حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعَ صَدَقَةَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ يَعْنِي عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَأَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ وَأَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ وَلَمْ يَسْمَعْهُ ابْنُ عُمَرَ وَسَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ قَالُوا لَهُ فَأَيْنَ أَهْلُ الْعِرَاقِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے اہل شام جحفہ سے اہل یمن یلملم اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں لوگوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ اہل عراق کہاں گئے؟ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت اس کی میقات نہیں تھی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ يَحُطَّانِ الذُّنُوبَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام انسان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو ابْنَ عُمَرَ كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ فَتَرَكْنَاهُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ زمین مزارعت پر دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے بعد میں حضرت رافع بن خدیج ؓ نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے چناچہ ہم نے اسے چھوڑ دیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي قَالَ لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے لعان کرنے والوں سے ارشاد فرمایا کہ تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمے ہے تم میں سے کوئی ایک تو یقینا جھوٹا ہے اور اب تمہیں اس عورت پر کوئی اختیار نہیں ہے اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرا مال؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارا کوئی مال نہیں ہے اگر اس پر تمہارا الزام سچا ہے تو اسی مال کے عوض تم نے اس کی شرمگاہ کو اپنے لئے حلال کیا تھا اور اگر اس پر تمہارا الزام جھوٹا ہے پھر تو تمہاے لئے یہ بات بہت بعید ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قِيلَ لِسُفْيَانَ ابْنُ عَمْرٍو قَالَ لَا ابْنُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَاصَرَ أَهْلَ الطَّائِفِ وَلَمْ يَقْدِرْ مِنْهُمْ عَلَى شَيْءٍ قَالَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَكَأَنَّ الْمُسْلِمِينَ كَرِهُوا ذَلِكَ فَقَالَ اغْدُوا فَغَدَوْا عَلَى الْقِتَالِ فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل طائف کا محاصرہ کیا اور اس سے کچھ فائدہ نہ ہوسکا تو نبی کریم ﷺ نے ایک دن اعلان کروادیا کہ کل ہم لوگ انشاء اللہ واپس چلیں گے مسلمانوں کو اس حکم پر اپنی طبیعت میں بوجھ محسوس ہوا نبی کریم ﷺ کو خبر ہوگئی آپ ﷺ نے انہیں رکنے کے لئے فرمادیا چناچہ اگلے دن لڑائی ہوئی تو اس میں مسلمانوں کے کئی آدمی زخمی ہوئے نبی کریم ﷺ نے اس دن پھر یہی اعلان فرمایا کہ کل ہم لوگ انشاء اللہ واپس چلیں گے اس مرتبہ مسلمان خوش ہوگئے اور نبی کریم ﷺ یہ دیکھ مسکرانے لگے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ عَمْرٍو عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةً لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر دو آدمیوں کے درمیان ایک غلام مشترک ہو اور ان میں سے کوئی ایک اپنے حصے سے اسے آزاد کر دے تو دوسرے کے مالدار ہونے کی صورت میں اس کی قیمت لگوائی جائے گی جو حد سے زیادہ کم یا زیادہ نہ ہوگی ( اور دوسرے کو اس کا حصہ دے کر) غلام مکمل آزاد ہوجائے گا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيِّ بِعْتُ مَا فِي رُءُوسِ نَخْلِي بِمِائَةِ وَسْقٍ إِنْ زَادَ فَلَهُمْ وَإِنْ نَقَصَ فَلَهُمْ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا
اسماعیل شیبانی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے باغ کی کھجوروں کو سو وسق کے بدلے بیچ دیا کہ اگر زیادہ ہوں تب بھی ان کی اور کم ہوں تب بھی ان کی پھر میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے البتہ اندازے کے ساتھ بیع عرایا کی اجازت دی ہے۔ فائدہ۔ یعنی اگر مبیع کی مقدار پانچ وسق سے کم ہو تو اس میں کمی بیشی اور اندازے کی گنجائش ہے اس سے زیادہ میں نہیں جیسا کہ بعض ائمہ کی رائے ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ بَيْنَهُمَا سَالِمٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَضَاءَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ طلوع فجر کے وقت بھی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَهُوَ يَقُولُ وَأَبِي وَأَبِي فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ وَإِلَّا فَلْيَصْمُتْ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص قسم کھانا چاہے تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَبَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْلَ فَأَرْسَلَ مَا ضُمِّرَ مِنْهَا مِنْ الْحَفْيَاءِ وَأَرْسَلَ مَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنْهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ کروایا ان میں سے جو گھوڑے چھریرے تھے انہیں " حفیائی " سے ثنیۃ الوداع تک مسابقت کے لئے مقرر فرمایا اور جو چھریرے بدن کے نہ تھے ان کی ریس ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کروائی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى عَنْ نَافِعٍ خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ يُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ بِمَكَّةَ أَمْرًا فَقَالَ أُهِلُّ بِالْعُمْرَةِ فَإِنْ حُبِسْتُ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ فَلَمَّا سَارَ قَلِيلًا وَهُوَ بِالْبَيْدَاءِ قَالَ مَا سَبِيلُ الْعُمْرَةِ إِلَّا سَبِيلُ الْحَجِّ أُوجِبُ حَجًّا وَقَالَ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا فَإِنَّ سَبِيلَ الْحَجِّ سَبِيلُ الْعُمْرَةِ فَقَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ أَتَى قُدَيْدًا فَاشْتَرَى هَدْيًا فَسَاقَهُ مَعَهُ
نافع (رح) کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ ایک مرتبہ عمرے کے ارادے سے روانہ ہوئے لوگوں نے بتایا کہ اس وقت مکہ مکرمہ میں شورش بپا ہے انہوں نے فرمایا میں عمرے کا احرام باندھ لیتا ہوں اگر میرے سامنے بھی کوئی رکاوٹ پیش آگئی تو میں وہی کروں گا جو نبی کریم ﷺ نے کیا تھا پھر چلتے چلتے جب مقام بیداء پر پہنچے تو فرمانے لگے کہ حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک ہی جیسا تو ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کے ساتھ حج کی بھی نیت کرلی ہے چناچہ وہ مکہ مکرمہ پہنچے اور سات چکر لگا کر ایک طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کے سات چکر لگائے اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ انہوں نے مقام " قدیر " پر پہنچ کر ہدی کا جانور خریدا اور اپنے ساتھ لے گئے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَى قُدَيْدًا وَاشْتَرَى هَدْيَهُ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ هَكَذَا
نافع (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ مقام " قدیر " پر پہنچ کر ہدی کا جانور خریدا حرم شریف پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى عَنْ نَافِعٍ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِسَلْعٍ بَلَغَ الْمَوْتُ شَاةً مِنْهَا فَأَخَذَتْ ظُرَرَةً فَذَكَّتْهَا بِهِ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا
نافع (رح) کہتے ہیں کہ میں نے بنوسلمہ کے ایک آدمی کو حضرت ابن عمر ؓ کے سامنے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت کعب بن مالک ؓ کی ایک باندی تھی جو " سلع " میں ان کی بکریاں چرایا کرتی تھی ان بکریوں میں سے ایک بکری مرنے کے قریب ہوگئی تو اس باندی نے تیز دھاری دار پتھرلے کر اس بکری کو اس سے ذبح کردیا نبی کریم ﷺ نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى قَالَ خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى الْحِمَى فَلَمَّا غَرُبَتْ الشَّمْسُ هِبْنَا أَنْ نَقُولَ لَهُ الصَّلَاةَ حَتَّى ذَهَبَ بَيَاضُ الْأُفُقِ وَذَهَبَتْ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ نَزَلَ فَصَلَّى بِنَا ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ وَالْتَفَتَ إِلَيْنَا وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ
بنواسد بن عبدالعزی کے اسماعیل بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ چراگاہ کے لئے نکلے سورج غروب ہوگیا پھر جب رات کی تاریکی چھانے لگی تو انہوں نے اتر کر ہمیں پہلے تین اور پھر دو رکعتیں پڑھائیں اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارَةٍ فَقَالَ إِنَّ مِنْ الشَّجَرِ شَجَرَةً مَثَلُهَا كَمَثَلِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَكَتُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ النَّخْلَةُ
مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کے سفر میں حضرت ابن عمر ؓ کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا اس دوران میں نے انہیں نبی کریم ﷺ کی صرف ایک ہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کہیں سے کھجوروں کا ایک گچھا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جو مسلمان کی طرح ہے (بتاؤ وہ کون سادرخت ہے؟ ) میں نے کہنا چاہا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں نے دیکھا تو اس مجلس میں شریک تمام لوگوں میں سب سے زیادہ چھوٹا میں ہی تھا اس لئے خاموش ہوگیا پھر خود نبی کریم ﷺ نے ہی فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ شَهِدَ ابْنُ عُمَرَ الْفَتْحَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً وَمَعَهُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِيلٌ فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ يَخْتَلِي لِفَرَسِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ
مجاہدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ فتح مکہ کے موقع پر موجود تھے اس وقت ان کی عمر ٢٠ سال تھی ان کے پاس ایک ڈٹ جانے والا گھوڑا اور ایک بھاری نیزہ بھی تھا وہ جا کر اپنے گھوڑے کے لئے گھاس کاٹنے لگے نبی کریم ﷺ نے آوازیں دے دے کر انہیں روکا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ حُدَيْرٍ وَوَكِيعٌ الْمَعْنَى قَالَ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُطَارِدٍ قَالَ وَكِيعٌ السَّدُوسِيِّ أَبِي الْبَزَرِيِّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا فَقَالَ قَدْ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَشْرَبُ قِيَامًا وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَسْعَى
یزید بن عطارد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے کھڑے ہو کر پانی پینے کا حکم پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے اور چلتے چلتے کھانا کھالیتے تھے (کیونکہ جہاد کی مصروفیت میں کھانے پینے کے لئے وقت کہاں؟ )
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يَبْدَءُونَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اور حضرات شیخین ؓ عید کے موقع پر خطبہ سے پہلے نماز پڑھایا کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرد اور عورت کے درمیان لعان کروایا اور ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔