حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے نبی ﷺ نے اپنے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ سُعَيْدٍ أَوْ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا قَصِيرٌ وَلَا طَوِيلٌ عَظِيمَ الرَّأْسِ رَجِلَهُ عَظِيمَ اللِّحْيَةِ مُشْرَبًا حُمْرَةً طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ عَظِيمَ الْكَرَادِيسِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ كَأَنَّمَا يَهْبِطُ فِي صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے، سر مبارک بڑا، بال ہلکے گھنگریالے اور داڑھی گھنی تھی، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ مبارک میں سرخی کی آمیزش تھی، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، ﷺ،
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْمَكِّيِّ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا قَصِيرٌ وَلَا طَوِيلٌ مُشْرَبًا لَوْنُهُ حُمْرَةً حَسَنَ الشَّعَرِ رَجِلَهُ ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ ضَخْمَ الْهَامَةِ طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ مِثْلَهُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے، سر مبارک بڑا، بال ہلکے گھنگریالے اور داڑھی گھنی تھی، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ مبارک میں سرخی کی آمیزش تھی، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، ﷺ۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَصَبْنَا مِنْ ثِمَارِهَا فَاجْتَوَيْنَاهَا وَأَصَابَنَا بِهَا وَعْكٌ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَبَّرُ عَنْ بَدْرٍ فَلَمَّا بَلَغَنَا أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَقْبَلُوا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ وَبَدْرٌ بِئْرٌ فَسَبَقَنَا الْمُشْرِكُونَ إِلَيْهَا فَوَجَدْنَا فِيهَا رَجُلَيْنِ مِنْهُمْ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ وَمَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَأَمَّا الْقُرَشِيُّ فَانْفَلَتَ وَأَمَّا مَوْلَى عُقْبَةَ فَأَخَذْنَاهُ فَجَعَلْنَا نَقُولُ لَهُ كَمْ الْقَوْمُ فَيَقُولُ هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ إِذْ قَالَ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ حَتَّى انْتَهَوْا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ كَمْ الْقَوْمُ قَالَ هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ فَجَهَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْبِرَهُ كَمْ هُمْ فَأَبَى ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ كَمْ يَنْحَرُونَ مِنْ الْجُزُرِ فَقَالَ عَشْرًا كُلَّ يَوْمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَوْمُ أَلْفٌ كُلُّ جَزُورٍ لِمِائَةٍ وَتَبِعَهَا ثُمَّ إِنَّهُ أَصَابَنَا مِنْ اللَّيْلِ طَشٌّ مِنْ مَطَرٍ فَانْطَلَقْنَا تَحْتَ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ نَسْتَظِلُّ تَحْتَهَا مِنْ الْمَطَرِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْفِئَةَ لَا تُعْبَدْ قَالَ فَلَمَّا أَنْ طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَى الصَّلَاةَ عِبَادَ اللَّهِ فَجَاءَ النَّاسُ مِنْ تَحْتِ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَرَّضَ عَلَى الْقِتَالِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ جَمْعَ قُرَيْشٍ تَحْتَ هَذِهِ الضِّلَعِ الْحَمْرَاءِ مِنْ الْجَبَلِ فَلَمَّا دَنَا الْقَوْمُ مِنَّا وَصَافَفْنَاهُمْ إِذَا رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ يَسِيرُ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ نَادِ لِي حَمْزَةَ وَكَانَ أَقْرَبَهُمْ مِنْ الْمُشْرِكِينَ مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ وَمَاذَا يَقُولُ لَهُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَكُنْ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ يَأْمُرُ بِخَيْرٍ فَعَسَى أَنْ يَكُونَ صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ فَجَاءَ حَمْزَةُ فَقَالَ هُوَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَهُوَ يَنْهَى عَنْ الْقِتَالِ وَيَقُولُ لَهُمْ يَا قَوْمُ إِنِّي أَرَى قَوْمًا مُسْتَمِيتِينَ لَا تَصِلُونَ إِلَيْهِمْ وَفِيكُمْ خَيْرٌ يَا قَوْمُ اعْصِبُوهَا الْيَوْمَ بِرَأْسِي وَقُولُوا جَبُنَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي لَسْتُ بِأَجْبَنِكُمْ فَسَمِعَ ذَلِكَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ أَنْتَ تَقُولُ هَذَا وَاللَّهِ لَوْ غَيْرُكَ يَقُولُ هَذَا لَأَعْضَضْتُهُ قَدْ مَلَأَتْ رِئَتُكَ جَوْفَكَ رُعْبًا فَقَالَ عُتْبَةُ إِيَّايَ تُعَيِّرُ يَا مُصَفِّرَ اسْتِهِ سَتَعْلَمُ الْيَوْمَ أَيُّنَا الْجَبَانُ قَالَ فَبَرَزَ عُتْبَةُ وَأَخُوهُ شَيْبَةُ وَابْنُهُ الْوَلِيدُ حَمِيَّةً فَقَالُوا مَنْ يُبَارِزُ فَخَرَجَ فِتْيَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ سِتَّةٌ فَقَالَ عُتْبَةُ لَا نُرِيدُ هَؤُلَاءِ وَلَكِنْ يُبَارِزُنَا مِنْ بَنِي عَمِّنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ يَا عَلِيُّ وَقُمْ يَا حَمْزَةُ وَقُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَتَلَ اللَّهُ تَعَالَى عُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ وَجُرِحَ عُبَيْدَةُ فَقَتَلْنَا مِنْهُمْ سَبْعِينَ وَأَسَرْنَا سَبْعِينَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ قَصِيرٌ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَسِيرًا فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا وَاللَّهِ مَا أَسَرَنِي لَقَدْ أَسَرَنِي رَجُلٌ أَجْلَحُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ مَا أُرَاهُ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ أَنَا أَسَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ اسْكُتْ فَقَدْ أَيَّدَكَ اللَّهُ تَعَالَى بِمَلَكٍ كَرِيمٍ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَسَرْنَا وَأَسَرْنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْعَبَّاسَ وعَقِيلًا وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے اور ہم نے یہاں کے پھل کھائے تو ہمیں پیٹ کی بیماری لاحق ہوگئی جس سے بڑھتے بڑھتے ہم شدید قسم کے بخار میں مبتلا ہوگئے، نبی ﷺ بدر کے حالات معلوم کرتے رہتے تھے، جب ہمیں معلوم ہوا کہ مشرکین مقام بدر کی طرف بڑھ رہے ہیں تو نبی ﷺ بھی بدر کی طرف روانہ ہوگئے، جو کہ ایک کنوئیں کا نام تھا، ہم مشرکین سے پہلے وہاں پہنچ گئے، وہاں ہمیں دو آدمی ملے، ایک قریش کا اور دوسرا عقبہ بن ابی معیط کا غلام، قریشی تو ہمیں دیکھتے ہی بھاگ گیا اور عقبہ کے غلام کو ہم نے پکڑ لیا۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ ان کے لشکر کی تعداد کتنی ہے؟ اس نے کہا بخدا! ان کی تعداد بہت زیادہ اور ان کا سامان حرب بہت مضبوط ہے، جب اس نے یہ کہا تو مسلمانوں نے اسے مارنا شروع کردیا اور مارتے مارتے اسے نبی ﷺ کے پاس لے آئے، نبی ﷺ نے بھی اس سے مشرکین مکہ کی تعداد پوچھی، اس نے نبی ﷺ کو بھی وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا، نبی ﷺ نے اس سے ان کی صحیح تعداد معلوم کرنے کی پوری کوشش کی لیکن اس نے بتانے سے انکار کردیا، بالآخر نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ وہ لوگ روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ اس نے جواب دیا روزانہ دس اونٹ ذبح کرتے ہیں، نبی ﷺ نے اسی وقت فرمایا ان کی تعداد ایک ہزار ہے، کیونکہ ایک اونٹ کم از کم سو آدمیوں کو کفایت کرجاتا ہے۔ رات ہوئی تو ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی، ہم بارش سے بچنے کے لئے درختوں اور ڈھالوں کے نیچے چلے گئے اور نبی ﷺ اسی حالت میں ساری رات اپنے پروردگار سے یہ دعاء کرتے رہے کہ اے اللہ! اگر یہ گروہ ختم ہوگیا تو آپ کی عبادت نہیں ہو سکے گی، بہرحال! طلوع فجر کے وقت نبی ﷺ نے نداء کروائی کہ اللہ کے بندو! نماز تیار ہے، لوگوں نے درختوں اور سائبانوں کو چھوڑا اور نبی ﷺ کے پاس جمع ہوگئے، نبی ﷺ نے نماز پڑھائی اور اس کے بعد جہاد کی ترغیب دینے لگے، پھر فرمایا کہ قریش کا لشکر اس پہاڑ کی سرخ ڈھلوان میں ہے۔ جب لشکر قریش ہمارے قریب آگیا اور ہم نے بھی صف بندی کرلی، تو اچانک ان میں سے ایک آدمی سرخ اونٹ پر سوار ہو کر نکلا اور اپنے لشکر میں چکر لگانے لگا، نبی ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا علی! حمزہ سے پکار کر کہو جو کہ مشرکین مکہ کے سب سے زیادہ قریب تھے، یہ سرخ اونٹ والا کون ہے اور کیا کہہ رہا ہے؟ پھر نبی ﷺ نے فرمایا اگر لشکر قریش میں کوئی آدمی بھلائی کا حکم دے سکتا ہے تو وہ یہ سرخ اونٹ پر سوار ہی ہوسکتا ہے، اتنی دیر میں حضرت حمزہ ؓ آگئے اور فرمانے لگے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ ہے جو کہ لوگوں کو جنگ سے روک رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اے میری قوم! میں ایسے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو ڈھیلے پڑچکے ہیں، اگر تم میں ذرا سی بھی صلاحیت ہو تو یہ تم تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے، اے میری قوم! آج کے دن میرے سر پر پٹی باندھ دو اور کہہ دو کہ عتبہ بن ربیعہ بزدل ہوگیا حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں بزدل نہیں ہوں۔ ابوجہل نے جب یہ بات سنی تو کہنے لگا کہ یہ بات تم کہہ رہے ہو؟ بخدا! اگر یہ بات تمہارے علاوہ کسی اور نے کہی ہوتی تو میں اس سے کہتا کہ جا کر اپنے باپ کی شرمگاہ چوس (گالی دیتا) تمہارے پھیپھڑوں نے تمہارے پیٹ میں رعب بھر دیا ہے، عتبہ کہنے لگا کہ او پیلے سرین والے! تو مجھے عار دلاتا ہے، آج تجھے پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے بزدل کون ہے؟ اس کے بعد جوش میں آکر عتبہ، اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹا ولید میدان جنگ میں نکل کر مبارز طلبی کرنے لگے، ان کے مقابلے میں چھ انصاری نوجوان نکلے، عتبہ کہنے لگا کہ ہم نے انسے نہیں لڑنا چاہتے، ہمارے مقابلے میں ہمارے بنو عم نکلیں جن کا تعلق بنو عبدالمطلب سے ہو، یہ سن کر نبی ﷺ نے حضرت علی ؓ، حضرت حمزہ ؓ اور حضرت عبیدہ بن حارث بن مطلب کو اٹھنے اور مقابلہ کرنے کا حکم دیا، اس مقابلے میں عتبہ، شیبہ اور ولید تینوں مارے گئے اور مسلمانوں میں حضرت عبیدہ ؓ زخمی ہوئے۔ اس طرح ہم نے ان کے ستر آدمی مارے اور ستر ہی کو قیدی بنا لیا، اسی اثناء میں ایک چھوٹے قد کا انصاری نوجوان عباس بن عبدالمطلب کو جو بعد میں صحابی بنے قیدی بنا کرلے آیا، عباس کہنے گے یا رسول اللہ! بخدا! اس نے جھے قیدی نہیں بنایا، مجھے تو اس شخص نے قید کیا ہے جس کے سر کے دونوں جانب بال نہ تھے، وہ بڑا خوبصورت چہرہ رکھتا تھا اور ایک چتکبرے گھوڑے پر سوار تھا، جو مجھے اب آپ لوگوں میں نظر نہیں آرہا، اس پر انصاری نے کہا یا رسول اللہ! انہیں میں نے ہی گرفتار کیا ہے، نبی ﷺ نے انہیں خاموشی کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک معزز فرشتے کے ذریعے اللہ نے تمہاری مدد کی ہے، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ بنو عبدالمطلب میں سے ہم نے عباس، عقیل اور نوفل بن حارث کو گرفتار کیا تھا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْتُ أَخْبِرِينِي بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ ائْتِ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يَلْزَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَسْحِ عَلَى خِفَافِنَا إِذَا سَافَرْنَا
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے کسی مرد صحابی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی ؓ سے پوچھو کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چناچہ میں نے حضرت علی ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جب سفر پر جائیں تو اپنے موزوں پر مسح کرلیا کریں۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ وَعَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالَا نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فِي الرَّحَبَةِ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ قَالَ فَقَامَ مِنْ قِبَلِ سَعِيدٍ سِتَّةٌ وَمِنْ قِبَلِ زَيْدٍ سِتَّةٌ فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ أَلَيْسَ اللَّهُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ قَالُوا بَلَى قَالَ اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرٍو ذِي مُرٍّ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ يَعْنِي عَنْ سَعِيدٍ وَزَيْدٍ وَزَادَ فِيهِ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سعید بن وہب اور زید بن یثیع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا کہ جس شخص نے غدیر خم کے موقع پر نبی ﷺ کا میرے حوالے سے کوئی ارشاد سنا ہو تو وہ کھڑا ہوجائے، اس پر سعید کی رائے کے مطابق بھی چھ آدمی کھڑے ہوگئے اور زید کی رائے کے مطابق بھی چھ آدمی کھڑے ہوگئے اور ان سب نے اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے نبی ﷺ کو غدیر خم کے موقع پر حضرت علی ؓ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ کیا اللہ کو مومنین پر کوئی حق نہیں؟ سب نے عرض کیا کیوں نہیں! فرمایا اے اللہ! جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں اے اللہ جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔ گذشتہ روایت ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ جس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جو علی کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔ گذشتہ روایت اس دوسری سند سے حضرت زید بن ارقم ؓ سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قُلْتُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ حَسَنٌ فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ قَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قُلْتُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ فَلَمَّا وَلَدْتُ الثَّالِثَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قُلْتُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ مُحَسِّنٌ ثُمَّ قَالَ سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ شَبَّرُ وَشَبِيرُ وَمُشَبِّرُ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب حسن کی پیدائش ہوئی تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، نبی ﷺ کو بچے کی پیدائش کی خبر معلوم ہوئی تو تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا حرب، فرمایا نہیں، اس کا نام حسن ہے، پھر جب حسین پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھ دیا، اس موقع پر بھی نبی ﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے پھر عرض کیا حرب، فرمایا نہیں اس کا نام حسین ہے، تیسرے بیٹے کی پیدائش پر بھی اسی طرح ہوا اور نبی ﷺ نے اس کا نام بدل کر محسن رکھ دیا، پھر فرمایا کہ میں نے ان بچوں کے نام حضرت ہارون (علیہ السلام) کے بچوں کے نام پر رکھے ہیں جن کے نام شبر، شبیر اور مشبر تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ خَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ فَقَالَ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا قَالَ فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے کی ہو؟ فرمایا نبی ﷺ نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میری تلوار کے نیام میں ایک چیز ہے یہ کہہ کر انہوں نے اس میں سے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا تھا کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج چوری کرے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ قَالَ عَفَّانُ قَالَ أَنْبَأَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ أَنَّهُ عَادَ حَسَنًا وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَعُودُ حَسَنًا وَفِي النَّفْسِ مَا فِيهَا قَالَ نَعَمْ إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبِّ قَلْبِي فَتَصْرِفَهُ حَيْثُ شِئْتَ فَقَالَ أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا إِلَّا ابْتَعَثَ اللَّهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ أَيَّ سَاعَةٍ مِنْ النَّهَارِ كَانَتْ حَتَّى يُمْسِيَ وَأَيَّ سَاعَةٍ مِنْ اللَّيْلِ كَانَتْ حَتَّى يُصْبِحَ
عبد اللہ بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عمرو بن حریث حضرت امام حسن ؓ کی عیادت کے لئے آئے، حضرت علی ؓ نے ان سے فرمایا یوں تو آپ حسن کی بیمار پرسی کے لئے آئے ہیں اور اپنے دل میں جو کچھ چھپا رکھا ہے اس کا کیا ہوگا؟ عمرو نے کہا کہ آپ میرے رب نہیں ہیں کہ جس طرح چاہیں میرے دل میں تصرف کرنا شروع کردیں حضرت علی ؓ نے فرمایا لیکن اس کے باوجود ہم تم سے نصیحت کی بات کہنے سے نہیں رکیں گے، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو اللہ اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتا ہے جو شام تک دن کے ہر لمحے میں اس کے لئے دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اگر شام کو گیا ہو تو صبح تک رات کی ہر گھڑی اس کے لئے دعاء کرتے رہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الْمَعْتُوهِ أَوْ قَالَ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ وَعَنْ الصَّغِيرِ حَتَّى يَشِبَّ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں۔ (١) سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہوجائے (٢) مجنون، جب تک اس کی عقل نہ لوٹ آئے (٣) بچہ جب تک بالغ نہ ہوجائے
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ بَهْزٌ قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ وَلَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ وتر کے آخر میں یوں فرماتے تھے کہ اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، تیری درگذر کے ذریعے تیری سزا سے اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کرسکتا، تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو بِشْرٍ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَّةِ حَرِيرٍ فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا فَرَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا خُمُرًا بَيْنَ النِّسَاءِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی ﷺ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں نے اسے زیب تن کرلیا، لیکن جب نبی ﷺ کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں دوپٹے کے طور پر تقسیم کردیا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي حَسَّانَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْأَمْرِ فَيُؤْتَى فَيُقَالُ قَدْ فَعَلْنَا كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْأَشْتَرُ إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ أَفَشَيْءٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا خَاصَّةً دُونَ النَّاسِ إِلَّا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فَهُوَ فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي قَالَ فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ قَالَ فَإِذَا فِيهَا مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ قَالَ وَإِذَا فِيهَا إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا وَحِمَاهَا كُلُّهُ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمَنْ أَشَارَ بِهَا وَلَا تُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ وَلَا يُحْمَلُ فِيهَا السِّلَاحُ لِقِتَالٍ قَالَ وَإِذَا فِيهَا الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ
ابوحسان کہتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ جب بھی کوئی حکم دیتے اور لوگ آکر کہتے کہ ہم نے اس اس طرح کرلیا تو وہ کہتے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: ایک دن اشتر نامی ایک شخص نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ آپ جو یہ جملہ کہتے ہیں، لوگوں میں بہت پھیل چکا ہے، کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کی رسول اللہ ﷺ نے آپ کو وصیت کی ہے؟ فرمایا نبی ﷺ نے لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ مجھے کوئی وصیت نہیں فرمائی، البتہ میں نے نبی ﷺ سے جو کچھ سنا ہے وہ ایک صحیفہ میں لکھ کر اپنی تلوار کے میان میں رکھ لیا ہے۔ لوگوں نے حضرت علی ؓ سے وہ صحیفہ دکھانے پر اصرار کیا، انہوں نے وہ نکالا تو اس میں لکھا تھا کہ جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہ ہوگا، نیز اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کو حرم قرار دیتا ہوں، اس کے دونوں کونوں کے درمیان کی جگہ قابل احترام ہے، اس کی گھاس نہ کاٹی جائے، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، البتہ وہ شخص اٹھا سکتا ہے جو مالک کو اس کا پتہ بتادے، یہاں کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے البتہ اگر کوئی آدمی اپنے جانور کو چارہ کھلائے تو بات جدا ہے اور یہاں لڑائی کے لئے اسلحہ نہ اٹھایا جائے۔ نیز اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ مسلمانوں کی جانیں آپس میں برابر ہیں، ان میں سے اگر کوئی ادنیٰ بھی کسی کو امان دے دے تو اس کی امان کا لحاظ کیا جائے اور مسلمان اپنے علاوہ لوگوں پر ید واحد کی طرح ہیں، خبردار کسی کافر کے بدلے میں کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو اس وقت تک قتل کیا جائے جب تک کہ وہ معاہدے کی مدت میں ہو اور اس کی شرائط پر برقرار ہو۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑھتے کہ الہی! میں نے تیرے لئے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرا تابع فرمان ہوا، تو ہی میرا رب ہے، میرے کان، آنکھیں، دماغ، ہڈیاں اور پٹھے تیرے سامنے جھکے ہوئے ہیں اور میرے قدم بھی اللہ رب العالمین کی خاطر جھکے ہوئے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحَبَةِ يَنْشُدُ النَّاسَ أَنْشُدُ اللَّهَ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ لَمَّا قَامَ فَشَهِدَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَحَدِهِمْ فَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجِي أُمَّهَاتُهُمْ فَقُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا کہ جس نے غدیر خم کے موقع پر نبی ﷺ کا یہ ارشاد مبارک سنا ہو تو وہ کھڑا ہوجائے، کہ جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں، اس پر بارہ بدری صحابہ ؓ کھڑے ہوگئے اور ان سب نے اس بات کی گواہی دی کہ ہم سب نے نبی ﷺ کو غدیر خم کے موقع پر حضرت علی ؓ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ کیا اللہ کو مومنین پر کوئی حق نہیں؟ سب نے عرض کیا کیوں نہیں! فرمایا جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں اے اللہ جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ سَيْفٌ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ قَالَ لِصَحِيفَةٍ مُعَلَّقَةٍ فِي سَيْفِهِ
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بخدا! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں یا پھر یہ صحیفہ ہے جو تلوار سے لٹکا ہوا ہے، جو نبی ﷺ نے مجھے دیا تھا، اس میں زکوٰۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے، مذکورہ صحیفہ حضرت علی ؓ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَجَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَهَانَا عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَنَهَانَا عَنْ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَعَنْ الْحَرِيرِ وَالْحِلَقِ الذَّهَبِ ثُمَّ قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حَرِيرٍ فَخَرَجْتُ فِيهَا لِيَرَ النَّاسُ عَلَيَّ كِسْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي بِنَزْعِهِمَا فَأَرْسَلَ بِإِحْدَاهُمَا إِلَى فَاطِمَةَ وَشَقَّ الْأُخْرَى بَيْنَ نِسَائِهِ
مالک بن عمیر کہتے ہیں کہ میں حضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر تھا، اچانک صعصعہ بن صوحان آگئے اور سلام کر کے کہنے لگے امیرالمومنین! نبی ﷺ نے جن چیزوں سے آپ کو روکا تھا ہمیں بھی ان سے روکیے، انہوں نے فرمایا نبی ﷺ نے تو ہمیں کدو کی تونبی، سبز مٹکے، لکڑی کے برتن، لکڑی کو کھود کر بنائے گئے برتن کو استعمال کرنے سے منع فرمایا (کیونکہ ان میں شراب کشید کی جاتی تھی) نیز ریشم، سرخ زین، خالص ریشم اور سونے کے حلقوں سے منع فرمایا۔ پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا: میں وہ پہن کر باہر نکلا تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ نبی ﷺ نے مجھے جو جوڑا دیا تھا وہ میں نے پہن لیا ہے، نبی ﷺ نے جب مجھے دیکھا تو اسے اتارنے کا حکم دیا اور اس کا ایک حصہ حضرت فاطمہ ؓ کو بھجوا دیا اور دوسرا حصہ پھاڑ کر اپنی عورتوں میں تقسیم کردیا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ نِزَارٍ الْعَنْسِيُّ حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ الْوَلِيدِ الْعَبْسِيُّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحَبَةِ قَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ وَلَا يَقُومُ إِلَّا مَنْ قَدْ رَآهُ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فَقَالُوا قَدْ رَأَيْنَاهُ وَسَمِعْنَاهُ حَيْثُ أَخَذَ بِيَدِهِ يَقُولُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ فَقَامَ إِلَّا ثَلَاثَةٌ لَمْ يَقُومُوا فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَأَصَابَتْهُمْ دَعْوَتُهُ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا جس نے غدیر خم کے موقع پر نبی ﷺ سے میرے حوالے سے کوئی ارشاد سنا ہو تو وہ کھڑا ہوجائے اور وہی کھڑا ہو جس نے نبی ﷺ کو دیکھا ہو، اس پر بارہ آدمی کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ ہم نے خود دیکھا کہ نبی ﷺ نے حضرت علی ؓ کا ہاتھ پکڑا اور ہم نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا، اے اللہ جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما جو علی کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما اور جو اسے تنہا چھوڑے تو اسے تنہا فرما، اس موقع پر تین آدمی ایسے بھی تھے جو کھڑے نہیں ہوئے، حضرت علی ؓ نے انہیں بد دعا دی اور وہ اس کا شکار ہوگئے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ أَخُو حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ قَالَ كَمَا يَقُولُ فَإِذَا قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّ الَّذِينَ جَحَدُوا مُحَمَّدًا هُمْ الْكَاذِبُونَ
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ جب حضرت علی ؓ مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تو وہ یہ کلمات دہراتے جو مؤذن کہتا اور اشہد ان محمد الرسول اللہ کے جواب میں اشہد ان محمد الرسول اللہ کہنے کے بعد یہ بھی فرماتے کہ جو لوگ محمد ﷺ کا انکار کرتے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَتْ سَلْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ قَالَ يَحْيَى وَكَانَ يَرْفَعُهُ يَعْنِي شُعْبَةَ ثُمَّ تَرَكَهُ
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی ؓ سے پوچھو انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چناچہ میں نے حضرت علی ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔