حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ خندق کے دن لوگوں کو (دشمن کی خبر لانے کے لئے) تین مرتبہ ترغیب دی اور تینوں مرتبہ حضرت زبیر نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا جس پر نبی ﷺ نے فرمایا ہر نبی ﷺ کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرے حواری حضرت زبیر ہیں۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ مَرِضْتُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَلَمْ أُكَلِّمْهُ فَتَوَضَّأَ فَصَبَّهُ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي وَلِي أَخَوَاتٌ قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ كَانَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أَخَوَاتٌ إِنْ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اور حضرت صدیق اکبر چلتے ہوئے میرے یہاں تشریف لائے میں اس وقت اتنا بیمار تھا کہ ہوش و حواس سے بھی بیگانہ تھا نبی ﷺ نے وضو کر کے وہ پانی مجھ پر بہا دیا مجھے ہوش آگیا اور میں نے عرض کیا کہ میرے ورثاء میں تو سوائے بہنوں کے کوئی نہیں میراث کیسے تقسیم ہوگی اس پر تقسیم وراثت والی آیت نازل ہوئی۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ غَيْرَ مَرَّةٍ يَقُولُ عَنْ جَابِرٍ وَكَأَنِّي سَمِعْتُهُ مَرَّةً يَقُولُ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا وَظَنَنْتُهُ سَمِعَهُ مِنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ لَحْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَكَلَ لَحْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَأَنَّ عُمَرَ أَكَلَ لَحْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے گوشت تناول فرمایا اور نیا وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی حضرت صدیق اکبر نے بکری کی پیوسی نوش فرمائی اور تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی اسی طرح حضرت عمر نے گوشت تناول فرما لیا اور تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَعْرَابِ فَأَسْلَمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقِلْنِي فَقَالَ لَا أُقِيلُكَ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ أَقِلْنِي فَقَالَ لَا أُقِيلُكَ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ أَقِلْنِي فَقَالَ لَا فَفَرَّ فَقَالَ الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتَنْصَعُ طَيِّبَهَا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست حق پر ہجرت کی بیعت کرلی کچھ ہی عرصے میں اسے بہت تیز بخار ہوگیا وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئے نبی ﷺ نے انکار کردیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی ﷺ نے معلوم کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ منورہ سے فرار ہوگیا ہے اس پر نبی ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل کو دور کردیتی ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کردیتی ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا قَالَ فَلَمَّا جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِي قَالَ فَجِئْتُ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَأَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثًا قَالَ فَخُذْ قَالَ فَأَخَذْتُ قَالَ بَعْضُ مَنْ سَمِعَهُ فَوَجَدْتُهَا خَمْسَ مِائَةٍ فَأَخَذْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّالِثَةَ فَلَمْ يُعْطِنِي فَقُلْتُ إِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي قَالَ أَقُلْتَ تَبْخَلُ عَنِّي وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنْ الْبُخْلِ مَا سَأَلْتَنِي مَرَّةً إِلَّا وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُعْطِيَكَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اگر بحرین سے مال آگیا تو میں تمہیں اتنا اور اتنا اور اتنا دوں گا نبی ﷺ کے وصال کے بعد جب بحرین سے مال آیا تو حضرت صدیق اکبرنے اعلان کردیا کہ جس شخص کا نبی ﷺ پر کوئی قرض ہو یا نبی ﷺ نے اس سے کچھ دینے کا وعدہ فرما رکھا ہو وہ ہمارے پاس آئے چناچہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا ہے تھا اگر بحرین سے مال آگیا تو میں تمہیں اتنا اتنا اور اتنادوں گا حضرت صدیق اکبرنے فرمایا تم لے لو چناچہ میں نے ان سے مال لے لیا بعض سننے والے کہتے ہیں کہ میں نے انہیں گنا تو وہ پانچ سو درہم تھے جو میں نے لے لئے۔ پھر میں دوبارہ تین مرتبہ ان کے پاس آیا لیکن انہوں نے مجھے کچھ پیسے نہ دیئے تیسری مرتبہ میں نے ان سے عرض کیا کہ یا تو آپ مجھے عطاء کریں ورنہ میں سمجھوں گا کہ آپ میرے سامنے بخل کر رہے ہیں حضرت صدیق اکبر نے فرمایا کہ یہ تم مجھ سے بخل کرنے کا کہہ رہے ہو بخل سے بڑھ کر کون سی بیماری ہوسکتی ہے؟ تم نے جب پہلی مرتبہ مجھ سے درخواست کی تھی میں نے اسی وقت ارادہ کرلیا تھا کہ میں تمہیں ضرور دوں گا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا حَدَّثَنَاه الْحَسَنُ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پورا سال روزے رکھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرٍ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَطْرُقَ النِّسَاءَ ثُمَّ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں رات کے وقت شہر میں داخل ہو کر بلا اطلاع اپنے گھر جانے سے منع فرمایا ہے لیکن ان کے بعد ہم اس طرح کرنے لگے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَصَارِعِهِمْ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ جب شہدا احد کو ان کی جگہ سے اٹھایا جانے لگا تو نبی ﷺ کے منادی نے اعلان کردیا کہ شہدا کو ان کی اپنی جگہوں پر واپس پہنچا دو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَكَحْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ وَكَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِمْ خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ وَلَكِنْ امْرَأَةً تُمَشِّطُهُنَّ وَتُقِيمُ عَلَيْهِنَّ قَالَ أَصَبْتَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کرلی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! پوچھا کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟ میں نے عرض کیا شوہر دیدہ سے نبی ﷺ نے فرمایا کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے والد صاحب غزوہ احد میں شہید ہوگئے تھے اور انہوں نے سات بیٹیاں چھوڑیں میں نے ان ہی جیسی بیوقوف کو لانا مناسب نہ سمجھا میں نے سوچا کہ ایسی عورت ہو جو ان کی دیکھ بھال کرسکے نبی ﷺ نے فرمایا تم نے صحیح کیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا وَقَالَ مَرَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِقَوْمِهِ فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً الصَّلَاةَ وَقَالَ مَرَّةً الْعِشَاءَ فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ قَوْمَهُ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَصَلَّى فَقِيلَ نَافَقْتَ يَا فُلَانُ قَالَ مَا نَافَقْتُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ وَنَعْمَلُ بِأَيْدِينَا وَإِنَّهُ جَاءَ يَؤُمُّنَا فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَقَالَ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ أَفَتَّانٌ أَنْتَ اقْرَأْ بِكَذَا وَكَذَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى فَذَكَرْنَا لِعَمْرٍو فَقَالَ أُرَاهُ قَدْ ذَكَرَهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ابتداء نماز عشاء کے ساتھ پڑھتے تھے پھر اپنی قوم میں جا کر انہیں وہی نماز پڑھادیتے تھے ایک مرتبہ نبی ﷺ نے نماز عشاء کو موخر کردیا۔ حضرت معاذ نے نبی ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھی اور اپنی قوم میں آ کر سورت بقرہ کی تلاوت شروع کردی ایک آدمی نے یہ دیکھا اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا بعد میں اسے کسی نے کہا کہ تم منافق ہوگئے ہو اس نے کہا میں تو منافق نہیں ہوں پھر اس نے یہ بات نبی ﷺ سے جاکرذکر کی کہ معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں پھر واپس آکر ہماری امامت کرتے ہیں ہم لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنے والے ہیں انہوں نے آکر ہمیں نماز پڑھائی تو سورت بقرہ شروع کردی نبی ﷺ نے ان سے دو مرتبہ فرمایا معاذ تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو تم سورت اعلی اور سورت شمس کیوں نہیں پڑھتے؟۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ مَرَّةً عَمْرٌو سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَرْبُ خَدْعَةٌ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جنگ " چال " کا نام ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا دَخَلَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَلَّيْتَ قَالَ لَا قَالَ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ایک صاحب آئے اور بیٹھ گئے نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے نماز پڑھی ہے انہوں نے کہا نہیں نبی ﷺ نے انہیں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرٍو أَسَمِعْتَ جَابِرًا يَقُولُ مَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ سِهَامٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا فَقَالَ نَعَمْ
سفیان کہتے ہیں کہ میں نے عمرو سے پوچھا کہ آپ نے جابر ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی مسجد نبوی میں گذر رہا تھا اس کے ہاتھ میں کچھ تیر تھے تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اس کے پھل کا رخ سامنے کی طرف کرنے کے بجائے اپنی طرف پھیر لو؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا بَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مُدَبَّرًا فَاشْتَرَاهُ ابْنُ النَّحَّامِ عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ فِي إِمْرَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ دَبَّرَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مدبر غلام کو بیچا جسے ابن نحام نے خرید لیا وہ قبطی غلام تھا اور حضرت عبداللہ بن زبیر کی خلافت کے پہلے سال ہی فوت ہوگیا تھا اسے ایک انصاری نے مدبر بنا لیا تھا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا کوئی مال نہ تھا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرِجُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ النَّارِ قَوْمًا فَيُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جہنم سے کچھ لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعْتُ جَابِرًا قَالَ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتُمْ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر ہماری تعداد چودہ سو نفسوں پر مشتمل تھی نبی ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ آج تم لوگ روئے زمین کے تمام لوگوں سے بہتر ہو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَوْمَ أُحُدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا قَالَ فِي الْجَنَّةِ فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو وَتَخَلَّى مِنْ طَعَامِ الدُّنْيَا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ اگر میں شہید ہوگیا تو کہاں جاؤں گا تو فرمایا کہ جنت میں یہ سن کر اس نے اپنے ہاتھ کی کھجوروں کو ایک طرف رکھ دیا اور میدان کار زار میں کود پڑا حتی کہ جام شہادت نوش کرلیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا يَقُولُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ مِائَةِ رَاكِبٍ أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَأَقَمْنَا عَلَى السَّاحِلِ حَتَّى فَنِيَ زَادُنَا حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ ثُمَّ إِنَّ الْبَحْرَ أَلْقَى دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ وَنَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ بَعِيرٍ فَجَازَ تَحْتَهُ وَكَانَ رَجُلٌ يَجْزُرُ ثَلَاثَةَ جُزُرٍ ثُمَّ ثَلَاثَةَ جُزُرٍ ثُمَّ ثَلَاثَةَ جُزُرٍ فَنَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں ایک سفر میں تین سو سواریاں کے ساتھ بھیجا تھا ہمارے امیر حضرت ابوعبیدہ بن جرح تھے ہم نے ساحل پر قیام کیا ہمارا زاد راہ ختم ہوگیا اور ہمیں درختوں کے پتے کھانے پڑے سمندر نے عنبر نامی ایک مچھلی باہر پھینک دی جسے ہمیں نے نصف ماہ تک کھاتے رہے یہاں تک کہ ہمارے جسم خوب صحت مند ہوگئے ایک دن حضرت عبیدہ نے اس کی ایک پسلی لے کر کھڑی کی اور سب سے لمبے اونٹ کو اس کے نیچے سے گزارا تو وہ گذ رگیا اور ایک دن تین تین اونٹ ذبح کرتا رہا پھر حضرت ابوعبیدہ نے اسے منع کردیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ لَمَّا نَزَلَتْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ قَالَ هَذِهِ أَهْوَنُ وَأَيْسَرُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے تو نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ میں تیری ذات کی پناہ میں آتا ہوں پھر جب اگلا ٹکڑا نازل ہوا یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے تو نبی ﷺ نے پھر فرمایا اے اللہ میں تیری ذات کی پناہ چاہتا ہوں پھر جب اگلا ٹکڑا نازل ہوا یا تمہیں مختلف حصوں میں خلط ملط کردے اور ایک دوسرے کے ذریعے عذاب کا مزہ چکھائے تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ پہلے کی نسبت زیادہ ہلکا اور آسان ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو وَذَكَرُوا الرَّجُلَ يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ فَيَحِلُّ هَلْ لَهُ أَنْ يَأْتِيَ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
عمرو کہتے ہیں کہ علماء میں ایک مرتبہ اس بات کا ذکر ہوا کہ اگر کوئی آدمی عمرہ کا احرام باندھے پھر حلال ہوجائے تو کیا وہ صفا مروہ کی سعی کئے بغیر آسکتا ہے میں نے یہ مسئلہ پوچھا حضرت جابر ؓ سے تو انہوں نے فرمایا کہ جب تک صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرلے اس وقت تک حلال نہیں ہوگا یہی سوال میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ نے خانہ کعبہ کے گرد طواف کے سات چکر لگائے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی تھی پھر فرمایا کہ تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔