Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 51 of 1,321

1001Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَلِيٍّ وَالْمَسْعُودِيُّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ ضَخْمَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ مُشْرَبًا وَجْهُهُ حُمْرَةً طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ تَكَفُّؤًا كَأَنَّمَا يَتَقَلَّعُ مِنْ صَخْرٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ أَبُو النَّضْرِ الْمَسْرُبَةُ وَقَالَ كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ و قَالَ أَبُو قَطَنٍ الْمَسْرُبَةُ و قَالَ يَزِيدُ الْمَسْرُبَةُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے، سر مبارک بڑا اور داڑھی گھنی تھی، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ مبارک میں سرخی کی آمیزش تھی، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی دھاری تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، ﷺ۔

1002Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ كُنْتُ أَرَى أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَفْضَلُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قُلْتُ لَا وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرَى أَنَّ أَحَدًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْكَ قَالَ أَفَلَا أُحَدِّثُكَ بِأَفْضَلِ النَّاسِ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ بَلَى فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَفَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ النَّاسِ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ قُلْتُ بَلَى قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

ابو جحیفہ سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے بعد حضرت علی ؓ کو تمام لوگوں میں سب سے افضل سمجھتا تھا، میں نے کہا نہیں واللہ اے امیرالمومنین! میں نہیں سمجھتا کہ نبی ﷺ کے بعد مسلمانوں میں آپ سے افضل بھی کوئی ہوگا، انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعدسب سے افضل شخص کون ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا وہ حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں اور میں تمہیں بتاؤں کہ حضرت صدیق اکبر ؓ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت عمر فاروق ؓ ہیں۔

1003Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِ وَسَارَ بِسِيرَتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى ذَلِكَ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِمَا وَسَارَ بِسِيرَتِهِمَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ

ایک مرتبہ حضرت علی ؓ منبر پر کھڑے ہوئے، انہوں نے نبی ﷺ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی ﷺ کا انتقال ہوا تو حضرت صدیق اکبر ؓ کو خلیفہ مقرر کردیا گیا، وہ نبی ﷺ کے طریقے اور ان کی سیرت پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اپنے پاس بلا لیا، پھر حضرت عمر فاروق ؓ خلیفہ مقرر ہوئے اور وہ ان دونوں حضرات کے طریقے اور سیرت پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اپنے پاس بلا لیا۔

1004Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ وَكِيعٍ سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ثُمَّ ضَحِكَ قُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ قَالَ كُنْتُ رِدْفًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتَنِي فَعَلْتُ ثُمَّ ضَحِكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُضْحِكُكَ قَالَ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَجَبٌ لِعَبْدِي يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي

علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کا ردیف تھا، جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا، جب اس پر بیٹھ گئے تو یہ دعاء پڑھی کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارا تابع فرمان بنادیا، ہم تو اسے اپنے تابع نہیں کرسکتے تھے اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، پھر تین مرتبہ الحمدللہ اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا اے اللہ! آپ پاک ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں میں نے اپنی جان پر ظلم کیا پس مجھے معاف فرما دیجئے، پھر مسکرا دئیے۔ میں نے پوچھا کہ امیرالمومنین! اس موقع پر مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا جیسے میں نے کیا اور نبی ﷺ بھی مسکرائے تھے اور میں نے بھی ان سے اس کی وجہ پوچھی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب بندہ یہ کہتا ہے کہ پروردگار! مجھے معاف فرمادے تو پروردگار کو خوشی ہوتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ اس کے گناہ کوئی معاف نہیں کرسکتا۔

1005Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اشْتَكَيْتُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَاشْفِنِي أَوْ عَافِنِي وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ قُلْتَ قَالَ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ قَالَ فَمَسَحَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اشْفِهِ أَوْ عَافِهِ قَالَ فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي ذَاكَ بَعْدُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا میرے پاس سے گزر ہوا، میں اس وقت بیمار تھا اور یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! اگر میری موت کا وقت قریب آگیا ہے تو مجھے اس بیماری سے راحت عطاء فرما اور مجھے اپنے پاس بلا لے، اگر اس میں دیر ہو تو شفاء عطا فرمادے اور اگر یہ کوئی آزمائش ہو تو مجھے صبر عطاء فرما، نبی ﷺ نے فرمایا تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے اپنی بات دہرادی، نبی ﷺ نے مجھ پر ہاتھ پھیر کر دعا فرمائی اے اللہ! اسے عافیت اور شفاء عطاء فرما، حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی۔

1006Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات کو جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔

1007Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَبَضَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْرِ مَا قُبِضَ عَلَيْهِ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمْ السَّلَام ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَمِلَ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَذَلِكَ

ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے نبی ﷺ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں سب سے زیادہ بہترین طریقے سے نبی ﷺ کا انتقال ہوا ہے، ان کے بعد حضرت صدیق اکبر ؓ کو خلیفہ مقرر کردیا گیا، وہ نبی ﷺ کے طریقے اور ان کی سیرت پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے، پھر حضرت عمر فاروق ؓ خلیفہ مقرر ہوئے اور وہ ان دونوں حضرات کے طریقے اور سیرت پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے۔

1008Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى رَحْمَوَيْهِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُجَاشِعٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الثَّالِثَ لَسَمَّيْتُهُ فَقَالَ رَجُلٌ لِأَبِي إِسْحَاقَ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّكَ تَقُولُ أَفْضَلُ فِي الشَّرِّ فَقَالَ أَحَرُورِيٌّ

عبدخیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کو (دوران خطبہ یہ) کہتے ہوئے سنا کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں اور حضرت عمر فاروق ؓ ہیں اور اگر میں چاہوں تو تیسرے آدمی کا نام بھی بتاسکتا ہوں۔

1009Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ وَعَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَلَا نُضَحِّيَ بِشَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ وَلَا مُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں اور ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے جس کا کان آگے یا پیچھے سے کٹا ہوا ہو یا اس میں سوراخ ہو یا وہ پھٹ گیا ہو یا جسم کے دیگر اعضاء کٹے ہوئے ہوں۔

1010Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھ سے یہ بات ذکر فرمائی تھی کہ تم سے بغض کوئی منافق ہی کرسکتا ہے اور تم سے محبت کوئی مومن ہی کرسکتا ہے۔

1011Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَنَشٍ الْكِنَانِيِّ أَنَّ قَوْمًا بِالْيَمَنِ حَفَرُوا زُبْيَةً لِأَسَدٍ فَوَقَعَ فِيهَا فَتَكَابَّ النَّاسُ عَلَيْهِ فَوَقَعَ فِيهَا رَجُلٌ فَتَعَلَّقَ بِآخَرَ ثُمَّ تَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ حَتَّى كَانُوا فِيهَا أَرْبَعَةً فَتَنَازَعَ فِي ذَلِكَ حَتَّى أَخَذَ السِّلَاحَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ فَقَالَ لَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَقْتُلُونَ مِائَتَيْنِ فِي أَرْبَعَةٍ وَلَكِنْ سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ إِنْ رَضِيتُمُوهُ لِلْأَوَّلِ رُبُعُ الدِّيَةِ وَلِلثَّانِي ثُلُثُ الدِّيَةِ وَلِلثَّالِثِ نِصْفُ الدِّيَةِ وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةُ فَلَمْ يَرْضَوْا بِقَضَائِهِ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ قَالَ فَأُخْبِرَ بِقَضَاءِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَجَازَهُ

حنش کنانی (رح) فرماتے ہیں کہ یمن میں ایک قوم نے شیر کو شکار کرنے کے لئے ایک گڑھا کھود کر اسے ڈھانپ رکھا تھا شیر اس میں گرپڑا اچانک ایک آدمی بھی اس گڑھے میں گرپڑا، اس کے پیچھے دوسرا، تیسرا حتی کہ چار آدمی گرپڑے (اس گڑھے میں موجود شیر نے ان سب کو زخمی کردیا، یہ دیکھ کر ایک آدمی نے جلدی سے نیزہ پکڑا اور شیر کو دے مارا، چناچہ شیر ہلاک ہوگیا اور وہ چاروں آدمی بھی اپنے اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چل بسے)۔ مقتولین کے اولیاء اسلحہ نکال کر جنگ کے لئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے، اتنی دیر میں حضرت علی ؓ آپہنچے اور کہنے لگے کیا تم چار آدمیوں کے بدلے دو سو آدمیوں کو قتل کرنا چاہتے ہو؟ میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اگر تم اس پر راضی ہوگئے تو سمجھو کہ فیصلہ ہوگیا، فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص پہلے گر کر گڑھے میں شیر کے ہاتھوں زخمی ہوا، اس کے ورثاء کو چوتھائی دیت دے دو اور چوتھے کو مکمل دیت دے دو، دوسرے کو تہائی اور تیسرے کو نصف دیت دے دو، ان لوگوں نے یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا (کیونکہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آیا) چناچہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی ﷺ نے فرمایا میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اتنی دیر میں ایک آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ! حضرت علی ؓ نے ہمارے درمیان یہ فیصلہ فرمایا تھا، نبی ﷺ نے اسی کو نافذ کردیا۔

1012Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِأَبِي الْهَيَّاجِ أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَدَعَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ وَلَا تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ

حضرت علی ؓ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق " ابو الھیاج " کو مخاطب کر کے فرمایا میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے نبی ﷺ نے مجھے بھیجا تھا، انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا۔

1013Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا طَاعَةَ لِبَشَرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی انسان کی اطاعت جائز نہیں ہے۔

1014Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَضَبِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ قَالَ فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ مَا الْعَضَبُ فَقَالَ النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔

1015Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ يَنْكُتُ بِهَا ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ فَقَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهَا مِنْ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ إِلَّا قَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً فَقَالَ الْقَوْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَمْكُثُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى السَّعَادَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى الشِّقْوَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ فَإِنَّهُ يُيَسَّرُ لِعَمَلِ الشِّقْوَةِ وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يُيَسَّرُ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى إِلَى قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ کسی جنازے کے ساتھ بقیع میں تھے کہ نبی ﷺ تشریف لے آئے اور بیٹھ گئے، ہم بھی ان کے گرد بیٹھ گئے، آپ کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ ﷺ زمین کو کرید رہے تھے، تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ خواہ جنت ہو یا جہنم اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے اور یہ لکھا جا چکا ہے کہ وہ شقی ہے یا سعید؟ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر ہم اپنی کتاب پر بھروسہ کر کے عمل کو چھوڑ نہ دیں؟ کیونکہ جو اہل سعادت میں سے ہوگا وہ سعادت حاصل کرلے گا اور جو اہل شقاوت میں سے ہوگا وہ شقاوت پالے گا، نبی ﷺ نے فرمایا عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کئے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہوگا، پھر آپ ﷺ نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی کہ جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسباب پیدا کردیں گے۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

1016Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ جَابِرٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَيَأْمُرُ بِهِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ خود بھی یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کا ترغیبی حکم دیتے تھے۔

1017Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنَاه خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَى عَيْنَيْهِ كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَقْدًا بَيْنَ طَرَفَيْ شَعِيرَةٍ

حضرت علی ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)

1018Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ الْبَصْرِيُّ وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ ابْنَتَهُ كَانَتْ عِنْدِي فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ مِنْهُ الْوُضُوءُ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی ﷺ کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے حضرت مقداد ؓ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ سے یہ مسئلہ پوچھیں، چناچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایسا شخص وضو کرلیا کرے۔

1019Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الْوُضُوءُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نماز کی کنجی طہارت ہے، نماز میں حلال چیزوں کو حرام کرنے والی چیز تکبیر تحریمہ ہے اور انہیں حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے۔

1020Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھو، ہاں! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے۔