عاصم الأحول کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ دونوں جاہلیت کے شعائر میں سے تھے ١ ؎، پھر جب اسلام آیا تو ہم ان دونوں کے درمیان طواف کرنے سے رک گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الصفا والمروة من شعائر الله» (صفا و مروہ شعائر الٰہی میں سے ہیں) نازل فرمائی۔ تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے اس کے لیے ان دونوں کے درمیان طواف (سعی) کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان کے درمیان طواف (سعی) نفل ہے اور جو کوئی بھلائی کام ثواب کی خاطر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا قدردان اور علم رکھنے والا ہے۔
Aasim Ahwal narrated: I asked Anas (RA) ibn Malik about Saf a and Marwah. He said, “They were the symbols of the jahiliyah. When Islam became (our) religion, we abandoned them, but Allah, Blessed and Exalted, revealed: “Behold! Safa and Marwa are among the Symbols of Allah. So if those who visit the House in the Season or at other times, should compass them round, it is no sin in them.” (2:158) Anas (RA) continued; “And if any one obeyeth his own impulse to good,- be sure that Allah is He Who recogniseth and knoweth.” (2: 158) [Bukhari 1648,Muslim 1278]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2966
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی ان علامات اور نشانیوں میں سے ہیں جن کی زمانہ جاہلیت میں پرستش و پوجا ہوتی تھی۔
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ تشریف لائے اور آپ بیت اللہ کا سات طواف کیا تو میں نے آپ کو یہ آیت پڑھتے سنا :«واتخذوا من مقام إبراهيم مصلی» مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو ۔ آپ نے مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی، پھر حجر اسود کے پاس آ کر اسے چوما، پھر فرمایا : ہم (سعی) وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ نے (اس کا ذکر) شروع کیا ہے۔ اور آپ نے پڑھا «إن الصفا والمروة من شعائر الله»۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated: I heard that when Allah’s Messenger ﷺ came to Makkah, he circumambulated the House seven times. He recited: “and take ye the station of Abraham as a place of prayer.” (2 : 125) And he offered salah behind the maqam. Then he came to the Hajar (Black Stone), made the istilam and said, “We begin with what Allah had begun.” And he recited. “Behold! Safa and Marwa are among the Symbols of Allah” (2: 158) [Abu Dawud 3969, Ibn e Majah 1098]
صحيح، ابن ماجة (2960)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2967
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ شروع میں کے صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی آدمی روزہ رکھتا اور افطار کا وقت ہوتا اور افطار کرنے سے پہلے سو جاتا، تو پھر وہ ساری رات اور سارا دن نہ کھاتا یہاں تک کہ شام ہوجاتی۔ قیس بن صرمہ انصاری کا واقعہ ہے کہ وہ روزے سے تھے جب افطار کا وقت آیا تو وہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے ؟ انہوں نے کہا : ہے تو نہیں، لیکن میں جاتی ہوں اور آپ کے لیے کہیں سے ڈھونڈھ لاتی ہوں، وہ دن بھر محنت مزدوری کرتے تھے اس لیے ان کی آنکھ لگ گئی۔ وہ لوٹ کر آئیں تو انہیں سوتا ہوا پایا، کہا : ہائے رے تمہاری محرومی و بدقسمتی۔ پھر جب دوپہر ہوگئی تو قیس پر غشی طاری ہوگئی، نبی اکرم ﷺ سے یہ بات ذکر کی گئی تو اس وقت یہ آیت : «أحل لکم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم» روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا (البقرہ : ١٨٧ ) ، نازل ہوئی، لوگ اس آیت سے بہت خوش ہوئے۔ (اس کے بعد یہ حکم نازل ہوگیا) «وکلوا واشربوا حتی يتبين لکم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ظاہر ہوجائے (البقرہ : ١٨٧ ) ۔
Sayyidina Bara narrated: If one of the sahabah of the Prophet ﷺ was fasting and when the time of iftar found him sleeping, he would not eat anything in the night nor the next day till it was evening (and time to break fast). Qays ibn Sirmah Ansari was fasting. When it was time for iftar, he went to his wife and asked. “Is there with you anything to eat?” She said, “No, but I will go and seek for you.” He had toiled all day, so sleep overtook him. His wife returned and when she saw him (sleeping). She said, “Your misfortune!” When it was noon next day, he fell unconscious. This was mentioned to the Prophet ﷺ and this verse was revealed. “Permitted to you, on the night of the fasts, is the approach to your wives.” (2 :187) This made them very happy. “And eat and drink, until the white thread of dawn appear to you distinct from its black thread; then complete your fast Till the night appears” (2: 187) [Bukhari 1915,Abu Dawud 2314,Nisai 2167, Ahmed 18634]
صحيح، صحيح أبي داود (2004)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2968
نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت : «وقال ربکم ادعوني أستجب لكم» اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے اعراض کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے (المؤمن : ٦٠ ) ، کی تفسیر میں فرمایا کہ دعا ہی عبادت ہے۔ پھر آپ نے سورة مومن کی آیت «وقال ربکم ادعوني أستجب لكم» سے «داخرين» ١ ؎ تک پڑھی۔
Sayyidina Nu’man ibn Bashir (RA) reported that the Prophet ﷺ said about Allah’s words: “And your Lord says: "Call on Me; I will answer your (Prayer)” (40 : 60) “Prayer (supplication) is worship”, and he recited: "Call on Me; I will answer your (Prayer): but those who are too arrogant to serve Me will surely find themselves in Hell - in humiliation!"(40: 60) [Abu Dawud 1479, Ibn e Majah 3828]
صحيح، ابن ماجة (3828)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2969
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسے منصور نے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٤٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١ (٣٨٢٨) (تحفة الأشراف : ١١٦٤٣) ، و مسند احمد (٤/٢٧١، ٢٧٦) ، ویأتي برقم ٣٢٤٧) (صحیح )
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت : «حتی يتبين لکم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اس سے مراد رات کی تاریکی سے دن کی سفیدی (روشنی) کا نمودار ہوجانا ہے ۔
Sha’bi reported from Adi bn Hatim (RA) that when the verse. “and eat and drink, until the white thread of dawn appear to you distinct from its black thread; then complete your fast Till the night appears” (2: 187)was revealed, the Prophet ﷺ said to him. That is only the light of day emerging out of the darkness of night. [Ahmed 19392,Bukhari 1916,Muslim 1090,Abu Dawud 2349]
صحيح، صحيح أبي داود (2034)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2970
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے روزے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : «حتی يتبين لکم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» یہاں تک کہ سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے نمایاں ہوجائے تو میں نے دو ڈوریاں لیں۔ ایک سفید تھی دوسری کالی، میں انہیں کو دیکھ کر (سحری کے وقت ہونے یا نہ ہونے کا) فیصلہ کرنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے کچھ باتیں کہیں (ابن ابی عمر کہتے ہیں : میرے استاد) سفیان انہیں یاد نہ رکھ سکے، آپ ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد رات اور دن ہے ۔
Sayyidina Adi ibn Hatim (RA) narrated: I asked Allah’s Messenger ﷺ about fasting. He said: "Until the white thread of dawn appear to you distinct from its black thread.” (2 : 187) So, I took two pieces of cord-a white and a black and kept observing them. Allah’s Messenger ﷺ said something to me - but the sub-narrator Sufyan forgot it. He said, “That is only night and day.” [Bukhari 4510]
صحيح، صحيح أبي داود (2034)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2971
اسلم ابوعمران تجیبی کہتے ہیں کہ ہم روم شہر میں تھے، رومیوں کی ایک بڑی جماعت ہم پر حملہ آور ہونے کے لیے نکلی تو مسلمان بھی انہی جیسی بلکہ ان سے بھی زیادہ تعداد میں ان کے مقابلے میں نکلے، عقبہ بن عامر (رض) اہل مصر کے گورنر تھے اور فضالہ بن عبید (رض) فوج کے سپہ سالار تھے۔ ایک مسلمان رومی صف پر حملہ آور ہوگیا اور اتنا زبردست حملہ کیا کہ ان کے اندر گھس گیا۔ لوگ چیخ پڑے، کہنے لگے : سبحان اللہ ! اللہ پاک و برتر ہے اس نے تو خود ہی اپنے آپ کو ہلاکت میں جھونک دیا ہے۔ (یہ سن کر) ابوایوب انصاری (رض) کھڑے ہوئے اور کہا : لوگو ! تم اس آیت کی یہ تاویل کرتے ہو، یہ آیت تو ہم انصار کے بارے میں اتری ہے، جب اللہ نے اسلام کو طاقت بخشی اور اس کے مددگار بڑھ گئے تو ہم میں سے بعض لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے چھپا کر رازداری سے آپس میں کہا کہ ہمارے مال برباد ہوگئے ہیں (یعنی ہماری کھیتی باڑیاں تباہ ہوگئی ہیں) اللہ نے اسلام کو قوت و طاقت بخش دی۔ اس کے (حمایتی) و مددگار بڑھ گئے، اب اگر ہم اپنے کاروبار اور کھیتی باڑی کی طرف متوجہ ہوجاتے تو جو نقصان ہوگیا ہے اس کمی کو پورا کرلیتے، چناچہ ہم میں سے جن لوگوں نے یہ بات کہی تھی اس کے رد میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی۔ اللہ نے فرمایا : «وأنفقوا في سبيل اللہ ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو (البقرہ : ١٩٥ ) ، تو ہلاکت یہ تھی کہ مالی حالت کو سدھار نے کی جدوجہد میں لگا جائے، اور جہاد کو چھوڑ دیا جائے (یہی وجہ تھی کہ) ابوایوب انصاری (رض) ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کی ایک علامت و ہدف کی حیثیت اختیار کر گئے تھے یہاں تک کہ سر زمین روم میں مدفون ہوئے۔
Aslam Abu Imran Tujibi (RA) narrated: We were in Rome and a mighty unit of their army advanced. So, a similar large number of the Muslim s - or a larger number - countered them. At the time the governor of Egypt was Uqbah ibn Aamir and the commander of the army was Fadalah ibn Ubayd. A man of the Muslim s penetrated the ranks of the army of the Romans. So the people shrieked. “Subhan Allah. He has thrown himself into ruin.” So, Abu Ayyub Ansari (RA) stood up and said, “O People! You interpret this verse as you say while, in fact, it was revealed about us, Ansars. When Allah gave honour to Islam and the supporters of Islam mutiplied, some of us said to some others, unknown to Allah’s Messenger ﷺ that our properties had been wasted after Allah had given honour to Islam and multiplied its supporters, we should repair our fields and properties that had been wasted. So Allah revealed to His Prophet ﷺ in answer to our fears: “And spend of your substance in the cause of Allah, and make not your own hands contribute to (your) destruction.” (2 :195) The destruction was that we should devote ourselves to repair of our properties and neglect the battles. Abu Ayyub did not cease to fight in Allah’s way till he was buried in the land of Rome. [Abu Dawud 2512]
مجاہد کہتے ہیں کہ کعب بن عجرہ (رض) نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ آیت : «فمن کان منکم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» البتہ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈا لے) تو اس پر فدیہ ہے، خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ دے، خواہ قربانی کرے (البقرہ : ١٩٦ ) ، میرے بارے میں اتری ہم حدیبیہ میں تھے، احرام باندھے ہوئے تھے، مشرکوں نے ہمیں روک رکھا تھا، میرے بال کانوں کے لو کے برابر تھے، سر کے جوئیں چہرے پر گرنے لگیں، نبی اکرم ﷺ کا گزر ہمارے پاس سے ہوا (ہمیں دیکھ کر) آپ نے فرمایا : لگتا ہے تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں، آپ نے فرمایا : سر لو مونڈ ڈالو ، پھر یہ آیت (مذکورہ) اتری۔ مجاہد کہتے ہیں : روزے تین دن ہیں، کھانا چھ مسکینوں ١ ؎ کو کھلانا ہے۔ اور قربانی (کم از کم) ایک بکری، اور اس سے زیادہ بھی ہے۔
Mujahid reported that Sayyidina Ka’b ibn Ujrah narrated: By Him Who has my soul in His hand this verse was revealed concerning myself: “And if any of you is ill, or has an ailment in his scalp, (Necessitating shaving), (He should) in compensation either fast, or feed the poor, or offer sacrifice” (2:196). We were with the Prophet ﷺ at Hudaybiyah while we had assumed the ihram and the idolators had besieged us. My hair were long up to the ears. Lice had infested them and (were so many that they) fell on my face. The Prophet ﷺ passed by and said. “It seems the lice on your head are menacing you.” I said, “Yes” He said, “So shave your hair off”, and this verse was revealed. Mujahid said, “Fasting is three days while alms are to feed six needy people, offering is one goat - or more.” [Bukhari 1816,Muslim 1201, Ibn e Majah 3079,Ahmed 18132]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2973
Notes · وضاحت
١ ؎ : ایک دوسری حدیث میں صراحت آ گئی ہے کہ تین صاع چھ مسکین کو کھلائے یعنی فی مسکین آدھا صاع (جو بھی کھانا وہاں کھایا جاتا ہو) ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٩٦٣ (تحفة الأشراف : ١١١١٤، و ١١١١٦) (صحیح )
کعب بن عجرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ اس وقت میں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میری پیشانی یا بھوؤں پر بکھر رہی تھیں، آپ نے فرمایا : کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں، آپ نے فرمایا : اپنا سر مونڈ ڈالو اور بدلہ میں قربانی کر دو ، یا تین دن روزہ رکھ لو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو ۔ ایوب (راوی) کہتے ہیں : مجھے یاد نہیں رہا کہ (میرے استاذ نے) کون سی چیز پہلے بتائی۔
Ali ibn Hujr reported from Ismail ibn Ibrahim, from Ayyub, from Mujahid, from Abdur Rahman ibn Abu Layla, from Ka’b ibn Ujrah that he said, “Allah’s Messenger ﷺ came to me while I was kindling a fire to cook a vessel and lice were falling down on my forehead. He asked me if they hurt me and I said that they did. He said that I should shave my head and make an offering, or fast for three days, or feed six needy people.” Ayyub did not remember which thing he mentioned first. [Ahmed 18130,Bukhari 1814, Muslim 1201,Abu Dawud 1856, Nisai 2848, Ibn e Majah 307]
صحيح انظر ما قبله (2973)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2974
عبدالرحمٰن بن یعمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حج عرفات کی حاضری ہے، حج عرفات کی حاضری ہے۔ حج عرفات کی حاضری ہے، منیٰ (میں قیام) کے دن تین ہیں۔ مگر جو جلدی کر کے دو دنوں ہی میں واپس ہوجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو تین دن پورے کر کے گیا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ٢ ؎ اور جو طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا، اس نے حج کو پا لیا ۔
Sayyidina Abdur Rahman ibn Ya’mar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Hajj is Arafat. The Hajj is Arafat. The Hajj is Arafat. The days of Mina are three days. “But if any one hastens to leave in two days, there is no blame on him, and if any one stays on, there is no blame on him” (2:203) And, he who reaches Arafat before rise of dawn has indeed performed Hajj. [Abu Dawud 1949,Nisai 3016, Ibn e Majah 3015]
صحيح ومضی برقم (896)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2975
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابن ابی عمر کہتے ہیں : سفیان بن عیینہ نے کہا : یہ ثوری کی سب سے عمدہ حدیث ہے، جسے انہوں نے روایت کی ہے، ٣ - اسے شعبہ نے بھی بکیر بن عطاء سے روایت کیا ہے، ٤ - اس حدیث کو ہم صرف بکیر بن عطاء کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس میں ارشاد باری تعالیٰ : «واذکروا اللہ في أيام معدودات فمن تعجل في يومين فلا إثم عليه» کی طرف اشارہ ہے (البقرہ : ٢٠٣ ) ۔ ٢ ؎ : یعنی : بارہ ذی الحجہ ہی کو رمی جمار کر کے واپس ہوجائے یا تین دن مکمل قیام کر کے تیرہ ذی الحجہ کو جمرات کی رمی (کنکری مار) کر کے واپس ہوجائے حاجی کو اختیار ہے۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ جھگڑالو ہو ١ ؎۔
Sayyidina Aisha (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The most hated of men in the sight of Allah is the most stubborn in altercation.” [Ahmed 24337,Bukhari 2157,Muslim 2668,Nisai 5438]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2976
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ اشارہ ہے ارشاد باری : «ومن الناس من يعجبک قوله في الحياة الدنيا ويشهد اللہ علی ما في قلبه وهو ألد الخصام» (البقرہ : ٢٠٤ ) کی طرف ، یعنی لوگوں میں سے بعض آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دنیاوی زندگی میں ان کی بات آپ کو اچھی لگے گی جب کہ اللہ تعالیٰ کو وہ جو اس کے دل میں ہے گواہ بنا رہا ہوتا ہے ، حقیقت میں وہ سخت جھگڑالو ہوتا ہے ۔
انس (رض) کہتے ہیں کہ یہودیوں کے یہاں جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تھی تو وہ اسے اپنے ساتھ نہ کھلاتے تھے نہ پلاتے تھے۔ اور نہ ہی اسے اپنے ساتھ گھر میں رہنے دیتے تھے، جب نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت : «ويسألونک عن المحيض قل هو أذى» ١ ؎ نازل فرمائی، پھر آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ انہیں اپنے ساتھ کھلائیں پلائیں اور ان کے ساتھ گھروں میں رہیں۔ اور ان کے ساتھ جماع کے سوا (بوس و کنار وغیرہ) سب کچھ کریں، یہودیوں نے کہا : یہ شخص ہمارا کوئی کام نہیں چھوڑتا جس میں ہماری مخالفت نہ کرتا ہو، عباد بن بشیر اور اسید بن حضیر نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ کو یہودیوں کی یہ بات بتائی اور کہا : اللہ کے رسول ! کیا ہم ان سے حالت حیض میں جماع (بھی) نہ کریں ؟ یہ سن کر آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھ لیا کہ آپ ان دونوں سے سخت ناراض ہوگئے ہیں۔ وہ اٹھ کر (اپنے گھر چلے) ان کے نکلتے ہی آپ ﷺ کے پاس دودھ کا ہدیہ آگیا، تو آپ ﷺ نے (انہیں بلانے کے لیے) ان کے پیچھے آدمی بھیجا (وہ آ گئے) تو آپ نے ان دونوں کو دودھ پلایا، جس سے انہوں نے جانا کہ آپ ان دونوں سے غصہ نہیں ہیں۔
Sayyidina Anas (RA) reported that if any of the Jewish women had her menses, they would not eat with her, not drink with her and not have her in their company. The Prophet ﷺ was asked about it and Allah, the Blessed the Exalted, revealed. “They ask thee concerning womens courses. Say: They are a hurt.” (2:222) So, Allah’s Messenger ﷺ commanded them that they should eat with the women and drink with them and be with them in the house and do everything except have sexual intercourse with them. The Jews commented that he did not intend but oppose their affairs. Abbad ibn Bashir and Usayd ibn Hudayr came to Allah’s Messenger ﷺ and informed him of that and suggested, “O Messenger of Allah ﷺ shall we not also have sexual intercourse with our women during their menstruation?” The face of Allah’s Messenger ﷺ changed colour and they imagined that he was angry at the two of them.O He stood up (and went away). A gift of milk was received at that moment for both of themand the Prophet ﷺ sent it for them. They drank it and learnt that he was not angry at them.” [Ahmed 12356,Muslim 302,Abu Dawud 258, Ibn e Majah 644]
صحيح آداب الزفاف (44) ، صحيح أبي داود (250)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2977
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : لوگ پوچھے ہیں تم سے کہ حیض کیا ہے ؟ کہہ دو کہ وہ ایک تکلیف ہے (البقرہ : ٢٢٢ ) ۔
جابر (رض) کہتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ جو اپنی بیوی سے پیچھے کی طرف سے آگے کی شرمگاہ میں (جماع کرے) تو بھینگا لڑکا پیدا ہوگا، اس پر آیت :«نساؤكم حرث لکم فأتوا حرثکم أنى شئتم» ١ ؎ نازل ہوئی۔
Ibn Abu Umar (RA) reported from Sufyan from Ibn Munkadir that he heard Jabir (RA)say, “The Jews used to say that if anyone has sex with his wife from the front but comes from the rear then their child will be sequint eyed. So this verse was revealed; “Your wives are as a tilth unto you; so approach your tilth when or how ye will.” (2: 223) [Bukhari 21528, Muslim 1435,Abu Dawud 2163,Nisai 2163,Muslim 11038, Ibn e Majah 1925]
صحيح، ابن ماجة (1925)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2978
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں ، اپنی کھیتوں میں جس طرح چاہو آؤ (البقرہ : ٢٢٣ ) ، یعنی : چاہے آگے کی طرف سے آگے میں دخول یا پیچھے کی طرف سے آگے میں دخول کرو تمہارے لیے سب طریقے ہیں ، بس احتیاط یہ رہے کہ پیچھے میں دخول نہ کرو ، ورنہ یہ چیز لعنت الٰہی کا سبب ہے۔
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت کریمہ : «نساؤكم حرث لکم فأتوا حرثکم أنى شئتم» کی تفسیر میں فرمایا : اس سے مراد ایک سوراخ (یعنی قبل اگلی شرمگاہ) میں دخول ہے۔
Sayyidah Umm Salamah (RA) reported the Prophet’s ﷺ explanation of this verse. “Your wives are as a tilth unto you; so approach your tilth when or how ye will.” (2: 223) That it calls for sexual intercourse at only one passage (i.e. vagina). [Ahmed 26768]
صحيح آداب الزفاف (27 - 28 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2979
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ عمر (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں تو ہلاک ہوگیا، آپ نے فرمایا : کس چیز نے تمہیں ہلاک کردیا ؟ کہا : رات میں نے سواری تبدیل کردی (یعنی میں نے بیوی سے آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے صحبت کرلی) ابن عباس (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے (یہ سن کر) انہیں کوئی جواب نہ دیا، تو آپ پر یہ آیت : «نساؤكم حرث لکم فأتوا حرثکم أنى شئتم» نازل ہوئی، بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرو، مگر دبر سے اور حیض سے بچو۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: Umar (RA) came to Allah’s Messenger ﷺ and said, “O Messenger of Allah ﷺ , I have perished.” He asked how and he said, “Tonight I turned my mount upside down.” He did not answer till this verse was revealed: “Your wives are as a tilth unto you; so approach your tilth when or how ye will.” (2:223) Nevertheless, a husband must refrain from having sex at the anus and during menstruation. [Ahmed 2703]
حسن الآداب (28 - 29)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2980
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ٥٤٦٩) ، وانظر مسند احمد (١/٢٩٧) (صحیح )
معقل بن یسار (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم کے زمانے میں اپنی بہن کی شادی ایک مسلمان شخص سے کردی۔ وہ اس کے یہاں کچھ عرصے تک رہیں، پھر اس نے انہیں ایسی طلاق دی کہ اس کے بعد ان سے رجوع نہ کیا یہاں تک کہ عدت کی مدت ختم ہوگئی۔ پھر دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی خواہش و چاہت پیدا ہوئی اور (دوسرے) پیغام نکاح دینے والوں کے ساتھ اس نے بھی پیغام نکاح دیا۔ معقل (رض) نے اس سے کہا : بیوقوف ! میں نے تمہاری شادی اس سے کر کے تیری عزت افزائی کی تھی پھر بھی تو اسے طلاق دے بیٹھا، قسم اللہ کی ! اب وہ تمہاری طرف زندگی بھر کبھی بھی لوٹ نہیں سکتی، اور اللہ معلوم تھا کہ اس شخص کو اس عورت کی حاجت و خواہش ہے اور اس عورت کو اس شخص کی حاجت و چاہت ہے۔ تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت : «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن» سے «وأنتم لا تعلمون» ١ ؎ تک نازل فرمائی۔ جب معقل (رض) نے یہ آیت سنی تو کہا : اب اپنے رب کی بات سنتا ہوں اور اطاعت کرتا ہوں (یہ کہہ کر) بلایا اور کہا : میں تمہاری شادی (دوبارہ) کیے دیتا ہوں اور تجھے عزت بخشتا ہوں۔
Sayyidina Ma’qil ibn Yasar (RA) reported that during the Prophet’s ﷺ times, he married his sister to a Muslim man. She remained with him as long as she was before he divorced her, one divorce. But he did not revoke it till the iddah was over. Then he longed for her and she for him, so he sent message for marriage. Ma’qil retorted, “O vile man! I had honoured you by marrying her to you, but you divorced her. By Allah, she will not return to you ever again.” But, Allah knew his need for her and her need for her spouse. So, Allah the Blessed and Exalted, revealed: “When ye divorce women, and they fulfil the term of their (Iddat), do not prevent them from marrying their (former) husbands, if they mutually agree on equitable terms. This instruction is for all amongst you, who believe in Allah and the Last Day. That is (the course Making for) most virtue and purity amongst you and Allah knows, and ye know not.” (2 : 232) On hearing this, Ma’qil (RA) remarked, “I hear and I obey.” He called the man and said, “I marry her to you and honour you.” [Bukhari 5429,Abu Dawud 2081]
صحيح، الإرواء (1843) ، صحيح أبي داود (1820)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2981
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ کئی سندوں سے حسن بصری سے مروی ہے۔ حسن بصری کے واسطہ سے یہ غریب ہے، ٣ - اس حدیث میں اس بات کا ثبوت ہے کہ بغیر ولی کے نکاح جائز نہیں ہے۔ اس لیے کہ معقل بن یسار کی بہن ثیبہ تھیں۔ اگر ولی کی بجائے معاملہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ اپنی شادی آپ کرسکتی تھیں اور وہ اپنے ولی معقل بن یسار کی محتاج نہ ہوتیں۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء کو خطاب کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں اپنے (سابق) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔ تو اس آیت میں اس بات کا ثبوت ہے کہ نکاح کا معاملہ عورتوں کی رضا مندی کے ساتھ اولیاء کے ہاتھ میں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو انہیں ان کے سابقہ شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں ، یہ نصیحت انہیں کی جاتی ہے جنہیں تم میں سے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر یقین و ایمان ہو ، یہ حکم تمہارے لیے بہت پاکیزہ اور ستھرا ہے ، اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (البقرہ : ٢٣٢ ) ۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کے غلام ابو یونس کہتے ہیں کہ مجھے عائشہ (رض) نے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھ کر تیار کر دوں۔ اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تم آیت : «حافظوا علی الصلوات والصلاة الوسطی» ١ ؎ پر پہنچو تو مجھے خبر دو ، چناچہ جب میں اس آیت پر پہنچا اور میں نے انہیں خبر دی، تو انہوں نے مجھے بول کر لکھایا «حافظوا علی الصلوات والصلاة الوسطی وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» ١ ؎ نمازوں پر مداومت کرو اور درمیانی نماز کا خاص خیال کرو، اور نماز عصر کا بھی خاص دھیان رکھو اور اللہ کے آگے خضوع و خشوع سے کھڑے ہوا کرو ۔ اور انہوں نے کہا کہ میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے ایسا ہی سنا ہے۔
The freedman of Sayyidah Aisha (RA) Abu Yunus narrated: Sayyidah Aisha (RA) commanded me to write down the Quran for her. She said that I should inform her when I come to the verse: “Guard strictly your (habit of) prayers, especially the Middle Prayer.” (2:238) So, when I came to it, I reminded her and she dictated to me (to write) She said that she had heard that from Allah’s Messenger ﷺ . [Ahmed 24502,Muslim 629,Abu Dawud 410,Nisai 471]
صحيح، صحيح أبي داود (437)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2982
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں حفصہ (رض) سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : نمازوں کی حفاظت کرو ، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو (البقرہ : ٢٣٨ ) ٢ ؎ : یہ قراءت شاذ ہے اس لیے اس کا اعتبار نہیں ہوگا ، یا یہاں واو عطفِ مغایرت کے لیے نہیں ہے بلکہ عطفِ تفسیری ہے تب اگلی حدیث کے مطابق ہوجائے گا کہ «الصلاة الوسطی» سے مراد عصر کی نماز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٦ (٦٢٩) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٥ (٤١٠) ، سنن النسائی/الصلاة ١٤ (٤٧٣) (تحفة الأشراف : ١٧٨٠٩) ، و مسند احمد (٦/٧٣) (صحیح )
علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جنگ احزاب کے دن فرمایا : اے اللہ ! ان کفار و مشرکین کی قبریں اور ان کے گھر آگ سے بھر دے جیسے کہ انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (نماز عصر) پڑھنے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا ۔
Abidah Salmam reported on the authority of Sayyidina Ali (RA) that on the day of the Ahzab (Battle of the Trenches), the Prophet ﷺ prayed (against the idolators). “O Allah, fill their graves and their homes with fire just as they kept us occupied from offering the midmost prayer till sunset.” [Ahmed 1132,Muslim 627,Abu Dawud 409,Nisai 469]
صحيح، صحيح أبي داود (436)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2984
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث علی (رض) سے متعدد سندوں سے مروی ہے۔
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «صلاة الوسطی» سے مراد عصر کی نماز ہے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said that salat al-wusta is the salah of asr. [Ahmed 19298,Bukhari 1200,Muslim 539,Abu Dawud 949,Nisai 1218]