کوئی شخص ایسا مال فروخت کرے جو درحقیقت اس مال کا مالک نہ ہو۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرِ بْنِ سِمَاكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى أَنَّهُ إِذَا وَجَدَهَا فِي يَدِ الرَّجُلِ غَيْرِ الْمُتَّهَمِ فَإِنْ شَاءَ أَخَذَهَا بِمَا اشْتَرَاهَا وَإِنْ شَاءَ اتَّبَعَ سَارِقَهُ. وَقَضَى بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ.
اسید بن حضیر بن سماک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ اگر کوئی کسی شخص کے ہاتھ میں اپنی (چوری کی ہوئی) چیز پائے اور اس پر چوری کا الزام نہ ہو تو چاہے تو اتنی قیمت ادا کر کے اس سے لے لے جتنے میں اس نے اسے خریدا ہے اور چاہے تو چور کا پیچھا کرے، یہی فیصلہ ابوبکر اور عمر ؓ نے (بھی) کیا۔
Usaid bin Hudair bin Simak narrated that: the Messenger of Allah ﷺ ruled that if a man found (his goods) in the possession of a man who was not guilty, then if he wished he could give the man what he had paid for it, or if he wished he could go after the one who had stolen it. Abu Bakr and Umar passed similar judgments.