عبداللہ بن عباس کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 25 · 1,625 hadiths · Page 9 of 82

1901Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ عَلَى أُمِّهَا صَوْمُ شَهْرٍ فَمَاتَتْ أَفَأَصُومُهُ عَنْهَا قَالَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَدَيْنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! ﷺ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضاء کرسکتی ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں یا نہیں؟ اس نے کہا کیوں نہیں، فرمایا پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔

1902Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ وَالْمُخَنَّثِينَ مِنْ الرِّجَالَ وَقَالَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ قَالَ فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دیا کرو، خود نبی ﷺ نے بھی ایسے شخص کو نکالا تھا اور حضرت عمر ؓ نے بھی نکالا تھا۔

1903Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ وَقَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔

1904Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي الْأَعْمَشَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ وَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ فَقَعَدَ فِيهِ فَقَالُوا إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَقَعُ فِي آلِهَتِنَا قَالَ مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ قَالَ يَا عَمِّ أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي الْعَجَمُ إِلَيْهِمْ الْجِزْيَةَ قَالَ مَا هِيَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَامُوا فَقَالُوا أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا قَالَ وَنَزَلَ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ و حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ و قَالَ أَبِي قَالَ الْأَشْجَعِيُّ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ خواجہ ابوطالب بیمار ہوئے، قریش کے کچھ لوگ ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے، نبی ﷺ بھی ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، خواجہ ابو طالب کے سرہانے ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی، وہاں ابو جہل آکر بیٹھ گیا، قریش کے لوگ خواجہ ابو طالب سے کہنے لگے کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں میں کیڑے نکالتا ہے، خواجہ ابوطالب نے کہا کہ آپ کی قوم کے یہ لوگ آپ سے کیا شکایت کر رہے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا چچا جان! میں ان کو ایسے کلمے پر لانا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے سارا عرب ان کی اطاعت کرے گا اور سارا عجم انہیں ٹیکس ادا کرے گا، انہوں نے پوچھا وہ کون سا کلمہ ہے؟ فرمایا " لاالہ الا اللہ " یہ سن کر وہ لوگ یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے کہ کیا یہ سارے معبودوں کو ایک معبود بنانا چاہتا ہے، اس پر سورت ص نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے اس کی تلاوت فرمائی یہاں تک کہ " ان ہذا لشیء عجاب " پر پہنچے۔

1905Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَذَكَرَ مِنْ ضُرُوبِ الشَّرَابِ فَقَالَ اجْتَنِبْ مَا أَسْكَرَ مِنْ زَبِيبٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ مَا سِوَى ذَلِكَ قَالَ مَا تَقُولُ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ

ایک مرتبہ ایک شخص حضرت ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرا تعلق خراسان سے ہے، ہمارا علاقہ ٹھنڈا علاقہ ہے اور اس نے شراب کے برتنوں کا ذکر کیا، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جو چیزیں نشہ آور ہیں مثلا کشمش یا کھجور وغیرہ، ان کی شراب سے مکمل طور پر اجتناب کرو، اس نے پوچھا کہ مٹکے کی نبیذ کے بارے آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا نبی ﷺ نے اس سے بھی منع فرمایا ہے۔

1906Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ يَنْقُضُهَا حَجَرًا حَجَرًا يَعْنِي الْكَعْبَةَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا گویا وہ شخص میں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں جو انتہائی کالا سیاہ اور کشادہ ٹانگوں والا ہوگا اور خانہ کعبہ کا ایک ایک پتھر اکھیڑ ڈالے گا۔

1907Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنِي قَارِظٌ عَنْ أَبِي غَطَفَانَ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ تَوَضَّأَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنْثِرُوا مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ نے وضو کرتے ہوئے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ دو یا تین مرتبہ ناک میں پانی ڈال کر اسے خوب اچھی طرح صاف کیا کرو۔

1908Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔

1909Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بادصبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔

1910Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ وَهُوَ حَرَامٌ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے نبی ﷺ نے حالت احرام میں (حضرت میمونہ ؓ سے) نکاح فرمایا۔

1911Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا وَوَجَدَ سَرَاوِيلَ فَلْيَلْبَسْهَا وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ وَوَجَدَ خُفَّيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا قُلْتُ لَمْ يَقُلْ لِيَقْطَعْهُمَا قَالَ لَا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔

1912Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَرَّزَ فَطَعِمَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے اور وضو نہیں کیا۔

1913Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِينَ فَمَكَثَ بِمَكَّةَ عَشْرًا وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَقُبِضَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ پر نزول وحی کا سلسلہ تواتر کے ساتھ ٤٣ برس کی عمر میں شروع ہوا، دس سال آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور ٦٣ برس کی عمر میں آپ ﷺ کا وصال ہوگیا۔

1914Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ كَذَا وَكَذَا وَنِصْفَ صَاعٍ بُرًّا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فلاں فلاں چیز کا فطرانہ یہ مقرر فرمایا اور گندم کا نصف صاع مقرر فرمایا۔ فائدہ: اس حدیث کی مزید و ضاحت کے لئے حدیث نمبر ٣٢٩١ دیکھئے۔

1915Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو ١٣ رکعت نماز پڑھتے تھے، (آٹھ تہجد، تین وتر اور دو فجر کی سنتیں)

1916Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِمَّنْ الْوَفْدُ أَوْ قَالَ الْقَوْمُ قَالُوا رَبِيعَةُ قَالَ مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ قَالَ الْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْنَاكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ وَلَسْنَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ فَأَخْبِرْنَا بِأَمْرٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَنُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَسَأَلُوهُ عَنْ أَشْرِبَةٍ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمُسَ مِنْ الْمَغْنَمِ وَنَهَاهُمْ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ وَرُبَّمَا قَالَ وَالْمُقَيَّرِ قَالَ احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی ﷺ نے ان سے ان کا تعارف پوچھا، انہوں نے بتایا کہ ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ آپ کو ہماری طرف سے خوش آمدید، یہاں آکر آپ رسول ہوں گے اور نہ ہی شرمندہ، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ دور دراز سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے اور ہم آپ کی خدمت میں صرف اشہر حرم میں ہی حاضر ہوسکتے ہیں اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیجئے جس پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہوجائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی بتادیں؟ نیز انہوں نے نبی ﷺ سے شراب کے حوالے سے بھی سوال کیا۔ نبی ﷺ نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا: نبی ﷺ نے انہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے پغمبر ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کو بھجوانا اور نبی ﷺ نے انہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لئے استعمال ہوتے تھے اور جن کی وضاحت پیچھے کئی مرتبہ گذر چکی ہے) اور فرمایا کہ ان باتوں کو یاد رکھو اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی بتاؤ۔

1917Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی قبر مبارک میں سرخ رنگ کی ایک چادر بچھائی گئی تھی۔

1918Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ قَالَ فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكَ قَالَ وَلِمَ قَالَ لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نے جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا کیوں؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔

1919Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ بِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسُوقُ غَنَمًا لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا مَا سَلَّمَ عَلَيْنَا إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنَّا فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ وَأَتَوْا بِغَنَمِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام ؓ کے پاس سے گذرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچا لے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کردیا اور اس کی بکریاں لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں نکلو تو خوب چھان بین کرلو۔

1920Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ الْمَعْنَى عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَرَابَةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَجِلْتَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ قَرَابَةٌ فَنَزَلَتْ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى إِلَّا أَنْ تَصِلُوا قَرَابَةَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ

طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کا مطلب پوچھا " قل لا اسألکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی " تو ان کے جواب دینے سے پہلے حضرت سعید بن جبیر (رح) بول پڑے کہ اس سے مراد نبی ﷺ کے قریبی رشتہ دار ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ تم نے جلدی کی، قریش کے ہر خاندان میں نبی ﷺ کی قرابت داری تھی، جس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ میں اپنی اس دعوت پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر تم اتنا تو کرو کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اسے جوڑے رکھو اور اسی کا خیال کرلو۔