دو چیزیں ملا کر بھگونے کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ایک شے سے دوسری شے کو تقویت حاصل ہوتی ہے اور اس طرح نشہ جلدی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّهُ كَانَ لَا يَدَعُ شَيْئًا قَدْ أَرْطَبَ إِلَّا عَزَلَهُ عَنْ فَضِيخِهِ.
حمید سے روایت ہے کہ انس ؓ جس قدر کھجور کا حصہ پک چکا ہوتا اسے فضیخ سے نکال پھینکتے ١ ؎۔
It was narrated that: Anas would not leave any dates that had become ripe but he would remove them from his Fadikh.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5565
Notes · وضاحت
١ ؎: فضیخ ادھ کچی کھجور کے نبیذ کو بھی بولتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧١٥) (صحیح الإسناد )