Musnad Imam Ahmad 1918

عبداللہ بن عباس کی مرویات

1918Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ قَالَ فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكَ قَالَ وَلِمَ قَالَ لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نے جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا کیوں؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔