کس قدر مالیت میں ہاتھ کاٹا جائے گا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَطَعَ فِي مِجَنٍّ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ.
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال (چرانے) پر ہاتھ کاٹا۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: یہ غلط ہے ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: the Messenger of Allah ﷺ cut off (a thiefs hand) for a shield. (Sahih) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is a mistake.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4911
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس سند سے اس حدیث کی مرفوع روایت خطا ہے، اور صحیح موقوف ہے، جیسا کہ حدیث رقم ( ٤٩١٦ ) سے واضح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٣٨٨) (صحیح) (امام نسائی کے نزدیک انس سے مروی یہ مرفوع حدیث غلط ہے، اور صحیح اس سند سے ابوبکر رضی الله عنہ کی موقوف روایت ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، لیکن اصل حدیث ابن عمر سے مروی ہے، جو اوپر گزری اس لیے یہ حدیث بھی صحیح ہے، گرچہ انس رضی الله عنہ کی روایت پر امام نسائی کا کلام ہے )