ایک مسجد کے واسطے دو موذنوں کا ہونا
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں تو تم لوگ کھاؤ پیو ١ ؎ یہاں تک کہ (عبداللہ) ابن ام مکتوم اذان دیں ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Bilal (RA) calls the Adhan during the night, so eat and drink until Ibn Umm Maktum (RA) calls (the Adhan)".
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 637
Notes · وضاحت
١ ؎: بلال ؓ سحری کے لیے سونے والوں کو جگاتے ہیں، اور فجر کی تیاری کے لیے رات باقی رہتی تھی تبھی اذان دیتے تھے، اور عبداللہ بن ام مکتوم ؓ صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد اذان دیا کرتے تھے، اس لیے بلال ؓ کی اذان پر کھاتے پیتے رہنے کی اجازت دی گئی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٢ (٦٢٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٣ (١٤)، (تحفة الأشراف: ٧٢٣٧) (صحیح )