26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsآسان قرآن

Ayahs 26:181–182

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

پورا پورا ناپ دیا کرو، اور ان لوگوں میں سے نہ بنو جو دوسروں کو گھاٹے میں ڈالتے ہیں۔ (39)

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور سیدھی ترازو سے تولا کرو۔

39: کفر و شرک کے علاوہ ان لوگوں کی ایک خرابی یہ تھی کہ یہ تجارت میں ڈنڈی مارنے کے عادی تھے۔
Ayahs 26:183–187

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو، اور زمین میں فساد مچاتے مت پھرو۔ (40)

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے، اور پچھلی خلقت کو بھی۔

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

کہنے لگے : تم پر تو کسی نے بڑا بھاری جادو کردیا ہے۔

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ہم جیسے ہی ایک انسان ہو اور ہم تمہیں پورے یقین کے ساتھ جھوٹا سمجھتے ہیں۔

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

لہذا اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو۔

40: یہ لوگ مسافروں کو لوٹنے کے لیے ڈاکے بھی ڈالتے تھے۔
Ayah 26:188

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

شعیب نے کہا : میرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم کیا کررہے ہو۔ (41)

41: یعنی کس وقت کونسا عذاب نازل کیا جائے، یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہ جب چاہے گا، جس قسم کا عذاب مناسب ہوگا، نازل فرما دے گا، کیونکہ وہ تمہارے سب کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔
Ayahs 26:189–195

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

غرض ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے آپکڑا (42)۔ بیشک وہ ایک زبردست دن کا عذاب تھا۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے۔

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

امانت دار فرشتہ اسے لے کر اترا ہے۔

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تمہارے قلب پر اترا ہے تاکہ تم ان (پیغمبروں) میں شامل ہوجاؤ جو لوگوں کو خبردار کرتے ہیں۔

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

ایسی عربی زبان میں اترا ہے جو پیغام کو واضح کردینے والی ہے۔

42: کئی دن تک سخت گرمی پڑنے کے بعد ایک بادل ان کی بستی کے قریب آیا جس کے نیچے بظاہر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بستی کے سب لوگ اس بادل کے نیچے جمع ہوگئے تو اس بادل نے ان پر انگارے برسائے جس سے وہ سب ہلاک ہوگئے۔
Ayah 26:196

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کا تذکرہ پچھلی (آسمانی) کتابوں میں بھی موجود ہے۔ (43)

43: یعنی تورات، زبور اور انجیل میں، نیز دوسرے انبیائے کرام (علیہم السلام) کے صحیفوں میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ آخری پیغمبر تشریف لانے والے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوگا۔ اگرچہ اب ان کتابوں میں بہت سی تحریفات ہوگئی ہیں، لیکن ان میں سے متعدد بشارتیں آج بھی ان کتابوں میں موجود ہیں۔ حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے اپنی کتاب ”اظہار الحق“ کے آخری باب میں یہ بشارتیں تفصیل کے ساتھ نقل فرمائی ہیں۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ راقم الحروف کی شرح و تحقیق کے ساتھ ”بائبل سے قرآن تک“ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔
Ayahs 26:197–198

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

بھلا کیا ان لوگوں کے لیے یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ بنو اسرائیل کے علماء اس سے واقف ہیں ؟ (44)

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور اگر ہم یہ کتاب عجمی لوگوں میں سے کسی پر نازل کردیتے۔

44: بنو اسرائیل میں سے جو لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، وہ تو کھلم کھلا یہ بتاتے تھے کہ یہود و نصاریٰ کی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کی بشارت اور آپ کی علامتیں درج ہیں، لیکن بنی اسرائیل کے جو علماء ایمان نہیں لائے تھے، وہ بھی تنہائی میں کبھی کبھی اس حقیقت کا اعتراف کرلیتے تھے
Ayah 26:199

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

اور وہ ان کے سامنے پڑھ بھی دیتا تو یہ لوگ تب بھی اس پر ایمان نہ لاتے۔ (45)

45: یعنی اگر ہم قرآن کریم کے معجزہ ہونے کی اور زیادہ وضاحت اس طرح کردیتے کہ یہ عربی زبان کی کتاب کسی غیر عرب پر نازل ہوتی جو عربی سے ناواقف ہوتا، اور وہ عربی نہ جاننے کے باوجود اس عربی قرآن کو پڑھ کر سناتا تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے، کیونکہ ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ قرآن کریم کی حقانیت کے دلائل معاذ اللہ کمزور ہیں، بلکہ انہوں نے ضد کی بناء پر طے کر رکھا ہے کہ کیسے ہی دلائل سامنے آجائیں، یہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayahs 26:200–203

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

مجرموں کے دلوں میں تو ہم نے اس کو اسی طرح داخل کیا ہے۔ (46)

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک دردناک عذاب آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

اور وہ ان کے پاس اس طرح اچانک آکھڑا ہو کہ ان کو پتہ بھی نہ چلے۔

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

پھر یہ کہہ اٹھیں کہ کیا ہمیں کچھ مہلت مل سکتی ہے ؟

46: مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم اگرچہ ہدایت کی کتاب ہے اور جو لوگ حق کے طلب گار ہوں، ان کے دل پر اثر انداز ہوتی ہے اور ان کی ہدایت کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن چونکہ انہوں نے ضد کا راستہ اپنا رکھا ہے، اس لیے ہم بھی ان کے دلوں میں قرآن اس طرح داخل کرتے ہیں کہ اس کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
Ayahs 26:204–206

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟ (47)

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

بھلا بتاؤ اگر ہم کئی سال تک انہیں عیش کا سامان مہیا کرتے رہیں۔

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر وہ (عذاب) ان کے اوپر آکھڑا ہو جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے۔

47: اوپر عذاب کا جو ذکر آیا، اس کو سن کر کافر لوگ مذاق اڑانے کے انداز میں یہ کہتے تھے کہ اگر ہم پر عذاب ہونا ہے تو ابھی جلدی ہوجائے۔ یہ آیات اس کا جواب ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے فوراً کسی پر عذاب نازل نہیں کرتا، بلکہ اس کے پاس ایسے رہنما بھیجتا ہے جو اسے خبر دار کریں، اور پھر اسے مہلت دیتا ہے کہ وہ اگر حق کو قبول کرنا چاہے تو کرلے۔
Ayahs 26:207–209

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو عیش کا جو سامان ان کو دیا جاتا رہا وہ انہیں (عذاب کے وقت) کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ؟ (48)

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی کو اس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ (پہلے) اس کے لیے خبردار کرنے والے موجود تھے۔

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

تاکہ وہ نصیحت کریں اور ہم ایسے تو نہیں ہیں کہ ظلم کریں۔

48: عذاب کے جلدی نہ آنے پر کافروں کا ایک استدلال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں بڑے عیش دے رکھے ہیں اگر لوگ غلط راستے پر ہوتے تو یہ عیش ہمیں کیوں دیا جاتا ؟ ان آیات میں جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مہلت سنبھلنے کے لیے دی ہوئی ہے، اگر کچھ لوگ سنبھل گئے تو خیر، ورنہ جب مہلت ختم ہونے پر، مثلا مرنے کے بعد عذاب آئے گا تو یہ عیش و عشرت جس کے مزے تم دنیا میں اڑا رہے ہو، کچھ بھی کام نہیں آئے گا، بلکہ اس وقت معلوم ہوگا کہ آخرت کی زندگی کے مقابلے میں اس کی ذرہ برابر کوئی وقعت نہیں ہے۔
Ayahs 26:210–213

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترے۔ (49)

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

نہ یہ قرآن ان کے مطلب کا ہے اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں۔

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

انہیں تو (وحی کے) سننے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

لہذا اللہ کے ساتھ کوئی معبود نہ مانو، کبھی تم بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤ جنہیں عذاب ہوگا۔

49: یہاں سے چند ان باتوں کی تردید کی جا رہی ہے جو کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ بنیادی طور پر ان کے دو دعوے تھے، بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ معاذ اللہ آنحضرت ﷺ کاہن ہیں اور بعض لوگ آپ کو شاعر کہہ کر قرآن کریم کو شاعری کی کتاب قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آیات میں ان دونوں باتوں کی تردید فرمائی ہے۔ ”کاہن“ ان لوگوں کو کہا جاتا تھا جن کا دعویٰ یہ تھا کہ جنات ان کے قبضے میں ہیں جو انہیں غیب کی خبریں لا کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں کاہنوں کی ٰیہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ جو جنات ان کے پاس آتے ہیں، وہ در اصل شیاطین ہیں۔ اور قرآن کریم کے مضامین ایسے ہیں کہ شیاطین کو کبھی پسند نہیں آسکتے، اور نہ وہ ایسی نیکی کی باتیں کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔