حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهَا رَجُلًا آدَمَ سَبْطَ الرَّأْسِ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَجُلَيْنِ يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى جَعْدَ الرَّأْسِ أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ پتہ چلا کہ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ کے، گھنگریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہے تو پتہ چلا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَّةِ إِسْتَبْرَقٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَتَلْبَسَهَا إِذَا قَدِمَ عَلَيْكَ وُفُودُ النَّاسِ فَقَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ ثَلَاثٍ فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ وَإِلَى عَلِيٍّ بِحُلَّةٍ وَإِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ بِحُلَّةٍ فَأَتَى عُمَرُ بِحُلَّتِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تُشَقِّقَهَا لِأَهْلِكَ خُمُرًا قَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ وَأَتَاهُ أُسَامَةُ وَعَلَيْهِ الْحُلَّةُ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا مَا أَدْرِي أَقَالَ لِأُسَامَةَ تُشَقِّقُهَا خُمُرًا أَمْ لَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ فِي حَدِيثِهِ أَنَّهُ سَمِعَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ وَجَدَ عُمَرُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَأَتَاهُ أُسَامَةُ وَقَدْ لَبِسَهَا فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتَ كَسَوْتَنِي قَالَ شَقِّقْهَا بَيْنَ نِسَائِكَ خُمُرًا أَوْ اقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم ﷺ سے کہنے لگے کہ اگر آپ اسے خرید لیتے تو وفود کے سامنے پہن لیا کرتے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو چنددن بعد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کہیں سے چند ریشمی حلے آئے نبی کریم ﷺ نے ان میں سے ایک جوڑا حضرت عمر ؓ کو بھی بھجوادیا حضرت عمر ؓ کہنے لگے کہ آپ نے خود ہی تو اس کے متعلق وہ بات فرمائی تھی جو میں نے سنی تھی اور اب آپ ہی نے مجھے یہ ریشمی جوڑا بھیج دیا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں یہ اس لئے بھجوایا ہے کہ تم اسے فروخت کرکے اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آؤ یا اپنے گھروالوں کو اس کے دوپٹے بنادو۔ اسی طرح حضرت اسامہ ؓ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے وہ ریشمی جوڑا پہن رکھا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے یہ تمہیں پہننے کے لئے نہیں بھجوایا تھا میں نے تو اس لئے بھجوایا تھا کہ تم اسے فروخت کردو یہ مجھے معلوم نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت اسامہ ؓ سے یہ فرمایا تھا یا نہیں کہ اپنے گھروالوں کو اس کے دوپٹے بنادو۔ حضرت ابن عمر ؓ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسامہ ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ریشمی لباس پہن کر آئے نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہی نے تو مجھے پہنایا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں کے درمیان دوپٹے تقسیم کردو یا اپنی ضرورت پوری کرلو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ أَوْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ وَيَقُولُ إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يُطْلِعُ الشَّيْطَانُ قَرْنَيْهِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور تین مرتبہ فرمایا فتنہ یہاں سے ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يُخْبِرُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَكَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ هَاهُنَا وَهَاهُنَا فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
عبدالرحمن بن سعدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا وہ سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت ہو میں نے ایک مرتبہ ان سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ ثَلَاثًا مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ وَمَشَى أَرْبَعًا
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حجر اسود سے حجر اسود تک طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور باقی چاروں میں اپنی رفتار معمول کے مطابق رکھی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ فَجَعَلَتْ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ عَلَى مَنْ قُتِلَ مِنْ أَزْوَاجِهِنَّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حَمْزَةُ لَا بَوَاكِيَ لَهُ قَالَ ثُمَّ نَامَ فَاسْتَنْبَهَ وَهُنَّ يَبْكِينَ قَالَ فَهُنَّ الْيَوْمَ إِذًا يَبْكِينَ يَنْدُبْنَ بِحَمْزَةَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ غزوہ احد سے واپس ہوئے تو انصار کی عورتیں اپنے اپنے شہید ہونے والے شوہروں پر رونے لگیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا حمزہ کے لئے کوئی رونے والی نہیں ہے؟ پھر نبی کریم ﷺ کی آنکھ لگ گئی بیدار ہوئے تو وہ خواتین اسی طرح رو رہی تھیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ آج حمزہ کا نام لے کر روتی ہی رہیں گی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُهُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر عذاب نازل فرمانا چاہتا ہے تو وہاں کے تمام رہنے والوں پر عذاب نازل ہوجاتا ہے پھر انہیں ان کے اعمال کے اعتبار سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا (عذاب میں تو سب نیک وبد شریک ہوں گے جزا و سزا اعمال کے مطابق ہوگی)
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَا أَتَيْتُ عَلَى الرُّكْنِ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ إِلَّا مَسَحْتُهُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو حجر اسود کا استلام کرتے ہوئے خود دیکھا ہے اس لئے میں کسی سختی یا نرمی کی پرواہ کئے بغیر اس کا استلام کرتا ہی رہوں گا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيتَ الْفَجْرَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھی جاتی ہے جب طلوع فجر ہونے لگے تو ان کے ساتھ ایک رکعت اور ملا کر وتر پڑھ لو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ النَّاسَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضْرَبُونَ إِذَا ابْتَاعُوا الطَّعَامَ جُزَافًا أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا ہے نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں لوگوں کو اس بات پر مارپڑتی تھی کہ وہ اندازے سے کوئی غلہ خریدیں اور اسی جگہ کھڑے کھڑے اسے کسی اور کے ہاتھ فروخت کردیں جب تک کہ اسے اپنے خیمے میں نہ لے جائیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَيَزِيدُ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ وَإِنْ كَانَ لَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ قَالَ يَزِيدُ فِي الصُّبْحِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہمیں مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیتے تھے اور خود نبی کریم ﷺ بھی ہماری امامت کرتے ہوئے سورت صفّٰت (کی چند آیات) پر اکتفاء فرماتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي الْحَدَّادَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي الْقُبُورِ فَقُولُوا بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم اپنے مردوں کو قبر میں اتارو تو کہو بسم اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ "
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلًا بَيْتَ الْمَقْدِسِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ شام کی طرف رخ کر کے دو اینٹوں پر بیٹھے ہوئے قضاء حاجت فرما رہے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مغرب کی نماز دن کا وتر ہیں سو تم رات کا وتر بھی ادا کیا کرو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمِقْدَامِ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقُلْتُ لَهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا لَكَ لَا تَرْمُلُ فَقَالَ قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ
عبداللہ بن مقدام (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ کو صفا مروہ کے درمیان سعی میں عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا اے ابوعبدالرحمن! آپ تیز کیوں نہیں چل رہے؟ فرمایا نبی کریم ﷺ نے یہاں اپنی رفتار تیز بھی فرمائی اور نہیں بھی فرمائی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ مَوْلَى مَيْمُونَةَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک دن میں ایک ہی رکعت نماز کو دو مرتبہ نہ پڑھو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ سَلَمَةَ الشَّيْبَانِيُّ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُدُومَ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ مَعَ الْأَشَجِّ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْأَشْرِبَةِ فَنَهَاهُمْ عَنْ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ
حضرت سعید بن مسیب رحمتہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے اس منبر رسول ﷺ کے قریب حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ بنو عبد القیس کا وفد اپنے سردار کے ساتھ آیا ان لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے مشروبات کے متعلق پوچھا نبی کریم ﷺ نے انہیں جواب دیا کہ حنتم، دبا، یا نقیر سے منع فرمایا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ بَكْرٍ قَالَ ذَكَرْتُ لِابْنِ عُمَرَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ فَقَالَ وَهِلَ أَنَسٌ إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَأَهْلَلْنَا مَعَهُ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ فَلَمْ يَحِلَّ
بکر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے ذکر کیا کہ حضرت انس ؓ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت انس ؓ کو مغالطہ ہوگیا ہے نبی کریم ﷺ نے ابتداء میں تو حج کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ حج کا ہی احرام باندھا تھا پھر جب نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ پہنچے تو فرمایا جس شخص کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو اسے چاہئے کہ اسے عمرہ بنا لے اور چونکہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہدی کا جانور تھا اس لئے نبی کریم ﷺ نے احرام نہیں کھولا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَرْبَعًا تَلَقَّفْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ چار جملے ہیں جو میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے حاصل کئے ہیں اور وہ یہ کہ میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں حکومت بھی آپ ہی کی ہے آپ کا کوئی شریک نہیں۔