ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس (دوران گفتگو) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟ میں نے کہا: (اچھا ہوا) آپ نے واقف کار سے پوچھا (میں آپ کو بتاتا ہوں) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل (نامی شخص) کو (امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ) بھیجا، وہ (آ کر) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا رخ کیا (مہرہ ایک قبیلہ کے دادا کا نام ہے) اس نے (دعا مانگی) کہا: اے اللہ! میں تیرے پاس کوئی مریض لے کر نہیں آیا کہ اس کا علاج کراؤں، اور نہ کسی قیدی کے لیے آیا اسے آزاد کرا لوں، تو اپنے بندے کو پلا (یعنی مجھے) جو تجھے پلانا ہے اور اس کے ساتھ بکر بن معاویہ کو بھی پلا (اس نے یہ دعا کر کے) اس شراب کا شکریہ ادا کیا، جو بکر بن معاویہ نے اسے پلائی تھی، (انجام کار) اس کے لیے (آسمان پر) کئی بدلیاں چھائیں اور اس سے کہا گیا کہ تم ان میں سے کسی ایک کو اپنے لیے چن لو، اس نے ان میں سے کالی رنگ کی بدلی کو پسند کرلیا، کہا گیا: اسے لے لو اپنی ہلاکت و بربادی کی صورت میں، عاد قوم کے کسی فرد کو بھی نہ باقی چھوڑے گی، اور یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ عاد پر ہوا (آندھی) اس حلقہ یعنی انگوٹھی کے حلقہ کے برابر ہی چھوڑی گئی۔ پھر آپ نے آیت «إذ أرسلنا عليهم الريح العقيم ما تذر من شيء أتت عليه إلا جعلته کالرميم» یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی جس چیز کو بھی وہ ہوا چھو جاتی اسے چورا چورا کردیتی (الذاریات: ٤٢) ، پڑھی ١ ؎۔
Abu Wail reported that a man of the tribe of Rabiah said: I came to Madinah and met Allahs Messenger ﷺ . The envoy of Aad was mentioned there and I said, "I seek refuge in Allah lest I be like the envoy of Aad." So, Allahs Messenger ﷺ asked, "What about the envoy of Aad?" I said, "You have always come across good and adept envoys. As for the Aad, when they were afflicted with famine, they sent Qayl (one of their members). He came to Bakr ibn Muawiyah and he gave him wine to drink and two singing girls sang before him. Then he went out towards the mountain Mahrah, saying. O Allah, I have not come to treat a sick person or to ransom a captive. So, give to drink to Your slave what You will give, but with him give to Bakr ibn Muawiyah, too, this will show thankfulness for the wine served to me. Then many small couds were brought to him and he was asked to choose one them. He chose a black from them. He was told to pick up burning ashes that would not spare anyone of the Aad. Allahs Messenger said that only as much wind as the circle of his ring was sent to Aad. He then recited the verse: "When we loosed against them a blighting wind that left nothing it came upon, but made it like ashes." (51: 41-42) [Ibn e Majah 2816] --------------------------------------------------------------------------------
حسن الضعيفة تحت الحديث (1228)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3273
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کو کئی لوگوں نے سلام ابومنذر سے، سلام نے عاصم بن ابی النجود سے، عاصم نے ابو وائل سے اور ابو وائل نے («عن رجل من ربیعة» کی جگہ) حارث بن حسان سے روایت کیا ہے۔ (یہ روایت آگے آرہی ہے) ٢- حارث بن حسان کو حارث بن یزید بھی کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٠ (٢٨١٦) (تحفة الأشراف: ٣٢٧٧) (حسن)
حارث بن یزید البکری کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، مسجد نبوی میں گیا، وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، کالے جھنڈ ہوا میں اڑ رہے تھے اور بلال ؓ آپ کے سامنے تلوار لٹکائے ہوئے کھڑے تھے، میں نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے کہا: آپ کا ارادہ عمرو بن العاص ؓ کو (فوجی دستہ کے ساتھ) کسی طرف بھیجنے کا ہے، پھر پوری لمبی حدیث سفیان بن عیینہ کی حدیث کی طرح اسی کے ہم معنی بیان کی۔ حارث بن یزید کو حارث بن حسان بھی کہا جاتا ہے۔
Sayyidina Harith ibn Yazid Bakri (RA) narrated: I came to Madinah and entered the mosque. It was full of people, black flags fluttered and Bilal (RA) stood, sword drawn, by Allahs Messenger ﷺ . I asked, "Why are the people assembled?" I was told that the Prophet ﷺ intended to send Amr ibn al-Aas on an expedition. Then he narrated thehadith in detail bearing the same meaning as the hadith of Sufyan ibnUyaynah. And he (Harith ibn Yazid) was also called Harith ibn Hassan. [Ibn e Majah 2816] --------------------------------------------------------------------------------
حسن انظر ما قبله (3273)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3274
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «إدبار النجوم» ١ ؎ (نجوم کے پیچھے) سے مراد نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتیں یعنی سنتیں ہیں اور «إدبار السجود» (سجدوں کے بعد) سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعتیں ہیں ٢ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "After (the setting of) the stars pray two rakaat before the fair, and after the sujud (prostration, sunset) pray two rakaat." (That is, after maghrib).
ضعيف، الضعيفة (...) ، // ضعيف الجامع الصغير (248) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3275
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اس حدیث کو مرفوعاً صرف محمد بن فضیل کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ رشدین بن کریب سے روایت کرتے ہیں، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے محمد (محمد بن فضیل) اور رشدین بن کریب کے بارے میں پوچھا کہ ان دونوں میں کون زیادہ ثقہ ہے؟ انہوں نے کہا: دونوں ایک سے ہیں، لیکن محمد بن فضیل میرے نزدیک زیادہ راجح ہیں (یعنی انہیں فوقیت حاصل ہے) ٤- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن (دارمی) سے اس بارے میں پوچھا (آپ کیا کہتے ہیں؟ ) کہا: کیا خوب دونوں میں یکسانیت ہے، لیکن رشدین بن کریب میرے نزدیک ان دونوں میں قابل ترجیح ہیں، کہتے ہیں: میرے نزدیک بات وہی درست ہے جو ابو محمد یعنی دارمی نے کہی ہے، رشدین محمد بن فضیل سے راجح ہیں اور پہلے کے بھی ہیں، رشدین نے ابن عباس کا زمانہ پایا ہے اور انہیں دیکھا بھی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سورة الطور میں «إِدْبَارُ السُّجُودِ» (ہمزہ کے کسرہ ساتھ ) ہے، اور سورة ق میں «أَدْبَارُ السُّجُودِ» لیکن اس حدیث میں یہاں بھی ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ روایت ہے، بہرحال یہاں انہی دونوں کی تفسیر مقصود ہے، («ادبار السجود» بفتح الہمزہ کی صورت میں بعض لوگوں نے اس کا معنی سجدوں کے بعد یعنی نمازوں کے بعد کی تسبیحات بیان کیا ہے۔ ٢ ؎: مولف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «ادبار السجود» (الطور: ٤٩) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٣٤٨) (ضعیف) (سند میں رشدین بن کریب ضعیف راوی ہیں)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ (معراج کی رات) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے تو کہا: یہی وہ آخری جگہ ہے جہاں زمین سے چیزیں اٹھ کر پہنچتی ہیں اور یہی وہ بلندی کی آخری حد ہے جہاں سے چیزیں نیچے آتی اور اترتی ہیں، یہیں اللہ نے آپ کو وہ تین چیزیں عطا فرمائیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں فرمائی تھیں، ( ١) آپ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں، ( ٢) سورة البقرہ کی «خواتیم» (آخری آیات) عطا کی گئیں، ( ٣) اور آپ کی امتیوں میں سے جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا، ان کے مہلک و بھیانک گناہ بھی بخش دیئے گئے، (پھر) ابن مسعود ؓ نے آیت «إذ يغشی السدرة ما يغشی» ڈھانپ رہی تھی سدرہ کو جو چیز ڈھانپ رہی تھی (النجم: ١٦) ، پڑھ کر کہا «السدرہ» (بیری کا درخت) چھٹے آسمان پر ہے، سفیان کہتے ہیں: سونے کے پروانے ڈھانپ رہے تھے اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے انہیں چونکا دیا (یعنی تصور میں چونک کر ان پروانوں کے اڑنے کی کیفیت دکھائی) مالک بن مغول کے سوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہیں تک مخلوق کے علم کی پہنچ ہے اس سے اوپر کیا کچھ ہے کیا کچھ ہوتا ہے انہیں اس کا کچھ بھی علم اور کچھ بھی خبر نہیں ہے۔
Sayyidina Ibn Masud (RA) reported that when Allahs Messenger ﷺ reached sidratul muntahah (during his miraj)-muntahah is to which one ascends from earth and from which one descends to earth-Allah gave him three things that were never given to any Prophet ﷺ before him. The five times salah was prescribed for him, the concluding verses of surah al-Baqarah were given to him, and his ummah were forgiven all major sins as long as they do not associate anything with Allah. Ibn Masud said about this verse; "When that which shrouds shrouded the Lote-tree." (53: 16) The sidrah is at the sixth heaven." Sufyan said, "That which shrouds are butterflies of gold", and he indicated with his hand how they fly. Maalik ibn Mighwal and others said that at this point the knowledge of the creatures ends none of them has knowledge beyond that.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3276
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٧٦ (١٧٣)، سنن النسائی/الصلاة ١ (٤٥٢) (تحفة الأشراف: ٩٥٤٨)، و مسند احمد (١/٣٨٧، ٤٢٢) (صحیح)
شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے زر بن حبیش سے آیت: «فكان قاب قوسين أو أدنی» دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم فرق رہ گیا (النجم: ٩) ، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھے ابن مسعود ؓ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل کو دیکھا اور ان کے چھ سو پر تھے۔
Shaybani narrated: I asked Zirr ibn Habaysh about the words of Allah, the Majestic, the Glorious: "Till he was within two bows length or even nearer." (53: 9) He said that Ibn Masud (RA) had informed him that the Prophet ﷺ saw Jibril and he had six hundred wings. [Bukhari 4656, Muslim 174]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3277
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٧ (٣٢٣٢)، وتفسیر سورة النجم ٢ (٤٨٥٦)، و ٣ (٤٨٥٧)، صحیح مسلم/الإیمان ٧٦ (١٧٤) (تحفة الأشراف: ٩٢٠٥) (صحیح)
عامر شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ کی ملاقات کعب الاحبار سے عرفہ میں ہوئی، انہوں نے کعب سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے تکبیرات پڑھیں جن کی صدائے بازگشت پہاڑوں میں گونجنے لگی، ابن عباس ؓ نے کہا: ہم بنو ہاشم سے تعلق رکھتے ہیں، کعب نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنی رویت و دیدار کو اور اپنے کلام کو محمد ﷺ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان تقسیم کردیا ہے۔ اللہ نے موسیٰ سے دو بار بات کی، اور محمد ﷺ نے اللہ کو دو بار دیکھا۔ مسروق کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس پہنچا، میں نے ان سے پوچھا: کیا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: تم نے تو ایسی بات کہی ہے جسے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ہیں، میں نے کہا: ٹھہریئے، جلدی نہ کیجئے (پوری بات سن لیجئے) پھر میں نے آیت «لقد رأى من آيات ربه الکبری» پھر آپ نے اللہ کی بڑی آیات و نشانیاں دیکھیں (النجم: ١٨) ، تلاوت کی ام المؤمنین عائشہ ؓ نے فرمایا: تمہیں کہاں لے جایا گیا ہے؟ (کہاں بہکا دیے گئے ہو؟ ) یہ دیکھے جانے والے تو جبرائیل تھے، تمہیں جو یہ خبر دے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ یا جن باتوں کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ان میں سے آپ نے کچھ چھپالیا ہے، یا وہ پانچ چیزیں جانتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ «إن اللہ عنده علم الساعة وينزل الغيث» اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اللہ ہی جانتا ہے کہ بارش کب اور کہاں نازل ہوگی (سورۃ لقمان: ٣٤) ، اس نے بڑا جھوٹ بولا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا، جبرائیل (علیہ السلام) کو آپ نے ان کی اپنی اصل صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، (ایک بار) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک بار جیاد میں (جیاد نشیبی مکہ کا ایک محلہ ہے) جبرائیل (علیہ السلام) کے چھ سو بازو تھے، انہوں نے سارے افق کو اپنے پروں سے ڈھانپ رکھا تھا ۔
Shabi reported that Ibn Abbas (RA) met Kab (RA) at Arafat. He asked him (Kab) about something and he began to call the takbir (Allah Akbar) till it echoed from the mountain. Ibn Abbas (RA) said, "We are children of Hashim." Kab said, "Surely, Allah divided His vision and speach between Muhammad and Musa. Musa conversed with Him twice and Muhammad saw Him twice." Masruq said that he went to Sayyidah Ayshah (RA) and asked her, "Did Muhammad see his Lord"? She said, "You have certainly said something that makes my hair stand on ends." He said, "Be patienet." Then he recited: "Certainly he saw of the greatest signs of his Lord." (53: 18) She said, "Where are you senses? That was only Jibril. Who informed you that Muhammad saw his Lord? Or, Muhammad concealed something (from his ummah) of what Allah had commanded him? Or, that he knew the five things of which Allah says: "Surely the knowledge of the Hour is with Allah alone, and He sends down the rain?" -------------------------------------------------------------------------------- (31: 34) That man lies. But of course, Muhammad ﷺ did see Jibril and he saw him in his real appearance only twice, once at the sidratul muntaha and the second time at Jiyad, he has six hundred wings that covered the horzion." [Ahmed 26099, Bukhari 3234, Muslim 177]
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3278
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
داود بن ابی ہند نے شعبی سے، شعبی نے مسروق سے اور مسروق نے عائشہ ؓ کے واسطہ سے، نبی اکرم ﷺ سے اس جیسی حدیث روایت کی، داود کی حدیث مجالد کی حدیث سے چھوٹی ہے (لیکن وہی صحیح ہے) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (بقصة ابن عباس مع کعب) وانظر حدیث رقم ٣٠٦٨ (للجزء الأخیر) (ضعیف الإسناد)
عکرمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا: محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے، میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے «لا تدرکه الأبصار وهو يدرک الأبصار» اس کو آنکھیں نہیں پاسکتی ہیں ہاں وہ خود نگاہوں کو پا لیتا ہے (الانعام: ١٠٣) ، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے (تم سمجھ نہیں سکے) یہ تو اس وقت کی بات ہے جب وہ اپنے ذاتی نور کے ساتھ تجلی فرمائے، انہوں نے کہا: آپ نے اپنے رب کو دو بار دیکھا ہے۔
Sayyidina Ikrimah (RA) reported that Sayyidina Ibn Abbas (RA) said, "Muhammad saw his Lord." He (Ikrimah) asked, "Does not Allah say: "Vision comprehends him not, but He comprehends all vision?" (6: 103) He said, "Woe to you! That is when He appears in Hit" Light which is His own Light. In fact, Muhammad saw his Lord two times."
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ نے آیت: «ولقد رآه نزلة أخری عند سدرة المنتهى» ١ ؎ «فأوحی إلى عبده ما أوحی» ٢ ؎«فكان قاب قوسين أو أدنی» ٣ ؎ کی تفسیر میں کہا: نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said about the verse: "And certainly he saw him yet another time, by the lote tree of the utmost boundary." (53: 13-14) "Thus did (Allah) reveal to His servant that which He revealed." (53: 10) "Till he was within two bows length or even rearer." (53: 9) The Prophet ﷺ had seen Him." Ibn Abbas (RA) explained that the Prophet ﷺ had seen Allah. [Muslim 176]
حسن صحيح الظلال (191 / 439)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3280
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت «ما کذب الفؤاد ما رأى» جو کچھ انہوں نے دیکھا اسے دل نے جھٹلایا نہیں (بلکہ اس کی تصدیق کی) (النجم: ١١) ، پڑھی، کہا: نبی اکرم ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھ سے دیکھا۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) explained the verse: "The heart lied not of what he saw." (53: 11) He said, "The Prophet ﷺ saw Allah with his heart." [M178]
صحيح الظلال (191 / 439)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3281
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦١٢١) (صحیح) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر ؓ سے کہا: اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو پایا ہوتا تو آپ سے پوچھتا، انہوں نے کہا: تم آپ ﷺ سے کیا پوچھتے؟ میں نے کہا: میں یہ پوچھتا کہ کیا آپ (محمد ﷺ ) نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ ابوذر ؓ نے کہا: میں نے آپ سے یہ بات پوچھی تھی، آپ نے فرمایا: وہ نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ۔
Abdullah ibn Shaqiq narrated: I said to Abu Dharr, "If I had met the Prophet ﷺ then I would have asked him (a question)." He asked, "About what would you have asked?" I said that I would have asked him if he had seen his Lord. Abu Dharr (RA) said, "I had asked him and he said that He is Light, how could he see Him." [Ahmed 21450]
صحيح الظلال (192 / 441)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3282
عبداللہ بن مسعود ؓ اس آیت: «ما کذب الفؤاد ما رأى» کی تفسیر میں کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو باریک ریشمی جوڑا پہنے ہوئے دیکھا۔ آسمان و زمین کی ساری جگہیں ان کے وجود سے بھر گئی تھیں۔
Sayyidina Abdullah (RA) explained the verse: "The heart lied not of what he saw. "(53: 11) He said, "Allahs Messenger ﷺ saw Jibril dressed in silk garment, his being having filled .up that which is between heaven and earth."
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3283
عبداللہ بن عباس ؓ آیت «الذين يجتنبون کبائر الإثم والفواحش إلا اللمم» جو لوگ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں مگر چھوٹے گناہ (جو کبھی ان سے سرزد ہوجائیں تو وہ بھی معاف ہوجائیں گے) (النجم: ٣٢) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے رب اگر بخشتا ہے تو سب ہی گناہ بخش دے، اور تیرا کون سا بندہ ایسا ہے جس سے کوئی چھوٹا گناہ بھی سرزد نہ ہوا ہو ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) spoke about this verse: "They are those who avoid great sins and indecencies save small offences." (53: 32) He said that the Prophet ﷺ said, "If you forgive, O Allah, then forgive all sin, for which of your slaves has not commited small offences?" [Ahmed 3971, Bukhari 3233]
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم منیٰ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، چاند دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (اس جانب) پہاڑ کے پیچھے اور دوسرا ٹکڑا اس جانب (پہاڑ کے آگے) رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: گواہ رہو، یعنی اس بات کے گواہ رہو کہ «اقتربت الساعة وانشق القمر» یعنی: قیامت قریب ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہوچکے ہیں۔
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3285
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
؎: قیامت قریب آچکی ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہوچکے ہیں ( القمر: ١)۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ اہل مکہ نے نبی اکرم ﷺ سے نشانی (معجزہ) کا مطالبہ کیا جس پر مکہ میں چاند دو بار دو ٹکڑے ہوا، اس پر آیت «اقتربت الساعة وانشق القمر» سے لے کر «سحر مستمر» نازل ہوئی، راوی کہتے ہیں: «سحر مستمر» میں «مستمر» کا مطلب ہے «ذاہب» (یعنی وہ جادو جو چلا آ رہا ہو)
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3286
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں «مرتین» کا معنی یہ نہیں ہے کہ چاند کے ٹکڑے ہونے کا واقعہ دو مرتبہ ہوا، یہ واقعہ دو مرتبہ ہوا نہیں، صرف ایک مرتبہ ہوا، یہاں «مرتين» سے مراد «فلقتين» ہی ہے۔
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر، ان لوگوں نے کہا: محمد ( ﷺ ) نے ہم پر جادو کردیا ہے، لیکن ان ہی میں سے بعض نے (اس کی تردید کی) کہا: اگر انہوں نے ہمیں جادو کردیا ہے تو (باہر کے) سبھی لوگوں کو جادو کے زیر اثر نہیں لاسکتے ١ ؎۔
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3289
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ان میں سے بعض نے یہ حدیث حصین سے حصین نے جبیر بن محمد بن جبیر بن مطعم سے، جبیر نے اپنے باپ محمد سے، محمد نے ان (جبیر پوتا) کے دادا جبیر بن مطعم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ باہر سے آنے والوں نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی خبر دی تھی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش آ کر نبی اکرم ﷺ سے تقدیر کے مسئلہ میں لڑنے (اور الجھنے) لگے اس پر آیت کریمہ: «يوم يسحبون في النار علی وجوههم ذوقوا مس سقر إنا کل شيء خلقناه بقدر» یاد کرو اس دن کو جب جہنم میں وہ اپنے مونہوں کے بل گھسیٹے جائیں گے (کہا جائے گا) دوزخ کا عذاب چکھو ہم نے ہر چیز تقدیر کے مطابق پیدا کی ہے (القمر: ٤٨) ، نازل ہوئی۔
صحيح، ابن ماجة (83)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3290
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس آئے اور ان کے سامنے سورة الرحمن شروع سے آخر تک پڑھی، لوگ (سن کر) چپ رہے، آپ نے کہا: میں نے یہ سورة اپنی جنوں سے ملاقات والی رات میں جنوں کو پڑھ کر سنائی تو انہوں نے مجھے تمہارے بالمقابل اچھا جواب دیا، جب بھی میں پڑھتا ہوا آیت «فبأي آلاء ربکما تکذبان» پر پہنچتا تو وہ کہتے «لا بشيء من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد» اے ہمارے رب! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کا بھی انکار نہیں کرتے، تیرے ہی لیے ہیں ساری تعریفیں ١ ؎۔
Sayyidina ]abir (RA) narrated: Allahs Messenger ﷺ came to the Sahabah and recited to them surah ar-Rahman from its beginning to its end. They observed silence. He said, "I had recited it to the jinn on the night of jinn and they had been better than you at responding. Whenever I came to the words of Allah: "Which, then of the bounties of your lord, wil you belie." (55:13) They responded, "None of your bounties, O Our lord, do we belie and for you is all praise."
حسن، الصحيحة (2150)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3291
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت کے سوا جسے وہ زہیر بن محمد سے روایت کرتے ہیں، اور کسی سے نہیں جانتے، ٢- احمد بن حنبل کہتے ہیں: زہیر بن محمد جو شام میں ہیں، وہ زہیر نہیں جن سے اہل عراق روایت کرتے ہیں تو ان وہ دوسرے آدمی ہیں، لوگوں نے ان کا نام اس وجہ سے تبدیل کردیا ہے (تاکہ لوگ ان کا نام نہ جان سکیں) کیونکہ لوگ ان سے منکر احادیث بیان کرتے تھے، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہل شام زہیر بن محمد سے مناکیر (منکر احادیث) روایت کرتے ہیں، اور اہل عراق ان سے صحیح احادیث روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «فبأي آلاء ربکما تکذبان» کا جملہ پوری سورت میں ٣١ بار آیا ہے، تو کیا اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے نماز میں مقتدی امام کے جواب میں ٣١ بار ایسا کہیں گے؟ وہ بھی زور سے، ایسا سلف سے کوئی تعامل مروی نہیں ہے، اس لیے اس کا مطلب: یا تو یہ ہے کہ نماز سے باہر جب سنیں تو ایسا جواب دیں، یا نماز میں ایک بار جواب دیں کافی ہوگا، اس بارے میں امام احمد کا فتوی ہے کہ اپنے دل میں سرّاً کہہ لے ( مغنی ) اور زیادہ صرف نوافل اور سنن میں اس طرح کے جواب کے قائل ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کی ہیں جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ ہی کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا ہے، تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما کانوا يعملون» ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کی آنکھ کی ٹھنڈک کے طور پر جو چیز تیار کی گئی ہے اسے کوئی بھی نہیں جانتا (السجدۃ: ١٧) ، جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کی (گھنی) چھاؤں میں سوار سو برس تک بھی چلتا چلا جائے تو بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، تم چاہو تو آیت کا یہ ٹکڑا «وظل ممدود» پھیلا ہوا لمبا لمبا سایہ (الواقعہ: ٣٠) ، پڑھ لو، جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ برابر دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، چاہو تو دلیل کے طور پر یہ آیت پڑھ لو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور» جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے (آل عمران: ١٨٥) ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as narrating a hadith Qudsi. Allah said: I have prepared for My righteous slaves what no eye has seen and no ear has heard and what has not occured to the heart of any mortal. If you like, recite: "No sou! knows what delight of the eyes is kept hidden from them, as a recompense for what they used to do." -------------------------------------------------------------------------------- (32:17) In Paradise, there is a tree under whose shadow a rider may travel for a hundred years, but he will not be able to go through all of it. So recite, if you like: "And the spreading shade." (56:30) And, the space in Paradise enough to place a whip is better than the world and whatever it contains. So, if you like recite: "Whoever is removed from the Fire and admitted to the Garden, he indeed shall attain the triumph. And the life of this world is naught but comfort of illustion." -------------------------------------------------------------------------------- (3:185) [Ahmed 10428]
حسن، الصحيحة (1978)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3292