حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ حَدَّثَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَأَعْجَبَهُ جَوْدَتُهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَخَذْنَا صَاعًا بِصَاعَيْنِ لِنَطْعَمَهُ فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں کچھ کھجوریں پیش کی گئیں، جن کی عمدگی آپ کو بہت اچھی لگی، صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! یہ ہم نے آپ کے تناول فرمانے کے لئے دو صاع کے بدلے ایک صاع لی ہیں، تو نبی ﷺ نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور اس سے منع فرما دیا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جماعت کے ساتھ نماز تنہا نماز پر پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِائَةُ رَحْمَةٍ فَقَسَمَ مِنْهَا جُزْءًا وَاحِدًا بَيْنَ الْخَلْقِ فَبِهِ يَتَرَاحَمُ النَّاسُ وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں، جن میں سے اللہ نے تمام جن و انس اور جانوروں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے، اسی کی برکت سے وہ ایک دوسرے پر مہربانی کرتے اور رحم کھاتے ہیں اور اسی ایک رحمت کے سبب وحشی جانور تک اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلَّهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ عِنْدَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَجَعَلَ عِنْدَكُمْ وَاحِدَةً تَرَاحَمُونَ بِهَا بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَبَيْنَ الْخَلْقِ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ضَمَّهَا إِلَيْهَا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں جن میں سے اللہ نے تمام جن و انس اور جانوروں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے، اسی کی برکت سے وہ ایک دوسرے پر مہربانی کرتے اور رحم کھاتے ہیں اور اسی ایک رحمت کے سبب وحشی جانور تک اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ کے پاس ہیں اور قیامت کے دن وہ ایک رحمت بھی ان ننانوے کے ساتھ ملا دے گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَسْوَأَ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَسْرِقُهَا قَالَ لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بدترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرے۔ صحابہ ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! نماز میں چوری کیسے ہوسکتی ہے؟ فرمایا اس طرح کہ رکوع و سجود کو مکمل ادا نہ کرے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ قَالَ فَيُخْرَجُونَ قَدْ امْتَحَشُوا وَعَادُوا فَحْمًا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ نَهَرُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَوْ قَالَ فِي حَمِيلَةِ السَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَوْا أَنَّهَا تَنْبُتُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جس شخص کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان پایا جاتا ہو اسے جہنم سے نکال لو، جب انہیں وہاں سے نکالا جائے گا تو وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے، پھر وہ لوگ ایک خصوصی نہر میں جس کا نام نہر حیات ہوگا، غسل کریں گے اور ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے، پھر نبی ﷺ نے فرمایا ذرا غور تو کرو کہ درخت پہلے سبز ہوتا ہے پھر زرد ہوتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَكَيْتَ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ عَيْنٍ وَنَفْسٍ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے محمد ﷺ! کیا آپ بیمار ہیں؟ فرمایا جی ہاں! تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا کہ " میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے، نظر بد کے شر سے اور نفس کے شر سے، اللہ آپ کو شفاء دے، میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عَطَاءٍ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ قَالَ مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ قَالُوا ثُمَّ مَنْ قَالَ مُؤْمِنٌ اعْتَزَلَ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ أَوْ الشُّعْبَةِ كَفَى النَّاسَ شَرَّهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا وہ مومن جو اپنی جان و مال سے راہ اللہ میں جہاد کرے، سائل نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا وہ مؤمن جو کسی بھی محلے میں رہتا ہو، اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بچاتا ہو۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا غَيْرَ الْقُرْآنِ فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے حوالے سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرو اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو، اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹا دے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
وَقَالَ حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ حَدِّثُوا عَنِّي وَلَا تَكْذِبُوا قَالَ وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ قَالَ هَمَّامٌ أَحْسَبُهُ قَالَ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
اور فرمایا بنی اسرائیل کے حوالے سے بیان کرسکتے ہو اس میں کوئی حرج نہیں، میرے حوالے سے بھی حدیث بیان کرسکتے ہو، البتہ میری طرف جھوٹی نسبت نہ کرنا، کیونکہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی نسبت کرے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ قِسْمًا إِذْ جَاءَهُ ابْنُ ذِي الْخُوَيْصِرَةِ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ اعْدِلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فِيهِ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْتَقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ فَيُنْظَرُ فِي قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ فِي نَضِيَّتِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ فِي رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ فِي نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ مِنْهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ فِي إِحْدَى يَدَيْهِ أَوْ قَالَ إِحْدَى ثَدْيَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنْ النَّاسِ فَنَزَلَتْ فِيهِمْ وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ الْآيَةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا حِينَ قَتَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ جِيءَ بِالرَّجُلِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ ذوالخویصرہ تمیمی آگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا بدنصیب! اگر میں ہی انصاف سے کام نہیں لوں گا تو اور کون لے گا؟ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑو، اس کے کچھ ساتھی ہیں ان کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو ان کے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، لیکن لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور آدمی اپنا تیر پکڑ کر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ ان میں ایک سیاہ فام آدمی ہوگا جس کے ایک ہاتھ پر عورت کی چھاتی یا چبائے ہوئے لقمے جیسا نشان ہوگا، ان لوگوں کا خروج انقطاع زمانہ کے وقت ہوگا اور انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی " ان میں سے بعض وہ ہیں جو صدقات میں آپ پر عیب لگاتے ہیں " حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث نبی ﷺ سے سنی ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی ؓ نے ان لوگوں سے قتال کیا ہے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا اور ایک آدمی اسی حلئے کا پکڑ کر لایا تھا جو نبی ﷺ نے بیان فرمایا تھا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ رَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ غَارِمٍ أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ مِنْهَا فَأَهْدَى مِنْهَا لِغَنِيٍّ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کسی مالدار کے لئے صدقہ زکوٰۃ حلال نہیں سوائے پانچ مواقع کے، زکوٰۃ وصول کرنے والے کے لئے اپنے مال سے اسے خریدنے والے کے لئے، مقروض کے لئے، جہاد فی سبیل اللہ میں اور ایک اس صورت میں کہ اس کے غریب پڑوسی کو کسی نے صدقہ کی کوئی چیز بھیجی ہو اور وہ اسے مالدار کے پاس ہدیۃً بھیج دے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْدَأُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ فَيَكُونُ فِي خُطْبَتِهِ الْأَمْرُ بِالْبَعْثِ وَالسَّرِيَّةِ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ عیدالفطر اور عیدا لاضحی کے دن خطبے سے پہلے نماز پڑھاتے، پھر خطبہ ارشاد فرماتے اور اس خطبے کے حوالے سے احکام بیان فرماتے تھے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَ سُتْرَتِكَ أَحَدٌ فَارْدُدْهُ فَإِنْ أَبَى فَادْفَعْهُ فَإِنْ أَبَى فَقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو کسی کو اپنے آگے سے نہ گذرنے دے اور حتیٰ الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمُثَنَّى يَقُولُ سَمِعْتُ مَرْوَانَ يَسْأَلُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ فَإِنِّي لَا أُرْوَى يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ فَأَبِنْ الْقَدَحَ عَنْ فِيكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ إِنِّي أَرَى الْقَذَى فِيهِ قَالَ فَأَهْرِقْهُ
ابوالمثنیٰ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی ﷺ کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا میں کیا کروں؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لیا کرو۔ اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک ماروں؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنْ الْفِتَنِ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا عنقریب ایک مسلم کا سب سے بہترین مال " بکری " ہوگی، جسے لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے قطرات کے گرنے کی جگہ پر چلا جائے اور فتنوں سے اپنے دین کو بچا لے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَعَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ كِلَاهُمَا يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَدُهُمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي كُنْتُ حَرَّمْتُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَكُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا مَا شِئْتُمْ وَقَالَ الْآخَرُ كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا مَا شِئْتُمْ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھا سکتے ہو اور جب تک چاہو ذخیرہ بھی کرسکتے ہو۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَرَوْحٌ قَالَا ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ أَخْبَرَهُ وَحَسَنًا أَخْبَرَهُمَا أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا فِي الْأَشْرِبَةِ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ أَوَتَدْرِ مَا النَّقِيرُ قَالَ نَعَمْ الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ وَلَا فِي الدُّبَّاءِ وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ وَعَلَيْكُمْ بِالْمُوكَإِ قَالَ رَوْحٌ بِالْمُوكَإِ مَرَّتَيْنِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو عبدالقیس کے وفد میں کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! ہم آپ پر قربان ہوں، مشروبات کے حوالے سے ہمارے لئے کیا مناسب ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا " نقیر " میں کوئی چیز نہ پیا کرو، انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! ہم آپ پر قربان ہوں، کیا آپ " نقیر " کے بارے جانتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں! وہ لکڑی جو درمیان سے کھوکھلی کرلی جائے، اسی طرح کدو اور مٹکے میں بھی نہ پیا کرو بلکہ سر بند مشکیزے میں پیا کرو۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ أَوَإِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَقْضِ لِنَفْسٍ أَنْ يَخْلُقَهَا إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ سے عزل (مادیہ منویہ کے باہر ہی اخراج) کے متعلق سوال پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم ایسا کرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے جس نفس کو وجود عطاء فرمانے کا فیصلہ کرلیا ہو وہ وجود میں آکر رہے گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي عَمْرٍو النَّدَبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُوَاصِلُوا قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو جو شخص ایسا کرنا ہی چاہتا ہو تو وہ سحری تک ایسا کرلے، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔