Musnad Imam Ahmad 1901

عبداللہ بن عباس کی مرویات

1901Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ عَلَى أُمِّهَا صَوْمُ شَهْرٍ فَمَاتَتْ أَفَأَصُومُهُ عَنْهَا قَالَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَدَيْنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! ﷺ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضاء کرسکتی ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں یا نہیں؟ اس نے کہا کیوں نہیں، فرمایا پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔