11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 11:113–116

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور جو لوگ ظالم ہیں انکی طرف مائل نہ ہونا نہیں تو تمہیں (دوزخ کی) آگ آ لپٹے گی۔ اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں (اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے) تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی۔

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح و شام) کے اوقات میں اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ ان کے لئے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنیوالے ہیں۔

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کئے رہو کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

جو امتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ؟ ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ انہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جن میں عیش و آرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔

ظالم کے ساتھ الفت کی ممانعت قول باری ہے ولا ترکنوا الی اذین ظلموا افتمسکم النار۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آ جائو گے ۔ کسی چیز کی طرف رکون یعنی جھکنے کے معنی یہ ہیں اس کے ساتھ لگائو اور محبت کی بنا پر جھکنے والے کو اس پر قرار آجائے۔ یہ بات ظالموں کی ہم نشینی ان سے الفت اور ان کی باتوں پر کان دھرنے کی ممانعت کی مقتضی ہے ، اس کی نظیر یہ قول باری ہے فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین یاد آ جانے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو۔
Ayah 11:117

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جبکہ وہاں کے باشندے نیکوکار ہوں ازراہ ظلم تباہ کردے۔

خدا ظلم نہیں کرتا قول باری ہے وما کان ربک لیھلک القری بظلم واھلحا مصلحون ۔ تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں ۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کسی چھوٹے ظلم پر جوان کی طرف سے سرزد ہوتا ہے انہیں ہلاک نہیں کرتا ۔ ایک قول کے مطابق اللہ تعالیٰ انہیں کسی بڑے ظلم پر جو ان کے ایک چھوٹے سے طبقے کی طرف سے ہوتا ہے انہیں ہلاک نہیں کرتا ۔ جس طرح حضور ﷺ کا ارشاد ہے ان اللہ لایھلک العامۃ بذنوب الخاصۃ اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو ہلاک نہیں کرتا ۔ ایک قول کے مطابق اللہ تعالیٰ ظالم بن کر انہیں ہلاک نہیں کرتا جس طرح یہ قول باری ہے ان اللہ لا یظلم الناس شیئا ً ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ذرا برابر بھی ظلم نہیں کرتا ۔ زیر بحث آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بستیوں والوں کو ناحق تباہ نہیں کرتادرآنحالی کہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہیں۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے وان من قدیہ الا نحن مھلکوھا قبل یوم القیامۃ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ لوگ قیامت کے قریب خرابی اور فساد کی انتہا پر پہنچ چکے ہوں گے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک کرے گا ۔ حضور ﷺ کے ارشاد لا تقوم الساعۃ الا علی شرار الخلق ۔ قیامت خلق خدا میں سے بد ترین لوگوں پر آئے گی کا بھی یہی مصداق ہے۔
Ayah 11:118

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔

خدا چاہتا تو سب لوگ ایک ہی امت ہوتے قول باری ہے ولو شاء ربک لعجل الناس امۃ واحدۃ بیشک تیرا رب اگر چاہتاتو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا۔ قتادہ کے قول کے مطابق سب کو مسلمان بنا دیتا۔ وہ اس طرح کہ سب کو ایمان کی طرف چلنے پر مجبور کردیتا ۔ اس میں منع کا پہلو ہے یعنی اگر وہ لوگ اس کے خلاف چلنے کا ارادہ کرتے تو انہیں ایسا کرنے نہ دیا جاتا بلکہ انہیں ایمان کی خوبی اور اس کی منفعت کی وسعت کی طرف مجبورا ً جانا پڑتا۔ قول باری ہے ولا یزالون مختلفین مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے۔ مجاہد عطاء ، قتادہ اور اعمش کے قول کے مطابق مختلف ادیان پر چلتے رہیں گے۔ یعنی کوئی یہودی ہوگا تو کوئی نصرانی تو کوئی مجوسی اور اسی طرح اورادیان فاسدہ کا ماننے والے لوگ ہوں گے۔ حسن سے مروی ہے کہ لوگ ارزاق میں اور ایک دوسرے کو اپنے قابو میں لانے اور غلبہ پانے کے احوال کے لحاظ سے مختلف ہوں گے۔ قول باری ہے الا من رحم ربک اور ان بےراہ راویوں سے صروہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ باطل کی مختلف راہوں پر چلنے والوں سے آیت میں مذکورہ لوگوں کو مستثنیٰ کردیا گیا ہے اور اس سلسلے میں مطلق ایمان کا ذکر کیا گیا ہے جو ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اس لیے کہ ایمان ہی باطل کی مختلف راہوں پر چلنے سے بچا سکتا ہے۔
Ayahs 11:119–123

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جن پر تمہارا پروردگار رحم کرے۔ اور اسی لئے اس نے انکو پیدا کیا ہے۔ اور تمہارے پروردگار کا قول پورا ہوگیا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

(اے محمد) پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان سے ہم تمہارے دل کو قائم رکھتے ہیں۔ اور ان (قصص) میں تمہارے پاس حق پہنچ گیا اور (یہ) مومنوں کے لئے نصیت اور عبرت ہے۔

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان نہیں لائے ان سے کہہ دو کہ تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ ہم (اپنی جگہ) عمل کئے جاتے ہیں۔

وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader

اور (نتیجہ اعمال کا) تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھر وسہ رکھو۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو تمہارا پروردگار اس سے بیخبر نہیں۔

انسان کو اختیار بخشا قول باری ہے ولذلک خلقھم اسی آزادی انتخاب و اختیار کے لیے ہی تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ ، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ اللہ نے انہیں رحمت کے لیے پیدا فرمایا ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت ہے نیز حسن اور عطاء سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کردیا حالانکہ اسے علم تھا کہ یہ لوگ دنیا میں باطل کی مختلف راہوں پر چلیں گے۔ آیت میں حرف لام ، لام عاقبت ہے ۔ اہل لغت کا کہنا ہے کہ حرف لام کبھی حرف علی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جس طرح قائل کا یہ قول ہے۔ اکرمتک علی یرک و لبرک بی تم نے میرے ساتھ جو نیکی کی ہے اس پر اور اس کی خاطر میں تمہارا احترام کرتا ہوں۔