حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا عمری اس کے اہل کے لئے جائز ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا عمری اس کے اہل کے لئے جائز ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ غَيْرَ مَرَّةٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ وَلِلْعَذَارَى وَلِعَابِهَا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے میری شادی ہوئی نبی ﷺ نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے؟
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَرْبُ خَدْعَةٌ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جنگ قتال کا نام ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَرَوْحٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَلَا تَحْتَبِيَنَّ فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ وَلَا تَأْكُلْ بِشِمَالِكَ وَلَا تَشْتَمِلْ الصَّمَّاءَ وَلَا تَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْكَ عَلَى الْأُخْرَى إِذَا اسْتَلْقَيْتَ قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ أَوَضْعُهُ رِجْلَهُ عَلَى الرُّكْبَةِ مُسْتَلْقِيًا قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَّا الصَّمَّاءُ فَهِيَ إِحْدَى اللِّبْسَتَيْنِ تَجْعَلُ دَاخِلَةَ إِزَارِكَ وَخَارِجَتَهُ عَلَى إِحْدَى عَاتِقَيْكَ قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ لَا يَحْتَبِي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ مُفْضِيًا قَالَ كَذَلِكَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ لَا يَحْتَبِي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ قَالَ حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ عَمْرٌو لِي مُفْضِيًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایک جوتی پہن کر نہ چلے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ایک کپڑے میں اپنا جسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کے چلے اور جب چت لیٹے تو ایک ٹانگ کو دوسری پر نہ رکھے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ نَهَوْا عَنْ الصَّرْفِ رَفَعَهُ رَجُلَانِ مِنْهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوسعید جابر ؓ اور ابوہریرہ ؓ مروی ہے کہ وہ ادھار پر سونے چاندی کی بیع سے منع کرتے تھے اور ان میں سے دو حضرات اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف فرماتے تھے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَقَامَ صَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَصَفٌّ خَلْفَهُ فَصَلَّى بِالَّذِي خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ حَتَّى قَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ وَجَاءَ أُولَئِكَ حَتَّى قَامُوا مَقَامَ هَؤُلَاءِ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَلَهُمْ رَكْعَةً
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے صحابہ کو صلوۃ الخوف پڑھائی ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی ہوگئی اور ایک صف نبی ﷺ کے پیچھے آپ نے اپنے پیچھے والوں کو ایک رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ آگے بڑھ کر اپنے ساتھیوں کی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور وہ لوگ یہاں آ کر ان کی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور نبی ﷺ نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا اس طرح نبی ﷺ کی دو رکعتیں ہوگئیں اور ان لوگوں کی (نبی ﷺ کی اقتداء میں) ایک ایک رکعت ہوئی۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ فَقَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ
سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے بیعت رضوان کے شرکاء کی تعداد معلوم کی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر ہم ایک لاکھ کی تعداد میں بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہوجاتا ہماری تعداد صرف ڈیڑھ ہزار تھی۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ عَلَى يَدَيَّ دَارَ الْحَدِيثُ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابونضرہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس متعہ کی اجازت دیتے تھے اور حضرت عبداللہ بن زبیر اس کی ممانعت فرماتے تھے میں نے حضرت جابر ؓ سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے نبی ﷺ کی موجودگی میں متعہ کیا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ أَحْسَنَتْ الْأَنْصَارُ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک انصار کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا اور نبی ﷺ سے آکر دریافت کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا انصار نے خوب کیا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت مت رکھا کرو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ إِذَا دَخَلْتَ لَيْلًا فَلَا تَدْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھر مت جاؤ تاکہ شوہر کی غیر موجودگی والی عورت اپنے جسم سے بال صاف کرلے اور پراگندہ حال عورت بناؤ سنگھار کرلے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلْتَ فَعَلَيْكَ الْكَيْسَ وَالْكَيْسَ
اور فرمایا جب گھر پہنچ جاؤ تو ہر وقت قربت کی اجازت ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ ذَا فَقُلْتُ أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَنَا قَالَ مُحَمَّدٌ كَأَنَّهُ كَرِهَ قَوْلَهُ أَنَا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ کے دروازے پر دستک دے کر اجازت طلب کی نبی ﷺ نے پوچھا کون ہے؟ میں نے کہا کہ میں ہوں نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں میں لگائی ہوئی ہے؟ گویا نبی ﷺ نے اسے ناپسند کیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَجِعٌ لَا أَعْقِلُ قَالَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ أَوْ قَالَ صَبُّوا عَلَيَّ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ إِنَّهُ لَا يَرِثُنِي إِلَّا كَلَالَةٌ فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرْضِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ میرے یہاں تشریف لائے میں اس وقت اتنا بیمار تھا کہ ہوش و حواس سے بیگانہ تھا نبی ﷺ نے وضو کر کے وہ پانی مجھ پر بہا دیا یا بہانے کا حکم دے دیا مجھے ہوش آگیا اور میں نے عرض کیا کہ میرے ورثاء میں تو سوائے " کلالہ " کے کوئی نہیں میراث کیسے تقسیم ہوگی؟ اس پر تقسیم وراثت والی آیت نازل ہوئی۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا قُتِلَ أَبِي قَالَ جَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ قَالَ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَنْهَوْنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي قَالَ فَجَعَلَتْ عَمَّتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَمْرٍو تَبْكِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَبْكِينَ أَوْ لَا تَبْكِينَ مَا زَالَتْ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهِمْ حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ تُظَلِّلُهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ جب میرے والد صاحب شہید ہوئے تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا لوگوں نے مجھے منع کردیا لیکن نبی ﷺ نے منع نہیں کیا میری پھوپھی فاطمہ بنت عمرو رونے لگی نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم آہ و بکاہ نہ کرو فرشتے اس پر اپنے پروں سے مسلسل سائے کئے رہے یہاں تک کہ تم نے اسے ہٹا لیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مِخْوَلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا قَالَ شُعْبَةُ أَظُنُّهُ فِي الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ فَقَالَ جَابِرٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کس طرح غسل فرماتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی ﷺ تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے بنو ہاشم کے ایک صاحب کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں؟ حضرت جابر ؓ عنہنے فرمایا کہ نبی ﷺ نے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّهِ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي قَتْلَى أُحُدٍ لَا تُغَسِّلُوهُمْ فَإِنَّ كُلَّ جُرْحٍ أَوْ كُلَّ دَمٍ يَفُوحُ مِسْكًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ شہدا احد کے متعلق فرمایا کہ انہیں غسل مت دو کیونکہ قیامت کے دن ان کے ہر زخم اور خون سے مشک آرہی ہوگی اور نبی ﷺ نے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھائی۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ نَاضِحَانِ لَهُ وَقَدْ جَنَحَتْ الشَّمْسُ وَمُعَاذٌ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَدَخَلَ مَعَهُ الصَّلَاةَ فَاسْتَفْتَحَ مُعَاذٌ الْبَقَرَةَ أَوْ النِّسَاءَ مُحَارِبٌ الَّذِي يَشُكُّ فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلُ ذَلِكَ صَلَّى ثُمَّ خَرَجَ قَالَ فَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ مِنْهُ قَالَ حَجَّاجٌ يَنَالُ مِنْهُ قَالَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ أَوْ فَاتِنٌ فَاتِنٌ فَاتِنٌ وَقَالَ حَجَّاجٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ فَلَوْلَا قَرَأْتَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا فَصَلَّى وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَذُو الْحَاجَةِ وَالضَّعِيفُ أَحْسِبُ مُحَارِبًا الَّذِي يَشُكُّ فِي الضَّعِيفِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک انصاری نماز کے لئے آیا اس کے ساتھ اس کے دو پانی والے اونٹ بھی تھے سورج غروب ہوچکا تھا اور حضرت معاذ بن جبل مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے وہ بھی نماز میں شریک ہوگیا ادھر حضرت معاذ نے سورت بقرہ یا سورت النساء شروع کی اس آدمی نے یہ دیکھ کر اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا بعد میں اسے پتہ چلا کہ حضرت معاذ نے اس کے متعلق کچھ کہا ہے اس نے یہ بات جا کر نبی ﷺ سے ذکر کردی نبی ﷺ نے ان سے دو مرتبہ فرمایا معاذ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو تم سورت اعلی اور سورت الشمس کیوں نہیں پڑھتے؟ کہ تمہارے پیچھے بوڑھے ضرورت مند اور کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ طُرُوقًا أَوْ قَالَ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کے وقت اپنے گھر واپس آنے کو (مسافر کے لئے) اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا لِي فِي سَفَرٍ فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ وَزَنَ لِي قَالَ شُعْبَةُ أَوْ أَمَرَ فَوُزِنَ لِي فَأَرْجَحَ لِي فَمَا زَالَ عِنْدِي مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى أَصَابَهَا أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں میں نے نبی ﷺ کو اپنا اونٹ بھیج دیا مدینہ منورہ واپس پہنچ کر نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جا کر مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر آؤ پھر آپ نے مجھے وزن کر کے پیسے دینے کا حکم دیا اور جھکتا ہوا تولا اور ہمیشہ میرے پاس اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور رہا حالانکہ حرہ کے دن اہل شام اسے لے گئے۔