ اس لئے یہاں صرف آقا کو دولت مندی حاصل ہوسکتی ہے غلام کو حاصل نہیں ہوسکتی، غلام، مال کی بنا پر دولت مند نہیں بنتا اس کی دلیل حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے (امرت ان اخذ الصدقۃ من اغنیاء کم واردھا فی فقراء کم۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے مال داروں سے صدقات وصول کر کے تمہارے فقراء کو واپس کردوں) ہمارے مخالف کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ غلام کے مال میں سے کچھ نہیں لیا جائے گا۔ اگر غلام مالدار ہوتا تو اس کے مال میں زکوٰۃ واجب ہوجاتی کیونکہ وہ مسلمان اور مال دار ہوتا ہے نیز مکلفین میں بھی اس کا شمار ہوتا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ غلام جب اپنی بیوی کو طلاق دینے کی اہلیت رکھتا ہے تو اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ آزاد انسان کی طرح وہ مال کی ملکیت کا بھی اہل شمار کیا جائے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا غلام اس لئے طلاق دینے کا مالک قرار دیا جاتا ہے کہ اس کے آقا کو اس کی ملکیت حاصل نہیں ہوتی۔ اگر غلام مال کا مالک ہوتا تو اس سے یہ ضروری ہوجاتا کہ آقا کو اس کے مال کا مالک قرار نہ دیا جائے۔ نیز آقا کے لئے اس کا مال اپنے قبضے میں کرلینا بھی جائز نہ ہوتا۔ اس لئے کہ ہر وہ چیز جس کی ملکیت آقا کو اس کے غلام کی طرف سے حاصل ہوتی ہے۔ غلام کو آقا کی طرف سے اس کی ملکیت حاصل نہیں ہوتی، آپ نہیں دیکھتے کہ جس غلام کی تصرفات پر پابندی لگی ہو اگر وہ اپنے ذمہ کسی قرض کا اقرار کرلے تو غلامی کے زمانے میں یہ قرض اس کے ذمہ عائد نہیں ہوگا لیکن اگر اس کا آقا اس پر اس قرض کا اقرار کرلے گا تو یہ قرض اس پر عائد ہوجائے گا۔ اسی طرح آقا کو اختیار ہے کہ وہ اپنے غلام کا کہیں نکاح کرا دے لیکن غلام کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنا نکاح خود کہیں کرلے۔ اس لئے کہ یہ ایسی بات ہے جس کا آقا اپنے غلام کی طرف سے مالک ہوتا ہے۔ اگر آقا اپنے غلام پر کسی قصاص یا حد کا اقرار کرے گا تو یہ حد یا قصاص اس پر لازم نہیں ہوگا، اس لئے کہ غلام اپنی ذات کے دائرے میں اس چیز کا خود مالک ہوتا ہے۔ اس بات میں یہ دلیل موجود ہے کہ غلام کے اندر مالک بننے کی اہلیت نہیں ہوتی ہے اس لئے کہ اگر غلام، مال کا مالک ہوتا تو آقا کے لئے اس کے مال میں تصرف کرنا جائز نہ ہوتا جس طرح طلاق کے معاملہ میں، آقا کا تصرف جائز نہیں ہے اس لئے کہ غلام خود اس کا مالک ہوتا ہے۔
Ayahs 16:80–88جانوروں کی اون اور بال حلال ہیں
قول باری ہے (ومن اصوافھا واوبارھا و اشعارھا اثا شاومت عا الی حین۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں) جانور کی موت کے بعد اس کے جسم سے حاصل کردہ مذکورہ چیزوں سے فائدہ اٹھانے کے جواز پر آیت میں دلالت موجود ہے اس لئے کہ جانور کی موت سے پہلے اور موت کے بعد اس سے ان چیزوں کو حاصل کرنے کے مابین کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔
Ayah 16:89قرآن ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرتا ہے
قول باری ہے (ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شی۔ ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کردی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے) اس سے مراد…واللہ اعلم… یہ ہے کہ یہ کتاب امور دین میں سے ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے یہ وضاحت یا تو نص کے ذریعے ہوئی ہے یا دلالت کے ذریعے۔ کوئی بڑا یا چھوٹا واقعہ ایسا نہیں ہے جس کے متعلق اللہ کا کوئی نہ کوئی حکم نص یا دلیل کے طور پر اس کی کتاب میں بیان نہ کردیا گیا ہو۔ جو احکامات حضور ﷺ نے بیان کئے ہیں وہ بھی کتاب اللہ سے صادر ہوئے ہیں اس لئے کہ قول باری ہے (وما اتاکم الرسول فخذوہ ومانھا کم عنہ وفانتھوا جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو اور جس چیز سے تمہیں روکیں اس سے رک جائو) نیز ارشاد باری ہے (وانک تھدی الی صراط مستقیم صراط اللہ اور یقیناً تم سیدھے راستے یعنی اللہ کے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو) نیز فرمایا (من یطع الرسول فقد اطاع اللہ جس شخص نے رسول کی فرمانبرداری کی اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی) اس لئے رسول اللہ ﷺ جو کچھ بیان کریں وہ منجانب اللہ ہوگا اور کتاب اللہ کی تشریح اور توضیح میں شمار ہوگا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری اور ان کے حکم کی اتباع کا امر فرمایا ہے۔ اسی طرح جس چیز پر اجماع کا انعقادہو جائے اس کا مصدر بھی کتاب اللہ ہوگا اس لئے کہ اجماع کی حجیت کی صحت پر کتاب اللہ کی دلالت موجود ہے نیز یہ کہ امت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوسکتی۔ قیاس اور اجتہاد رائے کی بنا پر نیز استدلال کی دوسری تمام صورتوں مثلاً استحسان اور قبول خبر واحد کی وجہ سے واجب ہونے والے احکام بھی کتاب اللہ کی تبیان اور اس کی وضاحت کی صورتیں ہیں اس لئے کہ کتاب اللہ ان تمام پر دلالت کرتی ہے۔ دین سے تعلق رکھنے والے ہر حکم کا وجود کتاب اللہ کے اندر ہے جس کی وضاحت ان صورتوں میں ہوتی ہے جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ یہ آیت قیاس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے وہ اس طرح کہ جب ہمیں پیدا شدہ نئے مسئلے کے بارے میں کتاب اللہ کے اندر کوئی منصوص حکم نہیں ملے گا، نہ سنت رسول اللہ ﷺ کے اندر اور نہ ہی اجماع کے اندر اور دوسری طرف اللہ نے یہ فرما دیا ہے کہ کتاب اللہ کے اندر دین کے ہر معاملے کی وضاحت موجود ہے تو سا سے یہ بات ثابت ہوجائے گی اس نئے مسئلے کے متعلق حکم معلوم کرنے کا طریقہ نظر یعنی اجتہاد رائے اور قیاس کے ذریعے استدلال ہے۔ اس لئے کہ اس طریقے کے سوا اس نئے مسئلے کا حکم معلوم کرنے کا اور کوئی ذریعہ باقی نہیں رہتا ہے جو لوگ نص خفی یا استدلال کے ذریعے حکم معلوم کرنے کے قائل ہیں وہ بھی غیر شعوری طور پر اجتہاد رائے نیز نظر و قیاس سے کام لیتے ہیں ان کا یہ قول لفظی طور پر قیاس کے قائلین کے خلاف ہے لیکن منوی طور پر ان کے موافق ہے۔
Ayah 16:90عدل، قول و فعل میں مطلوب ہے
قول باری ہے (ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایاء ذی القربی وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی۔ اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بےحیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے) عدل، انصاف کو کہتے ہیں۔ سمعی دلالت کے ورد سے قبل ہی عقل کی نظروں میں یہ ایک واجب اور ضروری امر تھا۔ سمعی دلیل کے ورود سے اس کے وجوب کی اور تاکید ہوگئی۔
عدل فرض اور احسان مستحب ہے
اس مقام پر احسان تفضل یعنی مہربانی کا مفہوم ادا کر رہا ہے۔ یہ ایک مستحب امر ہے جبکہ عدل فرض ہے۔ رشتہ داروں کے دینے لینے میں دراصل صلہ رحمی کا حکم ہے۔ قول باری ہے (یامر بالعدل) قول اور فعل دونوں کے اندر عدل کرنے کے مفہوم پر مشتمل ہے۔ چناچہ ارشاد ہے (واذا قلتم فاعدلوا اور جب تم کہو تو انصاف کی بات کہو) اللہ تعالیٰ نے قول کے اندر بھی انصاف کرنے کا حکم دیا۔ اس آیت میں یہ دونوں باتیں موجود ہیں۔
فحش، منکر اور بغی کی تشریح
قول باری ہے اوینھی عن الفحشاء و المنکر والبغی) میں تمام امور قبیحہ نیز ممنوع اقوال و افعال اور خیالات داخل ہیں۔ فحشاء یعنی بدی اور برائی کبھی تو انسان اپنے دل میں کرتا ہے اور اس کا یہ معاملہ لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتا اس کی قباحت بھی بہت عظیم ہوتی ہے اور کبھی کھلی برائی اور بےحیائی کی صورت میں اس کا ظہور ہوجاتا ہے، کبھی عقیدہ کی خرابی اور بخل کی بنا پر ایسا ہوتا ہے اس لئے کہ عرب کے لوگ بخیل انسان کو فاحش کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ منکر اس بےحیائی اور برائی کو کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کے سامنے ظاہر ہوجائے تو اس کی تردید واجب ہو۔ منکر کا وجود اعتقادات اور پوشیدہ تصورات و خیالات کے اندر بھی ہوتا ہے۔ عقل انسانی منکر کو ناپسند کرتی اور اس سے ابا کرتی ہے۔ بغی اس ظلم و زیادتی کا نام ہے جس کا دائرہ دوسروں تک وسیع کردیا جائے۔ ان تینوں امور میں سے ہر ایک کے اندر مخصوص معانی ہیں جن کی بنا پر ہر ایک دوسرے سے الگ اور منفرد قرار پاتا ہے۔
Ayah 16:91عہد کو پورا کرنے کا بیان
قول باری ہے (واوفوا بعھم اللہ اذا عاھد تم ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا ) اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ عہد کے کئی معانی ہیں۔ عہد کبھی امر کے معنوں میں آتا ہے ۔ چناچہ قول باری ہے (ولد عدنا الی ادم من قبل اور ہم نے اس سے پہلے آدم کو امر کیا تھا) نیز ارشاد ہے (الم اعھد الیکم یا بنی ادم اے اولاد آدم ! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا) مراد یہ ہے کہ ” میں نے امر کیا تھا۔ “ کبھی یمین اور قسم کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ آیت زیر بحث واضح طور پر دلالت کر رہی ہے کہ اس مقام پر عہد سے یمین مراد ہے۔ اس لئے کہ ارشاد باری ہے صولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا) اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ ” علی عھد اللہ ان فعلت کذا) وہ گویا قسم کھا لیتا ہے۔
حضرت حذیفہ کی روایت میں ذکر ہے کہ جب مشرکین نے انہیں اور ان کے والد کو گرفتار کرلیا اور پھر ان دونوں سے اللہ کے نام پر یہ عہد لے لیا کہ وہ حضور ﷺ کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف جنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔ پھر ان دونوں نے مدینہ منورہ پہنچ کر حضور ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ ” تم مشرکین کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا کرو گے اور ان کے خلاف اللہ سے استعانت کے طلبگار نہیں بنو گے۔ “ عطاء بن ابی رباح حسن بصری، ابن یسرین، عامر، ابراہیم نخعی اور مجاہد سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے ” علی عہد اللہ ان فعلت کذا تو یہ قسم ہوگی۔
Ayahs 16:92–97قول باری ہے (ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قو ۃ انکاتاً تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا) آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جو تقرب الٰہی کی نیت سے اپنے اوپر کوئی نیکی اور عبادت لازم کرلے اور پھر اسے فسخ کر کے پورا نہ کرے اس عورت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو اون یا کسی قسم کی کوئی اور شے کات کر دھاگا بنائے اور پھر اسے اچھی طرح کات لینے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کو ڈالے۔ قول باری (من بعد قوۃ) کا یہی مفہوم ہے اس لئے کہ عرب کے لوگ مضبوطی کے ساتھ سوت یا اون کاتنے کا نام دیتے ہیں۔ اس لئے جو شخص اپنے اوپر کوئی چیز لازم کرے یا کوئی عبادت واجب کرلے یا اسے شروع کرلے اور پھر اسے مکمل نہ کرے تو اس کی حالت اس عورت کی طرح ہوجائے گی جو محنت اور مضبوطی سے سوت یا اون کاتنے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی ہے۔ یہ بات اس امر کی موجب ہے کہ جو شخص نفل نماز یا نفلی روزہ یا اسی قسم کی کوئی عبادت شروع کردے تو اسے مکمل کرنے سے پہلے اسے چھوڑ دینا جائز نہیں ہوگا ورنہ اس کی حیثیت اس عورت جیسی ہوجائے گی جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔
Ayahs 16:98–105استعاذہ کا بیان
قرآن پڑھنے سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا ضروری ہے
قول باری ہے (فاذا قرات القرآن فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو) عمرو بن مرہ نے عباد بن عاصم سے، انہوں نے نافع بن جبیربن مطعم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو نماز شروع کرتے وقت یہ پڑھتے ہوئے سنا تھا (اللھم اعوذ بک من الشیطان من ھمزہ و نفخہ و نفشہ اے اللہ ! میں شیطان سے ، اس کے خطرات سے ، اس کی پھونک سے اور اس کے وسوسے سے تیری پناہ میں آتا ہوں) حضرت ابو سعید خدری نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نماز کے اندر قرأت سے پہلے تعوذ پڑھا کرتے تھے۔ حضرت عمر اور حضرت ابن عمر سے قرأت سے پہلے تعوذ پڑھنا مروی ہے۔ ابن جریج نے عطاء سے روایت کی ہے کہ نماز اور غیر نماز میں قرآن کی قرأت سے پہلے تعوذ پڑھنا واجب ہے۔ محمد بن سیرین کا قول ہے کہ جب تم ایک مرتبہ تعوذ پڑھ لو یا ایک مرتبہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ لو تو یہ تمہارے لئے کافی ہوگا۔ ابراہیم نخعی سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ حسن بصری نماز شروع کرتے وقت سورة فاتحہ کی قرأت سے پہلے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھا کرتے تھے۔
ابن سیرین سے ایک اور روایت کے مطابق منقول ہے کہ ” جب کبھی تم سورة فاتحہ پڑھو اور آمین کہو اس وقت اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بھی پڑھو۔ “ ہمارے اصحاب، سفیان ثوری، اوزاعی اور امام شافعی کا قول ہے کہ نمازی قرأت سے قبل ت عوذ پڑھے گا۔ امام مالک کا قول ہے کہ نمازی فرض نمازوں میں تعوذ نہیں پڑھے گا البتہ رمضان کے اندر قیام اللیل یعنی تراویح اور تہجد میں قرأت کرتے وقت تعوذ پڑھے گا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری افاذا فرأت القران فاستعذ باللہ) ظاہری طور پر اس امر کا مقتضی ہے کہ استعاذہ قرأت کے بعد وقوع پذیر ہو جس طرح یہ قول باری ہے (فاذا قضیتم الصلوۃ فازکرواللہ قیاماً و قعوداً جب تم نماز ختم کرو تو قیام وقعود کی حالت میں اللہ کا ذکر کیا کرو) لیکن حضور ﷺ نیز سلف کے ان حضرات سے جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے قرأت سے پہلے تعوذ پڑھنا ثابت ہے۔ محاورے میں اس قسم کے فقرے کا عام اطلاق ہوتا ہے اور اس سے مراد یہ مفہوم ہوتا ہے ۔” اذا اروت ذلک (جب تم قرأت قرآن کا ارادہ کرو) جس طرح یہ قول باری ہے (واذا قلم فاعدلوا جب تم کہو تو انصاف کی بات کہو) یعنی جب تم کوئی بات کہنا چاہو تو انصاف کی بات کہو۔
اسی طرح یہ قول باری ہے (فاذا اسالتموھن متاعاً فاسئلوھن من وراء حجاب جب تم ازواج مطہرات سے کوئی سامان طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے مانگو) یہاں یہ مراد نہیں ہے کہ پہلی دفعہ طلب کرنے کے بعد پھر پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔ اسی طرح یہ قول باری ہے (اذا ناجیتم الرسول فقد مواب ین یدی نجوا کم صدقۃ جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے قبل کچھ خیرات دے دیا کرو) درج بالا آیات کی طرح یہ قول باری بھی ہے (فاذا قرأت القرآن فاستعذ باللہ) اس کے معنی ہیں ” جب تم قرأت کرنے لگو تو قرأت پر تعوذ پر مقدم کرو۔ “ اس کے حقیقی معنی یہ ہیں ” جب تم قرأت قرآن کا ارادہ کرو تو تعوذ پڑھ لو۔ “ جس طرح قائل کا یہ قول ہے ” اذا قلت فاصدق “ (جب بات کرو تو سچ بولو) یا ” اذا حرمت فاغتسل (جب تم احرام باندھنے لگو تو غسل کرو) یعنی احرام باندھنے سے پہلے ان تمام فقرات کا مفہوم یہ ہے کہ ” جب تم اس کا ارادہ کرو۔ “
اسی طرح قول باری (فاذا قرأت القرآن) کا مفہوم یہ ہے کہ جب تم قرآن پڑھنے کا ارادہ کرو۔ جن حضرات کا یہ قول ہے کہ قرأت سے فراغت کے بعد اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھا جائے ان کا یہ قول شاذ ہے۔ استعاذہ قرأت سے پہلے ہونا چاہیے تاکہ اس کے ذریعے قرأت کے وقت شیطانی وسواس کی نفی ہوجائے۔ ارشاد باری ہے (وما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ فینسخ اللہ مایلقی الشیطان ثم یحکم اللہ ایاتہ اور ہم نے آپ سے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا مگر یہ کہ جب اس نے کچھ پڑھا ہو تو شیطان نے اس کے پڑھنے کے باب میں شبہ ڈالا، سو اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہ کو مٹا دیتا ہے ، پھر اللہ اپنی آیات کو اور زیادہ مضبوط کردیتا ہے) اللہ تعالیٰ نے اسی سبب کی بنا پر قرأت سے پہلے استعاذہ کو مقدم کرنے کا حکم دیا۔
استعاذہ فرض نہیں ہے
تاہم استعاذہ نہیں ہے اس لئے کہ حضور ﷺ نے ایک بدوی کو جب نماز سکھائی تو آپ نے اسے اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنے کی تعلیم نہیں دی، اگر استعاذہ فرض ہوتا تو آپ اسے اس کی تعلیم ضرور فرماتے۔