Sunan An Nasai 3230

نکاح سے متعلقہ احادیث

3230Sunan An Nasai

عورت سے کس وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے۔

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُقَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ، قَالَ: فَذَاكَ إِذًا إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا، وَمَالِهَا، وَجَمَالِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ.

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی پھر ان سے نبی اکرم ﷺ کی ملاقات ہوگئی تو آپ نے پوچھا: جابر! کیا تم نے شادی کی ہے؟ جابر کہتے ہیں کہ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: کنواری سے یا بیوہ سے؟ ١ ؎ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: کنواری سے کیوں نہ کی؟ جو تجھے (جوانی کے) کھیل کھلاتی ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری چند بہنیں میرے ساتھ ہیں، مجھے (کنواری نکاح کر کے لانے میں) خوف ہوا کہ وہ کہیں میری اور ان کی محبت میں رکاوٹ (اور دوری کا باعث) نہ بن جائے۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تم نے ٹھیک کیا، عورت سے شادی اس کا دین دیکھ کر، اس کا مال دیکھ کر اور اس کی خوبصورتی دیکھ کر کی جاتی ہے۔ تو تم کو دیندار عورت کو ترجیح دینی چاہیئے۔ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ٢ ؎۔

Narrated Jabir: It was narrated from Jabir that he married a woman at the time of the Messenger of Allah, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) met him and said: "Have you got married, O Jabir?" He said: Yes. He said: A virgin or a previously married woman? I said: A previously married woman. He said: Why not a virgin who would play with you? I said: O Messenger of Allah, I have sisters, and I did not want her to come between them and I. He said: Thats better then. A woman may be married for her religious commitment, her wealth or her beauty. You should choose the one who is religiously committed, may your hands be rubbed with dust (may you prosper).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3226
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس کا نکاح پہلے کسی سے ہوچکا تھا پھر اس کی طلاق ہوگئی یا شوہر کا انتقال ہوگیا ہو۔ ٢ ؎: یعنی اگر ایسا نہ کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ١٥ (٧١٥)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٧ (١٨٦٠)، (تحفة الأشراف: ٢٤٣٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح ٤ (١٠٨٦)، مسند احمد (٣/٣٠٢)، سنن الدارمی/النکاح ٣٢ (٢٢١٧) (صحیح )