Chapter 3 of 7
جمعِ قرآن
انہی دنوں ظاہرہونے والے فتنوں کے اسی سلسلے میں نبوت کے ایک جھوٹے دعویدار ’’مُسیلمہ کذاب‘‘کی طرف سے برپاکردہ فتنہ بھی بڑی ہی شدومدکے ساتھ اٹھاتھا،جس کے نتیجے میں مشہور ومعروف جنگ’’یمامہ‘‘کی نوبت آئی تھی،یہ بہت ہی خطرناک اورنازک ترین موقع تھا، انجامِ کاراگرچہ مسلمانوں کوفتح نصیب ہوئی تھی ،مسیلمہ بھی ماراگیاتھا،لیکن اس جنگ کے دوران مسلمانوں کوشدیدمشکلات کاسامناکرناپڑاتھا،جانی نقصان بھی بہت زیادہ ہواتھا، ایک ہزارسے زائدمسلمان شہیدہوئے تھے،جن میں سے سترحفاظِ قرآ ن تھے…ایک ہی جنگ میں ایک ساتھ سترحفاظِ قرآن کی شہادت…یہ صورتِ حال یقینابہت ہی پریشان کن تھی…کیونکہ اگریہ سلسلہ اسی طرح جاری رہاتوپھر ’’حفاظتِ قرآن‘‘کاکیاانتظام ہوگا؟
یہ بات اگرچہ تمام مسلمانوں کیلئے ہی باعثِ تشویش تھی ،لیکن بالخصوص حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ مسلسل حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے اصرارکرتے رہے کہ جلد از جلدقرآن کریم کویکجاکرکے کتابی شکل میں محفوظ کرلیاجائے،اس پرحضرت ابوبکرؓ ابتداء میں تویہ جواب دیتے رہے کہ ’’جوکام خودرسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا ٗمیں وہ کام کس طرح انجام دے سکتاہوں ‘‘لیکن بالآخرحضرت عمررضی اللہ عنہ کی طرف سے مسلسل اصرارکے نتیجے میں حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کواس بارے میں شرحِ صدرہوگیا،اوروہ اس چیزپرآمادہ ہوگئے۔
ظاہرہے کہ یہ’’جمعِ قرآن‘‘ انتہائی اہم اورنازک ترین کام تھاجوکہ دوچارآدمیوں کے بس کی بات نہیں تھی،لہٰذااس مقصدکیلئے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے متعددایسے افرادپرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جنہیں حفظِ قرآن کے حوالے سے بڑی شہرت ٗنیزعلوم القرآن میں خوب مہارت اورمکمل دسترس حاصل تھی،ان میں سے ہرایک کااپنی جگہ بڑانام تھااوربلندمقام تھا…اورپھران تمام حضرات پرمشتمل اس کمیٹی کاسربراہ حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کومقررکیاگیا…اس کمیٹی میں شامل ان تمام حضرات نے اس بات پر خوشدلی سے اتفاق کیا،ان میں سے کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا،بلکہ ان سبھی حضرات نے زیدبن ثابتؓ کی اس سربراہی پراپنی طرف سے مسرت کااورمکمل اطمینان کااظہارکیا۔
حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کیلئے یہ چیزیقینا بہت بڑی آزمائش تھی ،اوربہت ہی بڑی ذمہ داری تھی،کیونکہ اس چیزکاتعلق ’’کتاب اللہ‘‘کے ساتھ تھا،لہٰذایہ انتہائی حساس اور نازک ترین معاملہ تھا۔
جبکہ معاملے کی اس نزاکت کے ساتھ ساتھ یہ اللہ کے دین اوراللہ کے کلام کی بہت عظیم ترین خدمت بھی تھی،حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کیلئے یہ بہت بڑاشرف اوراعزازبھی تھاکہ وہ کمیٹی جوپہلی بارقرآن کریم کوکتابی شکل میں یکجاکرنے کامبارک ترین کام انجام دے رہی تھی ٗیہ اس کمیٹی کے سربراہ تھے…نیزاس سے رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین اورخلیفۃ المسلمین حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ودیگراکابرصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کاجومقام ومرتبہ تھا،ان کے علم پرانہیں جومکمل اعتماد تھا،اس سے بھی بڑھ کریہ کہ ان کی امانت ودیانت پرجوبھروسہ تھا…اس واقعے سے اس چیزکی بھی خوب عکاسی ہوتی ہے…گویارسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ٗودیگراکابرصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک ’’قرآن کریم‘‘کے بارے میں حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کاعلم ’’حرفِ آخر‘‘کی حیثیت رکھتاتھا…
چنانچہ حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کی زیرِنگرانی اس کمیٹی نے پہلی بار’’جمعِ قرآن‘‘کی یہ عظیم خدمت انجام دیتے ہوئے قرآن کریم کوکتابی شکل میں یکجااورمحفوظ کرلیا… یقینااس حوالے سے تمام امتِ مسلمہ تاقیامت حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کی مرہونِ منت رہے گی۔