Chapter 4 of 7
’’رسمِ عثمانی…اورحضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ‘‘
خلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کے بعدخلیفۂ دوم حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کادورآیا،جوکہ یادگاراوربے مثال فتوحات کادورتھا،جس کے نتیجے میں اسلامی ریاست مشرق ومغرب میں بہت زیادہ وسعت اختیار کرگئی … مزیدیہ کہ ان مفتوحہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے غیرعرب باشندے بھی بہت بڑی تعداد میں دینِ اسلام قبول کرتے چلے گئے تھے۔
اورپھرحضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعدخلیفۂ سوم کی حیثیت سے جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منصبِ خلافت سنبھالاتوکیفیت یہی تھی کہ اسلامی ریاست کارقبہ بہت زیادہ وسعت اختیارکرچکاتھا…مزیدیہ کہ اب خودحضرت عثمان ؓ کے دور میں بھی کافی فتوحات ہوئیں …جس کے نتیجے میں مزیدغیرعرب باشندے مسلمان ہوتے چلے گئے…جوکہ دینِ اسلام کی حقانیت وصداقت کابہت بڑاثبوت تھاکہ مشرق ومغرب میں جوکوئی بھی اپنی آنکھوں سے تعصب کی عینک اتارکرسچے دل اورخلوصِ نیت کے ساتھ قرآنی تعلیمات کامطالعہ کرے ٗ وہ ان پاکیزہ تعلیمات سے متأثرہوئے بغیرنہیں رہ سکتا…
لیکن اس کے ساتھ ہی ’’قرآن کریم‘‘کے حوالے سے اس موقع پرایکِ قابلِ تشویش صورتِ حال یہ پیش آئی کہ دوردرازکے علاقوں سے ایسی خبریں موصول ہونے لگیں کہ قرآن کریم کے بعض کلمات کے تلفظ کے معاملے میں لوگوں میں اختلاف کی نوبت آرہی ہے۔
دراصل قرآن کریم کے بعض کلمات اس طرح تحریرتھے کہ انہیں ایک سے زائدطریقے سے پڑھاجاسکتاتھا(بالخصوص جبکہ اُس دورمیں حروف پرنقطے وغیرہ بھی نہیں لگائے جاتے تھے)قرآن کریم چونکہ عربی زبان میں ہے لہٰذااہلِ زبان یعنی عربوں کیلئے تواس میں کوئی دقت نہیں تھی،کیونکہ وہ قرآنی کلمات کے معانی ومفاہیم سے واقف تھے،لہٰذاوہ بخوبی جانتے تھے کہ کس کلمے کوکس طرح پڑھناہے…البتہ جواہلِ زبان نہیں تھے،ان کیلئے یہ معاملہ کافی نازک تھا…بالخصوص دوردرازکے ایک علاقے ’’آرمینیا‘‘کے محاذپر مسلمان سپاہی اللہ کے دین کی سربلندی کی خاطردن بھردشمن کے خلاف برسرِپیکاررہنے کے بعد رات کی تاریکی پھیلتے ہی جب اپنے رب کے ساتھ رازونیاز ٗاوردعاء ومناجات میں مشغول ہوجاتے،ان کے خیموں سے تلاوتِ قرآن کی آوازیں بلندہونے لگتیں ، تو ایسے میں یہ بات شدت کے ساتھ محسوس کی جاتی کہ قرآن کریم کے بعض کلمات کے تلفظ میں ان میں فرق اوراختلاف پایاجاتا،کوئی کس طرح تلفظ کرتا،اورکوئی کس طرح…یوں ان میں اختلاف کی نوبت آتی…قرآن جوکہ اللہ کاکلام ہے،اورجوکہ تمام مسلمانوں کواتفاق واتحادکاسبق سکھاتاہے…خوداسی قرآن کے تلفظ اورتلاوت کے بارے میں ہی اگر اختلاف کی نوبت آنے لگے…مزیدیہ کہ مسلمان سپاہی اگرباہم اختلاف کرنے لگیں (وہ بھی قرآن کریم کے بارے میں )توظاہرہے کہ معاملہ کس قدرسنگین تصورکیاجائے گا…
چنانچہ وہاں ’’آرمینیا‘‘کے اس محاذپراسلامی لشکرکے سپہ سالارحضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ(۱) نے اس صورتِ حال کی نزاکت اورسنگینی کوبڑی شدت کے ساتھ محسوس کیا، اورپھرآرمینیاسے بہت طویل سفرکرتے ہوئے مدینہ پہنچے ،جہاں انہوں نے خلیفۂ وقت حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کوصورتِ حال کی نزاکت سے آگاہ کیا،اور جلد از جلد اس معاملے کے مناسب حل کیلئے کسی فوری اقدام کی اہمیت وضرورت کی طرف انہیں متوجہ کیا ۔
چنانچہ فوری اورہنگامی طورپراس معاملے کے سدِباب کی غرض سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اکابرِصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشاورت کے بعدیہ فیصلہ فرمایا کہ ’’قرآن کریم کاایک نیانسخہ تیارکیاجائے ،جس میں ہرکلمے کواورہرلفظ کوفقط اسی طرح تحریرکیاجائے کہ جس طرح اس کاتلفظ مقصودہے،کسی اورطرح اسے پڑھاہی نہ جاسکے‘‘۔
چنانچہ اس فیصلے پرعملدرآمدکی غرض سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کبارِصحابہ میں سے متعددایسے افرادپرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جنہیں تمام دینی علوم ٗبالخصوص قرآنی علوم میں خوب مہارت اوربے مثال دسترس حاصل تھی…اورپھراس کمیٹی کے سربراہ کے طورپرانہوں نے حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کومنتخب فرمایا(جیساکہ اس سے قبل ’’جمعِ قرآن ‘‘کے موقع پرخلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں ہی منتخب فرمایاتھا)
چنانچہ اس مقصدکیلئے مخصوص رسم الخط پراتفاق کیاگیا،اورپھراس مخصوص اورطے شدہ رسم الخط کے مطابق قرآن کریم کاازسرِنونیانسخہ تیارکیاگیا(حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی طرف نسبت کے طورپریہ مخصوص رسم الخط ہمیشہ کیلئے ’’رسمِ عثمانی‘‘ کے نام سے معروف ہوگیا)۔
اس موقع پر قرآن کریم کی ازسرِنوکتابت کایہ عظیم کام بھی حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ہی انجام دے گیا…یوں ’’حفاظتِ قرآن‘‘کے حوالے سے حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کی یہ بھی ایک یادگارترین دینی خدمت ٗنیزتمام امت پرتاقیاقت ان کی طرف سے یہ بھی ایک احسانِ عظیم تھا۔