11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 11:38–44

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

تو (نوح نے) کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب انکی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے ' وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اسی طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا۔ اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے ؟

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا۔ تو ہم نے نوح (کو) حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجا ئیگا) اسکو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو اور جو ایمان لایا ہو اسکو کشتی میں سوار کرلو اور انکے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے۔

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لیکر (کہ اسی کے ہاتھ میں) اس کا چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ انکو لیکر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ (کشتی سے) الگ تھا ' پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو۔

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر اس پر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آ حائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا۔

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا۔ اور کشتی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت۔

قول باری ہے فانا نسخر منکم کما تسخرون ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں جس طرح تم ہم پر ہنس رہے ہو ۔ یہاں یہ بات مجاز کے طور پر کہی گئی ہے ، اس کا اطلاق اس لیے کیا گیا ہے کہ مذاق اڑانے اور ہنسنے کی مذمت کر کے اس کا بدلہ اتنی مقدار میں چکایا گیا ہے جتنی مقدار کے یہ لوگ مستحق تھے ، جس طرح یہ قول باری ہے وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا۔ برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے ، نیز ارشاد باری ہے قالو انما نحن مستھزون اللہ یستھزی بھم ہم تو صرف مذاق اڑا رہے تھے ، اللہ تعالیٰ ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ بعض کے نزدیک آیت زیر بحث کا مفہوم ہے کہ ہم بھی اس طرح تمہیں جاہل سمجھتے ہیں جس طرح تم ہمیں جاہل سمجھتے ہو۔
Ayahs 11:45–60

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار ! میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اسکو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے۔

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے۔ وہ تو ناشائستہ افعال ہے۔ تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی مجھے حقیقت معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا۔

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہونگی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر انکو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا۔

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ (حالات) من جملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں (اور) اس سے پہلے نہ تم ہی ان جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے۔

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے عدا کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا) انہوں نے کہا کہ میری قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم (شرک کرکے خدا پر) محض بہتان باندھتے ہو۔

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

میری قوم ! میں اس (وعظ ونصیحت) کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھلا تم سمجھتے کیوں نہیں ؟

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے قوم ! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار مینہ برسائے اور تمہاری طاقت بڑھائے گا۔ اور (دیکھو) گنہگار بن کر روگردانی نہ کرو۔

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں لائے اور ہم (صرف) تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں۔

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا (کر دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

(یعنی جن کی) خدا کے سوا (عبادت کرتے ہو تو) تم سب مل کر میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی چاہو) کرلو اور مجھے نہ دو ۔

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں خدا پر جو میرا اور تمہارا (سب کا) پروردگار ہے بھروسہ رکھتا ہوں (زمین پر) جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ بیشک میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

اگر تم رودگرانی کرو گے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے اور میرا پروردگار تمہاری جگہ اور لوگوں کو لابسائے گا۔ اور تم خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے انکو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور انھیں عذاب شدید نجات دی۔

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

یہ (وہی) عاد ہیں جنہوں نے خدا کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر وسرکش کا کہا مانا۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) دیکھو عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ (اور) سن رکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔

ابن نوح (علیہ السلام) کا مفہوم قول باری ہے ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنبی من اھلی ۔ نوح نے اپنے رب کا پکارا ۔ کہا اے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اپنے اہل میں شمار کیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل کے لیے تہائی مال کی وصیت کر جائے، یہ تہائی مال ان تمام افراد کو مل جائے گا جو اس کے عیال میں شامل ہوں گے خواہ وہ اس کا بیٹا ہو، یا بھائی یا بیوی یا کوئی غیر رشتہ دار اجنبی ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب کہ قیاس کا تقاضا تھا کہ یہ وصیت صرف اس کی بیوی کے لیے خاص ہوجاتی لیکن یہاں استحسان کی صورت اختیار کر کے اس وصیت کو ان تمام افراد کے لی جاری کردیا گیا جو وصیت کرنے والے کے مکان میں رہتے ہوں اور اس کے عیال میں داخل ہوں ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا قول اس پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں فرمایا ہے ولقد نادانا نوح فلنعم المجیبون ونجیناہ واھلہ من الکوب العظیم اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا اور ہم خوب فریاد سننے والے ہیں اور ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو بڑے بھاری غم سے نجات دی ۔ اس طرح ان تمام افراد کو جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے مکان میں رہتے تھے اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کے اہل کے نام سے موسوم کیا گیا ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا یہ کہنا کہ ” میرابیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے “ اس پر مبنی تھا کہ تو نے میرے گھر والوں کو بچا لینے کا وعدہ فرمایا تھا اس میں میرا بیٹا بھی شامل تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ تمہارا یہ بیٹا تمہارے گھر والوں میں سے نہیں تھا جنہیں بچا لینے کا میں نے تم سے وعدہ کیا تھا۔ قول باری ہے انہ عمل غیر صالح وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ۔ آیت کے معنی کے سلسلے میں ایک قول ہے ذو عمل غیر صالح وہ غیر صالح عمل والا تھا یہ اندازہ کلام صفت میں مبالغہ پر محمول ہوتا ہے جس طرح خنساء کا یہ شعر ہے۔ ؎ ترقع ما رتعت حتی اذا ادکوت فانماھی اقبال وادبار یہ چرتی رہتی ہے جب تک چاہتی ہے یہاں تک کہ جب اسے یاد آ جاتا ہے تو پھر یہ اقبال و ادبار یعنی سامنے سے نمودار ہونے اور پھر مڑ جانے کی صورت اختیار کرلیتی ہے یعنی پھر یہ سامنے سے آنے وای اور مڑ کر واپس جانے والی یا دوسرے الفاظ میں مقبلہ اور مدبرہ بن جاتی ہے اس کی رفتار اور حرکت انتہائی تیز ہوجاتی ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ابراہیم سے مروی ہے کہ سوالک ھذا عمل غیر صالح تمہارا یہ سوال ایک غیر صالح فعل ہے۔ کسائی نے اس کی قرأت عمل غیر صالح کی صورت میں کی ہے یعنی عمل کے لفظ کو فعل کی صورت میں اور غیر کے لفظ کو زبر کے ساتھ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر اور ضحاک سے مروی ہے کہ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا سگا بیٹا تھا اس لیے کہ قول باری ہے ونادی نوح ابنہ اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو آواز دی ۔ انہوں نے قول باری انہ لیس من اھلک کی تفسیر میں فرمایا۔ انہ لیس من اھل دینک وہ تمہارے اہل دین میں سے نہیں تھا۔ حسن اور مجاہد سے مروی ہے کہ وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا صلبی بیٹا تھا۔ وہ حرام زادہ تھا ۔ حسن کا قول ہے کہ وہ منافق تھا زبان سے ایمان کا اظہار کرتا تھا لیکن دل میں کفرچھپائے ہوئے تھا۔ ایک قول کے مطابق وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کا بیٹا تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے کشتی میں سوارہو جانے کے لیے کہتے رہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرما دیا تھا کہ اس میں کوئی کافر سوار ہونے نہ پائے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کا یہ بیٹا تھا تو منافق لیکن زبان سے ایمان کا اظہار کرتا تھا۔ ایک قول کے مطابق آپ نے اسے ایمان لانے کی شرط پر کشتی میں سوار ہونے کی دعوت دی تھی گویا یوں فرمایا تھا ۔ ایمان لے آئو اور پھر ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجائو۔
Ayahs 11:61–68

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پید کیا اور اس میں آباد کیا۔ تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بیشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے۔

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انہوں نے کہا صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوچنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں۔ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں قومی شبہہ ہے۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالح نے کہا قوم ! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو اسکے سامنے میری کون مدد کریگا ؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو۔

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور (یہ بھی کہا کہ) اے قوم ! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اسکو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ تو (صالح نے) کہا کہ اپنے گھروں میں تین دن (اور) فائدے اٹھالوں۔ یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا) بیشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے۔

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ (کی صورت میں عذاب) نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے

انسان کو زمین پر آباد کیا قول باری ہے ھو انشاکم من الارض واستعمرکم فیھا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور یہاں تم کو بسایا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کی طرف نسبت کی اس لیے کہ ان سب کی اصل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق زمین کی مٹی سے ہوئی تھی اور بنی نوع انسان تمام کے تمام حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ۔ اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا۔ قول باری واستعمرکم فیھا کے معنی ہیں ۔ اللہ نے تمہیں ایسی چیزوں کے ساتھ زمین کو آباد کرنے کا حکم دیا جن کی تمہیں ضرورت تھی ۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ زمین کو زراعت کے لیے ، پودے اور درخت لگانے کے لیے نیزمکانات کی تعمیر کے لیے تیا ر کرنا اور چیزوں کے ذریعے اسے آباد کرنا واجب ہے۔ مجاہد سے اس کے معنی کے متعلق مروی ہے کہ تمہیں بایں معنی آباد کردیا کہ زمین کو زندگی بھر کے لیے تمہارے واسطے مخصوص کردیا ۔ یہ وہی مفہوم ہے جو قائل کے اس قول میں ہے۔ اعمن تک داری ھذہ یعنی میں نے زندگی بھر کے لیے اپنا یہ گھر تمہاری ملکیت میں دے دیا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے من اعمر عمری فھی لہ ولورثتہ من بعد۔ جس شخص نے کسی کو کئی عطیہ اس کی زندگی بھر کے لیے دیا ہو تو یہ عطیہ اس کا ہوگا اور اس کے بعد اس کے ورثاء کو مل جائے گا ۔ عمری عطیہ کو کہتے ہیں تا ہم اس کے مفہوم میں زندگی بھر کے لیے مالک بنا دینے کا معنی بھی داخل ہے۔ حضور ﷺ نے عمری اور رہبہ کو جائز قرار دیا لیکن زندگی بھر تک کے لیے مالک بنا دینے کی شرط کو باطل قرار دیا۔ دوسرے الفاظ میں اس کی ملکیت ہمیشہ کے لیے اسے حاصل ہوجاتی ہے۔ آپ نے یہ شرط اس لیے باطل قرار دی کہ لوگوں کا عقیدہ تھا کہ متعلقہ شخص کی موت کے بعد یہ عطیہ پھر ہبہ کرنے والے کی ملکیت میں لوٹ آتا ہے۔
Ayahs 11:69–71

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا۔ ابھی کچھ وقفہ نہیں ہوا تھا کہ (ابرہیم) بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

جب دیکھا کہ ان کہ ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (یعنی وہ کھانا نہیں کھاتے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا۔ (فرشتوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجئے ہم قوم لوط کی طرف (انکے ہلاک کرنے کو) بھیجے گئے ہیں

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی۔

قول باری ہے قالوا سلاما ً قال سلام کہا تم پر سلام ہو۔ ابراہیم نے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو پہلے سلام کے معنی سلمت سلاما ً میں نے سلام کیا کے ہیں اسی بنا پر یہ منصوب ہے اور دوسرا سلام اس کا جواب ہے یعنی علیکم سلام اسی بنا پر یہ مرفوع ہے ۔ دونوں کا مفہوم ایک ہے تا ہم اعراب کے لحاظ میں ان سے اس واسطے فرق رکھا گیا تا کہ کسی گمان کرنے والے کو حکایت اور نقل کا گمان نہ پیدا ہوجائے اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ لفظ سلام اہل اسلام کی تحیت یعنی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کا ذریعہ تھا نیز یہی لفظ فرشتوں کے سلام کا بھی ذریعہ تھا۔
Ayah 11:72

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا ؟ میں تو بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

بڑھاپے میں اولاد قول باری ہے فقالت یویلتیء الدوانا عجوز وھذا بعلی شیخا ً ان ھذا الشی عجیب ۔ وہ بولی ۔ ہائے میری کم بختی ! کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بڑھیا پھونس ہوگئی اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہوچکے ، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ کو اگرچہ اس بات کا یقین تھا کہ ایسا کردینا اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے تا ہم بتقاضائے بشریت وہ اس پر اپنے تعجب کا اظہار کیے بغیر نہ رہ سکیں ۔ انہوں نے اس پر غور و فکر کرنے سے پہلے اپنے فوری ردعمل کا اظہار کردیا جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے جب لاٹھی نے سانپ کی شکل اختیار کرلی تو فوری ردعمل کے طور پر آپ الٹے پائوں بھاگے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو کہا گیا اقبل ولا تخف انک من الامنین آگے آئو اور ڈرو مت ، تم بالکل محفوظ ہو ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ کو اس بنا پر تعجب ہوا کہ اس وقت شوہر کی عمر ایک س بیس برس کی تھی اور بیوی یعنی حضرت سارہ کی عمر نوے برس تھی۔
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہی۔ وہ سزا وار تعریف اور بزرگوار ہے۔

ازواج مطہرات اہل بیت میں قول باری ہے العجبین من امر اللہ رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو، ابراہیم کے گھر والو، تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں ۔ یہ قول باری اس پر دلالت کرتا ہے کہ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات آپ کے اہل بیت میں داخل تھیں اس لیے کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ کو انکے اہل بیت میں شمار کیا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کو خطاب کرتے ہوئے انہیں اہل بیت کے لفظ سے یاد فرمایا، چناچہ ارشاد باری ہے۔ ومن یقیت منکن للہ ورسولہ وتعمل صالحا ً نو تھا اجرھا موتین واعتدنا لھا رزقتا ً کریما ً اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری رہے گی اور عمل صالح کرتی رہے گی تو ہم اس کا اجرا دوہرا دیں گے اور ہم نے اس کے لیے ایک مخصوص عمدہ نعمت تیار کر رکھی ہے۔ تا قول باری واطعن اللہ ورسولہ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت اور اللہ کا اور اس کے رسول کا حکم مانو ، اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والو ! تم سے آلودگی کو دور رکھے اہل بیت کے لفظ میں ازواج مطہرات بھی داخل ہوگئیں اس لیے کہ خطاب کی ابتداء ان سے ہی ہوئی تھی۔