Sunan An Nasai 3231

نکاح سے متعلقہ احادیث

3231Sunan An Nasai

عورت سے کس وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے۔

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ، وَمَنْصِبٍ إِلَّا أَنَّهَا لَا تَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُهَا ؟ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَنَهَاهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَنَهَاهُ، فَقَالَ: تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ، الْوَدُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ.

معقل بن یسار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا کہ مجھے ایک عورت ملی ہے جو حسب اور مرتبہ والی ہے لیکن اس سے بچے نہیں ہوتے ١ ؎، کیا میں اس سے شادی کرلوں؟ آپ نے اسے (اس سے شادی کرنے سے) منع فرما دیا۔ پھر دوبارہ آپ کے پاس پوچھنے آیا تو آپ نے پھر اسے روکا۔ پھر تیسری مرتبہ پوچھنے آیا، پھر بھی آپ نے منع کیا، پھر آپ نے فرمایا: زیادہ بچے جننے والی، اور زیادہ محبت کرنے والی عورت سے شادی کرو ٢ ؎ کیونکہ میں تمہارے ذریعہ کثرت تعداد میں (دیگر اقوام پر) غالب آنا چاہتا ہوں ٣ ؎۔

Narrated Maqil bin Yasar: It was narrated that Maqil bin Yasar said: "A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: I have found a woman who is from a good family and of good status, but she does not bear children, should I marry her? He told him not to. Then he came to him a second time and he told him not to (marry her). Then he came to him a third time and he told him not to (marry her), then he said: Marry the one who is fertile and loving, for I will boast of your great numbers.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3227
Notes · وضاحت
١ ؎: انہیں اس کا علم بایں طور ہوا ہوگا کہ اسے یا تو حیض نہیں آتا تھا یا جس شوہر کے پاس تھی وہاں اس سے کوئی بچہ ہی پیدا نہیں ہوا۔ ٢ ؎: زیادہ بچہ جننے والی اور شوہر سے زیادہ محبت کرنے والی عورت کا اندازہ اس کی ماں، اور ماں کی ماں کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ اور یہ چیز جانوروں میں بھی دیکھی جاتی ہے۔ ٣ ؎: یعنی قیامت کے دن تعداد امت میں دیگر انبیاء سے بڑھ جانا چاہتا ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٤ (٢٠٥٠)، (تحفة الأشراف: ١١٤٧٧) (حسن صحیح )