حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ مَوْلَى بَنِي عَنْزٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ أَحَدٌ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْتَ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ وَقَالَ بِيَدِهِ فَوْقَ رَأْسِهِ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے نبی ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اللہ کی مہربانی کے بغیر جنت میں نہیں جاسکے گا، صحابہ کرام ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! آپ بھی نہیں؟ فرمایا میں بھی نہیں، الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ یہ جملہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزْرَةُ الْمُسْلِمِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَمَا كَانَ إِلَى الْكَعْبِ فَلَا بَأْسَ وَمَا تَحْتَ الْكَعْبِ فَفِي النَّارِ
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کی تہبند نصف پنڈلی تک ہونی چاہئے، پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَجِيحٍ عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ إِنَّ مِنَّا رِجَالًا هُمْ أَقْرَؤُنَا لِلْقُرْآنِ وَأَكْثَرُنَا صَلَاةً وَأَوْصَلُنَا لِلرَّحِمِ وَأَكْثَرُنَا صَوْمًا خَرَجُوا عَلَيْنَا بِأَسْيَافِهِمْ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ
یزید الفقیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے عرض کیا کہ ہم میں کچھ آدمی تھے جو ہم سب سے زیادہ قرآن کی تلاوت کرتے، سب سے زیادہ نماز پڑھتے، صلہ رحمی کرتے اور روزے رکھتے تھے، لیکن اب وہ ہمارے سامنے تلواریں سونت کر آگئے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ وَيَسْجُدُ عَلَيْهِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی ﷺ نے چٹائی پر نماز پڑھی اور اس پر سجدہ کیا تھا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فِي الْحَرِّ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَوْحِ جَهَنَّمَ هَكَذَا قَالَ الْأَعْمَشُ مِنْ فَوْحِ جَهَنَّمَ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا (جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو) نماز ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالُوا إِلَّا مَنْ قَالَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالُوا إِلَّا مَنْ قَالَ هَلَكَ الْمُثْرُونَ قَالَ حَتَّى خِفْنَا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَجَبَتْ قَالَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَقَلِيلٌ مَا هُمْ
حضرت ابوسیعد ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے، ہم ڈر گئے، پھر نبی ﷺ نے فرمایا سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَوَّلُ مَنْ أَخْرَجَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْعِيدِ مَرْوَانُ وَأَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ وَلَمْ يَكُ يُخْرَجُ وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَنْ هَذَا قَالُوا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
مروی ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا جو نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، یہ دیکھ کر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا مروان! تم نے سنت کی مخالفت کی، تم نے عید کے دن منبر نکلوایا جو کہ پہلے نہیں نکالا جاتا تھا اور تم نے نماز سے پہلے خطبہ دیا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، اس مجلس میں حضرت ابو سعید خدری ؓ بھی تھے، انہوں نے پوچھا کہ یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں بن فلاں ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس شخص نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی ہوتے ہوئے دیکھے اور اسے ہاتھ سے بدلنے کی طاقت رک تھا ہو تو ایسا ہی کرے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اور اگر زبان سے بھی نہیں کرسکتا تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي مُتَوَشِّحًا
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی ﷺ نے ایک کپڑے میں اس کے دونوں پلّو دونوں کندھوں پر ڈال کر نماز پڑھی۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ قَالَ بَلَغَ ابْنَ عُمَرَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَأْثُرُ حَدِيثًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّرْفِ فَأَخَذَ يَدِي فَذَهَبْتُ أَنَا وَهُوَ وَالرَّجُلُ فَقَالَ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ تَأْثُرُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّرْفِ فَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُفَضِّلُوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ
نافع (رح) کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر ؓ کو حضرت ابوسعید خدری ؓ کے حوالے سے سونے چاندی کی خریدو فروخت کے متعلق حدیث سنا رہا تھا، حضرت ابن عمر ؓ نے میرا اور اس آدمی کا ہاتھ پکڑا اور ہم حضرت ابوسعید ؓ کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے کھڑے ہو کر حضرت ابن عمر ؓ کا استقبال کیا، حضرت ابن عمر ؓ نے ان سے فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے اور ان کے خیال کے مطابق وہ حدیث آپ نے انہیں نبی ﷺ کے حوالے سے سنائی ہے، کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی ﷺ سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُجَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جَنِينِ النَّاقَةِ وَالْبَقَرَةِ فَقَالَ إِنْ شِئْتُمْ فَكُلُوهُ فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی اونٹنی یا گائے کا بچہ اس کے پیٹ میں ہی مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگر تمہاری طبیعت چاہے تو اسے کھا سکتے ہو کیونکہ اس کی ماں کا ذبح ہونا دراصل اس کا ذبح ہونا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کا اثر ہوتی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ شِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا (جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو) نمازِ ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ التَّيْمِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِحَقٍّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ أَوْ سَمِعَهُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ و قَالَ أَبُو نَضْرَةَ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لوگوں کی ہیبت اور رعب ودبدبہ تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے، جب کہ وہ خود اسے دیکھ لے، یا مشاہدہ کرلے یا سن لے، حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ کاش! میں نے یہ حدیث نہ سنی ہوتی۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِيَاضٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ أَحَدُنَا يُصَلِّي لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ فَإِنْ أَتَاهُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ أَوْ صَوْتًا بِأُذُنِهِ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ و حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
عیاض (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے اور جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یوں کہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے تو اسے کہہ دو کہ تو جھوٹ بولتا ہے، الاّ یہ اس کی ناک میں بدبو آجائے یا اس کے کان اس کی آواز سن لیں۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو رِفَاعَةَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي أَمَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا وَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ وَإِنَّ الْيَهُودَ تَزْعُمُ أَنَّهَا الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى قَالَ كَذَبَتْ يَهُودُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَهُ لَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَرُدَّهُ
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میری ایک باندی ہے، میں اس سے عزل کرتا ہوں، میں وہی چاہتا ہوں کہ جو ایک مرد چاہتا ہے اور میں اس کے حاملہ ہونے کو اچھا نہیں سمجھتا اور یہودی کہا کرتے ہیں کہ عزل زندہ درگور کرنے کی ایک چھوٹی صورت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں، اگر اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرلے تو کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اس میں رکاوٹ بن سکے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ أَنْتَ تَخْلُقُهُ أَنْتَ تَرْزُقُهُ أَقِرَّهُ قَرَارَهُ فَإِنَّمَا ذَلِكَ الْقَدَرُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے " عزل " کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کیا اس نومولود کو تم پیدا کرو گے؟ کیا تم اسے رزق دو گے؟ اللہ نے اسے اس کے ٹھکانے میں رکھ دیا ہے تو یہ تقدیر کا حصہ ہے اور یہی تقدیر ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ثَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم اذان سنو تو وہی جملے کہا کرو جو مؤذن کہتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُجَالِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَصُومُوا يَوْمَيْنِ وَلَا تُصَلُّوا صَلَاتَيْنِ وَلَا تَصُومُوا يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى وَلَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا دو دن کا روزہ اور دو موقع پر نماز نہ پڑھو، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کا روزہ نہ رکھو، نمازِ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نوافل نہ پڑھو۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ
کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے،
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي وَمَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ
اور سوائے تین مسجدوں کے یعنی مجسد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔