حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمًا فِي سَفَرٍ قَالَ يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى رَجُلًا قَدْ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ قَالُوا هَذَا رَجُلٌ صَائِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْبِرُّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کسی سفر میں تھے راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جارہا ہے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا نبی ﷺ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلْتُمْ لَيْلًا فَلَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ طُرُوقًا فَقَالَ جَابِرٌ فَوَاللَّهِ لَقَدْ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھر مت جاؤ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں واللہ ہم ان کے بعد رات کو اپنے گھروں میں داخل ہونے لگے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ زَكَرِيَّا حَدَّثَنِي عَامِرٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لِي فَأَعْيَا فَأَرَدْتُ أَنْ أُسَيِّبَهُ قَالَ فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ وَدَعَا لَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ وَقَالَ بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ فَكَرِهْتُ أَنْ أَبِيعَهُ قَالَ بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ مِنْهُ وَاشْتَرَطْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ فَقَالَ ظَنَنْتَ حِينَ مَاكَسْتُكَ أَنْ أَذْهَبَ بِجَمَلِكَ خُذْ جَمَلَكَ وَثَمَنَهُ هُمَا لَكَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ وَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں میں اپنے ایک تھکے ہوئے اونٹ پر چلا جارہا تھا میں نے سوچا کہ اس اونٹ کو آزاد کر کے کسی جنگل میں چھوڑ دوں کہ اتنی دیر میں نبی ﷺ میرے پاس آپہنچے اور اسے اپنی ٹانگ سے ٹھوکر مار کر اس کے لئے دعاء کی وہ یکدم ایسا تیز رفتار ہوگیا کہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھا نبی ﷺ نے فرمایا یہ اونٹ مجھے ایک او قیہ چاندی کے عوض بیچ دو میں نے اسے فروخت کرنا مناسب نہ سمجھا لیکن جب نبی ﷺ نے دوبارہ فرمایا کہ یہ مجھے بیچ دو تو میں نے اسے نبی ﷺ کے ہاتھ بیچ دیا اور یہ شرط کرلی کہ میں اپنے گھر تک اسی پر سوار ہو کر جاؤں گا واپس پہنچنے کے بعد میں نبی ﷺ کے پاس لے کر پہنچا تو نبی ﷺ نے فرمایا جس وقت میں تم سے سودا کر رہا تھا تو تم یہ سمجھ رہے تھے کہ میں تمہارے اونٹ کو لے جاؤں گا اپنا اونٹ اور قیمت دونوں لے جاؤ یہ دونوں چیزیں تمہاری ہیں گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ح وَرَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَعْطَى أُمَّهُ حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ حَيَاتَهَا فَمَاتَتْ فَجَاءَ إِخْوَتُهُ فَقَالُوا نَحْنُ فِيهِ شَرْعٌ سَوَاءٌ فَأَبَى فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ مِيرَاثًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک انصار آدمی نے اپنی والدہ کو تا قیامت کھجور کا ایک باغ دے دیا جب اس کی والدہ کا انتقال ہوگیا تو اس کے بھائی آئے اور کہنے لگے کہ ہم سب کا اس میں برابر کا حصہ ہے لیکن اس نے انکار کردیا لوگ یہ مقدمہ لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے اسے ان سب کے درمیان وراثت کے طور پر تقسیم فرما دیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَلَسَ أَوْ اسْتَلْقَى أَحَدُكُمْ فَلَا يَضَعْ رِجْلَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیٹھے یا چت لیٹے تو ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ نہ رکھے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچی اور پکی کھجوریں کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فِي غَزْوَةِ أَنْمَارٍ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ غزوہ انمار میں اپنی سواری پر مشرق کی جانب رخ کر کے نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ننگی تلوار (بغیر نیام کے) ایک دوسرے کو پکڑنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ مُعَاذًا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ فِي الْفَجْرِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ الْمَغْرِبَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَتَّانًا أَفَتَّانًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل نے لوگوں کو نماز فجر پڑھاتے ہوئے اس میں سورت بقرہ شروع کردی نبی ﷺ نے ان سے دو مرتبہ فرمایا معاذتم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى فَقَالَ وَاحِدَةٌ وَلَئِنْ تُمْسِكْ عَنْهَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے دوران نماز کنکریاں ہٹانے کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ صرف ایک مرتبہ برابر کرسکتے ہو اور اگر یہ بھی نہ کرو تو یہ تمہارے حق میں ایسی سو اونٹنیوں سے بہتر ہے جن سب کی آنکھوں کی پتلیاں سیاہ ہوں۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ صُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا وَلَا تَقُومُوا وَهُوَ جَالِسٌ كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسٍ بِعُظَمَائِهَا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ گھوڑے سے گر کر کھجور کی ایک شاخ یا تنے پر گرگئے اور پاؤں میں موچ آگئی ہم لوگ نبی ﷺ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو وہاں آپ کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا ہم بھی اس میں شریک ہوئے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھی نبی ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا امام کو تو مقرر ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لئے اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اگر وہ بیٹھا ہو تو تم کھڑے نہ رہا کرو جیسا کہ اہل فارس اپنے روساء اور بڑوں کے ساتھ کرتے ہیں۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ قَالَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهَا غُلَامٌ نَجَّارٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا أَفَآمُرُهُ أَنْ يَتَّخِذَ لَكَ مِنْبَرًا تَخْطُبُ عَلَيْهِ قَالَ بَلَى قَالَ فَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا قَالَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ خَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ فَأَنَّ الْجِذْعُ الَّذِي كَانَ يَقُومُ عَلَيْهِ كَمَا يَئِنُّ الصَّبِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا بَكَى لِمَا فَقَدَ مِنْ الذِّكْرِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک کجھور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے ایک انصاری عورت جس کا غلام بڑھی تھا اس نے کہا یا رسول اللہ میرا غلام بڑھائی ہے کیا میں اسے آپ کے لئے منبر بنانے کا حکم نہ دیدوں کہ اس پر خطبہ ارشاد فرمایا کریں نبی ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں چناچہ منبر تیار ہوگیا اور جمعہ کے دن نبی ﷺ اس پر خطبہ دینے کے لئے تشریف فرما ہوئے تو وہ ستون جس کے ساتھ آپ ٹیک لگایا کرتے تھے بچے کی طرح بلک بلک کر رونے لگا نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ اس لئے رو رہا ہے کہ ذکر الٰہی اس کے پاس سے مفقود ہوگیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ وَمَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنَّهُ يَسْتَيْقِظُ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَهُ فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَهِيَ أَفْضَلُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصہ ہی میں وتر پڑھ لینا چاہیے اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھنے چاہیے کیونکہ رات کے آخری حصہ میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ خَلَّفْتُمْ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا سَلَكْتُمْ طَرِيقًا إِلَّا شَرَكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ حَبَسَهُمْ الْمَرَضُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم لوگ مدینہ منورہ میں کچھ ایسے ساتھی بھی چھوڑ کر آئے ہو جو وادی بھی طے کرتے ہو اور جس راستے پر بھی چلتے ہو وہ اجر وثواب میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوتے ہیں انہیں بیماری نے روک رکھا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَه إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي بِهَا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ثُمَّ قَرَأَ فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَّكِرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ پڑھ لیں۔ جب وہ یہ کام کرلیں تو انہوں نے اپنی جان ومال کو مجھ سے محفوظ کر لیاسوائے اس کلمہ حق کے اور ان کے حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔ پھر نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی " آپ نصیحت کیجیے کیونکہ آپ کا کام ہی نصیحت ہی کرنا ہے کیونکہ آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ سب سے افضل جہاد کونسا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس شخص کا جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس کا اپنا خون بہہ جائے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ ثَلَاثًا لَمْ يَذُوقُوا طَعَامًا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَاهُنَا كُدْيَةً مِنْ الْجَبَلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُشُّوهَا بِالْمَاءِ فَرَشُّوهَا ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ أَوْ الْمِسْحَاةَ ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَضَرَبَ ثَلَاثًا فَصَارَتْ كَثِيبًا يُهَالُ قَالَ جَابِرٌ فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَدَّ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ خندق کھودنے کے موقع پر نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ پر تین دن اس حال میں گذر گئے کہ انہوں نے کوئی چیز نہیں چکھی خندق کھودتے ہوئے ایک موقع پر صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہاں پر پہاڑ کی ایک چٹان آگئی ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس پر پانی چھڑک دو انہوں نے اس پر پانی چھڑک دیا پھر نبی ﷺ تشریف لائے اور کدال پکڑ کر بسم اللہ پڑھی اور اس پر تین ضربیں لگائیں اسی لمحے وہ چٹان ٹوٹ کر ریت کا ٹیلہ بن گئی حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے غور کیا تو اس وقت نبی ﷺ نے اپنے بطن مبارک پر پتھر باندھ رکھا تھا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ أَوْ أَهْلِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرتا ہے وہ بدکاری کرتا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَحَرُوا جَزُورًا أَوْ بَقَرَةً وَقَالَ مَرَّةً نَحَرْتُ جَزُورًا أَوْ بَقَرَةً
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگوں نے ایک اونٹ یا ایک گائے ذبح کی۔