Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 70 of 199

1448Sunan At-Tirmidhi

خائن، اچکے اور ڈاکو

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ، وَلَا مُنْتَهِبٍ، وَلَا مُخْتَلِسٍ، قَطْعٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَدْ رَوَاهُ مُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ هُوَ: بَصْرِيٌّ أَخُو عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقَسْمَلِيِّ، كَذَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيّ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خیانت کرنے والے، ڈاکو اور اچکے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے ١ ؎۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ said. ‘Hands are not to be cut off of one who is treacherous, who embezzles or who plunders.” [Ahmed 15074, Abu Dawud 4391]

صحيح، ابن ماجة (2589)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1448
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - مغیرہ بن مسلم نے ابن جریج کی حدیث کی طرح اسے ابوزبیر سے، ابوزبیر نے جابر ؓ سے اور جابر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی محفوظ جگہ سے جہاں مال اچھی طرح سے چھپا کر رکھا گیا مال چرانا «سرقہ» ہے اور خیانت، اچکنا اور ڈاکہ زنی یہ سب کے سب «سرقہ» کی تعریف سے خارج ہیں، لہٰذا ان کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے، «خائن» اسے کہتے ہیں جو خفیہ طریقہ پر مال لیتا رہے اور مالک کے ساتھ خیر خواہی اور ہمدردی کا اظہار کرے۔ حدیث میں مذکورہ جرائم پر حاکم جو مناسب سزا تجویز کرے گا وہ نافذ کی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ١٣ (٤٣٩١)، سنن النسائی/قطع السارق ١٤ (٤٩٧٤)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٦ (٢٥٩١)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٠)، و مسند احمد (٣/٣٨٠)، سنن الدارمی/الحدود ٨ (٢٣٥٦) (صحیح )
1449Sunan At-Tirmidhi

پھلوں اور کھجور کے خوشوں کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ، وَلَا كَثَرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى بَعْضُهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ رِوَايَةِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔

Sayyidina Rafi ibn Khadij (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘Hands are not cut off for fruit and a bunch of dates.” [Nisai 4981, Ibn e Majah 2593]

صحيح، ابن ماجة (2593)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1449
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اسی طرح بعض اور لوگوں نے بھی لیث بن سعد کی روایت کی طرح بطریق: «يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان عن رافع بن خديج عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٢ - مالک بن انس اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو بطریق: «يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن رافع بن خديج عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، ان لوگوں نے اس حدیث کی سند میں واسع بن حبان کا ذکر نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ١٢ (٤٣٨٨)، سنن النسائی/قطع السارق ١٤ (٤٩٩٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٧ (٢٥٩٣)، (تحفة الأشراف: ٣٥٨٨)، وط/الحدود ١١ (٣٢)، و مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤٦٤) و (٥/١٤٠، ١٤٢)، سنن الدارمی/الحدود ٧ (٢٣٥٠) (صحیح )
1450Sunan At-Tirmidhi

پھلوں اور کھجور کے خوشوں کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ شُيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي الْغَزْوِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ ابْنِ لَهِيعَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ هَذَا، وَيُقَالُ بُسْرُ بْنُ أَبِي أَرْطَاةَ أَيْضًا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ الْأَوْزَاعِيُّ، لَا يَرَوْنَ أَنْ يُقَامَ الْحَدُّ فِي الْغَزْوِ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ، مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ مَنْ يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ بِالْعَدُوِّ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ مِنْ أَرْضِ الْحَرْبِ، وَرَجَعَ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ، أَقَامَ الْحَدَّ عَلَى مَنْ أَصَابَهُ، كَذَلِكَ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ.

بسر بن ارطاۃ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: جنگ کے دوران (چوری کرنے والے کا) ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔

Sayyidina Busr ibn Artah (RA) said that he heard the prophet ﷺ say. “Hands are not cut off during a battle (even if one steals).” [Abu Dawud 4408]

صحيح، المشکاة (3601 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1450
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ابن لہیعہ کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، انہیں میں اوزاعی بھی ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں: دشمن کی موجودگی میں جہاد کے دوران (چوری کرنے پر) حد قائم نہیں کی جائے گی، کیونکہ جس پر حد قائم کی جائے گی اندیشہ ہے کہ وہ دشمن سے مل جائے، البتہ امام جب دارالحرب سے نکل کر دارالاسلام واپس آ جائے تو چوری کرنے والے پر حد قائم کرے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسند احمد میں عبادہ بن صامت کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أقيموا الحدود في الحضر والسفر» حضر اور سفر دونوں میں حدود قائم کرو، اس میں اور بسر بن ارطاۃ کی حدیث میں تعارض ہے، علامہ شوکانی کہتے ہیں: دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ بسر ارطاۃ کی حدیث خاص ہے جب کہ عبادہ کی حدیث عام ہے، کیونکہ ہر مسافر مجاہد نہیں ہوتا البتہ ہر مجاہد مسافر ہوتا ہے، نیز بسر کی حدیث کا تعلق چوری کی حد سے ہے، جب کہ عبادہ کی حدیث کا تعلق عام حد سے ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ١٨ (٤٤٠٨)، سنن النسائی/قطع السارق ١٧ (٤٩٨٢)، (تحفة الأشراف: ٢٠١٥)، و مسند احمد (٤/١٨١) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے جس کا ذکر مؤلف نے کیا ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابن لھیعہ “ ضعیف ہیں )
1451Sunan At-Tirmidhi

جو شخص اپنی بیوی کی لونڈی سے زناکرے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَأَيُّوبَ بْنِ مِسْكِينٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ: رُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، رَجُلٌ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَقَالَ: لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَئِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ لَأَجْلِدَنَّهُ مِائَةً، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ .

حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر ؓ کے پاس ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا تھا، انہوں نے کہا: میں اس میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا: اگر اس کی بیوی نے اسے لونڈی کے ساتھ جماع کی اجازت دی ہے تو (بطور تادیب) اسے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اجازت نہیں دی ہے تو (بطور حد) اسے رجم کروں گا۔

Habib ibn Saalim said that a man was brought to Numan ibn Bashir (RA) for having committed adultery with his wifes female slave. He said, “I will judge this case with the judgement of Allah’s Messenger If she (his wife) had made her lawful for him then I will award him a hundred stripes, and if she had not then I will sentence him to be stoned to death. [Abu Dawud 4458]

ضعيف، ابن ماجة (2551)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1451
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ٢٨ (٤٤٥٨)، سنن النسائی/النکاح ٧٠ (٣٣٦٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود (٢٥٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٦١٣)، و مسند احمد (٦/٢٧٢، ٢٧٦، ٢٧٦، ٢٧٧)، سنن الدارمی/الحدود ٢٠ (٢٣٧٤) (ضعیف) (سند میں ” حبیب بن سالم “ میں بہت کلام ہے، نیز بقول خطابی ان کا سماع نعمان ؓ سے نہیں ہے )
1452Sunan At-Tirmidhi

جو شخص اپنی بیوی کی لونڈی سے زناکرے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ نَحْوَهُ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، قَالَ: أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ النُّعْمَانِ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: لَمْ يَسْمَعْ قَتَادَةُ مِنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ، إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، وَيُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ: كُتِبَ بِهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، وَأَبُو بِشْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ هَذَا أَيْضًا، إنما قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ، فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَرُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عَلِيٌّ، وَابْنُ عُمَرَ، أَنَّ عَلَيْهِ الرَّجْمَ، وقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَيْسَ عَلَيْهِ حَدٌّ، وَلَكِنْ يُعَزَّرُ، وَذَهَبَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، إِلَى مَا رَوَى النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اس سند سے بھی نعمان بن بشیر سے اسی جیسی حدیث آئی ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: حبیب بن سالم کے پاس یہ مسئلہ لکھ کر بھیجا گیا ١ ؎۔ ابوبشر نے بھی یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے۔

Ali ibn Hujr reported from Hushaym, from Abu Bishr, from Habib ibn Saalim, from Numan ibn Bashir in the same manner. In this chapter, hadith is also narrated by Salamab ibn Muhabbaq. There is confusion in the hadith of Nu’man. Imam Bukhari said that Qatadah and Abu Bishr both had not heard this hadith from Habib ibn Saalim but from Khalid ibn Urfutah. [Abu Dawud 4460]

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1452
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - نعمان کی حدیث کی سند میں اضطراب ہے میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ قتادہ نے اس حدیث کو حبیب بن سالم سے نہیں سنا ہے، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے، ٢ - اس باب میں سلمہ بن محبق سے بھی روایت ہے، ٣ - بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، چناچہ نبی اکرم ﷺ کے کئی صحابہ سے مروی ہے جن میں علی اور ابن عمر بھی شامل ہیں کہ اس پر رجم واجب ہے، ابن مسعود کہتے ہیں: اس پر کوئی حد نہیں ہے، البتہ اس کی تادیبی سزا ہوگی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مسلک اس (حدیث) کے مطابق ہے جو نبی اکرم ﷺ سے بواسطہ نعمان بن بشیر آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا قتادہ نے یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف )
1453Sunan At-Tirmidhi

عورت جس کے ساتھ زبردستی زنا کیا جائے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَرَأَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَدَّ، وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا، وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ، وَلَا أَدْرَكَهُ، يُقَالُ: إِنَّهُ وُلِدَ بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ بِأَشْهُرٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنْ لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَكْرَهَةِ حَدٌّ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے ساتھ زبردستی زنا کیا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے حد سے بری کردیا اور زانی پر حد جاری کی، راوی نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ آپ نے اسے کچھ مہر بھی دلایا ہو ١ ؎۔

Abdul Jabbar ibn Wail ibn Hujr reported on the authority of his father that a woman was subjected to intercourse against her will in the Prophet’s times. He let her off, but appointed hadd on the man who had assaulted her, But, he did not mention if he awarded her a dower. [Ibn e Majah 2598]

ضعيف، المشکاة (3571)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1453
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، اس کی اسناد متصل نہیں ہے، ٢ - یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا: عبدالجبار بن وائل بن حجر کا سماع ان کے باپ سے ثابت نہیں ہے، انہوں نے اپنے والد کا زمانہ نہیں پایا ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے والد کی موت کے کچھ مہینے بعد پیدا ہوئے، ٣ - صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ جس سے جبراً زنا کیا گیا ہو اس پر حد واجب نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن دوسری احادیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جماع کے بدلے اس عورت کو کچھ دلایا بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٠ (٢٥٩٨) (ضعیف) (نہ تو ” حجاج بن ارطاة “ نے ” عبدالجبار “ سے سنا ہے، نہ ہی ” عبدالجبار “ نے اپنے باپ سے سنا ہے، یعنی سند میں دو جگہ انقطاع ہے، لیکن یہ مسئلہ اگلی حدیث سے ثابت ہے )
1454Sunan At-Tirmidhi

عورت جس کے ساتھ زبردستی زنا کیا جائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ، فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا، فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا، فَصَاحَتْ، فَانْطَلَقَ، وَمَرَّ عَلَيْهَا رَجُلٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، وَمَرَّتْ بِعِصَابَةٍ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، فَانْطَلَقُوا، فَأَخَذُوا الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَّتْ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا وَأَتَوْهَا، فَقَالَتْ: نَعَمْ هُوَ هَذَا، فَأَتَوْا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَمَرَ بِهِ لِيُرْجَمَ، قَامَ صَاحِبُهَا الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا صَاحِبُهَا، فَقَالَ لَهَا: اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا، وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا: ارْجُمُوهُ، وَقَالَ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ، وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

وائل بن حجر کندی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت نماز کے لیے نکلی، اسے ایک آدمی ملا، اس نے عورت کو ڈھانپ لیا اور اس سے اپنی حاجت پوری کی (یعنی اس سے زبردستی زنا کیا) ، وہ عورت چیخنے لگی اور وہ چلا گیا، پھر اس کے پاس سے ایک (دوسرا) آدمی گزرا تو یہ عورت بولی: اس (دوسرے) آدمی نے میرے ساتھ ایسا ایسا (یعنی زنا) کیا ہے ١ ؎ اور اس کے پاس سے مہاجرین کی بھی ایک جماعت گزری تو یہ عورت بولی: اس آدمی نے میرے ساتھ ایسا ایسا (یعنی زنا) کیا ہے، (یہ سن کر) وہ لوگ گئے اور جا کر انہوں نے اس آدمی کو پکڑ لیا جس کے بارے میں اس عورت نے گمان کیا تھا کہ اسی نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے اور اسے اس عورت کے پاس لائے، وہ بولی: ہاں، وہ یہی ہے، پھر وہ لوگ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے، چناچہ جب آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، تو اس عورت کے ساتھ زنا کرنے والا کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کے ساتھ زنا کرنے والا میں ہوں، پھر آپ نے اس عورت سے فرمایا: تو جا اللہ نے تیری بخشش کردی ہے ٢ ؎ اور آپ نے اس آدمی کو (جو قصوروار نہیں تھا) اچھی بات کہی ٣ ؎ اور جس آدمی نے زنا کیا تھا اس کے متعلق آپ نے فرمایا: اسے رجم کرو ، آپ نے یہ بھی فرمایا: اس (زانی) نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ اس طرح توبہ کرلیں تو ان سب کی توبہ قبول ہوجائے ۔

Alqamah ibn Wail Kindi reported on the authority of his father that in the times of Allah’s Messenger ﷺ a woman proceeded to offer salah, on her way, a man caught hold of her and assaulted her sexually, satisfying his desire from her. She shouted. He went away. A man passed by her and she said to him that the man had done with her this and that. Then a group of muhajirs passed by and she told them that the man had done with her this and that. They went, got hold of the man who they thought had molested the woman. They brought him to her and she confirmed that he was the one, so they took him to Allah’s Messenger when he commanded that he should be stoned to death, the man who had assaulted the woman stood up and said, ‘O Messenger of Allah. I was the one who had assaulted her (not he).” Allah’s Messenger ﷺ said (to the woman), “Go away. Indeed, Allah has forgiven you. And, to the man (whom the muhajirs had brought to him) he spoke a kind word, and for the man, who had assaulted her, he gave order to be stoned to death. He said, “He has repented in such a way that if (all) the people of Madinah repented like that then that would have been accepted from them’ --------------------------------------------------------------------------------

حسن - دون قوله ارجموه والأرجح أنه لم يرجم -، المشکاة (3572)، الصحيحة (900)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1454
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢ - علقمہ بن وائل بن حجر کا سماع ان کے والد سے ثابت ہے، یہ عبدالجبار بن وائل سے بڑے ہیں اور عبدالجبار کا سماع ان کے والد سے ثابت نہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حالانکہ زنا کرنے والا کوئی اور تھا، عورت نے غلطی سے اسے سمجھ لیا۔ ٢ ؎: کیونکہ تجھ سے حد والا کام زبردستی کرایا گیا ہے۔ ٣ ؎: یعنی اس کے لیے تسلی کے کلمات کہے، کیونکہ یہ بےقصور تھا۔ ٤ ؎: چونکہ اس نے خود سے زنا کا اقرار کیا اور شادی شدہ تھا، اس لیے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے رجم کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ٧ (٤٣٧٩)، (تحفة الأشراف: ١١٧٧)، و مسند احمد (٦/٣٩٩) (حسن) (اس میں رجم کی بات صحیح نہیں ہے، راجح یہی ہے کہ رجم نہیں کیا گیا، دیکھئے: الصحیحہ رقم ٩٠٠ )
1455Sunan At-Tirmidhi

جو شخص جانور سے بدکاری کرے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَجَدْتُمُوهُ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ ، فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ ؟ قَالَ: مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا، وَلَكِنْ: أَرَى رَسُولَ اللَّهِ كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْ لَحْمِهَا، أَوْ يُنْتَفَعَ بِهَا، وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس آدمی کو جانور کے ساتھ وطی (جماع) کرتے ہوئے پاؤ تو اسے قتل کر دو اور (ساتھ میں) جانور کو بھی قتل کر دو ۔ عبداللہ بن عباس ؓ سے پوچھا گیا: جانور کو قتل کرنے کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں کچھ نہیں سنا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ جس جانور کے ساتھ یہ برا فعل کیا گیا ہو، اس کا گوشت کھانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کو رسول اللہ ﷺ نے ناپسند سمجھا۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If you com across a man who has sexual intercourse with an animal then kill him and kill the animal with him.” Ibn Abbas (RA) .,- was asked, “What wrong had the animal done?” He said ‘I did not hear anything about it from Allah’s Messenger ﷺ but I suppose he did not like that one may eat its flesh or derive benefit from it, once this act was done with it.” [Abu Dawud 4464]

حسن صحيح، ابن ماجة (2564)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1455
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کو جسے وہ بطریق: «عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کرتے ہیں۔ ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عاصم کی روایت جو ابن عباس سے موقوف ہے یہ زیادہ صحیح ہے عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے جو اس سے پہلے مذکور ہوئی ہے۔ ٢ ؎: یعنی ان کا عمل عاصم کی موقوف روایت پر ہے کہ جانور سے وطی کرنے والے پر کوئی حد نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ٢٩ (٣٠٦٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٣ (٤٤٦٤)، (تحفة الأشراف: ٦١٧٦)، و مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٠٠ (حسن صحیح )
1456Sunan At-Tirmidhi

لواطت کی سزا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ، وَالْمَفْعُولَ بِهِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، فَقَالَ: مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْقَتْلَ، وَذَكَرَ فِيهِ مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى بَهِيمَةً، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، وَلَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي حَدِّ اللُّوطِيِّ، فَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِ الرَّجْمَ أَحْصَنَ أَوْ لَمْ يُحْصِنْ، وَهَذَا قَوْلُ مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، وَغَيْرُهُمْ قَالُوا: حَدُّ اللُّوطِيِّ حَدُّ الزَّانِي، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ جسے قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) کرتے ہوئے پاؤ تو فاعل اور مفعول (بدفعلی کرنے اور کرانے والے) دونوں کو قتل کر دو ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ‘ said, “If you see anyone do the deed of the people of Lut Is then kill the doer and one with whom it is done.” [Abu Dawud 4462]

صحيح، ابن ماجة (3561)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1456
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث بواسطہ ابن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے، محمد بن اسحاق نے بھی اس حدیث کو عمرو بن ابی عمرو سے روایت کیا ہے، (لیکن اس میں ہے) آپ نے فرمایا: قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) کرنے والا ملعون ہے ، راوی نے اس حدیث میں قتل کا ذکر نہیں کیا، البتہ اس میں یہ بیان ہے کہ جانور سے وطی (جماع) کرنے والا ملعون ہے ، اور یہ حدیث بطریق: «عاصم بن عمر عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی گئی ہے۔ (اس میں ہے کہ) آپ نے فرمایا: فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو ، ٢ - اس حدیث کی سند میں کلام ہے، ہم نہیں جانتے کہ اسے سہیل بن ابی صالح سے عاصم بن عمر العمری کے علاوہ کسی اور نے روایت کیا ہے اور عاصم بن عمر کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ٣ - اس باب میں جابر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - اغلام بازی (بدفعلی) کرنے والے کی حد کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں: بدفعلی کرنے والا شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اس کی سزا رجم ہے، مالک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٥ - فقہاء تابعین میں سے بعض اہل علم نے جن میں حسن بصری، ابراہیم نخعی اور عطا بن ابی رباح وغیرہ شامل ہیں کہتے ہیں: بدفعلی کرنے والے کی سزا زانی کی سزا کی طرح ہے، ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں کوئی شک نہیں کہ اغلام بازی امور معصیت کے کاموں میں سے ہلاکت خیزی کے اعتبار سے سب سے خطرناک کام ہے اور فساد و بگاڑ کے اعتبار سے کفر کے بعد اسی کا درجہ ہے، اس کی تباہ کاری بسا اوقات قتل کی تباہ کاریوں سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے، قوم لوط سے پہلے عالمی پیمانہ پر کوئی دوسری قوم اس فحش عمل میں ملوث نہیں پائی گئی تھی، یہی وجہ ہے کہ یہ قوم مختلف قسم کے عذاب سے دوچار ہوئی، چناچہ یہ اپنی رہائش گاہوں کے ساتھ پلٹ دی گئی اور زمین میں دھنسنے کے ساتھ آسمان سے نازل ہونے والے پتھروں کا شکار ہوئی، اسی لیے جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اس کی سزا زنا کی سزا سے کہیں سخت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ٢٩ (٤٤٦٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٣ (٢٥٦١) (تحفة الأشراف: ٦١٧٦)، و مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٠٠) (صحیح )
1457Sunan At-Tirmidhi

لواطت کی سزا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي عَمَلُ قَوْمِ لُوطٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ جَابِرٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) ہے ۔

Abdullah ibn Muhammad ibn Aqil reported having heard from Sayyidina Jabir (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, “That which I fear most for my people is that they may take the ways of the people of Lut. [Ibn e Majah 2563, Ahmed 15095]

حسن، ابن ماجة (2563)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1457
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اور ہم اسے صرف اسی سند «عن عبد اللہ بن محمد بن عقيل بن أبي طالب عن جابر» سے ہی جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحدود ١٢ (٢٥٦٣)، (تحفة الأشراف: ٢٣٦٧) (حسن )
1458Sunan At-Tirmidhi

مرتد کی سزا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا حَرَّقَ قَوْمًا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتُهُمْ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ ، وَلَمْ أَكُنْ لِأُحَرِّقَهُمْ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا، فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْمُرْتَدِّ، وَاخْتَلَفُوا فِي الْمَرْأَةِ إِذَا ارْتَدَّتْ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ: تُقْتَلُ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: تُحْبَسُ، وَلَا تُقْتَلُ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ.

عکرمہ سے روایت ہے کہ علی ؓ نے کچھ ایسے لوگوں کو زندہ جلا دیا جو اسلام سے مرتد ہوگئے تھے، جب ابن عباس ؓ کو یہ بات معلوم ہوئی ١ ؎ تو انہوں نے کہا: اگر (علی ؓ کی جگہ) میں ہوتا تو انہیں قتل کرتا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: جو اپنے دین (اسلام) کو بدل ڈالے اسے قتل کرو ، اور میں انہیں جلاتا نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: اللہ کے عذاب خاص جیسا تم لوگ عذاب نہ دو ، پھر اس بات کی خبر علی ؓ کو ہوئی تو انہوں نے کہا: ابن عباس ؓ نے سچ کہا ٢ ؎۔

Sayyidina Ikrimah (RA) reported that Sayyidina Ali sentenced those who had apostatised from Islam to be burnt down. When Sayyidina Ibn Abbas (RA) learnt of it, he said, “If I was there then I would have had them killed because Allah’s Messenger ﷺ had said, “He who changes his religion should be killed, I would not burn him because Allah’s Messenger ﷺ had said, ‘ Do not punish with Allah’s punishment.” When Sayyidina Ali learnt of it, he said, “ Ibn Abbas (RA) , has spoken the truth.” [Bukhari 3017]

صحيح، ابن ماجة (2535)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1458
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح حسن ہے، ٢ - مرتد کے سلسلے میں اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٣ - جب عورت اسلام سے مرتد ہوجائے تو اس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے: اسے قتل کیا جائے گا، اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٤ - اور اہل علم کی دوسری جماعت کہتی ہے: اسے قتل نہیں بلکہ قید کیا جائے گا، سفیان ثوری اور ان کے علاوہ بعض اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ علی ؓ کی جانب سے اس وقت بصرہ کے گورنر تھے۔ ٢ ؎: جو شخص اسلام میں داخل ہوگیا اور اسے اچھی طرح پہچاننے کے بعد پھر اس سے مرتد ہوگیا تو اس کا کفر اسلام نہ لانے والے کافر سے بڑھ کر ہے، اس لیے ایسے شخص کی سزا قتل ہے اور یہ سزا حدیث رسول «من بدل دينه فاقتلوه» کے مطابق سب کے لیے عام ہے خواہ مرد ہو یا عورت۔ «واللہ اعلم »
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٤٩ (٣٠١٧)، والمرتدین ٢ (٦٩٢٢)، سنن ابی داود/ الحدود ١ (٤٣٥١)، سنن النسائی/المحاربة ١٤ (٤٠٦٥)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢ (٢٥٣٥) (تحفة الأشراف: ٥٩٨٧)، و مسند احمد (١/٢٨٢، ٢٨٣، ٣٢٣) (صحیح )
1459Sunan At-Tirmidhi

مسلمانوں پر ہتھیار اٹھائے۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي مُوسَى، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔ اس باب میں ابن عمر، ابن زبیر، ابوہریرہ اور سلمہ بن الاکوع ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔

Sayyidina Abu Musa (RA) reported that’Allah’s Messenger ﷺ said, “He who raises up weapon against us has nothing to do with us.” [Muslim 98, Ibn e Majah 2577]

صحيح، ابن ماجة (2575 - 2577)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1459
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسلمانوں کے خلاف ناحق ہتھیار اٹھانے والا اگر اسے حلال سمجھ کر ان سے صف آرا ہے تو اس کے کافر ہونے میں کسی کو شبہ نہیں اور اگر اس کا یہ عمل کسی دنیاوی طمع و حرص کی بناء پر ہے تو اس کا شمار باغیوں میں سے ہوگا اور اس سے قتال جائز ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٧ (٧٠٧١)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٢ (١٠٠)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٩ (٢٥٧٧)، (تحفة الأشراف: ٠٤٢) (صحیح )
1460Sunan At-Tirmidhi

جادوگر کی سزا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَةٌ بِالسَّيْفِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا، إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَ وَكِيعٌ: هُوَ ثِقَةٌ، وَيُرْوَى عَنْ الْحَسَنِ أَيْضًا، وَالصَّحِيحُ عَنْ جُنْدَبٍ مَوْقُوفٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّمَا يُقْتَلُ السَّاحِرُ إِذَا كَانَ يَعْمَلُ فِي سِحْرِهِ مَا يَبْلُغُ بِهِ الْكُفْرَ، فَإِذَا عَمِلَ عَمَلًا دُونَ الْكُفْرِ، فَلَمْ نَرَ عَلَيْهِ قَتْلًا.

جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جادوگر کی سزا تلوار سے گردن مارنا ہے ۔

Sayyidina Jundub (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The prescribed punishment on a sorcerer is execution by sword.”

ضعيف، الضعيفة (1446)، المشکاة (3551 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2699) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1460
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن سے بھی مروی ہے، اور صحیح یہ ہے کہ جندب سے موقوفاً مروی ہے۔ ٢ - ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ٣ - اسماعیل بن مسلم مکی اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، اور اسماعیل بن مسلم جن کی نسبت عبدی اور بصریٰ ہے وکیع نے انہیں ثقہ کہا ہے۔ ٤ - صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم صحابہ اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، مالک بن انس کا یہی قول ہے، ٥ - شافعی کہتے ہیں: جب جادوگر کا جادو حد کفر تک پہنچے تو اسے قتل کیا جائے گا اور جب اس کا جادو حد کفر تک نہ پہنچے تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا قتل نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٢٦٩) (ضعیف) (سند میں ” اسماعیل بن مسلم “ ضعیف ہیں جیسا کہ مؤلف نے خود صراحت کر سنن الدارمی/ ہے )
1461Sunan At-Tirmidhi

جو شخص غنیمت کا مال چرانے والی کی سزا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ وَجَدْتُمُوهُ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَاحْرِقُوا مَتَاعَهُ ، قَالَ صَالِحٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى مَسْلَمَةَ، وَمَعَهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَوَجَدَ رَجُلًا قَدْ غَلَّ، فَحَدَّثَ سَالِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُحْرِقَ مَتَاعُهُ، فَوُجِدَ فِي مَتَاعِهِ مُصْحَفٌ، فَقَالَ سَالِمٌ: بِعْ هَذَا وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا الْحَدِيثُ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: إِنَّمَا رَوَى هَذَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ وَهُوَ: أَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ رُوِيَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَالِّ، فَلَمْ يَأْمُرْ فِيهِ بِحَرْقِ مَتَاعِهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو اللہ کی راہ میں مال (غنیمت) میں خیانت کرتے ہوئے پاؤ اس کا سامان جلا دو ۔ صالح کہتے ہیں: میں مسلمہ کے پاس گیا، ان کے ساتھ سالم بن عبداللہ تھے تو مسلمہ نے ایک ایسے آدمی کو پایا جس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی، چناچہ سالم نے (ان سے) یہ حدیث بیان کی، تو مسلمہ نے حکم دیا پھر اس (خائن) کا سامان جلا دیا گیا اور اس کے سامان میں ایک مصحف بھی پایا گیا تو سالم نے کہا: اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو۔

Sayyidina Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If you find anyone stealing from the booty then burn his property,” Salih narrated that he went to Maslamah. Saalm ibn Abdullah was also there. He had found a man who had stolen from the booty. Saalim narrated this hadith, so Maslamah commanded that the man’s property should be burnt down. They found therein a copy of the Qur’an. Saalim said, “Sell this and give away its proceeds in charity. [Abu Dawud 2713, Ahmed 144]

ضعيف، ضعيف أبي داود (468) // عندنا (580 / 2713)، المشکاة (3633 / التحقيق الثاني)، تحقيق المختارة (191 - 194) // ضعيف الجامع الصغير (5871) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1461
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اسے صالح بن محمد بن زائدہ نے روایت کیا ہے، یہی ابو واقد لیثی ہے، یہ منکرالحدیث ہے، ٣ - بخاری کہتے ہیں کہ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے دوسری احادیث بھی آئی ہیں، آپ نے ان میں اس (خائن) کے سامان جلانے کا حکم نہیں دیا ہے، ٤ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ١٤٥ (٢٧١٣)، (تحفة الأشراف: ٦٧٦٣)، سنن الدارمی/السیر ٤٩ (٢٥٣٧) (ضعیف) (سند میں ” صالح بن محمد بن زائدہ “ ضعیف ہیں )
1462Sunan At-Tirmidhi

جو شخص کسی کو ہیجڑا کہ کر پکاریاس کی سزا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا يَهُودِيُّ، فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ، وَإِذَا قَالَ: يَا مُخَنَّثُ، فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ، وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ، فَاقْتُلُوهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ رَوَاهُ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، وَقُرَّةُ بْنُ إِيَاسٍ الْمُزَنِيُّ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا، قَالُوا: مَنْ أَتَى ذَاتَ مَحْرَمٍ وَهُوَ يَعْلَمُ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ، وقَالَ أَحْمَدُ: مَنْ تَزَوَّجَ أُمَّهُ قُتِلَ، وقَالَ إِسْحَاق: مَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ قُتِلَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی آدمی دوسرے کو یہودی کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جب مخنث (ہجڑا) کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کر دو ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated; The Prophet ﷺ said, “If anyone calls another person, O Jew’ then give him twenty stripes. If he calls the other, ‘O mukhannath’ then give him twenty st’ipes, And if anyone commits adultery with a mahram woman then kill him.” [Ibn e Majah 2568]

ضعيف، المشکاة (3632 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (610) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1462
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں، ٣ - نبی اکرم ﷺ سے یہ کئی سندوں سے مروی ہے، ٤ - براء بن عازب اور قرہ بن ایاس مزنی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا، ٥ - ہمارے اصحاب (محدثین) کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: جو جانتے ہوئے کسی محرم کے ساتھ زنا کرے تو اس پر قتل واجب ہے، ٦ - (امام) احمد کہتے ہیں: جو اپنی ماں سے نکاح کرے گا اسے قتل کیا جائے گا، ٧ - اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحدود ١٥ (٢٥٦٨)، (تحفة الأشراف: ٦٠٧٥) (ضعیف) (سند میں ” ابراہیم بن اسماعیل “ ضعیف راوی ہیں )
1463Sunan At-Tirmidhi

تعزیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ، إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي التَّعْزِيرِ، وَأَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي التَّعْزِيرِ، هَذَا الْحَدِيثُ، قَالَ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرٍ، فَأَخْطَأَ فِيهِ، وَقَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ خَطَأٌ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، إِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوبردہ بن نیار ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا: دس سے زیادہ کسی کو کوڑے نہ لگائے جائیں ١ ؎ سوائے اس کے کہ اللہ کی حدود میں سے کوئی حد جاری کرنا ہو ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Burdah ibn Niyar i reported that Allah’s Messenger said, ‘Do not give more than ten lashes except when applying the punishment prescribed by Allah.” [Bukhari 6848, Muslim 1708, Abu Dawud 4492, Ahmed 15832]

صحيح، ابن ماجة (2601)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1463
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف بکیر بن اشج کی روایت سے جانتے ہیں۔ ٢ - تعزیر کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، تعزیر کے باب میں یہ حدیث سب سے اچھی ہے، ٣ - اس حدیث کو ابن لہیعہ نے بکیر سے روایت کیا ہے، لیکن ان سے اس سند میں غلطی ہوئی ہے، انہوں نے سند اس طرح بیان کی ہے: «عن عبدالرحمٰن بن جابر بن عبد اللہ عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» حالانکہ یہ غلط ہے، صحیح لیث بن سعد کی حدیث ہے، اس کی سند اس طرح ہے: «عبدالرحمٰن بن جابر بن عبد اللہ عن أبي بردة بن نيار عن النبي صلی اللہ عليه وسلم»۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کا صحیح محل یہ ہے کہ یہ بال بچوں اور غلام و خادم کی تادیب سے متعلق ہے کہ آدمی اپنے زیر لوگوں کو ادب سکھائے تو دس کوڑے تک کی سزا دے، رہ گئی دوسری وہ خطائیں جن میں شریعت نے کوئی حد مقرر نہیں کی ہے جیسا کہ خائن، لٹیرے، ڈاکو اور اچکے پر خاص حد نہیں ہے تو یہ حاکم کی رائے پر منحصر ہے، اگر حاکم اس میں تعزیراً سزا دینا چاہے تو دس کوڑے سے زیادہ جتنا چاہے حتیٰ کہ قتل تک سزا دے سکتا ہے، رہ گئی زیر نظر حدیث تو اس میں اور یہ ایسے تادیبی امور ہیں جن کا تعلق معصیت سے نہیں ہے، مثلاً والد کا اپنی چھوٹی اولاد کو بطور تأدیب سزا دینا۔ ٢ ؎: ابن القیم (رح) فرماتے ہیں: اس حدیث میں حدود سے مراد ایسے حقوق ہیں جن کا تعلق اوامر الٰہی اور منہیات الٰہی سے ہے، چناچہ «ومن يتعد حدود اللہ فأولئك هم الظالمون» (البقرة: ٢٢٩ ) اسی طرح «تلک حدود اللہ فلا تقربوها» (البقرة: ١٨٧ ) میں حدود کا یہی مفہوم ہے۔ اگر بات شریعت کے اوامر و نواہی کی ہو تو حاکم کو مناسب سزاؤں کے اختیار کی اجازت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ٤٢ (٦٨٤٨)، صحیح مسلم/الحدود ٩ (١٧٠٨)، سنن ابی داود/ الحدود ٣٩ (٤٤٩١)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٢ (٢٦٠١)، (تحفة الأشراف: ١١٧٢٠)، و مسند احمد (٣/٤٦٦)، سنن الدارمی/الحدود ١١ (٢٣٦٠) (صحیح )
1465Sunan At-Tirmidhi

کتے کے شکار میں سے کیا کھانا جائز ہے اور کیا ناجائز

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُرْسِلُ كِلَابًا لَنَا مُعَلَّمَةً، قَالَ: كُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ قَتَلْنَ، قَالَ: وَإِنْ قَتَلْنَ، مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ غَيْرُهَا ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ، قَالَ: مَا خَزَقَ فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ ،

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ اپنے سدھائے ١ ؎ ہوئے کتے (شکار کے لیے) روانہ کرتے ہیں (یہ کیا ہے؟ ) آپ نے فرمایا: وہ جو کچھ تمہارے لیے روک رکھیں اسے کھاؤ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالیں؟ آپ نے فرمایا: اگرچہ وہ (شکار کو) مار ڈالیں (پھر بھی حلال ہے) جب تک ان کے ساتھ دوسرا کتا شریک نہ ہو ، عدی بن حاتم کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ «معراض» (ہتھیار کی چوڑان) سے شکار کرتے ہیں، (اس کا کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا: جو (ہتھیار کی نوک سے) پھٹ جائے اسے کھاؤ اور جو اس کے عرض (بغیر دھاردار حصے یعنی چوڑان) سے مرجائے اسے مت کھاؤ۔

Sayyidina Adi ibn Hatim (RA) reported that he submitted, “O Messenger of Allah! ﷺ we send our trained hunting dog (to hunt).” He said, “You may eat the game they bring to you.” He submitted, “Even if he kills the game? “ He said, “Yes, provided no other dog accompanies the hunting dog.” He submitted again, “O Messenger of Allah! ﷺ we also throw the mi’rad.O” He said “Eat what they pierce, but if it dies from the blunt of the middle (of the mi’rad) then do not eat it.” [Bukhari 5477, Muslim 1929]

1464Sunan At-Tirmidhi

کتے کے شکار میں سے کیا کھانا جائز ہے اور کیا ناجائز

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ. ح وَالْحَجَّاجُ، عَنْالْوَلِيدِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ صَيْدٍ، قَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَأَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ ، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ، قَالَ: وَإِنْ قَتَلَ ، قُلْتُ: إِنَّا أَهْلُ رَمْيٍ قَالَ: مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ فَكُلْ ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّا أَهْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْيَهُودِ، وَالنَّصَارَى، وَالْمَجُوسِ، فَلَا نَجِدُ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا، فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ، ثُمَّ كُلُوا فِيهَا، وَاشْرَبُوا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ: أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، وَاسْمُ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ: جُرْثُومٌ، وَيُقَالُ: جُرْثُمُ بْنُ نَاشِبٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ قَيْسٍ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ شکاری ہیں؟ (شکار کے احکام بتائیے؟ ) آپ نے فرمایا: جب تم (شکار کے لیے) اپنا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام یعنی بسم اللہ پڑھ لو پھر وہ تمہارے لیے شکار کو روک رکھے تو اسے کھاؤ؟ میں نے کہا: اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالے، آپ نے فرمایا: اگرچہ مار ڈالے، میں نے عرض کیا: ہم لوگ تیر انداز ہیں (تو اس کے بارے میں فرمائیے؟ ) آپ نے فرمایا: تمہارا تیر جو شکار کرے اسے کھاؤ، میں نے عرض کیا: ہم سفر کرنے والے لوگ ہیں، یہود و نصاریٰ اور مجوس کی بستیوں سے گزرتے ہیں اور ان کے برتنوں کے علاوہ ہمارے پاس کوئی برتن نہیں ہوتا (تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا لیں؟ ) آپ نے فرمایا: اگر تم اس کے علاوہ کوئی برتن نہ پاس کو تو اسے پانی سے دھو لو پھر اس میں کھاؤ پیو ١ ؎۔ اس باب میں عدی بن حاتم سے بھی روایت ہے۔

Aa’izullah ibn Abdullah reported that he heard Abu Tha’labah Khushari say: I said, OH Messenger of Allah ﷺ we are hunters.” He said, “When you send your dog and recite the name of Allah and it catches the game, then eat it,” I asked, “If it kills it?” He said, “Even if it kills it.” I said, “We are shooters of arrow.” He said, “What your arrow fetches for you, eat.” I asked, “We are given to travelling and come across the Jews, the Christians and the Maj’usis (Magians) and we do nDt find anything but their vessels.” He said, “If you do not find anything but that then wash them with water and eat and drink out of them.” [Bukhari 5488, Muslim 1930]

صحيح، ابن ماجة (3207)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1464
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابوثعلبہ خشنی کا نام جرثوم ہے، انہیں جرثم بن ناشب اور جرثم بن قیس بھی کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ٤ (٥٤٧٨)، و ١٠ (٥٤٨٨)، و ١٤ (٥٤٩٦)، صحیح مسلم/الصید ١ (١٩٣٠)، و ٢ (١٩٣١)، سنن ابی داود/ الصید ٢ (٢٨٥٥)، سنن النسائی/الصید ٤ (٤٢٧١)، سنن ابن ماجہ/الصید ٣ (٣٢٠٧)، (تحفة الأشراف: ١١٨٧٥)، و مسند احمد (٤/١٩٣، ١٩٤، ١٩٥) ویأتي في السیر ١١ (١٥٦٠)، وفي الأطعمة ٧ (٦٩٧١) (صحیح )
1466Sunan At-Tirmidhi

کتے کے شکار میں سے کیا کھانا جائز ہے اور کیا ناجائز

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نُهِينَا عَنْ صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، لَا يُرَخِّصُونَ فِي صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ هُوَ: الْقَاسِمُ بْنُ نَافِعٍ الْمَكِّيُّ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں مجوسیوں کے کتے کے شکار سے منع کیا گیا ہے۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that they were disallowed to hunt with hunting dogs of the Majusis. [Ibn e Majah 3209]

ضعيف، ابن ماجة (3209)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1466
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ مجوسی کے کتے کے شکار کی اجازت نہیں دیتے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصید ٤ (٣٢٠٩)، (تحفة الأشراف: ٢٢٧١) (ضعیف) (سند میں دو راوی ” شریک القاضی “ اور ” حجاج بن ارطاة “ ضعیف ہیں )
1467Sunan At-Tirmidhi

بازکا شکار

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهَنَّادٌ، وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْبَازِي، فَقَالَ: مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، لَا يَرَوْنَ بِصَيْدِ الْبُزَاةِ وَالصُّقُورِ بَأْسًا، وقَالَ مُجَاهِدٌ: الْبُزَاةُ هُوَ: الطَّيْرُ الَّذِي يُصَادُ بِهِ مِنَ الْجَوَارِحِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ سورة المائدة آية 4 فَسَّرَ الْكِلَابَ وَالطَّيْرَ الَّذِي يُصَادُ بِهِ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي صَيْدِ الْبَازِي، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، وَقَالُوا: إِنَّمَا تَعْلِيمُهُ إِجَابَتُهُ، وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ، وَالْفُقَهَاءُ أَكْثَرُهُمْ قَالُوا: يَأْكُلُ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے باز کے شکار کے متعلق پوچھا؟ تو آپ نے فرمایا: وہ تمہارے لیے جو روک رکھے اسے کھاؤ۔

Sayyidina Adi ibn Hatim reported that he asked Allah’s Messenger ﷺ about game hunted by a hawk. He said ‘What it catches for you, eat.’ [Abu Dawud 285]

منكر، صحيح أبي داود (2541)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1467
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ہم اس حدیث کو صرف اسی سند «عن مجالد عن الشعبي» سے جانتے ہیں۔ ٢ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ باز اور شکرے کے شکار میں مضائقہ نہیں سمجھتے، ٣ - مجاہد کہتے ہیں: باز وہ پرندہ ہے جس سے شکار کیا جاتا ہے، یہ اس «جوارح» میں داخل ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ «وما علمتم من الجوارح» میں کیا ہے انہوں نے «جوارح» کی تفسیر کتے اور اس پرندے سے کی ہے جن سے شکار کیا جاتا ہے، ٤ - بعض اہل علم نے باز کے شکار کی رخصت دی ہے اگرچہ وہ شکار میں سے کچھ کھالے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی تعلیم کا مطلب ہے کہ جب اسے شکار کے لیے چھوڑا جائے تو وہ حکم قبول کرے، جب کہ بعض لوگوں نے اسے مکروہ کہا ہے، لیکن اکثر فقہاء کہتے ہیں: باز کا شکار کھایا جائے گا چاہے وہ شکار کا کچھ حصہ کھالے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصید ٢ (٢٨٥١)، (تحفة الأشراف: ٩٨٦٥) (منکر) (سند میں ” مجالد “ ضعیف ہیں )