Musnad Imam Ahmad 13672

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

13672Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَجِعٌ لَا أَعْقِلُ قَالَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ أَوْ قَالَ صَبُّوا عَلَيَّ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ إِنَّهُ لَا يَرِثُنِي إِلَّا كَلَالَةٌ فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرْضِ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ میرے یہاں تشریف لائے میں اس وقت اتنا بیمار تھا کہ ہوش و حواس سے بیگانہ تھا نبی ﷺ نے وضو کر کے وہ پانی مجھ پر بہا دیا یا بہانے کا حکم دے دیا مجھے ہوش آگیا اور میں نے عرض کیا کہ میرے ورثاء میں تو سوائے " کلالہ " کے کوئی نہیں میراث کیسے تقسیم ہوگی؟ اس پر تقسیم وراثت والی آیت نازل ہوئی۔