حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلٌ أَهْلَهُ أَنْ يَأْتُوا الْمَسَاجِدَ فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَإِنَّا نَمْنَعُهُنَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ هَذَا قَالَ فَمَا كَلَّمَهُ عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى مَاتَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی شخص اپنے اہل خانہ کو مسجد آنے سے نہ روکے یہ سن کر حضرت ابوعمر ؓ کا کوئی بیٹا کہنے لگا کہ ہم تو انہیں روکیں گے حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ میں تم سے نبی کریم اللہ ﷺ کی حدیث بیان کر رہاہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو؟ اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے آخر دم تک اس سے بات نہیں کی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الْقَاصُّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ الصَّنْعَانِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فَلْيَقْرَأْ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَ إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ وَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَأَحْسَبُهُ قَالَ وَسُورَةَ هُودٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص قیامت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ سورت تکویر سورت انفطار اور سورت انشقاق پڑھ لے غالباً سورت ہود کا بھی ذکر فرمایا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے پاؤں رکاب میں ڈال لیتے اور اونٹنی انہیں لے کر سیدھی کھڑی ہوجاتی تو نبی کریم اللہ ﷺ ذوالحلیفہ کی مسجد سے احرام باندھتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت نہ کھائے (بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا)
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ لِي نَافِعٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُقْتَلُ مِنْ الدَّوَابِّ خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْفَأْرَةُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ قسم کے جانور ایسے ہیں جہنیں قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے بچھو، چوہے، چیل کوے اور باؤلے کتے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا شب قدر کو ماہ رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کیا کرو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ الْجِنَازَةِ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يَمْشُونَ أَمَامَهَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اور حضرات ثلاثہ ؓ جنازے کے آگے چلتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند بھی مروی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَكَانَ مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ وَكَانَ أَعْلَمَ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مِنْ وَهْبٍ يَعْنِي ابْنَ مُنَبِّهٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيَقْرَأْ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص قیامت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ سورت تکویر پڑھ لے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّمَرِ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے پکنے سے قبل پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ كَلْبَ قَنْصٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ایساکتا رکھے جو حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہوتی رہے گی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَجُلٌ لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فَقَالَ فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ وَقَالَ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ثَلَاثًا
سعید بن جبیررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ سے لعان کرنے والے کے متعلق مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے ایسے میاں بیوی کے درمیان تفریق کرادی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ جانتا ہے تم میں سے کوئی ایک ضرور جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے کے لئے تیار ہے؟ لیکن ان میں سے کوئی بھی تیار نہ ہوا نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ ان کے سامنے یہ بات دہرائی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْ زَرْعٍ أَوْ تَمْرٍ فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ كُلَّ عَامٍ مِائَةَ وَسْقٍ وَثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل خیبر کے ساتھ یہ معاملہ طے فرمایا کہ پھل یا کھیتی کی جو پیداوار ہوگی اس کا نصف تم ہمیں دوگے نبی کریم ﷺ اپنی ازواج مطہرات کو ہر سال سو وسق دیا کرتے تھے جن میں سے اسی وسق کھجوریں بیس وسق جو ہوتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً أَهَلَّ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے پاؤں رکاب میں ڈال لیتے اور اونٹنی انہیں لے کر سیدھی کھڑی ہوجاتی تو نبی کریم ﷺ ذوالحلیفہ کی مسجد سے احرام باندھتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْمَسِيحَ قَالَ ابْنُ بِشْرٍ فِي حَدِيثِهِ وَذَكَرَ الدَّجَّالَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ النَّاسِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلَا وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے دجال کا تذکرہ لوگوں کے سامنے کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کانا نہیں ہے لیکن یاد رکھو مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہوگا اس کی دائیں آنکھ انگور کے دانے کی طرح پھولی ہوئی ہوگی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةٍ فَلْيُجِبْ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ وَهَذَا الْوَصْفَ قَالَ أَبِي وَحَدَّثَنَا قَبْلَهُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَلْيُجِبْ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ دی جائے تو اسے اس دعوت کو قبول کرلینا چاہئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ شام کی دو نمازوں میں سے کسی ایک میں دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کیا کرو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْحَقَ ابْنَ الْمُلَاعَنَةِ بِأُمِّهِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے لعان کرنے والی خاتون کے بچے کا نسب اس کی ماں سے ثابت قرار دیا (باپ سے اس کا نسب ختم کردیا)
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوَتْرِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کیا کرو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضَحِّي
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا اور ہر سال قربانی کرتے رہے۔