نماز فجر میں سورت ق کی تلاوت سے متعلق
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قالت: مَا أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِ.
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان ؓ کہتی ہیں کہ میں نے ق، والقرآن المجيد کو رسول اللہ ﷺ کے پیچھے (سن سن کر) یاد کیا ہے، آپ اسے فجر میں (بکثرت) پڑھا کرتے تھے۔
It was narrated that Umm Hisham bint Harithah bin An-Numan said: I only learned :Qaf. By the Glorious Quran. Behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم); he used to recite it in Subh.
شاذ والمحفوظ أن ذلک کان في خطبة الجمعةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 949
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٣)، مسند احمد ٦/٤٦٣ (شاذ) (اس کے راوی ” ابن ابی الرجال “ حافظہ کے کمزور ہیں اس لیے کبھی غلطی کر جاتے تھے، اور یہاں کر بھی گئے ہیں، محفوظ یہ ہے کہ منبر پر خطبہ میں پڑھنے کی بات ہے، جیسا کہ مؤلف کے یہاں بھی آ رہا ہے، دیکھئے رقم: ١٤١٢ )