Musnad Imam Ahmad 4362

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

4362Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيِّ بِعْتُ مَا فِي رُءُوسِ نَخْلِي بِمِائَةِ وَسْقٍ إِنْ زَادَ فَلَهُمْ وَإِنْ نَقَصَ فَلَهُمْ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا

اسماعیل شیبانی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے باغ کی کھجوروں کو سو وسق کے بدلے بیچ دیا کہ اگر زیادہ ہوں تب بھی ان کی اور کم ہوں تب بھی ان کی پھر میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے البتہ اندازے کے ساتھ بیع عرایا کی اجازت دی ہے۔ فائدہ۔ یعنی اگر مبیع کی مقدار پانچ وسق سے کم ہو تو اس میں کمی بیشی اور اندازے کی گنجائش ہے اس سے زیادہ میں نہیں جیسا کہ بعض ائمہ کی رائے ہے۔