دو چیزیں ملا کر بھگونے کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ایک شے سے دوسری شے کو تقویت حاصل ہوتی ہے اور اس طرح نشہ جلدی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، قَالَ: شَهِدْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: أُتِيَ بِبُسْرٍ مُذَنِّبٍ فَجَعَلَ يَقْطَعُهُ مِنْهُ.
ابوادریس کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک ؓ کے پاس حاضر تھا ان کے پاس ایسی ادھ کچی کھجور لائی گئی جو ایک طرف سے پک رہی تھی، وہ اس میں سے اسے (پکے ہوئے حصے کو) کاٹ کر پھینکنے لگے۔
It was narrated that Abu Idris said: "I saw Anas bin Malik (RA) when some Busr which had extra bits were brought to him, and he started to cut them off.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5564
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧١١) (صحیح الإسناد )