Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 50 of 1,321

981Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ أَنْبَأَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حُصَيْنٍ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَإِنَّا قَدْ أَحْدَثْنَا بَعْدُ أَحْدَاثًا يَقْضِي اللَّهُ فِيهَا مَا شَاءَ

حضرت علی ؓ نے فرمایا اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر ؓ تھے ان کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ تھے، اس کے بعد ہم نے ایسی چیزیں ایجاد کرلی ہیں جن میں اللہ جو چا ہے گا سو کرے گا۔

982Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ عَمَّارٌ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا) اتنی دیر میں حضرت عمار ؓ آکر اجازت طلب کرنے لگے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو، خوش آمدید اس شخص کو جو پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔

983Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ ذِي حُدَّانَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَرْبَ خَدْعَةً

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جنگ کو " چال " قرار دیا ہے۔

984Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِلْمِقْدَادِ سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يَدْنُو مِنْ الْمَرْأَةِ فَيُمْذِي فَإِنِّي أَسْتَحْيِي مِنْهُ لِأَنَّ ابْنَتَهُ عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مقداد ؓ سے کہا کہ وہ نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھیں، اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے قریب جائے اور اس سے مذی خارج ہو تو کیا حکم ہے؟ مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ ان کی صاحبزادی میرے نکاح میں ہیں چناچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کرلیا کرے۔

985Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ أَبِي الضُّحَى عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَغَلُونَا يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ أَوْ أَجْوَافَهُمْ نَارًا

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے مشرکین نے ہمیں نماز عصر پڑھنے کا موقع نہیں دیا حتی کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یا اللہ ان مشرکین کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔

986Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى ثَوْرٍ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ وَقَالَ ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا

ایک مرتبہ سیدنا علی ؓ نے ارشاد فرمایا ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اس صحیفے میں یہ بھی لکھا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عیر سے ثور تک مدینہ منورہ حرم ہے، جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہ کرے گا اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ایک جیسی ہے، جو شخص کسی مسلمان کی پناہ کو توڑے اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوگا۔ اور غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کردے، اس پر بھی اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا بھی کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کیا جائے گا۔

987Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَاكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا أَنْ تَزَوَّجَ إِلَيْنَا قَالَ وَعِنْدَكَ شَيْءٌ قَالَ قُلْتُ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت حمزہ ؓ کی صاحبزادی! فرمایا کہ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے (دراصل نبی ﷺ اور حضرت امیر حمزہ ؓ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)

988Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْيَاهُ وَأَهْدَاهُ وَأَتْقَاهُ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی ﷺ کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔

989Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ

ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ حضرت صدیق اکبر ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ عنہ۔

990Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ فِي قَوْلِهِ إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُنْذِرُ وَالْهَادِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے قرآن کریم میں یہ جو فرمایا گیا ہے " کہ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم میں ایک ہادی آیا ہے " نبی ﷺ نے اس آیت کے متعلق فرمایا ڈرانے والا اور رہنمائی کرنے والا بنوہاشم کا ایک آدمی ہے۔

991Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ لَمَّا حَضَرَ الْبَأْسُ يَوْمَ بَدْرٍ اتَّقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ مَا كَانَ أَوْ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَقْرَبَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْهُ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن جب جنگ شروع ہوئی تو ہم لوگ نبی ﷺ کی پناہ میں آجاتے تھے، نبی ﷺ ہماری نسبت دشمن سے زیادہ قریب تھے اور اس دن نبی ﷺ نے سب سے زیادہ سخت جنگ کی تھی۔

992Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ قَالَ إِسْحَاقُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سونے کی انگوٹھی، ریشمی لباس یا عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پننے اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے۔

993Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي وَأَبُو خَيْثَمَةَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فُلَانِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ وَعَنْ الْقَسِّيِّ وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ قَالَ أَيُّوبُ أَوْ قَالَ أَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ قَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ فِي حَدِيثِهِ حُدِّثْتُ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ رَجَعَ عَنْ جَدِّهِ حُنَيْنٍ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی لباس یا عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پننے اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے۔

994Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُهُمَا فَفَرَّقْتُ بَيْنَهُمَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَدْرِكْهُمَا فَارْتَجِعْهُمَا وَلَا تَبِعْهُمَا إِلَّا جَمِيعًا وَلَا تُفَرِّقْ بَيْنَهُمَا

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ مجھے دو غلاموں کو بیچنے کا حکم دیا، وہ دونوں آپس میں بھائی تھے، میں نے ان دونوں کو دو الگ الگ آدمیوں کے ہاتھ فروخت کردیا اور آکر نبی ﷺ کو اس کی اطلاع دی، نبی ﷺ نے فرمایا واپس جا کر ان دونوں کو واپس لو اور اکٹھا ایک ہی آدمی کے ہاتھ ان دونوں کو فروخت کرو (تاکہ دونوں کو ایک دوسرے سے کچھ تو قرب اور انس رہے)۔

995Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا ثُمَّ اسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ وَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ وَذَكَرَ عَبْدُ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي حَيَّةَ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ خَيْرٍ قَالَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طُهُورِهِ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ فَشَرِبَ

ابو حیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت علی ؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، پہلے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھو کر صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے اور وضو کا بچا ہوا پانی لے کر کھڑے کھڑے پی گئے اور فرمایا کہ میں تمہیں نبی ﷺ کا طریقہ وضو دکھانا چاہتا تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس کے آخر میں وضو کا پانی دونوں ہاتھوں سے لینے کا ذکر ہے۔

996Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سُئِلَ سَعِيدٌ عَنْ الْأَعْضَبِ هَلْ يُضَحَّى بِهِ فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ قَالَ قَتَادَةُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ الْعَضَبُ النِّصْفُ فَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سینگ یا کان کٹے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔

997Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمَيَاثِرِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی لباس پہننے اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔

998Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ أَبِي حَيَّةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا بَالَ فِي الرَّحَبَةِ وَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ فَأَرَدْتُ أَنْ أُرِيَكُمُوهُ

ابو حیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت علی ؓ کو صحن میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے پانی منگوایا اور پہلے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھو کر صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے اور وضو کا بچا ہوا پانی لے کر کھڑے کھڑے پی گئے اور فرمایا کہ میں تمہیں نبی ﷺ کا طریقہ وضو دکھانا چاہتا تھا۔

999Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ ضَرَبَ عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ هَذَا الْمِنْبَرَ وَقَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْكُرَ وَقَالَ إِنَّ خَيْرَ النَّاسِ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثُمَّ أَحْدَثْنَا بَعْدَهُمَا أَحْدَاثًا يَقْضِي اللَّهُ فِيهَا

حضرت علی ؓ نے ایک دن بر سر منبر خطبہ دیتے ہوئے اللہ کی حمد وثناء بیان کی اور جو اللہ کو منظور ہوا وہ کہا پھر فرمایا کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر ؓ تھے ان کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ تھے اس کے بعد ہم نے ایسی چیزیں ایجاد کرلی ہیں جن میں اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔

1000Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر ؓ تھے ان کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ تھے۔