Musnad Imam Ahmad 987

حضرت علی (رض) کی مرویات

987Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَاكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا أَنْ تَزَوَّجَ إِلَيْنَا قَالَ وَعِنْدَكَ شَيْءٌ قَالَ قُلْتُ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت حمزہ ؓ کی صاحبزادی! فرمایا کہ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے (دراصل نبی ﷺ اور حضرت امیر حمزہ ؓ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)