حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُنْذِرٍ أَبِي يَعْلَى عَنْ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ فَقَالَ يَتَوَضَّأُ
حضرت علی ؓ نے حضرت مقداد ؓ سے کہا کہ وہ نبی ﷺ سے مذی کا حکم پوچھیں، تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایسا شخص وضو کرلیا کرے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي الْحَاجَةَ فَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَمْ يَكُنْ يَحْجِزُهُ أَوْ يَحْجُبُهُ إِلَّا الْجَنَابَةُ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ قضاء حاجت کے بعد وضو کئے بغیر باہر تشریف لا کر قرآن کریم کی تلاوت شروع کردیتے، آپ ﷺ ہمارے ساتھ گوشت بھی تناول فرما لیا کرتے تھے اور آپ کو جنابت کے علاوہ کوئی چیز قرآن سے نہیں روکتی تھی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى كُلِّ أَثَرِ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَأَبُو خَيْثَمَةَ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ تھی کہ مسح علی الخفین کے لئے موزوں کا وہ حصہ زیادہ موزوں ہے جو زمین کے ساتھ لگتا ہے بہ نسبت اس حصے کے جو پاؤں کے اوپر رہتا ہے، حتی کہ میں نے نبی ﷺ کو جب اوپر کے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں نے اپنی رائے کو ترک کردیا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي السَّوْدَاءِ عَنْ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ وَقَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ لَظَنَنْتُ أَنَّ بُطُونَهُمَا أَحَقُّ بِالْغَسْلِ
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پاؤں کے اوپر والے حصے کو دھویا اور فرمایا اگر میں نے نبی ﷺ کو پاؤں کا اوپر والا حصہ دھوتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میری رائے یہ تھی کہ پاؤں کا نچلا حصہ دھوئے جانے کا زیادہ حق دار ہے (کیونکہ وہ زمین کے ساتھ زیادہ لگتا ہے)۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ ظُهُورَهُمَا
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ جس میں ہے کہ میں نے حضرت علی ؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ أَبُو كِبْرَانَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَعْنِي هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے نبی ﷺ نے اپنے اعضاء کو تین تین مرتبہ دھویا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَدِّي أَحَدًا بِأَبَوَيْهِ إِلَّا سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو کبھی کسی کے لئے سوائے حضرت سعد ؓ کے اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا، غزوہ احد کے دن آپ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے فرما رہے تھے کہ سعد تیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا قَالَ فَأَغْضَبُوهُ فِي شَيْءٍ فَقَالَ اجْمَعُوا لِي حَطَبًا فَجَمَعُوا حَطَبًا ثُمَّ قَالَ أَوْقِدُوا نَارًا فَأَوْقَدُوا لَهُ نَارًا فَقَالَ أَلَمْ يَأْمُرْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَسْمَعُوا لِي وَتُطِيعُوا قَالُوا بَلَى قَالَ فَادْخُلُوهَا قَالَ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالُوا إِنَّمَا فَرَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ النَّارِ فَكَانُوا كَذَلِكَ إِذْ سَكَنَ غَضَبُهُ وَطَفِئَتْ النَّارُ قَالَ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک انصاری کو ان کا امیر مقرر کردیا اور لوگوں کو اس کی بات سننے اور اطاعت کرنے کا حکم دیا، جب وہ لوگ روانہ ہوئے تو راستے میں اس انصاری کو کسی بات پر غصہ آگیا اور اس نے ان سے کہا کہ لکڑیاں اکٹھی کرو، اس کے بعد اس نے آگ منگوا کر لکڑیوں میں آگ لگا دی اور کہا کیا نبی ﷺ نے میری بات سننے اور اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں؟ اس نے کہا پھر اس آگ میں داخل ہوجاؤ۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے اور کہنے لگے کہ آگ ہی سے تو بھاگ کر ہم نبی ﷺ کے دامن سے وابستہ ہوئے ہیں، تھوڑی دیر بعد اس کا غصہ بھی ٹھنڈا ہوگیا اور آگ بجھ گئی، جب وہ لوگ واپس آئے تو نبی ﷺ کو سارا واقعہ بتایا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اس میں ایک مرتبہ داخل ہوجاتے تو پھر کبھی اس میں سے نکل نہ سکتے، یاد رکھو! اطاعت کا تعلق تو صرف نیکی کے کاموں سے ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَجْعَلَ الْخَاتَمَ فِي هَذِهِ أَوْ فِي هَذِهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ لِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے درمیانی یا شہادت والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ قَيْسٍ الْخَارِفِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَثَلَّثَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ خَبَطَتْنَا أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ فَمَا شَاءَ اللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي قَوْلُهُ ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ أَرَادَ أَنْ يَتَوَاضَعَ بِذَلِكَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ سب سے پہلے تشریف لے گئے، دوسرے نمبر پر حضرت صدیق اکبر ؓ چلے گئے اور تیسرے نمبر پر حضرت عمر فاروق ؓ چلے گئے، اس کے بعد ہمیں امتحانات نے گھیر لیا، اللہ جسے چاہے گا اسے معاف فرما دے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ الْبَقَرَةِ فَقَالَ عَنْ سَبْعَةٍ قَالَ الْقَرَنُ قَالَ لَا يَضُرُّكَ قَالَ فَالْعَرْجَاءُ قَالَ إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ قَالَ وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ایک آدمی نے حضرت علی ؓ سے گائے کی قربانی کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے، اس نے پوچھا کہ اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو؟ فرمایا کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اگر وہ لنگڑی ہو؟ فرمایا اگر قربان گاہ تک خود چل کر جاسکے تو اسے ذبح کرلو، نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جانور کے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا كَانَ فِينَا فَارِسٌ يَوْمَ بَدْرٍ غَيْرُ الْمِقْدَادِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا فِينَا إِلَّا نَائِمٌ إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ يُصَلِّي وَيَبْكِي حَتَّى أَصْبَحَ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر حضرت مقداد ؓ کے علاوہ ہم میں گھڑ سوار کوئی نہ تھا اور ہمارے درمیان ہر شخص سو جاتا تھا، سوائے نبی ﷺ کے جو ایک درخت کے نیچے نماز پڑھتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا مِنْ رَجُلٍ أَقَمْتُ عَلَيْهِ حَدًّا فَمَاتَ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي إِلَّا الْخَمْرَ فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ لَوَدَيْتُهُ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جس شخص پر بھی میں نے کوئی شرعی سزا نافذ کی ہو، اس کے متعلق مجھے اپنے دل میں کوئی کھٹک محسوس نہیں ہوتی، سوائے شراب کے، کہ اگر اس کی سزا اسی کوڑے جاری کرنے کے بعد کوئی شخص مرجائے تو میں اس کی دیت ادا کرتا ہوں، کیونکہ نبی ﷺ نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی (کہ چالیس کوڑے مارے جائیں یا اسی)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ الْأَسَدِيِّ وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ أَنْبَأَنَا أَبُو حَصِينٍ الْأَسَدِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكَانَتْ تَحْتِي ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ تَوَضَّأْ وَاغْسِلْهُ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی ﷺ کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے حضرت مقداد ؓ سے کہا کہ وہ نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھیں، چناچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کرلیا کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فَأَتَيْنَاهُ فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأُتِيَ بِرَكْوَةٍ فِيهَا مَاءٌ وَطَسْتٍ قَالَ فَأَفْرَغَ الرَّكْوَةَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا بِكَفٍّ كَفٍّ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَقَابًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ هَذَا وُضُوءُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْلَمُوهُ
عبدخیر (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم فجر کی نماز پڑھ کر حضرت علی ؓ کے پاس جا کر بیٹھ گئے، انہوں نے وضو کا پانی منگوایا چناچہ ایک ڈول میں پانی اور ایک طشت لایا گیا، پھر انہوں نے دائیں ہاتھ پر ڈول سے پانی بہایا اور اپنی ہتھیلی کو تین مرتبہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور پانی نکال کر کلی کی اور تین ہی مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین تین مرتبہ دونوں بازؤوں کو دھویا، پھر دایاں ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور دونوں ہتھیلیوں سے ایک ہی مرتبہ سر کا مسح کرلیا، پھر تین تین مرتبہ دونوں پاؤں دھوئے اور فرمایا کہ یہ ہے نبی ﷺ کا وضو، اسے خوب سمجھ لو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَإِذَا رَأَيْتَ فَضْخَ الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ فَذَكَرْتُهُ لِسُفْيَانَ فَقَالَ قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رُكَيْنٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيُّ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَقَالَا فَضْخَ الْمَاءِ وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ وَقَالَ فَضْخَ أَيْضًا
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میرے جسم سے خروج مذی بکثرت ہوتا تھا، میں نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا جب مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لیا کرو اور نماز جیسا وضو کرلیا کرو اور اگر منی خارج ہو تو غسل کرلیا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ خَيْرُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ يَجْعَلُ اللَّهُ الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ
ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے بعد اس امت میں سب بہترین شخص حضرت عمر ؓ ہیں، اس کے بعد اللہ جہاں چاہتا ہے اپنی محبت پیدا فرما دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الْوَاحِدِ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا فَرَغَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ وَأَحْدَثْنَا أَحْدَاثًا يَصْنَعُ اللَّهُ فِيهَا مَا شَاءَ
حضرت علی ؓ جب اہل بصرہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر ؓ تھے ان کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ تھے، اس کے بعد ہم نے ایسی چیزیں ایجاد کرلی ہیں جن میں اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔