عبداللہ بن عباس کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 25 · 1,625 hadiths · Page 8 of 82

1881Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَكَمِّلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا قَالَ حَاتِمٌ يَعْنِي عِدَّةَ شَعْبَانَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید الفطر مناؤ، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہوجائیں تو تیس کا عدد پورا کرو اور نیا مہینہ شروع نہ کرو۔

1882Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ لَا يُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ فَسَارَ عَلَى هِينَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ثُمَّ أَفَاضَ الْغَدَ وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ فَمَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ ﷺ کے پیچھے حضرت اسامہ بن زید ؓ بیٹھے ہوئے تھے، اونٹنی نبی ﷺ کو لے کر گھومتی رہی، نبی ﷺ روانگی سے قبل عرفات میں اپنے ہاتھوں کو بلند کئے کھڑے ہوئے تھے لیکن ہاتھوں کی بلندی سر سے تجاوز نہیں کرتی تھی، جب نبی ﷺ وہاں سے روانہ ہوگئے تو اطمینان اور وقار سے چلتے ہوئے مزدلفہ پہنچے اور جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ کے پیچھے حضرت فضل ؓ سوار تھے، وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔

1883Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حَبِيبِ بْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَطَبَ النَّاسَ بِتَبُوكَ مَا فِي النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ آخِذٍ بِرَأْسِ فَرَسِهِ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَيَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ وَمِثْلُ آخَرَ بَادٍ فِي نِعْمَةٍ يَقْرِي ضَيْفَهُ وَيُعْطِي حَقَّهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ لوگوں میں اس شخص کی مثال نہیں ہے جو اپنے گھوڑے کے سر کو پکڑے اللہ کے راستے میں جہاد کرے اور برے لوگوں سے بچتا رہے، نیز دوسرا وہ شخص جو اللہ کی نعمتوں میں زندگی بسر کر رہا ہو، مہمان نوازی کرتا ہوں اور اس کے حقوق ادا کرتا ہو۔

1884Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے شانہ کا گوشت تناول فرمایا: پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔

1885Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَبَنِ شَاةِ الْجَلَّالَةِ وَعَنْ الْمُجَثَّمَةِ وَعَنْ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔

1886Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنْتَ تُفْتِي الْحَائِضَ أَنْ تَصْدُرَ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَا تُفْتِي بِذَلِكَ قَالَ إِمَّا لَا فَاسْأَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَرَجَعَ زَيْدٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَضْحَكُ فَقَالَ مَا أُرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ

طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے ساتھ تھا، حضرت زید بن ثابت ؓ ان سے کہنے لگے کہ کیا آپ حائضہ عورت کو اس بات کا فتوی دیتے ہیں کہ وہ طواف وداع کرنے سے پہلے واپس جاسکتی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! حضرت زید ؓ نے فرمایا کہ یہ فتوی نہ دیا کریں، انہوں نے کہا کہ جہاں تک فتوی نہ دینے کی بات ہے تو آپ فلاں انصاریہ خاتون سے پوچھ لیجئے کہ کیا نبی ﷺ نے انہیں اس کا حکم دیا تھا؟ بعد میں حضرت زید ؓ ہنستے ہوئے حضرت ابن عباس ؓ کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں آپ کو سچا ہی سمجھتا ہوں۔

1887Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اس لئے جب تم سے جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو تم نکل پڑو۔

1888Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سُفْيَانُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ قَالَ الْخَطُّ

حضرت ابن عباس ؓ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ " او اثرۃ من علم " سے مراد تحریر ہے۔

1889Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي مُخَوَّلٌ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ وَهَلْ أَتَى وَفِي الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَإِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے اور نماز جمعہ میں سورت جمعہ اور سورت منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔

1890Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے آگ پر پکی ہوئی چیز کھائی پھر تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔

1891Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی ﷺ کے ہمراہ مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سفر کیا، آپ ﷺ کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)۔

1892Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا لَمْ تُدْرِكْ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ كَمْ تُصَلِّي بِالْبَطْحَاءِ قَالَ رَكْعَتَيْنِ تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ جب آپ کو مسجد میں باجماعت نماز نہ ملے اور آپ مسافر ہوں تو کتنی رکعتیں پڑھیں گے؟ انہوں نے فرمایا دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابو القاسم ﷺ کی سنت ہے۔

1893Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ أَمْلَاهُ عَلَيَّ سُفْيَانُ إِلَى شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنِي طَلِيقُ بْنُ قَيْسٍ الْحَنَفِيُّ أَخُو أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ الْهُدَى إِلَيَّ وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا لَكَ ذَكَّارًا لَكَ رَهَّابًا لَكَ مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا لَكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَاهْدِ قَلْبِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعاء فرمایا کرتے تھے۔ پروردگار! میری مدد فرما، میرے خلاف دوسروں کی مدد نہ فرما، میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما اور ہدایت کو میرے اوپر آسان فرما، جو مجھ پر زیادتی کرے، اس پر میری مدد فرما، پروردگار! مجھے اپنا شکرگذار، اپنا ذاکر اپنے سے ڈرنے والا اپ نافرمانبردار اپنے سامنے عاجز اور اپنے لئے آہ وزاری اور رجوع کرنے والا بنا، پروردگار! میری توبہ کو قبول فرما، میرے گناہوں کو دھو ڈال، میری دعائیں قبول فرما، میری حجت کو ثابت فرما، میرے دل کو رہنمائی عطاء فرما، میری زبان کو درستگی عطاء فرما اور میرے دل کی گندگیوں کو دور فرما۔

1894Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ وَمَا صَامَ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں رکھیں گے اور جب سے نبی ﷺ مدینہ منورہ میں رونق افروز ہوئے تھے، اس وقت سے آپ ﷺ نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے تھے۔

1895Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ الْخِنْصَرُ وَالْإِبْهَامُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا انگوٹھا اور چھوٹی انگلی دونوں برابر ہیں۔

1896Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا اقْتَبَسَ رَجُلٌ عِلْمًا مِنْ النُّجُومِ إِلَّا اقْتَبَسَ بِهَا شُعْبَةً مِنْ السِّحْرِ مَا زَادَ زَادَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص علم نجوم کو سیکھتا ہے وہ جادو کا ایک شعبہ سیکھتا ہے جتنا وہ علم نجوم میں آگے بڑھتا جائے گا اس قدر جادو میں آگے نکلتا جائے گا۔

1897Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ عَشْرًا وَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ حَسَنَةً وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ حَسَنَةً

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص نیکی ک ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔

1898Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ لَحْمًا أَوْ عَرْقًا فَصَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے صرف گوشت یا ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔

1899Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ دَاجِنَةً لِمَيْمُونَةَ مَاتَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا أَلَّا دَبَغْتُمُوهُ فَإِنَّهُ ذَكَاتُهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت میمونہ ؓ کی ایک بکری مرگئی، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ تم نے اسے دباغت کیوں نہیں دی؟ کیونکہ دباغت سے تو کھال پاک ہوجاتی ہے۔

1900Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعِيدَ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائی۔