حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 27 · 2,591 hadiths · Page 26 of 130

4716Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی سواری پر نفل پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت ہو۔

4717Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ قَزَعَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ فَقَالَ تَعَالَ حَتَّى أُوَدِّعَكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ

قزعہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر ؓ نے مجھے کسی کام سے بھیجتے ہوئے فرمایا قریب آجاؤ تاکہ میں تمہیں اس طرح رخصت کروں جیسے نبی کریم ﷺ نے مجھے اپنے کام سے بھیجتے ہوئے رخصت کیا تھا پھر میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ میں تمہارے دین و امانت اور تمہارے عمل کا انجام اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔

4718Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكِلَابِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ فَقَالَ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا ثُمَّ قَالَ إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ وَهِلَ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُمْ الْآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ لَهُوَ الْحَقُّ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا غزوہ بدر کے دن اس کنوئیں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے جس میں صنادید قریش کی لاشیں پڑی تھیں اور ایک ایک کا نام لے لے کر فرمانے لگے کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ بخدا! اس وقت یہ لوگ میری بات سن رہے ہیں یحییٰ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ کو جب یہ حدیث معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگیں اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے انہیں وہم ہوگیا ہے نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ اب یقین ہوگیا ہے کہ میں ان سے جو کہتا تھا وہ سچ تھا۔

4719Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ وَهِلَ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ إِنَّ صَاحِبَ هَذَا لَيُعَذَّبُ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَرَأَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے کسی نے حضرت عائشہ ؓ سے اس بات کا ذکر کیا تو حضرت عائشہ ؓ فرمانے لگیں کہ انہیں وہم ہوگیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا دراصل نبی کریم ﷺ کا ایک قبر پر گذر ہوا تو اس کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔

4720Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ الْجُيُوشِ وَالسَّرَايَا أَوْ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِذَا أَوْفَى عَلَى أُرْبِيَّةٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حج جہاد یا عمرہ سے واپس آتے تو زمین کے جس بلند حصے پر چڑھتے یہ دعا پڑھتے اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں سجدہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے واپس آ رہے ہیں اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو اکیلے ہی شکت دے دی۔

4721Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْ الْمَاءِ يَكُونُ بِأَرْضِ الْفَلَاةِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْمَاءُ قَدْرَ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ الْخَبَثَ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر جنگل میں انسان کو ایسا پانی ملے جہاں جانور اور درندے بھی آتے ہوں تو کیا اس سے وضو کیا جاسکتا ہے؟ میں نے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو وہ گندگی کو نہیں اٹھاتا (اس میں گندگی سرایت نہیں کرتی)

4722Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ سُرَاقَةَ يَذْكُرُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَا بَعْدَهَا فِي السَّفَرِ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ سفر میں فرائض سے پہلے یا بعد میں نماز نہیں پڑھتے تھے (سنتیں مراد ہیں )

4723Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يَبْدَءُونَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اور حضرات شیخین ؓ عید کے موقع پر خطبہ سے پہلے نماز پڑھایا کرتے تھے۔

4724Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ طَوَافًا وَاحِدًا لِإِقْرَانِهِ لَمْ يَحِلَّ بَيْنَهُمَا وَاشْتَرَى هَدْيًا مِنْ الطَّرِيقِ مِنْ قُدَيْدٍ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے حج قران میں ایک ہی طواف کیا تھا اور ان دونوں کے درمیان آپ ﷺ نے احرام نہیں کھولا تھا اور ہدی کا جانور راستے میں مقام قدیر سے خریدا تھا۔

4725Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَمَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْمَعْنَى عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَعَدَلَ رَاحِلَتَهُ عَنْ الطَّرِيقِ وَهُوَ يَقُولُ يَا نَافِعُ أَتَسْمَعُ فَأَقُولُ نَعَمْ قَالَ فَيَمْضِي حَتَّى قُلْتُ لَا قَالَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ وَأَعَادَ الرَّاحِلَةَ إِلَى الطَّرِيقِ وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَةِ رَاعٍ فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا

نافع (رح) جو حضرت ابن عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر ؓ راستے میں چلے جا رہے تھے کہ ان کے کانوں میں کانوں میں کسی چرواہے کے گانے اور ساز کی آواز آئی انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں اور وہ راستہ ہی چھوڑ دیا اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد مجھ سے پوچھتے رہے کہ نافع! کیا اب بھی آواز آرہی ہے میں اگر " ہاں " میں جواب دیتا تو وہ چلتے رہتے یہاں تک کہ جب میں نے نہیں کہہ دیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ کانوں سے ہٹا لئے اور اپنی سواری کو پھر راستے پر ڈال دیا اور کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ایک چرواہے کے گانے اور ساز کی آواز سنتے ہوئے اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

4726Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَتَوَضَّأُ مَرَّةً مَرَّةً وَيُسْنِدُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَيُسْنِدُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور اس کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کرتے تھے جب کہ حضرت ابن عباس ؓ ایک ایک مرتبہ دھوتے تھے اور وہ بھی اس کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کرتے تھے۔

4727Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بْنِ عُمَرَ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ يُخْبِرُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَصَلَّى بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ قَالَ ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ فَصَلَّى بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ فَصَلَّى بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ الْجَزَرِيَّ يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ يُخْبِرُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ أَوْ نَحْوَهُ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ میں عید کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے ساتھ موجود رہا ہوں آپ ﷺ نے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی پھر میں عید کے موقع پر حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ موجود رہا ہوں آپ ﷺ نے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی پھر میں عید کے موقع پر حضرت عمر ؓ کے ساتھ موجود رہا ہوں آپ ؓ نے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی پھر میں عید کے موقع پر حضرت عثمان ؓ کے ساتھ موجودر ہا ہوں آپ ؓ نے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

4728Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْبَلُ صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ وَلَا صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مال غنیمت میں سے چوری کی ہوئی چیز کا صدقہ قبول نہیں کرتا اور نہ ہی طہارت کے بغیر نماز قبول کرتا ہے۔

4729Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ فِي الْيَوْمِ الْأَوْسَطِ مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ قَالَ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَدَنَا الْقَوْمُ وَتَنَحَّى ابْنٌ لَهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ ادْنُ فَاطْعَمْ قَالَ فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ قَالَ فَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهَا أَيَّامُ طُعْمٍ وَذِكْرٍ

ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایام تشریق کے کسی درمیانی دن میں ہم لوگ حضرت ابن عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھوڑی دیر بعد کھانا آیا اور لوگ قریب قریب ہوگئے لیکن ان کا ایک بیٹا ایک طرف کو ہو کر بیٹھ گیا حضرت ابن عمر ؓ نے اس سے فرمایا آگے ہو کر کھانا کھاؤ اس نے کہا کہ میں روزے سے ہوں انہوں نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے یہ کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں۔

4730Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَمَنْ صَلَّى مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِذَلِكَ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جو شخص رات کے آغاز میں نماز پڑھے تو اسے چاہئے کہ رات کو اپنی سب سے آخری نماز وتر کو بنائے کیونکہ نبی کریم ﷺ اسی کی تلقین فرماتے تھے۔

4731Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرِيتُ فِي النَّوْمِ أَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيبٍ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِيفًا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاسْتَقَى فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنْ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّى رَوَّى النَّاسُ وَضَرَبُوا بِعَطَنٍ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں حضرت ابوبکر و عمر ؓ کو دیکھا فرمایا میں نے دیکھا کہ میں ایک کنوئیں پر ڈول کھینچ رہاہوں اتنی دیر میں ابوبکر آئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزوری تھی اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائے پھر عمرنے ڈول کھینچے اور وہ ان کے ہاتھ میں آ کر بڑا ڈول بن گیا میں نے کسی عبقری انسان کو ان کی طرح ڈول بھرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کو سیراب کردیا۔

4732Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَزَعِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَالْقَزَعُ التَّرْقِيعُ فِي الرَّأْسِ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے " قزع " سے منع فرمایا ہے " قزع " کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں (جیسا کہ آج کل فیشن ہے)

4733Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَزَعِ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے " قزع " سے منع فرمایا ہے " قزع " کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوالیے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں (جیسا کہ آج کل فیشن ہے)

4734Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيَّ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تم میں سے کسی کا پیٹ قے سے بھر جانا اس بات کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔

4735Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ فَصَّ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ اپنی انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کرلیتے تھے۔