حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صُبَيَّةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ عِشَاءَ الْآخِرَةِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ هَبَطَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَيَقُولَ قَائِلٌ أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى أَلَا دَاعٍ يُجَابُ أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرَ لَهُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کی نماز تہائی رات تک مؤخر کرتا کیونکہ رات کی جب پہلی تہائی گذر جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ (اپنی شان کے مطابق) آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور طلوع فجر تک وہیں رہتے ہیں اور ایک منادی نداء لگاتا رہتا ہے کہ ہے کوئی مانگنے والا، کہ اسے دیا جائے؟ ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعاء قبول کی جائے؟ ہے کوئی بیمار جو شفاء حاصل کرنا چاہتا ہو کہ اسے شفاء مل جائے؟ ہے کوئی گناہگار جو اپنے گناہوں کی معافی مانگے تاکہ اسے بخش دیا جائے؟ گذشتہ حدیث حضرت علی ؓ سے بھی مروی ہے، اس کے الفاظ یہی ہیں لیکن سند مختلف ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ عَنْ الْوَتْرِ أَوَاجِبٌ هُوَ قَالَ أَمَّا كَالْفَرِيضَةِ فَلَا وَلَكِنَّهَا سُنَّةٌ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى مَضَوْا عَلَى ذَلِكَ
حضرت علی ؓ سے کسی شخص نے وتر کے متعلق پوچھا کہ آیا یہ فرض ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے لیکن ان کا وجوب نبی ﷺ اور ان کے صحابہ ؓ کی سنت سے ثابت ہے اور انہوں نے ہمیشہ اسے ادا کیا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ سُفْيَانَ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا قَالَ فَأَخَذَهُ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلطَّاهِرِ مَا لَمْ يُحْدِثْ
عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت علی ؓ نے وضو کرنے کے لئے پانی منگوایا اور فرمایا کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ کسی صورت میں بھی کھڑے ہو کر پانی پینا جائز نہیں ہے؟ پھر انہوں نے وہ برتن لے کر کھڑے کھڑے اس کا پانی پی لیا، پھر ہلکا سا وضو کیا، جوتوں پر مسح کیا اور فرمایا اس طاہر آدمی کا جو بےوضو نہ ہو، یہی وضو ہے جو نبی ﷺ اسی طرح کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ
ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلْيَقُلْ مَنْ حَوْلَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَلْيَقُلْ هُوَ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے چاہئے کہ الحمدللہ کہے، اس کے آس پاس جو لوگ ہوں وہ یرحمک اللہ کہیں اور چھینکنے والا انہیں یہ جواب دے یہدیکم اللہ ویصلح بالکم۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ أَوْ عِيسَى شَكَّ مَنْصُورٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے چاہئے کہ الحمدللہ کہے، اس کے آس پاس جو لوگ ہوں وہ یرحمک اللہ کہیں اور چھینکنے والا انہیں یہ جواب دے یہدیکم اللہ ویصلح بالکم۔
حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ الْوَتْرِ فَمَنْ كَانَ مِنَّا فِي رَكْعَةٍ شَفَعَ إِلَيْهَا أُخْرَى حَتَّى اجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ ثُمَّ أَوْتَرَ فِي وَسَطِهِ ثُمَّ أَثْبَتَ الْوَتْرَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ قَالَ وَذَلِكَ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ
عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت علی ؓ تشریف لے آئے اور فرمایا کہ وتر کے متلعق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ہم میں سے جس شخص نے ایک رکعت پڑھ لی تھی، اس نے جلدی سے دوسری رکعت ملائی اور ہم سب حضرت علی ؓ کے پاس اکٹھے ہوگئے، انہوں نے فرمایا نبی ﷺ ابتداء رات کے پہلے حصے میں وتر پڑھتے تھے، پھر درمیان والے حصے میں پڑھنے لگے، پھر اس وقت مستقل پڑھنے لگے، اس وقت طلوع فجر ہونے والی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ عَادَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ زَائِرًا فَقَالَ أَبُو مُوسَى بَلْ جِئْتُ عَائِدًا فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ عَادَ مَرِيضًا بَكَرًا شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ عَادَهُ مَسَاءً شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ
عبداللہ بن نافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ ؓ حضرت امام حسن ؓ کی عیادت کے لئے آئے، حضرت علی ؓ نے ان سے فرمایا عیادت کی نیت سے آئے ہو یا ملاقات کے لئے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین! میں تو عیادت کی نیت سے آیا ہوں، حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے توستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے لئے شام تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہوجاتا ہے اور اگر شام کو عیادت کرے تب بھی ستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اس کے لئے صبح تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہوجاتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ عَادَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ زَائِرًا قَالَ لَا بَلْ جِئْتُ عَائِدًا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَا إِنَّهُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ إِنْ كَانَ مُصْبِحًا حَتَّى يُمْسِيَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مُمْسِيًا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ
عبداللہ بن نافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ ؓ حضرت امام حسن ؓ کی عیادت کے لئے آئے، حضرت علی ؓ نے ان سے فرمایا عیادت کی نیت سے آئے ہو یا ملاقات کے لئے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین! میں تو عیادت کی نیت سے آیا ہوں، حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے توستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے لئے شام تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہوجاتا ہے اور اگر شام کو عیادت کرتے تب بھی ستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اس کے لئے صبح تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہوجاتا ہے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ الْقَسْمَلِيَّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ فِي الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی ﷺ سے اس کا حکم پوچھا تو فرمایا منی میں تو غسل واجب ہے اور مذی میں صرف وضو واجب ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُجَالِدٍ حَدَّثَنَا عَامِرٌ قَالَ كَانَ لِشَرَاحَةَ زَوْجٌ غَائِبٌ بِالشَّامِ وَإِنَّهَا حَمَلَتْ فَجَاءَ بِهَا مَوْلَاهَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ زَنَتْ فَاعْتَرَفَتْ فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ مِائَةً وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحَفَرَ لَهَا إِلَى السُّرَّةِ وَأَنَا شَاهِدٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ شَهِدَ عَلَى هَذِهِ أَحَدٌ لَكَانَ أَوَّلَ مَنْ يَرْمِي الشَّاهِدُ يَشْهَدُ ثُمَّ يُتْبِعُ شَهَادَتَهُ حَجَرَهُ وَلَكِنَّهَا أَقَرَّتْ فَأَنَا أَوَّلُ مَنْ رَمَاهَا فَرَمَاهَا بِحَجَرٍ ثُمَّ رَمَى النَّاسُ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ فَكُنْتُ وَاللَّهِ فِيمَنْ قَتَلَهَا
عامر کہتے ہیں کہ شراحہ نامی ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا وہ شام گیا ہوا تھا، یہ عورت امید سے ہوگئی، اس کا آقا اسے حضرت علی ؓ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اس عورت نے بدکاری کی ہے، اس عورت نے بھی اعتراف کرلیا، حضرت علی ؓ نے اسے پہلے پچاس کوڑے لگائے، پھر جمعہ کے دن اس پر حد رجم جاری فرمائی اور اس کے لئے ناف تک ایک گڑھا کھدوایا، میں بھی اس وقت موجود تھا۔ پھر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ رجم نبی ﷺ کی سنت ہے، اگر اس کا یہ جرم کسی گواہ کی شہادت سے ثابت ہوتا تو اسے پتھر مارنے کا آغاز وہی کرتا کیونکہ گواہ پہلے گواہی دیتا ہے اور اس کے بعد پتھر مارتا ہے لیکن چونکہ اس کا یہ جرم اس کے اقرار سے ثابت ہوا ہے اس لئے اب میں اسے سب سے پہلے پتھر ماروں گا، چناچہ حضرت علی ؓ نے اس کا آغاز کیا، بعد میں لوگوں نے اسے پتھر مارنا شروع کئے، ان میں میں بھی شامل تھا اور بخدا! اس عورت کو اللہ کے پاس بھیجنے والوں میں میں بھی تھا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسُئِلَ يَرْكَبُ الرَّجُلُ هَدْيَهُ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ قَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِالرِّجَالِ يَمْشُونَ فَيَأْمُرُهُمْ يَرْكَبُونَ هَدْيَهُ وَهَدْيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَا تَتَّبِعُونَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ایک مرتبہ حضرت علی ؓ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آدمی حج کے موقع پر قربانی کا جو جانور لے کر جارہا ہو جسے ہدی کہتے ہیں اس پر سوار ہوسکتا ہے؟ فرمایا کوئی حرج نہٰیں، نبی ﷺ کا جب پیدل چلنے والوں کے پاس سے گذر ہوتا تو نبی ﷺ انہیں ہدی کے جانور پر سوار ہونے کا حکم دیتے اور تم اپنے نبی ﷺ کی سنت سے زیادہ افضل کسی چیز کی پیروی نہ کرسکو گے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُطْعِمَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْحَالَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ قَالَ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ النَّوْحِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سودخور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور نبی ﷺ نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نُهِيَ عَنْ مَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَخِي يَحْيَى بْنِ سِيرِينَ فَقَالَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ هَذَا نَعَمْ وَكِفَافِ الدِّيبَاجِ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ سرخ رنگ کے پھول دار کپڑوں، ریشمی کپڑوں اور سونے کی انگوٹھی سے منع کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ ذَكَرَ عَلِيٌّ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَقَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ أَأَنْتَ سَمِعْتَ مِنْهُ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
حضرت علی ؓ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاتے تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی ﷺ کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں رب کعبہ کی قسم۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الْأَبَحُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ لَمَّا قَتَلَ عَلِيٌّ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ قَالَ الْتَمِسُوهُ فَوَجَدُوهُ فِي حُفْرَةٍ تَحْتَ الْقَتْلَى فَاسْتَخْرَجُوهُ وَأَقْبَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَخْبَرْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ مَنْ يَقْتُلُ هَؤُلَاءِ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
حضرت علی ؓ نے جب اہل نہروان سے قتال کیا تو ایک مخصوص آدمی کے متعلق حکم دیا کہ اسے تلاش کرو، لوگوں کو وہ مقتولین میں ایک گڑھے میں مل گیا، انہوں نے اسے باہر نکالا تو حضرت علی ؓ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاتے تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی ﷺ کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں رب کعبہ کی قسم۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ عُشْرِهَا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْدَى وَالَّذِي هُوَ أَهْيَا وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی ﷺ کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي أَهْيَاهُ وَأَهْدَاهُ وَأَتْقَاهُ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی ﷺ کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْيَاهُ وَأَتْقَاهُ وَأَهْدَاهُ وَخَرَجَ عَلِيٌّ عَلَيْنَا حِينَ ثَوَّبَ الْمُثَوِّبُ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ الْوِتْرِ هَذَا حِينُ وِتْرٍ حَسَنٍ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی ﷺ کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔