Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 48 of 1,321

941Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَقَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ

حضرت علی ؓ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی ﷺ کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں رب کعبہ کی قسم۔

942Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ عُرْفُطَةَ سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ وَتَوْرٍ قَالَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَصَفَ يَحْيَى فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ وَقَالَ وَلَا أَدْرِي أَرَدَّ يَدَهُ أَمْ لَا وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْقُطَيْعِيُّ قَالَ لَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا أَخْطَأَ فِيهِ شُعْبَةُ إِنَّمَا هُوَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ

عبدخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت علی ؓ کے پاس تھا، ان کی خدمت میں ایک کرسی اور ایک برتن پیش کیا گیا، انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازؤوں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی ﷺ کا وضو دیکھنا چاہتا ہے تو یہ ہے نبی ﷺ کا وضو۔

943Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ التِّرْمِذِيُّ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُرَاهَا الْفَجْرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ يَعْنِي صَلَاةَ الْوُسْطَى

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نماز فجر کو صلاۃ وسطی سمجھتے تھے لیکن نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس سے مراد نماز عصر ہے۔

944Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي حَزْمٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جانیں آپس میں برابر ہیں، ان میں سے اگر کوئی ادنیٰ بھی کسی کو امان دے دے تو اس کی امان کا لحاظ کیا جائے اور مسلمان اپنے علاوہ لوگوں پر ید واحد کی طرح ہیں، خبردار کسی کافر کے بدلے میں کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو قتل کیا جائے جب تک کہ وہ معاہدے کی مدت میں ہو اور اس کی شرائط پر برقرار ہو۔

945Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِهِمْ عَلَى بَعِيرٍ يُوضِعُهُ بِمِنًى فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ إِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

یوسف بن مسعود کی دادی کہتی ہیں کہ ایک آدمی اپنے اونٹ پر ان کے پاس سے گذرا جو منیٰ کے میدان میں ایام تشریق میں اپنا اونٹ دوڑا رہا ہے اور کہتا جارہا ہے کہ یہ تو کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں، میں نے لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ ہیں۔

946Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَالْأَشْتَرُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْنَا هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً قَالَ لَا إِلَّا مَا فِي كِتَابِي هَذَا قَالَ وَكِتَابٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ فَإِذَا فِيهِ الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

قیس بن عباد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور اشتر حضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے پوچھا کیا کوئی ایسی چیز ہے جس کی رسول اللہ ﷺ نے آپ کو وصیت کی ہو اور عام لوگوں کو اس میں شامل نہ کیا ہو؟ فرمایا نبی ﷺ نے لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ مجھے کوئی وصیت نہیں فرمائی، البتہ میں نے نبی ﷺ سے جو کچھ سنا ہے وہ ایک صحیفہ میں لکھ کر اپنی تلوار کے درمیان رکھ لیا ہے۔ انہوں نے وہ نکالا تو اس میں لکھا تھا کہ مسلمانوں کی جانیں آپس میں برابر ہیں، ان میں سے اگر کوئی ادنیٰ بھی کسی کو امان دے دے تو اس کی امان کا لحاظ کیا جائے اور مسلمان اپنے علاوہ لوگوں پر ید واحد کی طرح ہیں، خبردار کسی کافر کے بدلے میں کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو قتل کیا جائے جب تک کہ وہ معاہدے کی مدت میں ہو اور اس کی شرائط پر برقرار ہو نیز یہ کہ جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

947Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ أَوْ قُبُورَهُمْ نَارًا

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی ﷺ نے فرمایا اللہ ان مشرکین کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھردے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔

948Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ أَبِي عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيُقَلْ لَهُ يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ وَلْيَقُلْ هُوَ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ فَقُلْتُ لَهُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے چاہئے کہ الحمدللہ کہے، اس کے آس پاس جو لوگ ہوں وہ یرحمک اللہ کہیں اور چھینکنے والا انہیں یہ جواب دے یہدیکم اللہ ویصلح بالکم۔

949Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اشْتَكَتْ إِلَيَّ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَجْلَ يَدَيْهَا مِنْ الطَّحْنِ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاطِمَةُ تَشْتَكِي إِلَيْكَ مَجْلَ يَدَيْهَا مِنْ الطَّحْنِ وَتَسْأَلُكَ خَادِمًا فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ فَأَمَرَنَا عِنْدَ مَنَامِنَا بِثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ وَأَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ مِنْ تَسْبِيحٍ وَتَحْمِيدٍ وَتَكْبِيرٍ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ ؓ نے مجھ سے شکایت کی کہ چکی چلا چلا کر ہاتھوں میں گٹے پڑگئے، چناچہ ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فاطمہ آپ کے پاس چکی چلانے کی وجہ سے ہاتھوں میں پڑجانے والے گٹوں کی شکایت لے کر آئی ہیں اور آپ سے ایک خادم کی درخواست کر رہی ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تم دونوں کے لئے خادم سے بہتر ہو؟ پھر نبی ﷺ نے ہمیں سوتے وقت ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا حکم دیا۔

950Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي قَالَ أُخْبِرْتُ عَنْ سِنَانِ بْنِ هَارُونَ حَدَّثَنَا بَيَانٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ لَوْ وُضِعَ قَدَحٌ مِنْ مَاءٍ عَلَى ظَهْرِهِ لَمْ يُهَرَاقْ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ اس طرح رکوع فرماتے تھے کہ اگر پانی سے بھرا ہوا کوئی پیالہ بھی نبی ﷺ کی پشت پر رکھ دیا جاتا تو وہ نہ گرتا۔

951Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَوَضَّأَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ هَذَا وُضُوءُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبدخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے وضو کیا تو اس میں ایک ہی کف سے تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر اس برتن میں ہاتھ ڈال کر سر کا مسح کیا اور پاؤں دھو لئے پھر فرمایا کہ تمہاے نبی صلی اللہ علیہ کا وضو یہی ہے۔

952Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمَّارًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الطَّيِّبُ الْمُطَيَّبُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمار ؓ آکر اجازت طلب کرنے لگے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔

953Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ رِبْعِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ يَلِجْ النَّارَ قَالَ حَجَّاجٌ قُلْتُ لِشُعْبَةَ هَلْ أَدْرَكَ عَلِيًّا قَالَ نَعَمْ حَدَّثَنِي عَنْ عَلِيٍّ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میری طرف جھوٹی بات کی نسبت نہ کرو، کیونکہ جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

954Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ وَعَبْدُ الْكَرِيمِ أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا الْأَجْرَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ قربانی کے موقع پر آپ کے ساتھ موجود رہوں اور یہ کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کر دوں اور گوشت بھی تقسیم کردوں اور یہ بھی حکم دیا کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

955Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ وَعَنْ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت، سونے کی انگوٹھی، ریشی کپڑے اور عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔

956Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فِي الرَّحَبَةِ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رِجَالًا يَكْرَهُونَ هَذَا وَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ ثُمَّ تَمَسَّحَ بِفَضْلِهِ وَقَالَ هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ

نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز ظہر کے بعد حضرت علی ؓ کے پاس ایک کوزے میں پانی لایا گیا وہ مسجد کے صحن میں تھے، انہوں نے کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ اسے ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسے تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے، پھر انہوں نے باقی پانی سے مسح کرلیا اور فرمایا جو آدمی بےوضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔

957Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نماز کی کنجی طہارت ہے، نماز میں حلال چیزوں کو حرام کرنے والی چیز تکبیر تحریمہ ہے اور انہیں حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے۔

958Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ أَبُو كِبْرَانَ الْمُرَادِيُّ سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ يَقُولُ قَالَ عَلِيٌّ أَلَا أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا

عبدخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کیا میں تمہیں نبی ﷺ کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے اپنے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔

959Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ خَيْرٍ يَؤُمُّنَا فِي الْفَجْرِ فَقَالَ صَلَّيْنَا يَوْمًا الْفَجْرَ خَلْفَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَجَاءَ يَمْشِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى الرَّحَبَةِ فَجَلَسَ وَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى الْحَائِطِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ يَا قَنْبَرُ ائْتِنِي بِالرَّكْوَةِ وَالطَّسْتِ ثُمَّ قَالَ لَهُ صُبَّ فَصَبَّ عَلَيْهِ فَغَسَلَ كَفَّهُ ثَلَاثًا وَأَدْخَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّيْهِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى فَغَسَلَ ذِرَاعَهُ الْأَيْمَنَ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَهُ الْأَيْسَرَ ثَلَاثًا فَقَالَ هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابو عبدالملک کہتے ہیں کہ نماز فجر میں عبد خیر ہماری امامت کرتے تھے، ایک دن ہمیں نماز فجر حضرت علی ؓ کے پیچھے پڑھنے کا موقع ملا، سلام پھیر کر جب وہ کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے، یہاں تک کہ وہ چلتے ہوئے صحن مسجد میں آگئے اور بیٹھ کر دیوار سے ٹیک لگالی، پھر سر اٹھا کر اپنے غلام سے کہا قنبر! ڈول اور طشت لاؤ، پھر فرمایا کہ پانی ڈالو، اس نے پانی ڈالنا شروع کیا، چناچہ پہلے انہوں نے اپنی ہتھیلی کو تین مرتبہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور پانی نکال کر کلی کی اور تین ہی مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، پھر دونوں ہاتھ ڈال کر پانی نکالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور تین مرتبہ دائیں ہاتھ کو دھویا پھر بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا اور فرمایا کہ یہ ہے نبی ﷺ کا وضو۔

960Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكُنْتُ أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی ﷺ کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے حضرت مقداد ؓ سے کہا کہ وہ نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھیں، چناچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کرلیا کرے۔