کس قدر مالیت میں ہاتھ کاٹا جائے گا
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَطَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، هَذَا الصَّوَابُ.
انس ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے ایک ڈھال (چرانے) پر (چور کا) ہاتھ کاٹا جس کی قیمت پانچ درہم تھی ١ ؎۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) یہی روایت صحیح ہے ٢ ؎۔
It was narrated that Anas said: "Abu Bakr (RA) cut off (a thiefs hand) for a shield that was worth five Dirhams.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4912
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ایک واقعہ ہے جس میں پانچ درہم مال کی چوری ہوئی تھی، اگر کم کی ہوئی ہوتی ( تین تک ) تو بھی ابوبکر ؓ ہاتھ کاٹتے، یا ان کو پچھلی حدیث نہیں پہنچی تھی۔ ٢ ؎: یعنی انس ؓ کی اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٢٩٠) (حسن صحیح )