حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى وَوَكِيعٌ عَنْ زَكَرِيَّا حَدَّثَنِي عَامِرٌ قَالَ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ وَمَرْوَانُ جَالِسَيْنِ فَمُرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ مَرْوَانُ اجْلِسْ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَامَ مَرْوَانُ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ
عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری ؓ اور مروان بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں سے کسی جنازے کا گذر ہوا، حضرت ابو سعید ؓ کھڑے ہوگئے لیکن مروان کہنے لگا کہ بیٹھ جائیے، حضرت ابو سعید خدری ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے سامنے سے جنازہ گذرا تھا تو آپ ﷺ کھڑے ہوگئے تھے، اس پر مروان کو بھی کھڑا ہونا پڑا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ يُصَلِّي تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عید گاہ کے لئے) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنِي عِيَاضٌ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ قَالَ يَحْيَى لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ فَيَقُومُ قَائِمًا فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ بِوَجْهِهِ وَيَقُولُ تَصَدَّقُوا فَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِالْخَاتَمِ وَالْقُرْطِ وَالشَّيْءِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ أَوْ أَرَادَ أَنْ يَضَعَ بَعْثًا تَكَلَّمَ وَإِلَّا انْصَرَفَ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عید گاہ کے لئے) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھ کر لوگوں کی جانب رخ فرما لیتے، لوگ بیٹھے رہتے اور نبی ﷺ انہیں تین مرتبہ صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر عورتیں اس موقع پر بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ دیا کرتی تھیں، پھر اگر نبی ﷺ کو لشکر کے حوالے سے کوئی ضرورت ہوتی تو آپ ﷺ بیان فرما دیتے، ورنہ چلے جاتے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَفَّانُ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالُوا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ ثَلَاثًا فَقَالَ إِنِّي كَثِيرُ الشَّعَرِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ شَعَرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے کسی شخص نے غسل جنابت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا تین مرتبہ جسم پر پانی بہانا، اس نے کہا کہ میرے سر پر بال بہت زیادہ ہیں؟ حضرت ابو سعید ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے بال تم سے بھی زیادہ اور معطر تھے، (لیکن پھر بھی وہ تین مرتبہ ہی جسم پر پانی بہاتے تھے)
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمْ اللَّهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ کچھ پیچھے ہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا تم آگے بڑھ کر میری اقتداء کیا کرو، بعد والے تمہاری اقتداء کریں گے، کیونکہ لوگ مسلسل پیچھے ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ انہیں قیامت کے دن پیچھے کر دے گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ عَمِّهِ عَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي سَعِيدٍ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَدَخَلُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى رَجُلًا جَالِسًا وَسَطَ الْمَسْجِدِ مُشَبِّكًا بَيْنَ أَصَابِعِهِ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفْطِنْ قَالَ فَالْتَفَتَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَإِنَّ التَّشْبِيكَ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَزَالُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ کے ایک آزاد کردہ غلام کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابو سعید ؓ کی معیت میں نبی ﷺ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، نبی ﷺ نے دیکھا کہ مسجد کے درمیان میں ایک آدمی گوٹ مار کر بیٹھا ہوا تھا اور اس نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا رکھی تھیں اور اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا، نبی ﷺ نے اسے اشارہ سے منع کیا لیکن وہ نبی ﷺ کا اشارہ نہ سمجھ سکا، نبی ﷺ نے حضرت ابوسعید ؓ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے آئے تو انگلیاں ایک دوسرے میں نہ پھنسائے کیونکہ یہ شیطانی حرکت ہے اور جو شخص جب تک مسجد میں رہتا ہے مسجد سے نکلنے تک اس کا شمار نماز پڑھنے والوں میں ہوتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِهِ فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ مَا لَمْ يَجِدْ رِيحًا بِأَنْفِهِ أَوْ يَسْمَعْ صَوْتًا بِأُذُنِهِ
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّیہ کہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان اس کی آواز سن لیں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ عِيدٍ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فَقَالَ مَرْوَانُ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ أَبَا فُلَانٍ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا، جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا نماز خطبہ سے پہلے ہوتی ہے، اس نے کہا کہ یہ چیز متروک ہوچکی ہے، اس مجلس میں حضرت ابو سعید خدری ؓ بھی تھے، انہوں نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ و حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ سَفَرَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلَّا مَعَ أَبِيهَا أَوْ أَخِيهَا أَوْ ابْنِهَا أَوْ زَوْجِهَا أَوْ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی عورت تین یا زیادہ دن کا سفر اپنے باپ، بھائی، بیٹے، شوہر یا محرم کے بغیر نہ کرے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ مِثْلَهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ ان میں سے کسی کے مد بلکہ اس کے نصف تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَلْيَجْعَلْ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کے دونوں پہلو اپنے کندھوں پر ڈال لے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَيْوَةُ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّهُ أَنْ تَنْفَعَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے سامنے ان کے چچا خواجہ ابوطالب کا تذکرہ ہوا تو نبی ﷺ نے فرمایا شاید قیامت کے دن میری سفارش انہیں فائدہ دے گی اور انہیں جہنم کے ایک کونے میں ڈال دیا جائے گا اور آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھولتا ہوگا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَيْوَةُ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جماعت کے ساتھ نماز تنہا نماز پر پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَآنِي الْحَقَّ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَكَوَّنُ بِي
اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے سچا خواب دیکھا کیونکہ شیطان میری شباہت اختیار نہیں کرسکتا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فَيُرِيدُ أَنْ يَنَامَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَنَامَ
اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ حضرت ابوسعید ؓ نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ اگر رات کو وہ " ناپاک " ہوجائیں تو پھر سونا چاہیں تو کیا کریں؟ نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وضو کر کے سو جایا کریں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْطٍ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَعَرَفَ حُدُودَهُ وَتَحَفَّظَ مِمَّا كَانَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَحَفَّظَ فِيهِ كَفَّرَ مَا كَانَ قَبْلَهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص رمضان کے روزے رکھے، اس کی حدود کو پہچانے اور جن چیزوں سے بچنا چاہیے ان سے بچے تو وہ اس کے گذشتہ سارے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُمْ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک تمام لوگوں میں سب سے پسندیدہ اور مجلس کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب شخص منصف حکمران ہوگا اور اس دن سب سے زیادہ مبغوض اور سخت عذاب کا مستحق ظالم حکمران ہوگا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ فَأَطْعِمُوا طَعَامَكُمْ الْأَتْقِيَاءَ وَأَوْلُوا مَعْرُوفَكُمْ الْمُؤْمِنِينَ حَدَّثَنَاه أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ وَهَذَا أَتَمُّ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مؤمن اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کی سی ہے جو اپنے کھونٹے پر بندھا ہوا ہو، کہ گھوڑا گھوم پھر کر اپنے کھونٹے ہی کی طرف واپس آتا ہے اور مؤمن بھی گھوم پھر کی ایمان ہی کی طرف واپس آجاتا ہے، سو تم اپنا کھانا پرہیز گاروں اور نیکوکار مسلمانوں کو کھلایا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لِحْيَانَ قَالَ يَعْنِي لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ وَقَالَ لِلْقَاعِدِ أَيُّكُمَا خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ مروی ہے کہ بنو لحیان کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہر دور میں سے ایک آدمی کو جہاد کے لئے نکلنا چاہئے اور پیچھے رہنے والے کے متعلق فرمایا کہ تم میں سے جو شخص جہاد پر جانے والے کے پیچھے اس کے اہل خانہ اور مال و دولت کا اچھے طریقے سے خیال رکھتا ہے، اسے جہاد پر نکلنے والے کا نصف ثواب ملتا ہے۔