Chapter 2 of 7
حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ عہدِنبوی کے بعد
رسول اللہ ﷺ کی مسلسل صحبت ومعیت علمی استفادہ اورکسبِ فیض ٗنیزاس سلسلے میں مسلسل محنت وکوشش ٗ جدوجہد ٗاورسعیِٔ پیہم کانتیجہ یہ تھاکہ حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کودینی علوم میں اس قدربلندترین مقام ومرتبہ نصیب ہواکہ اُس دورمیں اوراُس معاشرے میں کہ جہاں ہرطرف صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مبارک ہستیاں تھیں جن کی تربیت براہِ راست خودرسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی،جہاں چہارسوبڑے بڑے جبالِ علم موجودتھے، وہاں حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کوعلمی لحاظ سے بہت خاص حیثیت حاصل تھی اورانہیں علم ومعرفت کی دنیامیں انتہائی بلندپایہ شخصیت تصورکیاجاتاتھا۔
خصوصاًقرآن کریم اوراس سے متعلق جوبھی علوم تھے ٗان کے بارے میں حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کامقام ومرتبہ سبھی سے منفرداورممتازتھا،اوراس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہتے ہوئے ٗخودآپؐ کے حکم پر’’کتابتِ وحی‘‘کی عظیم ترین خدمت ٗاوریہ مقدس ترین فریضہ سرانجام دینے کاشرف اوراعزازجس قدربڑے پیمانے پرحضرت زیدبن ثابتؓ کے حصے میں آیا…ا س قدربڑے پیمانے پریہ شرف حضرات ’’کاتبینِ وحی‘‘میں سے کسی اورشخصیت کے حصے میں نہیں آیا۔(۱)
لہٰذاقرآن کریم آج چودہ سوچھتیس سال گذرجانے کے باوجوددنیاکے کونے کونے میں پڑھاجارہاہے،اس کی تلاوت ٗ نیزاس کی پاکیزہ ومقدس تعلیمات پرعمل کے ذریعے اہلِ ایمان اپنے لئے دونوں جہانوں میں خیروخوبی اورصلاح وفلاح کاسامان اپنے دامن میں سمیٹ رہے ہیں …یقیناًاس کے پیچھے حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کی اس محنت وکوشش کابہت بڑاعمل دخل ہے جووہ …بتوفیقِ الٰہی…’’کاتبِ وحی‘‘کی حیثیت سے انجام دیتے رہے،لہٰذااس سلسلے میں تمام امت یقیناان کی مرہونِ منت ہے۔
٭…جس طرح خودرسول اللہ ﷺ کے مبارک دورمیں قرآنی علوم سے متعلق تمام معاملات میں ہرکوئی حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کی خاص حیثیت اورمقام ومرتبے کا معترف رہا…بعینہٖ یہی کیفیت رسول اللہ ﷺ کامبارک دورگذرجانے کے بعدحضرات خلفائے راشدین کے دورمیں بھی برقراررہی…
چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کے فوری بعدجب صورتِ حال یکسربدل کررہ گئی تھی،تب اس بدلی ہوئی صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیک وقت بہت سے فتنوں نے سراٹھایاتھا(جھوٹے مدعیانِ نبوت ،منکرینِ زکوٰۃ ، مرتدین،وغیرہ) تب رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین کی حیثیت سے ان تمامترفتنوں کی سرکوبی وبیخ کنی کی عظیم ذمہ داری حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے کندھوں پرآپڑی تھی ٗجسے انہوں نے بڑی ہی عزیمت واستقامت اورایمانی جذبے کے ساتھ بحسن وخوبی نبھایاتھا۔