26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsآسان قرآن

Ayahs 26:214–222

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تم اپنے قریب ترین خاندان کو خبردار کرو (50)

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور جو مومن تمہارے پیچھے چلیں، ان کے لیے انکساری کے ساتھ اپنی شفقت کا بازو جھکا دو۔

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

اور اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ : جو کچھ تم کر رہے ہو، اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور اس (اللہ) پر بھروسہ رکھو جو بڑا اقتدار والا، بہت مہربان ہے۔

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو تمہیں اس وقت بھی دیکھتا ہے جب تم (عبادت کے لیے) کھڑے ہوتے ہو۔

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور سجدہ کرنے والوں کے درمیان تمہاری آمد و رفت کو بھی دیکھتا ہے۔

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

یقین رکھو کہ وہی ہے جو ہر بات سنتا ہر چیز جانتا ہے۔

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر اترتے ہیں ؟

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

وہ ہر ایسے شخص پر اترتے ہیں جو پرلے درجے کا جھوٹا گنہگار ہو۔

50: یہ وہ آیت ہے جس کے ذریعے آنحضرت ﷺ کو سب سے پہلی بار تبلیغ کا حکم ہوا اور یہ ہدایت دی گئی کہ تبلیغ کا آغاز اپنے قریبی خاندان کے لوگوں سے فرمائیں، چنانچہ اسی آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے اپنے خاندان کے قریبی لوگوں کو جمع کرکے ان کو دین حق کی دعوت دی، اس میں یہ سبق بھی دیا گیا ہے کہ اصلاح کرنے والے کو سب سے پہلے اپنے گھر اور اپنے خاندان سے شروع کرنا چاہیے۔
Ayahs 26:223–224

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

وہ سنی سنائی بات لا ڈالتے ہیں، (51) اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

رہے شاعر لوگ، تو ان کے پیچھے تو بےراہ لوگ چلتے ہیں۔

51: یعنی شیاطین کی باتوں پر بھروسہ کرنے والے کوئی نیک لوگ نہیں، گنہگار لوگ ہوتے ہیں اور ان شیاطین کا یہ دعوی بھی بالکل لغو ہے کہ انہیں غیب کی خبریں معلوم ہیں، ہوتا یہ ہے کہ کبھی فرشتوں کی کوئی بات ان کے کانوں میں پڑجاتی ہے تو وہ اس میں بہت سے جھوٹ شامل کرکے اپنے معتقدین کو آکر بتا دیتے ہیں۔
Ayah 26:225

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ؟ (52)

52: یہ کفار کی دوسری بات کی تردید ہے کہ نبی کریم ﷺ معاذاللہ شاعر ہیں اور قرآن کریم شاعری کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ شاعری تو ایک تخیلاتی چیز ہے جس کا بسا اوقات حقیقت سے تعلق نہیں ہوتا، چنانچہ وہ اپنی خیالی وادیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں، طرح طرح کے مبالغے کرتے ہیں اور تشبیہات اور استعاروں میں حد سے گزر جاتے ہیں، اس لئے جو لوگ شاعری ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیتے ہیں، ان کو کوئی بھی اپنا دینی پیشوا نہیں بناتا، اور اگر کوئی ان کو اپنا مقتدا بناتا بھی ہے تو وہ جو خود گمراہ ہو، اور حقیقت کے بجائے خیالی دنیا میں رہنا چاہتا ہو۔
Ayah 26:226

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور یہ کہ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں۔ (53)

53: یعنی اپنی شیخی بگھارتے ہوئے ایسے دعوے کرتے ہیں جن کا ان کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا
Ayah 26:227

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

ہاں مگر وہ لوگ مستثنی ہیں جو ایمان لائے، اور انہوں نے نیک عمل کیے، اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا، اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد اس کا بدلہ لیا۔ (54) اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب پتہ چل جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹ رہے ہیں۔

54: یہ استثناء ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ اگر شاعری میں یہ خرابیاں نہ ہوں اور ایمان اور عمل صالح کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی شاعری کرے اور اپنے شاعرانہ تخیلات کو دین و مذہب کے خلاف استعمال نہ کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور ظلم کا بدلہ لینے کا ذکر بطور خاص اس لئے کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں شاعری پروپیگنڈے کا سب سے مؤثر ذریعہ سمجھی جاتی تھی، کوئی شاعر کسی کے خلاف کوئی شاندار ہجویہ قصیدہ کہہ دیتا تو وہ لوگوں کی زبانوں پر چڑھ جاتا تھا، چنانچہ بعض بد نہاد کافروں نے حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں بھی اس قسم کے اشعار کہہ کر مشہور کردئے تھے، بعض صحابہ مثلاً حضرت حسان بن ثابت اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ کی شان میں نعتیہ قصیدے کہے اور ان میں کفار کے اعتراضات کا جواب دیا ؛ بلکہ ان کی اپنی حقیقت واضح فرمائی، اس آیت میں ان حضرات کی شاعری کی تائید کی گئی ہے۔